• 20 ستمبر, 2020

خلافت کا عظیم الشان مقام اور اس کی ضرورت و اہمیت

بنی نوع انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی روحانی نعمت رسالت اور نبوت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے اسی نعمت کے ذریعہ نوع انسانی کو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی چہرہ شناسی نصیب ہوتی ہے اور انبیاء کے وجود کے ذریعہ اللہ تعالی اپنی ربوبیت کی طاقتیں دنیا پر آشکار کرتا ہے اور اپنی عظیم صفات کی تجلیات اپنے ان پیاروں کے وجودوں کے ذریعہ دنیا پر ظاہر کرتا ہے اور درحقیقت حقیقی توحید اور خدادانی اور معرفت کاملہ کی متاع اسی عظیم گروہ کے دامن سے وابستہ ہے ۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’یہ بھی یاد رہے کہ خدا کے وجود کا پتادینے والے اور اس کے واحد لاشریک ہونے کاعلم لوگوں کو سکھلانے والے صرف انبیاء علیھم السلام ہیں اور اگر یہ مقدس لوگ دنیا میں نہ آتے تو صراط مستقیم کا یقینی طور پر پانا ایک ممتنع اور محال امر تھا‘‘۔

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 114)

مزید فرماتے ہیں :
’’جس طرح آنکھ میں ایک روشنی ہے اور وہ باوجود اس روشنی کے پھر بھی آفتاب کی محتاج ہے اسی طرح دنیا کی عقلیں جوآنکھ سے مشابہ ہیں ہمیشہ آفتاب نبوت کی محتاج رہتی ہیں اور جبھی کہ وہ آفتاب پوشیدہ ہوجائے ان میں فی الفور کدورت اور تاریکی پیدا ہوجاتی ہے کیاتم صرف آنکھ سے کچھ دیکھ سکتے ہو ؟ ہرگز نہیں اسی طرح تم بغیر نبوت کی روشنی کے بھی کچھ نہیں دیکھ سکتے پس چونکہ قدیم سے اور جب سے کہ دنیاپیدا ہوئی ہے خدا کا شناخت کرنا نبی کے شناخت کرنے سے وابستہ ہے اس لئے یہ خود غیر ممکن اور محال ہے کہ بجز ذریعہ نبی کے توحید مل سکے نبی خدا کی صورت دیکھنے کا آئینہ ہوتا ہے اسی طرح آئینہ کے ذریعہ سے خدا کا چہرہ نظر آتا ہے‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 115)

خداتعالیٰ کے ان پیارے انبیاء کے سینے جہاں ایک طرف اللہ تعالی کی لازوال محبت اور عشق سے معمور ہوتے ہیں اور ان کے دل صفات الٰہیہ کے ظہور کی تجلیّ گاہ ہوتے ہیں وہیں ان انبیاء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق خدا کی ہمدردی وغمخواری اور ان سے بے انتہا محبت سے پُر دل عطا ہوتے ہیں مخلوق خداوندی سے شفقت اور ہمدردی کا ایسا سمندر ان کے دلوں میں موجزن ہوتا ہے کہ کسی دنیاوی اور جسمانی تعلق میں حتّیٰ کہ حقیقی والدین میں بھی اس جذبہ کا ملنا ناممکن ہے ،لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انبیاء اور رسل بھی زمرہ بشر میں شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک مدت معینہ کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوجانا لازمہ بشر ہے اور قدرت کے اس ازلی قانون سے انبیاء بھی باہر نہیں چنانچہ وہ بھی بالآخر اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں لیکن خداتعالیٰ کی وہ رحمت جو ہر چیز پر وسیع ہے تقاضا کرتی ہے کہ دنیا کو ان برکات سے کبھی محروم نہ رہنے دے جو انبیاء کے وجودوں سے وابستہ ہوتی ہیں لہذا خدا تعالیٰ انبیاء کے رخصت ہوجانے پر قیام خلافت کے ذریعہ سے انبیاء کی نیابت میں ظلی طور پر ان کے فیوض وبرکات کوجاری وساری رکھتا ہے ۔

چنانچہ حدیث شریف میں آیا ہے :

مَاکَانَتِ نُبُوَّۃ قَطُّ ُاِلَّا تَبِعَتْھَا خِلَافَۃٌ

(کنزالعمال الفصل الاول فی بعض خصائص الانبیاء)

