• 23 ستمبر, 2021

قلم دا سورج

جماعت احمدیہ کے مستند اور پائے کے شاعر جناب مبارک احمد ظفر اسلام آباد برطانیہ نے اپنا پنجابی کلام کا مجموعہ بعنوان ’’قلم دا سورج‘‘ پڑھنے کو دیا۔

جو دیدہ زیب جلد اور نفیس کاغذ پر طبع شدہ ہے۔ ٹائیٹل پیج مہندی کلر میں ہے۔ جس پر قلم واضح طور پرہےاور اس کے بیک گراونڈ پر سورج کی شعاعیں دکھائی گئ ہیں۔

مربوط جلد ایک الگ Glazing paper کے ساتھ کور کی گئی ہے۔ جس کی اندر کی تہہ پر یعنی کتاب کھلتے ہی جن مبارک الفاظ پر قاری کی نظر پڑتی ہے۔ وہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز ہی کے قلم سے تحریر میں شاعر کو مبارکباد دی ہے۔ ’’اللہ مبارک کرے‘‘

(دستخط) مرزا مسرور احمد

حضرت خلیفۃ المسیح کے قلم سے تحریر شدہ ان مبارک الفاظ سے مجموعہ کلام کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے ہیں۔

موصوف شاعر نے اپنے مجموعہ کلام کا نام اپنے جس شعر سے اخذ کیا ہے۔

جد وی دیوا مدھم ہویا
قلم کا سورج پرچم ہویا

قلم کے حوالے سے آپ کی ایک نظم تین اشعار پر مشتمل ’’ن والقلم‘‘ کے عنوان سے مجموعه کلام کے صفحہ 31 پر شائع ہوئی ہے جو اس ساری کتاب کا نچوڑ ہے۔ کیونکہ آج جماعت احمدیہ قلم کے ساتھ جو جہاد کر رہی ہے۔ اس کا یہ اعلان ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قلم کے جہاد کے بارے میں اپنا مؤقف بیان فرمایا ہے۔

ان تین اشعار کوادارہ الفضل آن لائن نےمورخہ چار ستمبر 2021ء کے شمارے میں نمایاں طور پر اس غرض سے شائع کروا دیا ہے کہ تا قارئین الفضل کولکھنے کی جانب رغبت ہو۔ آمین

وہ نظم یوں ہے:

بختاں والا اے کیڈا قلم لوکو
جیدی چائی اے ربّ قسم لوکو
اینہوں نیزہ تے نالے میں تِیر آکھاں
اینہوں اج دی میں شمشیر آکھاں
اج جنگ نئیں تیراں تلواراں دی
اج لوڑ اے قلم دے واراں دی

یہ مجموعہ 174 صفحات پر مشتمل ہے۔ آخری صفحے پر موصوف نے اپنے ان چار مجموعوں کا ذکر کیا ہے۔ صفحہِ عشق، وفا کے دیپ، تذکرۃ الآباء اور قلم دا سورج۔

اور کتاب درج ذیل ایڈریس پر دستیاب ہے۔

226 Central road
Morden surrey
SM4 5PP

موصوف نے مختلف عناوین پر قلم اٹھایا ہے۔ پنجابی کلام کو پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہے اُسے کہنا کتنا مشکل ہو گا۔ لیکن جناب شاعر نےنہایت خوش اسلوبی سے پنجابی کلام کہنے کے حق کو نبھایا ہے۔ عمومی طور پر کتاب کی اشاعت میں پروف کی غلطیوں کا امکان بھی رہ جاتا ہے۔ لیکن ’’قلم دا سورج‘‘ پروف کی غلطیوں سے بھی مبرا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کے امریکہ کانگریس سے خطاب کے وقت اراکین کی طرف سے جس تعظیم کا مظاہرہ ہم نے ایم ٹی اے پر دیکھا۔ اس کو اشعار کی شکل آپ نے یوں دی۔

انوکھی شان دا اللہ نے کروایا سفر تیرا
بڑا ڈونگا دماغاں تے خدا پایا اثر تیرا
کهلو اٹھے تری تعظیم وچ پردھان جنِے سن
دلاں اتے عجب اک پے گیا سی رعب و ڈر تیرا

مخالفین سے بھی آپ بڑے احسن رنگ سے مخاطب ہوئے لیکن ان مخالفتوں سے بچنے کے لیے خلافت کے حصار اور سہارے کو یوں بیان کیا۔

ظفر خلافت دے سائے ہیٹھاں اسی بے خوفے آں ہسدے وسدے
خدا نے سانوں درند یاں دیاں حملیاں توں بچا لیا اے

تربیتی رنگ میں ایک نظم میں آپ ناصحانه رنگ میں یوں مخاطب ہیں۔

کچے بیر تے کھٹے امب
کھا کھا کھنگ لوائیے ناں
لوکاں دیاں برائیاں اتوں
کدی وی پردہ چائیے ناں

اور ایک قرآنی اصل کو یوں بیان کیا۔

مٹی دے وچ مٹی ہو کے
فیر انسان مکرم ہویا

اللہ تعالی اس کتاب کی اشاعت موصوف لکھاری کے لیے اور جماعت احمدیہ کے لیے مبارک کرے۔ آمین ثم آمین

(تبصرہ نگار۔فرخ شاد۔لندن)

(شاعر: جناب مبارک احمد ظفر۔تبصرہ کتب)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 ستمبر 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 ستمبر 2021