• 1 اکتوبر, 2020

تعارف سورۃ الانبیاء (اکیسویں سورۃ)

(مکی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی113 آیات ہیں)
اردو ترجمہ ازترجمہ قرآن انگریزی (حضرت ملک غلام فرید صاحبؓ) ایڈیشن 2003ء
مترجم: وقار احمد بھٹی

وقت نزول اور سیاق و سباق

یہ سورۃ گزشتہ تین سورتوں کی طرح مکی ہے اور نبوت کے ابتدائی دور کی ہے۔ حضرت ابن مسعود کے مطابق یہ نبوت کے پانچویں سال سے قبل نازل ہوئی اور اس کےساتھ سورۃ طٰہٰ ، الکھف اور مریم نازل ہوئیں۔ سورۃ مریم کی ابتدائی آیات حضرت جعفر ؓ نے ابی سینیا ہجرت کے وقت نجاشی کے سامنے تلاوت کیں جو اسی سال ہوئی تھی۔ اس سورۃ کا گزشتہ سورۃ طٰہٰ سے مربوط تعلق یوں جڑتا ہے کہ سورۃ طٰہٰ کے اختتام پر بتایا گیا تھا کہ الٰہی عذاب کفار کو اپنے وقت معینہ پر آلے گا اور آپ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ ان کےظلم و تعدی اور مخالفت کو صبر اور تحمل سے برداشت کریں۔ اس سورۃکا آغاز اس تنبیہ سے ہوا ہے کہ کفار کی سزا کا وقت آن پہنچا ہے اور اب انہیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا اب وہ بے یقینی اور لاپرواہی کے صحرا میں حیران و ششدر گھومیں گے۔ یہ اس سورۃ کا اپنی سابقہ سورۃ سے فوری تعلق ہے۔ مگر اصل تعلق دونوں سورتوں کے مضامین کی مطابقت کا ہے جو ان دونوں کو مزید مربوط کردیتا ہے۔ سورۃ مریم میں چند عیسائی عقائد کی تردید کی گئی تھی جیسے کہ حضرت عیسیٰ ،الٰہی صفات کےمالک ہیں، یہ کہ آپ نے شریعت کو منسوخ کردیا ہے اور اس کو ایک لعنت قرار دیا ہے اور یہ کہ نجات کسی اچھے عمل سے نہیں بلکہ کفارہ کے ذریعہ ملتی ہے۔ سورۃ طٰہٰ میں حضرت موسیٰ کے حالات کی تفصیل بیان کی گئی ہے تاکہ ان عقائد کو مسترد کیا جائے۔عیسائیوں کو بتایا گیاہےکہ عیسائیت سلسلہ موسویہ کی ہی ایک کڑی ہے اور حضرت موسیٰ کے حالات ان (عیسائی) عقائد کی تردید کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی تمام تر شان اس بات میں ہے کہ آپ ایک شرعی نبی ہیں ۔ اگر شریعت ایک لعنت ہے تو عیسائی عقائد کے مطابق حضرت موسیٰ کی عزت اور توقیر کرنے کی بجائے آپ کی مذمت کرنی چاہیئے۔

اس کے بعد سورۃ طٰہٰ میں حضرت آدم کے تکلیف اٹھانے کا تفصیلی ذکر ہے اور یوں گناہ کے بارے میں عیسائیوں کے نظریہ کی جڑ تک تفصیل بیان کرکے اس کا رد کیا گیاہے۔ اس بات کی خوب وضاحت کی گئی ہے کہ گناہ کے موروثی ہونے کی کوئی حقیقت نہ ہے اور یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کو بے جا تجاوز کی وجہ سے سزا دی گئی تھی۔ پھر یہ بتایا گیاہےکہ اگر انسان کے لئےگناہ سے نجات ممکن نہیں ہے تو پھر خدائی سزا کا بنیادی مقصد (اصلاح) ہی ختم ہو جاتا ہےاور خدا کے رسولوں اور نبیوں کو بجائے گناہ گاروں کو تنبیہ کرنے کے، انہیں یہ آرام دہ پیغام دینا چاہیئے کہ حالات اور مجبوریوں میں جکڑی ہوئی مخلوق ہونے کی وجہ سے ہرگز ان کا حساب کتاب نہ ہوگا اور وہ سزا کے مستحق نہیں ٹھہریں گے۔ اسی مضمون کو مزید وضاحت اور صراحت سے اس سورۃ میں بیان کیا گیاہے کہ نہ صرف کسی خاص نبی کے مخالفین بلکہ جملہ انبیاء جو حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک اور پھر آنحضرت ﷺ تک تشریف لائے ان سب کے دشمنوں کو ان کی بداعمالیوں کے باعث سزا دی گئی اور نیکوں کو انکے نیک اعمال کے بدلے بہترین اجر دیا گیا۔ اگر انسان نے گناہ وراثت میں پایا ہوتا اور وہ اس سے چھٹکارا نہ پا سکتا تو پھر گناہ گاروں کو سزا دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے اور نہ ہی نیکوں کو اجر دینے کی ۔ لہٰذا گناہ کے موروثی ہونے کا عقیدہ ایک بے بنیاد ایجاد ہے۔