یعنی ہر نبوت کے بعد خلافت کا نظام جاری رہا ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’اللہ جلّشانہ فرماتا ہے وَاَمَّا مَایَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ یعنی جو چیز انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے وہ زمین پر باقی رہتی ہے اب ظاہر ہے کہ دنیا میں زیادہ تر انسانوں کو نفع پہنچانے والے گروہ انبیاء ہیں کہ جو خوارق سے معجزات سے پیشگوئیوں سے حقائق سے معارف سے اپنی راستبازی کے نمونہ سے انسانوں کے ایمان کوقوی کرتے ہیں اور حق کے طالبوں کو دینی نفع پہنچاتے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دنیا میں کچھ بہت مدت تک نہیں رہتے بلکہ تھوڑی سی زندگی بسر کرکے اس عالم سے اٹھائے جاتے ہیں لیکن آیت کے مضمون میں خلاف نہیں اور ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام خلاف واقع ہو پس انبیاء کی طرف نسبت دے کر معنی آیت کے یوں ہوں گے کہ انبیاء من حیث الظّل باقی رکھے جاتے ہیں اور خداتعالیٰ ظلّی طور پر ہر یک ضرورت کے وقت میں کسی اپنے بندہ کوان کی نظیر اور مثیل پیداکردیتا ہے جو انہیں کے رنگ میں ہو کر ان کی دائمی زندگی کا موجب ہوتا ہے‘‘۔

(شھادۃ القرآن روحانی خزائن جلد6 صفحہ 351-352)

پھر فرماتے ہیں :
’’خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہوسکتا ہے جو ظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو
اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ درحقیقت رسول کاظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقانہیں لہٰذا خداتعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولیٰ ہیں ظلّی طور پر ہمیشہ کے لئے تاقیامت قائم رکھے سو اسی غرض سے خداتعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تادنیاکبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے‘‘۔

(شھادۃ القرآن روحانی خزائن جلد6 صفحہ 353)

وحدت امت اور مومنوں کی شیرازہ بندی کا ذریعہ

رسالت کا ایک عظیم الشان کام اتحادویگانگت اور وحدت ملی کا قیام ہے چنانچہ رسول کی وفات کے بعد یہ اہم ذمہ داری خلافت کو منتقل ہوتی ہے اور وہ نبوت کی ظلّیت میں اس حبل اللہ کا کردار ادا کرتی ہے جس سے اعتصام کرکے افتراق وانتشار سے محفوظ رہ کر متبعین خلافت وحدت کی لڑی میں پروئے جاکر خدا تعالیٰ کی کامل توحید کے لئے کوشاں ہوجاتے ہیں اور ایک ہاتھ پر جمع ہوکر یَدُ اللّٰہِ عَلَی الجَمَاعَۃِ (اللہ کی تائید ونصرت کا ہاتھ جماعت کے سر پر ہوتا ہے) کی نعمت سے فیضیاب ہوکر آنحضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی جاری کردہ وعید مَنْ شَذَّ شُذَّ فِی النَّارِ (جو جماعت سے الگ ہوگیا وہ آگ میں پھینک دیا گیا) سے محفوظ ہوجاتے ہیں خلافت کے ساتھ جڑی اس حقیقت اور خلافت کے ساتھ وابستہ اس عظیم برکت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :

فَاِنْ رَّئَیتَ یَومَئِذٍ خَلِیفَۃَ اللّٰہِ فِی الاَرضِ فَالْزَمْہُ وَاِنْ نُھِکَ جِسْمُکَ وَاُخِذَ مَالُکَ

(مسند احمد بن حنبل)

یعنی اگر امت میں فساد اور افتراق کے زمانہ میں تم موجود ہو اور تم دیکھ لو کہ اللہ کا خلیفہ زمین میں موجود ہے توتم اس سے چمٹ جانا خواہ اس کی پاداش میں تمہارا جسم ہی کیوں نہ نوچ لیاجائے اور تمہارا مال لوٹ لیا جائے۔ بخاری کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں

فَمَاتَاْمُرُنِی اِنْ اَدْرَکَنِی ذٰلِکَ قَالَ تَلْزَمْ جَمَاعَۃَ الْمُسْلِمِینَ وَاِمَامَھُم قُلْتُ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّھُمْ جَمَاعَۃٌ وّلَا اِمَامٌ قَالَ فَاعْتَزِلِ الفِرَقَ کُلَّھَا

