• 6 اگست, 2021

سکھ ازم کے بانی حضرت باوا نانک صاحب

ہندوؤں میں سے ایک شخص یعنی باوا نانک صاحب بے تعصب انسان پیدا ہوئے ہیں۔ چونکہ وہ شخص دل کا پاک تھا اس لئے خدا نے اس کو دکھا دیا کہ اسلام سچا ہے۔ اس کے شعروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام پر فدا شدہ ہے۔ مَیں نے ڈیرہ نانک میں خود جا کر باوا صاحب کے چولہ صاحب کو دیکھا ہے۔ انہوں نے اس چولہ میں قرآن شریف کی آیتیں لکھی ہیں اور جا بجا صاف اقرار کیا ہے کہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ اور ہر ایک موقعہ پر لکھا ہے کہ بجز اسلام کے کوئی مذہب قبول کرنے کے لائق نہیں۔ اور مَیں نے ملتان میں وہ مسجد دیکھی ہے جہاں باوا صاحب نماز پڑھا کرتے تھے۔ اور ان کے ہاتھ سے یہ لفظ ملتان کی خانقاہ پر میَں نے لکھا ہوا دیکھا ہے کہ یااللہ اس میں کچھ شک نہیں کہ باوا صاحب پاک دل تھے اور انہوں نے اسلام کی سچائی کے بارے میں بار بار گواہی دی۔ سو کروڑہا ہندوؤں میں سے ایک یہی شخص پیدہوا جس کو خدا نے آنکھ کا نور بخشا اور دل کو صاف کیا اور اپنی محبت عطا کی۔

(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد23 صفحہ 216)

باوا نانک صاحب مسلمانوں کے گھر میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ وہ آریہ قوم میں سے تھے مگر خدا کا الہام ان کو اسلام کی طرف کھینچ لایا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے یہ مذہب اسلام اختیار کر کے بعض ہندوؤں سے بڑے دکھ اٹھائے مگر اپنی ثابت قدمی سے ہر ایک دکھ پر صبر کیا۔ انہوں نے بصیرت کی راہ سے اسلام کو قبول کیا نہ صرف تقلید کے طور پر …………. خدا نے باوا نانک صاحب کو آسمانی نور عطا کیا تھا۔ اسی نور سے انہوں نے دیکھ لیا کہ اسلام سچا ہے۔ تب بصیرت کی راہ سے نہ تقلید کے طور پر ہر ایک کو انہوں نے اسلام کی طرف بلانا شروع کیا اور کئی اسلامی بزرگوں کی خانقاہوں پر مجاہدات کئے اور تکالیف سفر اٹھا کر پیادہ پا مکہ معظمہ کا حج بھی کیا اور مدینہ منورہ میں پہنچ کر روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی کی۔

(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد 23صفحہ355)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 جولائی 2021