• 19 اکتوبر, 2021

وہ خط ابھی قادیان نہیں پہنچا ہو گا کہ وہ گلٹی ناپید ہو گئی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
حضرت ماسٹر ودھاوے خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ’’امرتسر کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ یہاں پر طاعون بہت زوروں پر تھی۔ میں ایک دن سکول سے گھر آیا تو میری اہلیہ صاحبہ دروازے پر کھڑی تھیں۔ میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے اندر چوہے مرے پڑے ہیں اور گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ میں نے بڑے یقین سے کہا کہ فکر نہ کرو۔ ہماری جماعت طاعون سے محفوظ رہے گی اور کوئی اندیشہ نہیں۔ اس کے بعد میں نے جھاڑو دے کر مکان کو صاف کر دیا۔ دوسرے دن پھر ایسا ہی واقعہ ہوا اور چوہوں کے ساتھ کیڑے بھی بہت سے تھے۔ میں نے پھر اُن کو صاف کر دیا اور اہلیہ کو تسلی دی کہ کوئی فکر نہیں۔ ہماری جماعت اس سے محفوظ رہے گی۔ تیسرے چوتھے دن کے بعد رات کے بارہ بجے مجھے میری اہلیہ نے کہا کہ مجھے تو گلٹی نکل آئی ہے۔ (یعنی طاعون کی گلٹی)۔ میں نے بڑی تسلی اور یقین کے ساتھ کہا کہ گھبرائیں نہیں۔ میں صبح ہی حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کا خط لکھ دوں گا۔ چنانچہ میں نے صبح ہی خط لکھ دیا اور میرا خیال ہے کہ وہ خط ابھی قادیان نہیں پہنچا ہو گا کہ وہ گلٹی ناپید ہو گئی (ختم ہو گئی) اور میری اہلیہ بالکل تندرست ہو گئی۔ اسی طرح پھر دوسرے تیسرے دن میرے لڑکے عبدالکریم کو جو ایک سال کا ہو گا اُسے گلٹی نکل آئی۔ میں نے پھر حضور کی خدمت میں دعا کے لئے خط لکھ دیا اور گھر والوں کو بہت تسلی دی۔ چنانچہ وہ گلٹی بھی خود بخود ختم ہو گئی۔ اُس وقت پلیگ کا اس قدر زور تھا کہ روزانہ دو اڑھائی صد آدمی بیماری سے مرتا تھا اور اس شرح موت کا ذکر کمیٹی کی طرف سے روزانہ ہوتا تھا۔‘‘

(ماخوذ از رجسٹر روایاتِ صحابہؓ۔ غیرمطبوعہ۔ جلد11 صفحہ26-27)

اس بارے میں یہ وضاحت کر دوں کہ جب طاعون پھیلی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بعض ہدایات بھی جاری فرمائی تھیں، شاید اُن تک پہنچی نہ ہوں یا انہوں نے اُس کو صحیح طرح سمجھا نہیں ورنہ صحابہ تو جو بھی صورتحال ہو فوراً عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے جو بھی ارشاد آئے، وہ ارشاد یا آگے پیچھے ہو گیا ہو یا یہ واقعہ بعد کا ہے یا پہلے کا۔ بہرحال یہ ان کی ایمان کی مضبوطی تو ہے اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کے ایمان کو مضبوط کیا بلکہ ان کے بیوی بچوں کو بھی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُس وقت جب ہر محلے میں ہر جگہ یہ طاعون پھیل گئی ہے جو ہدایات فرمائی تھیں، وہ یہ تھیں۔ آپ نے ایک جگہ فرمایا تھا کہ ’’یہ ہمارا حکم ہے۔ بہتر ہے کہ لاہور کے دوست اشتہار دے دیں کہ جس گھر میں چوہے مریں اور جس کے قریب بیماری ہو، فوراً وہ مکان چھوڑ دینا چاہئے‘‘ (یا لوگ سمجھے کہ یہ صرف لاہور کے لئے ہے۔ لیکن بہرحال ایک عمومی حکم ہے کہ بیماریوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جو وبائیں ہوں اُن کا بہرحال تدارک کرنا چاہئے۔ ) فرمایا کہ ’’فوراً وہ مکان چھوڑ دینا چاہئے اور شہر کے باہر کسی کھلے مکان میں چلا جانا چاہئے۔ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔ ظاہری اسباب کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے۔ گندے اور تنگ و تاریک مکانوں میں رہنا تو ویسے بھی منع ہے خواہ طاعون ہو یا نہ ہو۔ …… ہر ایک پلیدی سے پرہیز رکھنا چاہئے۔ کپڑے صاف ہوں۔ جگہ ستھری ہو۔ بدن پاک رکھا جائے۔ یہ ضروری باتیں ہیں اور دعا اور استغفار میں مصروف رہنا چاہئے‘‘۔ پھر آگے فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی طاعون ہوئی تھی۔ ایک جگہ مسلمانوں کی فوج گئی ہوئی تھی۔ وہاں سخت طاعون پڑی۔ جب مدینہ شریف میں امیر المومنین کے پاس خبر پہنچی تو آپ نے حکم لکھ بھیجا کہ فوراً اس جگہ کو چھوڑ دو اور کسی اونچے پہاڑ پر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ فوج اُس سے محفوظ ہو گئی۔ اُس وقت ایک شخص نے اعتراض بھی کیا کہ کیا آپ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ فرمایا میں ایک تقدیرِ خداوندی سے دوسری تقدیرِ خداوندی کی طرف بھاگتا ہوں اور وہ کونسا امر ہے جو خدا تعالیٰ کی تقدیر سے باہر ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد9 صفحہ248)

تو یہ عمومی ہدایت ہے۔ یہ بھی نہیں کہ جان بوجھ کے اپنے آپ کو مشکلات میں ڈالا جائے۔ پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ’’خدا تعالیٰ نے دو وعدے اپنی وحی کے ذریعے سے کئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس گھر کے رہنے والوں کو طاعون سے بچائے گا جیسا کہ اُس نے فرمایا ہے کہ اِنِّیْٓ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔ دوسرا وعدہ اُس کا ہماری جماعت کے متعلق ہے کہ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ۔ (ترجمہ) جن لوگوں نے مان لیا ہے اور اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کو نہ ملایا۔ ایسے لوگوں کے واسطے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے کہ جماعت کے وہ لوگ بچائے جائیں گے جو پوری طرح سے ہماری ہدایتوں پر عمل کریں اور اپنے اندرونی عیوب اور اپنی غلطیوں کی میل کو دور کر دیں گے۔ اور اپنے نفس کی بدی کی طرف نہ جھکیں گے۔ بہت سے لوگ بیعت کر کے جاتے ہیں مگر اپنے اعمال درست نہیں کرتے۔ صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے کیا بنتا ہے؟ خدا تعالیٰ تو دلوں کے حالات سے واقف ہے۔‘‘

(بدر۔ جلد6 نمبر14 صفحہ7۔ مؤرخہ 4؍اپریل 1907ء)

(خطبہ جمعہ 20؍ اپریل 2012ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

صبر ہی ہے جو دلوں کو فتح کر لیتا ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اکتوبر 2021