(صحیح بخاری کتاب الفتن باب کیف الامر اذا لم تکن جَمَاعَۃ)

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اگر فتنہ وفساد اور افتراق وانتشار کے زمانہ کو میں پالوں تو میرے لئے حضور کا کیا حکم ہے تو آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ تم مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ وابستہ ہو جانا حضرت حذیفہ نے عرض کیا کہ اگر نہ کوئی جماعت ہوئی اور نہ امام تو آنحضور ﷺ نے فرمایا تو پھر تم تمام فرقوں سے الگ تھلگ ہوجانا ۔

معروف عالم دین ،کانگریسی رہنما ایڈیٹر اخبار وکیل امرتسر ضرورت خلافت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اجتماع کے یہ خواص اور اوصاف نہ تو حاصل ہوسکتے ہیں نہ قائم رہ سکتے ہیں جب تک کوئی بالاتر فعال و مدبر طاقت وجود میں نہ آئے اور وہ منتشر افراد کو ایک متحد اور موتلف ،ممزوج اور منظم جماعت کی شکل میں قائم نہ رکھے پس ایک امام کا وجود ناگزیر ہوا اور اسی لئے ضروری ہوا کہ سب سے پہلے تمام افراد ایک ایسے وجود کو اپنا امام و مطاع تسلیم کرلیں جو بکھرے ہوئے اجزاء کو اتحاد و ائتلاف اور امتزاج ونظم کے ساتھ جوڑ دینے اور اڑتے ہوئے ذروں سے ایک حیّ وقائم جماعتی وجود پیدا کر دینے کی قابلیت رکھتا ہو اصل مرکز اس طاقت کا امام اعظم یعنی خلیفہ ہے‘‘

(مسئلہ خلافت از مولانا ابولکلام آزاد صفحہ 47)

پھر اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں :
’’کتاب وسنت نے جماعتی زندگی کے تین رکن بتلائے ہیں : تمام لوگ کسی ایک صاحب علم وعمل مسلمان پر جمع ہوجائیں اور وہ ان کا امام ہو
وہ جو کچھ تعلیم دے ایمان و صداقت کے ساتھ قبول کریں

قرآن وسنت کے ماتحت اس کے جو کچھ احکام ہوں ان کی بلا چون وچرا تعمیل و اطاعت کریں

سب کی زبانیں گونگی ہوں صرف اسی کی زبان گویا ہو سب کے دماغ بیکار ہوجائیں صرف اسی کا دماغ کارفرما ہو لوگوں کے پاس نہ زبان ہو نہ دماغ صرف دل ہو جو قبول کرے اور صرف ہاتھ پاؤں ہوں جو عمل کریں

اگر ایسا نہیں ہے تو ایک بھیڑ ہے ،ایک انبوہ ہے ، جانوروں کا ایک جنگل ہے ،کنکر پتھر کا ایک ڈھیر ہے مگر نہ تو جماعت ہے ،نہ امت ،نہ قوم، نہ اجتماع اینٹیں ہیں مگر دیوار نہیں ،کنکر ہیں مگر پہاڑ نہیں ،قطرے ہیں مگر دریا نہیں ، کڑیاں ہیں جو ٹکڑے ٹکڑے کردی جاسکتی ہیں مگر زنجیر نہیں ہے جو بڑے بڑے جہازوں کو گرفتار کرسکتی ہے‘‘

(مسئلہ خلافت صفحہ 208)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جب معاندین خلافت نے فتنہ و فساد کا طوفان برپا کر رکھا تھا اور وہ اپنی ریشہ دوانیوں اور سیاہ کاریوں کے ذریعہ خلافت کے خاتمہ کے درپے تھے اس وقت آنحضور ﷺ کے صحابی حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ان کی ان مذموم حرکات کے بدنتائج سے باخبر کرتے ہوئے درج ذیل چند اشعار کہے

عَجِبْتُ لِمَا یَخُوضُ النَّاسُ فِیہِ
یَرُومُونَ الخِلَافۃَ اَنْ تَزُولَا
وَلَو زَالَتْ لَزَالَ الْخَیرُ عَنْھُمّ
وَلَاقَوا بَعْدَھَا ذُلّاً ذَلِیْلاَ
وَکَانُوا کَالْیَھُودِ وَکَالنَّصَارٰی
سَوَاءً کُلُّھُمْ ضَلُّوا السَّبِیلاَ

