• 27 اکتوبر, 2020

ہمیں تو ملک سے محبت ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
…ہاں یہ مَیں ضرور کہوں گا کہ اللہ کرے کہ جو بھی ملک کو بچانے کے لئے ان نفرتوں کی دیواروں کو گرانے کی کوشش کرے، اللہ تعالیٰ اسے کامیاب کرے۔ ہمیں تو ملک سے محبت ہے۔ ہم نے اس کے بنانے میں بھی کردار ادا کیا ہے اور اس کے قائم رکھنے کے لئے بھی ہر قربانی کریں گے اور کر رہے ہیں۔ ان شاء اللہ۔ ہر احمدی کو دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ملک میں ایسے لیڈر پیدا کرے۔

جہاں تک احمدیوں پر ظلموں کا سوال ہے اور اس کے توڑ کے لئے ہماری کوششیں ہیں تویہ کہ ہم نے اپنے معاملات جو ہیں خداتعالیٰ کے سپرد کئے ہیں۔ اگر ہم راز و نیاز کرتے ہیں تو اپنے پیارے ربّ سے اور ہم اس یقین پر قائم ہیں کہ احمدیت کے حق میں جو سکیم خداتعالیٰ بنائے گا اور بنا رہا ہے اس کے سامنے تمام انسانی تدبیریں ہیچ ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ ضرور اور ضرور جماعت احمدیہ کے حق میں پاکستان میں اور تمام اسلامی ممالک میں وہ الٰہی تقدیر بڑی شان سے ظاہر ہو گی۔ اور خود بخود روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گا کہ حقیقی مسلمان کون ہے اور اسلام کا درد رکھنے والا کون ہے۔

پس مَیں احمدیوں سے، خاص طور پر جو پاکستانی احمدی ہیں چاہے وہ ملک میں رہ رہے ہیں یا ملک سے باہر ہیں کہوں گاکہ ملک کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل دے اور ملک کی سا لمیت کو جو داؤ پہ لگایا ہواہے اس سے ملک باہر نکلے۔ اسی طرح دوسرے مسلمان ممالک ہیں۔ عرب ممالک ہیں وہاں کے رہنے والے احمدیوں کو بھی رمضان کے ان دنوں میں جو گزر رہے ہیں اور خاص طور پردعاؤں کی قبولیت کے دن ہیں، اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے دن ہیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر مبرم کے جلدنظارے ہمیں دکھائے۔

اب مَیں واپس اسی آیت کے مضمون کی طرف آتا ہوں جو مَیں نے تلاوت کی تھی۔ مسلمان کی تعریف میں ذرا وقت لگ گیا لیکن یہ بیان کرنا بھی ضروری تھا۔

اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ (الحشر: 22) اس کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’ایک تو اس کے یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف کی ایسی تاثیر ہے کہ اگر پہاڑ پر وہ اترتا تو پہاڑ خوف خدا سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا اور زمین کے ساتھ مل جاتا۔ جب جمادات پر اس کی ایسی تاثیر ہے تو بڑے ہی بے وقوف وہ لوگ ہیں جو اس کی تاثیر سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اور دوسرے اس کے معنے یہ ہیں کہ کوئی شخص محبت الٰہی اور رضائے الٰہی کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک دو صفتیں اس میں پیدا نہ ہو جائیں۔ اوّل تکبر کو توڑنا جس طرح کہ کھڑا ہوا پہاڑ جس نے سراونچا کیا ہوا ہوتا ہے، گر کر زمین سے ہموار ہو جائے۔ اسی طرح انسان کو چاہئے کہ تمام تکبر اور بڑائی کے خیالات کو دُور کرے۔ عاجزی اور خاکسار ی کو اختیا ر کرے۔ اور دوسرا یہ ہے کہ پہلے تمام تعلقات اس کے ٹوٹ جائیں جیسا کہ پہاڑ گر کر مُتَصَدِّعًا ہو جاتا ہے۔ اینٹ سے اینٹ جدا ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی اس کے پہلے تعلقات جو موجب گندگی اور الٰہی نارضا مندی تھے وہ سب تعلقات ٹوٹ جائیں اور اب اس کی ملاقاتیں اور دوستیاں اور محبتیں اور عداوتیں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے رہ جائیں۔

(ملفوظات جلد اول صفحہ 510-511 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

(خطبہ جمعہ 11؍ ستمبر 2009ء) (الفضل انٹرنیشنل جلد 16شمارہ 40 مورخہ 2 اکتوبر تا 8 اکتوبر 2009ء صفحہ 5 تا صفحہ 8)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اکتوبر 2020