• 28 اکتوبر, 2020

حالات سے بھی مایوس ہو کر بیٹھ نہیں جانا چاہئے

’’بعض دفعہ ایسے حالات آ جاتے ہیں کہ مثلاً ملازمت چھوٹ گئی یا کوئی اور وجہ بن گئی، زمینداروں کی مثال میں پہلے دے آیا ہوں، کاروباری لوگوں کے بھی کاروبار مندے ہو جاتے ہیں یا بعض دفعہ ایسے حالات پیش آ جاتے ہیں کہ کاروبار کو فروخت کرنا پڑتا ہے، بیچنا پڑتا ہے، ختم کرنا پڑتا ہے۔ تو گو یہ ساری باتیں انسان کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہی ہو رہی ہوتی ہیں۔ اس کا نتیجہ انسان بھگتتا ہے، یہ تو ایک علیحدہ مضمون ہے۔ بہرحال ایسے حالات سے بھی مایوس ہو کر بیٹھ نہیں جانا چاہئے بلکہ کچھ نہ کچھ کرتے رہناچاہئے، ہاتھ پیر مارتے رہنا چاہئے، چاہے چھوٹا موٹا کام ہی ہو، انسان کو کسی بھی کام کو ضرور کرنا چاہئے۔ کئی لوگ ایسے ملتے ہیں جو بہت زیادہ مایوس ہو جاتے ہیں او رپریشانی کا شکار ہوتے ہیں، ان کو بھی اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا چاہئے۔ اور اس سے مدد مانگتے ہوئے جو بھی چھوٹا موٹا کوئی کام ملے یا کاروبار ہو اس کو دوبارہ نئے سرے سے شروع کرنا چاہئے۔ اور کسی کام کو بھی عار نہیں سمجھنا چاہئے۔ اگر اس نیت سے یہ کام شروع کریں گے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ چندے دینے ہیں پھر چندے پورے کرنے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان چھوٹے کاروباروں میں بھی بے انتہا برکت ڈالتا ہے۔ میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے، بالکل معمولی کاروبار شروع کیا، وسیع ہوتا گیا اور دکانوں کے مالک ہو گئے چھابڑی لگاتے لگاتے۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں جو ہوتے ہیں اگر نیت نیک ہو اور اس کی راہ میں خرچ کرنے کے ارادے سے ہو۔ تو پھر وہ برکت بھی بے انتہا ڈالتا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 28؍ مئی 2004ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اکتوبر 2020