ترجمہ : جن باتوں کے پیچھے یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں انہیں دیکھ کر مجھے تعجب ہوتا ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خلافت ختم ہوجائے اور اگر خلافت ختم ہوگئی تو ہر خیروبھلائی ان کے ہاتھوں سے جاتی رہے گی اور خلافت کے اختتام کے بعد رسوا کن حالات کا انہیں سامنا ہوگا اور لوگ یہودونصارٰی کی طرح ہوجائیں گے اور راہ راست سے دور جاپڑیں گے ۔ مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب تک ان میں خلافت رہی وہ ہر میدان میں بامراد اور فتحیاب رہے جس طرف انہوں نے رخ کیا کامیابیوں اور کامرانیوں نے ان کے قدم چومے لیکن جونہی خلافت اٹھی وہ افتراق و انتشار کا شکار ہوکر قعر مذلّت میں جا گرے۔ہمارے پیارے امام سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں

’’قدرت ثانیہ (خلافت – ناقل) خدا کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے جس کا مقصد قوم کو متحد کرنا اور تفرقہ سے محفوظ رکھنا ہے یہ وہ لڑی ہے جس میں جماعت موتیوں کی مانند پروئی ہوتی ہے اگر موتی بکھرے ہوں تو نہ تو محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی خوبصورت معلوم ہوتے ہیں ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہی خوبصورت اور محفوظ ہوتے ہیں اگر قدرت ثانیہ نہ ہو تو دین حق کبھی ترقی نہیں کرسکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہو جائیں اور حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں ہماری ساری ترقیات کا دارومدار خلافت سے وابستگی میں ہی پنہاں ہے‘‘

(روزنامہ الفضل 30مئی 2003)

خلیفہ خدا بناتا ہے

منصب خلافت کی عظمت شان اور علوِّ مرتبت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ خلافت کے قیام اور خلفاء کے تقرر کا معاملہ خدا نے خود اپنے ہاتھ میں رکھا ہے چنانچہ قرآن مجید کی سورۃ النور کی آیت استخلاف میں اعمال صالحہ پر قائم مومنوں کو خلیفہ بنانے کا وعدہ فرمایا گیا تو فرمایا لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ کہ وہ ضرور خود ان کو خلیفہ بنائے گا پس جن وجودوں کا تقرر خود خدا کرے وہ کس عظمت شان کے حامل ہوں گے ایک کمزور انسان کی بساط نہیں کہ اس کا اندازہ کرسکے

یہاں اس امر کا بیان ضروری ہے کہ اللہ کے انبیاء ورسل اس وقت مبعوث ہوتے ہیں جب دنیا ہر طرح کی روحانی تاریکی کا شکار ہوچکی ہوتی ہے اور ہر طرف فساد اور ظلمت برپا ہوتی ہے ضلالت و گمراہی کے ایسے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت جوش مارتی ہے اور براہ راست کسی نبی کاتقرر فرماتی ہے لیکن خلافت جو نائب رسالت ہوتی ہے یہ خدا کی وہ نعمت ہے جو مومنین کی جماعت کو ان کے ایمان اور اعمال صالحہ پر قائم ہونے پراللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی رضا اور خوشنودی کی سند عطا کرتے ہوئے بطور انعام نازل ہوتی ہے لہٰذا اس خوشنودی کے نتیجہ میں اللہ تعالی خلفاء کے تقرر کے وقت مومنوں کو بھی اس طرح حصہ لینے کا اعزاز بخشتا ہے کہ خلیفہ کے انتخاب کا انہیں موقع دیا جاتا ہے اگرچہ بظاہر یہ ایک انتخاب ہوتا ہے لیکن درحقیقت اللہ تعالیٰ کی وحی خفی کے نتیجہ میں خدا کی مرضی اور اس کے تصرف کے تابع یہ لوگ اسی پاک وجود کا انتخاب کرتے ہیں جو اس منصب پر فائز کئے جانے کے لئے خدا کی مرضی اور اس کا فیصلہ ہوتا ہے ۔

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدّث دہلوی علیہ الرّحمۃ فرماتے ہیں
’’آیت لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ خلفاء کو مقرر فرماتا ہے …………… جب اصلاح عالم کے لئے کسی خلیفہ کی ضرورت سمجھتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں الہاماً ڈال دیتا ہے کہ وہ ایسے شخص کو خلیفہ منتخب کریں جسے خداتعالیٰ خلیفہ بنانا چاہتا ہے‘‘۔