مضامین کا خلاصہ

اس سورۃ کا آغاز کفار کو اس تنبیہ سے کیا گیا ہے کہ خدائی پکڑ تیزی سے آن پہنچی ہے مگر وہ خود کو جھوٹے طور پر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ دنیا میں کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس سے تمسخر اور مذاق نہ کیا گیاہو۔ مگر از راہِ ہمدردی اور اپنی قوم کے لوگوں کی روحانی ترقی کے خیال سے خدا کے نبی انہیں حق کو قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ وہ فلاح پا جائیں۔ اگر گناہ انسان کو وراثت میں ملا ہے تو اس دعوت (حق) کا کیا مقصد ہے؟

پھر اس سورۃ میں کفار کے بعض اعتراضات کو لے کر ان کا تسلی بخش جواب دیا گیاہے۔ اس کے بعد کفار کو مخاطب کرکے پوچھا گیاہے کہ آخر ایسا کونسا بوجھ ہے جو قرآن کریم نے ان پر ڈالا ہے جس کی وجہ سے وہ اس کے انکار پر کمر بستہ ہوگئے ہیں۔ اس پیغام (قرآن) کا بنیادی مقصد انہیں اخلاقی طور پر بلند مرتبہ و رتبہ دلانا ہے۔ کیونکہ یہ خدا کے اپنے نازل کردہ الفاظ ہیں، اس کے منکر سزا سے بچ نہیں سکتے۔ پھر یہ سورۃ منکرین سے سوال پوچھتی ہے کہ کیا انہوں نے کبھی سنجیدگی سے اس بات پر غور کیاہے کہ علیم و حکیم خدا نے بغیر کسی مقصد کے اس کائنات کو تخلیق کیاہے اور یہ کہ جو بھی اس عظیم مقصد کے راستے میں حائل ہو گا وہ لازماً ناکام و نا مراد ہوگا۔

بعد ازاں اس سورۃ میں توحید باری تعالیٰ کے مضمون کو بیان کیا گیاہے جو جملہ مذاہب کی بنیاد اور اہم ترین اکائی ہے۔ جب ایک ہی قانون فطرت پوری کائنات کو چلا رہا ہے تو یہ بتایا گیا ہے کہ آخر متعدد خداؤں کو ماننے والے شرک کا جواز کیونکر پیش کر سکتے ہیں۔ متعدد خداؤں کو ماننے کا عقیدہ خود نظام کائنات کے چلانے کے حوالہ سے تضاد کا شکار ہو جاتا ہے(کہ آخر کس خدا کے حتمی حکم پر نظام کائنات چل رہا ہے)۔ جیساکہ ظاہر ہے اس نظام میں ایک بہترین تنظیم پائی جاتی ہے تو لازماً اس کائنات کا ایک ہی خالق اور ایک ہی نگہبان اور محافظ ہے۔ اور آخر خدا کو بیٹے کی کیا حاجت، کیونکہ بیٹے کی ضرورت اس کو ہے جس نے توڑ پھوڑ کا شکار ہونا ہو یا مرنا ہو یا خود اکیلے کوئی کام سر انجام نہ دے سکتا ہو۔ مگر خدا کے متعلق ایسے خیالات توہین آمیز اور بے بنیاد ہیں۔ اس کے بعد اس سورۃ میں یہ قانون فطرت بیان کیا گیا ہے کہ جب ظلمت اور گمراہی پوری دنیا پر چھا جاتی ہے اور قحط الرجال ہوتا ہے تو خدا انسانوں پر اپنی رحمت اور آسمانی پانی (وحی) کے دروازے کھول دیتا ہے اور یوں زمین کو ایک نئی زندگی عطا کرتا ہے جو قبل ازیں گناہ اورظلم میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے۔

