• 23 ستمبر, 2021

چھوڑ کر چل دئے میدان کو دوماتوں سے

(کلام حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ)

چھوڑ کر چل دئے میدان کو دوماتوں سے
مردبھی چھوڑتے ہیں دل کبھی ان باتوں سے
میں دل و جاں بخوشی ان کی نذر کر دیتا
ماننے والے اگر ہوتے وہ سوغاتوں سے
دن ہی چڑھتا نہیں قسمت کا مری اے افسوس
منتظر ہوں تری آمد کا کئی راتوں سے
رنگ آجاتا ہے الفت کا نگاہوں میں تری
ورنہ کیا کام ترے رندوں کا برساتوں سے
میرا مقدور کہاں شکوہ کروں ان کے حضور
مجھ کوفرصت ہی کہاں ان کی مناجاتوں سے
کامیابی کی تمنا ہے تو کر کوہ کنی
یہ پری شیشے میں اتری ہے کہیں باتوں سے
بار مل جاتا ہے مجلس میں کسی کی دوپہر
دن ہوئے جاتے ہیں روشن مرے اب راتوں سے
ناز سے غمزہ سے عشوہ سے فسوں سازی سے
لے گئے دل کو اڑا کر مرے کن گھاتوں سے
کبھی گریہ کبھی آہ و فغاں ہے اے دل
تنگ آیا ہوں بہت میں تری باتوں سے
تو مری جاں کی غذا ہے مرے دل کی راحت
پیٹ بھرتا ہی نہیں تیری ملاقاتوں سے

(کلام محمود صفحہ200)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 جولائی 2021