(ازالۃ الخفاء مترجم اردو از حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدّث دہلوی علیہ الرّحمۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی صفحہ 77)

آنحضور ﷺ فرماتے ہیں

لَقَدْ ھَمَمْتُ اَوْ اَرَدْتُّ اَنْ اُرْسِلَ اِلیٰ اَبِی بَکْرٍ وَابْنِہِ وَاَعھَدَ اَنْ یَّقُولَ القَائِلُونَ اَو یَتَمَنَّی المُتَمَنُّونّ ثُمّ۔َ قُلْتُ یَاْبَی اللہُ وَیَدْفَعُ المُؤمِنِینَ

یعنی میں نے ایک دفعہ ارادہ کیا کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا کر ان کے حق میں خلافت کی وصیت لکھوادوں تاکہ باتیں بنانے والے باتیں نہ بنا سکیں اور اس منصب کی خواہش رکھنے والے خواہش نہ کرسکیں لیکن پھر میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ضرور ابوبکر کے علاوہ کسی بھی دوسرے کا انکار کردے گا اور مومن بھی اس خیال کو رد کردیں گے

آنحضور ﷺ کی یہ حدیث بھی واضح کررہی ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور خلیفہ کا انتخاب کرنے والے مومن الٰہی تصرف کے ماتحت اسی شخص کا انتخاب کرتے ہیں جس کے انتخاب کےلئے خدا کی مرضی ہوتی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں
’’آنحضرت ﷺ نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپ کو خوب علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقرر فرمادے گا کیونکہ یہ خدا کا ہی کام ہے اور خدا کے انتخاب میں نقص نہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور سب سے اول حق انہی کے دل میں ڈالا‘‘

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 525)

خلافت منبع علم و عرفان

چونکہ خلیفہ نائب رسول اور اس کا ظل ہوتا ہے اور اپنے نبی متبوع کے کمالات اور اس کی تعلیمات کے جاری وساری رکھنے کا فریضہ انجام دیتا ہے اور اس غرض کے لئے خدا خود اس کا انتخاب کرتا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ خود اس کی رہنمائی فرماتا اور تمام ضروری علوم سے اسے بہرہ ور فرماتا ہے اور اپنی جناب سے علم وعرفان ِحقیقی اور معرفت کا خزانہ اسے عطا کرتا ہے اور معرفت کاملہ کے حصول کا ماخذ اور منبع وہ قرار پاتا ہے اس کے دامن سے وابستہ خوش نصیب افراد اس چشمہ سے ہدایت پاتے ہیں اور اس سے دور رہنے والے بدنصیب بقول آنحضرت ﷺ جاہلیت کی موت مرجاتے ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے

مَن لَّمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِہِ مَات مِیتَۃً جَاھِلِیَّۃً کہ جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانا وہ جاہلیت کی موت مرگیا

اسی حقیقت کے پیش نظر آنحضور ﷺ فرماتے ہیں

عَلَیکُمْ بِسُنَّتِی وَ سُنَّۃِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِینَ الْمَھدِیِّینَ

(ترمذی ابواب العلم)

کہ تم پر فرض ہے کہ تم میری سنت پر چلو اور میرے ان خلفاء کی سنت پر بھی جو خدا سے ہدایت پاکر ہدایت دینے والے ہیں

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ازالۃ الخفاء میں آیت استخلاف کے الفاظ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِینَھُمُ الَّذِی ارتَضیٰ لَھُمْ کی تفسیر میں ایک لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے آپ فرماتے ہیں
’’وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِینَھُمُ الَّذِی ارتَضیٰ لَھُم دو معنی پر دلالت کرتا ہے ایک یہ کہ وہ خلفاء جن کی خلافت کا اس آیت میں وعدہ ہے جب وہ وعدہ پورا ہوگا تو دین نہایت کامل طور پر ظاہر ہوگا دوسرے یہ کہ عقائد وعبادات و معاملات و مسائل نکاح و احکام خراج جو جو باتیں ان خلفاء کے عہد میں ظاہر ہوں گی اور وہ جن جن چیزوں کی ترویج میں پورے اہتمام کے ساتھ کوشش کریں گے وہ سب چیزیں پسندیدہ دین ہوں گی نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت اگر ان خلفاء کا فیصلہ کسی مسئلہ کے متعلق یا ان کا فتویٰ کسی واقعہ کے متعلق پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تو وہ دلیل شرعی ہوگا کہ مجتہد اس سے تمسّک کرے گا کیونکہ وہ فیصلہ اور فتویٰ (بحکم اس آیت کے) وہی دین پسندیدہ دین ہے جس کی تمکین واقع ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال یہ تو یقینی ہے کہ ان کا قول دوسروں کے قیاس اور استنباط سے زیادہ قوی ہوگا‘‘