نور اور ظلمت کا رجحان روحانی دنیا میں ظاہری دن اور رات کے ادلنے بدلنے کی طرح ہے۔ پھر اس سورۃ میں اس مضمون پر روشنی ڈالی گئی ہےکہ کفار کی طرف سے یہ بیوقوفانہ رویہ ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کا اس وجہ سے انکار کردیں کہ آپ ایک عام فانی وجود ہیں۔ دراصل قرآنی وحی کے حامل (آنحضرت ﷺ) کا مرتبہ اور مقام حقیقی وجود نہ ہے بلکہ آپ ﷺ کو بھیجنے والے (اللہ) کی حقیقی اہمیت ہے۔ اس بات کے اظہار کے لئے کہ آنحضرت ﷺ کا مقصد ہی کامیاب ہوگا اس سورۃ میں چند سابقہ انبیاء کے حوالے پیش کیے گئے ہیں جن میں حضرت نوح، حضرت ابراھیم ، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت ادریس اور دیگر شامل ہیں جو عین مخالفت کے طوفان میں بھی اپنے مقصد میں کامیاب و کامران ہوئے۔ خدا کے یہ سب چنیدہ بندے جن میں حضرت عیسیٰ بھی شامل ہیں نہایت اعلیٰ اور بلند اخلاق کے مالک تھے اور ان (حضرت عیسیٰ) کی طرح باقیوں کو بھی سخت مشکلات اور مصائب کا سامنا ہوا۔ پھر ان میں سے صرف حضرت عیسیٰ کو ہی کیوں خدا کا بیٹا سمجھا جائےاور باقیوں کو نہیں۔ ان نبیوں کے ذکر کے بعد حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ کا خاص طور پر ذکر کیا گیاہےجن کے حالات کسی طرح بھی دوسروں سے منفرد نہ تھے۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا غیر معمولی ہونا بھی ان کوکسی خاص روحانی مرتبہ پر فائز نہیں کرتا۔ حضرت یحییٰ کی پیدائش بھی نہایت غیر معمولی حالات میں ہوئی تھی۔ اگر حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے تو حضرت یحییٰ کی پیدائش کے وقت ان کے والد ادھیڑ عمر کو پہنچ چکے تھے اور والدہ بانجھ تھیں اور بچے کی پیدائش نا ممکنات میں سے تھی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کو جو مصائب اور شدائد پیش آئے وہ نئے نہ تھے۔ اگرچہ آپ کو صلیب پر چڑھایا گیا مگر زندہ اتار لئے گئے مگر حضرت یحییٰ نے خدا کی راہ میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے جان دے دی۔ پھر کیوں صرف حضرت عیسیٰ کی وفات (مصلوب ہونے) کو انسانیت کے لئے کفارہ تسلیم کیا جائے اور حضرت یحییٰ کی قربانی کو نہیں۔

اس سورۃ کے اختتام پر یاجوج اور ماجوج کی مادی ترقیات، کامیابی اور طاقت کا ذکر کیا گیاہے یعنی مغربی عیسائی اقوام کا۔ جن کے متعلق یہ سورۃ آگے چل کر بتاتی ہے کہ وہ ساری دنیا میں پھیل جائیں گی اور ہر طرح کی طاقت پر ان کا قبضہ ہوگا اور دنیا کے دوسرے ممالک ان کے سامنے سر تسلیم خم کئے کھڑے ہوں گے۔ وہ وقت ہوگا جب ان مغربی اقوام کی تباہی کا موعود وقت آئے گا اور وہ وعدے پورےکئے جائیں گے۔ خدائی عذاب ان پر اچانک اور اس تیزی سے آئے گا کہ وہ حیران و ششدر رہ جائیں گے۔ ان کے جملہ ذرائع جو ان کے غرور کی وجہ ہوں گے، ان کی شان و شوکت، عزت و حشمت تباہ و برباد ہو جائے گی اور راکھ اور دھول ہو کر رہ جائے گی۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اگست 2020