(ازالۃ الخفاء فصل سوم تفسیر آیات خلافت صفحہ 79 تا 80)

سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
’’جب تک باربار ہم سے مشورے نہیں لیں گے اس وقت تک ان کے کام میں برکت پیدا نہیں ہوسکتی آخر خدا نے ان کے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ نہیں دی میرے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ دی ہے انہیں خدا نے خلیفہ نہیں بنایا مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور جب خدا نے اپنی مرضی بتانی ہوتی ہے تو مجھے بتاتا ہے انہیں نہیں بتاتا پس تم مرکز سے الگ ہوکر کیا کرسکتے ہو جس کو خدا اپنی مرضی بتاتا ہے جس پر خدا اپنے الہام نازل فرماتا ہے جس کو خدا نے اس جماعت کا خلیفہ اور امام بنادیا ہے اس سے مشورہ اور ہدایت حاصل کرکے تم کام کرسکتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ دنیا بھر کے علوم جانتا ہو وہ اتنا کام بھی نہیں کرسکے گا جتنا بکری کا بکروٹہ کرسکتا ہے‘‘

(الفضل 20 نومبر 1946)

خلیفہ کو ماننا اور اس کی اطاعت کرنا فرض ہے

قرآن کریم آیت استخلاف جس میں اعمال صالحہ پر قائم ایمان لانے والوں سے خلافت کا وعدہ دے کر اس کی برکات کا مضمون بیان ہوا ہے اس آیت سے پہلے کی چند آیات اور پھر معاً بعد کی آیت میں اطاعت رسول کا حکم دیا گیا ہے اور درمیان میں اس آیت کو لاکر درحقیقت اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ خلافت کی اطاعت بھی ویسے ہی ضروری اور لازمی ہے جیسے کہ انبیاء اور رسل کی اطاعت ضروری ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ آیت کی تکمیل ان الفاظ سے ہوتی ہے

وَمَنْ کَفَرَ بَعدَ ذٰلِکَ فَاُوْلٓئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُونَ اور جو (اس خلافت کے قیام) کے بعد انکار کریں گے تو یہی لوگ فاسقوں میں شمار ہوں گے

اس آیت میں خلافت کے انکار کے لئے لفظ کفر استعمال ہواہے اور ظاہر ہے کہ لفظ کفر ایمان کے بالمقابل بولا جاتا ہے اس طرح یہ آیت صراحت کے ساتھ خلفاء کو ماننے اور ان کی بیعت میں آکر ان کی اطاعت فرض قرار دے رہی ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں
’’خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہوں گا اور خلیفہ کے لفظ کو اشارہ کے لئے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کے جانشین ہوں گے اور اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتا رہا اور ان کے ہاتھ سے برجائی دین کی ہوگی اور خوف کے بعد امن پیدا ہوگا یعنی ایسے وقتوں میں آئیں گے کہ جب اسلام تفرقہ میں پڑا ہوگا پھر ان کے آنے کے بعد جو ان سے سرکش رہے گا وہی لوگ بدکار اور فاسق ہیں یہ اس بات کا جواب ہے کہ بعض جاہل کہا کرتے ہیں کہ کیا ہم پر اولیاء کا ماننا فرض ہے سو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیشک فرض ہے اور ان سے مخالفت کرنے والے فاسق ہیں اگر مخالفت پر ہی مریں‘‘۔

(شہادۃ القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 339)

اسی طرح فرماتے ہیں
’’اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں خداتعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے وَمَنْ کَفَرَ بَعدَ ذٰلِکَ فَاُولٓئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُونَ یعنی بعد اس کے جو خلیفے بھیجے جائیں پھر جو شخص ان کا منکر رہے وہ فاسقوں میں سے ہے‘‘

(شہادۃ القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ344)

حضرت سید اسمٰعیل شہید علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
خلیفۂ راشد سایۂ رب العالمین ہمسایۂ انبیاء ومرسلین ،سرمایہء ترقیء دین اور ہم پایہ ملائکہ مقربین ہے دائرہ امکان کا مرکز تمام وجوہ سے باعث فخر اور ارباب عرفان کا افسر ہے افراد انسی کا سردار ہے اس کا دل تجلیء رحمان کا عرش اور اس کا سینہ رحمت وافرہ اور اقبال جلالت یزداں کا پرتو ہے اس کی مقبولیت جمال ربانی کا عکس ہے اس کا قہر تیغ قضا اور مہر عطیات کا منبع ہے اس سے اعراض اعراض تقدیر اور اس کی مخالفت مخالفت رب قدیر ہے جو کمال اس کی خدمتگذاری میں صرف نہ ہو ،خیال ہے پُر خلل ،اور جو علم اس کی تعظیم وتکریم میں مستعمل نہ ہو سراسر وہم باطل ومحال ہے جو صاحب کمال اس کے ساتھ اپنے کمال کا موازنہ کرے وہ مشارکتِ حق تعالیٰ پر مبنی ہے اہل کمال کی علامت یہی ہے کہ اس کی خدمت میں مشغول اور اس کی اطاعت میں مبذول رہیں اس کی ہمسری کے دعویٰ سے دستبردار رہیں اور اسے وارث رسول شمار کریں

خلیفہء راشد نبی حکمی ہے گو وہ فی الحقیقت پایۂ رسالت کو نہیں پہنچا لیکن منصب خلافت احکام انبیاء اللہ کے ساتھ منسوب ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگرچہ کوئی شخص ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر چند عبادات اور طاعات دینیہ بجالائے اور احکام اسلام میں پوری کوشش کرتا رہے لیکن جب تک امام وقت کی اطاعت کے آگے سرتسلیم خم نہ کرے اور اس کی اطاعت کا اقرار نہ کرے ،عبادتِ مذکورہ آخرت میں اس کے کام نہ آئے گی اور رب قدیر کی داروگیر سے خلاصی نہ ہوسکے گی‘‘۔

(منصب امامت حضرت سید اسمٰعیل شہید علیہ الرحمۃ مترجم اردو مطبوعہ حاجی حنیف اینڈ سنز لاہور صفحہ 121تا122)

خلاصہء کلام یہ ہے کہ خلافت اللہ کا وہ عظیم الشان انعام ہے جو نیک اعمال بجالانے والے مومنوں کو عطا ہوتا ہے، خلافت وہ جانشین رسالت ہے کہ جس میں رسالت کے فیوض وبرکات منعکس ہوکر مردہ دلوں کو روحانی زندگی کا وارث بناتے ہیں، یہ وہ عظیم نعمت ہے جس کی دستار بندی خدا خود اپنے ہاتھوں سے کرتا ہے، یہ وہ حبل اللہ ہے جو مومنوں کو وحدت کی لڑی میں پروئے رکھتی ہے اور ان کی شیرازہ بندی کرتی ہے، یہ وہ عظیم درسگاہ ہے جو علم و عرفان کے جام پلاکر جاہلیت کی موت سے نجات دلاتی ہے ،خلافت فتح و ظفر کی وہ کلید ہے جو وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِینَھُمْ الَّذِی ارتَضیٰ لَھُم کی نوید کو وفا کرکے دکھاتی ہے ، یہ عافیت کا وہ حصار ہے جو وعدۂ الٰہی وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِنْ بَعدِ خَوفِھِمْ اَمْناً کے ایفاء کی ضمانت دیتی ہے ۔

الحمدللہ ثُمّ الحمدللہ کہ آج روئے زمین پر احمدی وہ خوش نصیب ہیں جن کو خلافت جیسی عظیم دولت نصیب ہوئی ہے اور اس نعمت کے سائے تلے ہر لمحہ وہر آن جماعت احمدیہ ترقی کی نئی سے نئی منازل طے کرتی چلی جارہی ہے اور اس خلافت کے ذریعہ سے آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے فیوض و برکات دنیا تک پہنچ رہے ہیں ،دین کو تمکنت مل رہی ہے ،مومنوں کے خوف امن میں تبدیل ہورہے ہیں اور توحید کامل کے ساری دنیا میں قیام کے سامان ہورہے ہیں خدا تعالیٰ کی یہ عظیم نعمت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اطاعت خلافت کے وہ نمونے دکھائیں کہ صحابہ کے دور کی یاد تازہ ہوجائے خدا ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے – آمین

(محمد عثمان شاہد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اگست 2020