• 18 اکتوبر, 2021

آنکھ کا زیور

حسن، چمک اور آب اسی سے
میری آنکھ کا زیور پانی
صبح کو مطلع صاف ہوا ہے
کھل کر برسا شب بھر پانی
پیار ہو سچا تو آتا ہے
پیاسے تک خود چل کر پانی
آنکھ سے ٹپکے قطرہ قطرہ
کر دیتا ہے پتھر پانی
صدیوں سے اک ساتھ ہیں دونوں
پیاسا شہر سمندر پانی
پھل اور پھول لگا دے مولیٰ!
میں دیتی ہوں بھر بھر پانی
راحتِ جسم و جان و دل ہے
باعثِ رحمت اکثر پانی
لیکن نوحؑ کی قوم کا سوچو
کیا آیا تھا بن کر پانی؟
اپنے کیے پر جب بھی نظر ہو
ہو جاتی ہوں کٹ کر پانی
مولا! ہم ہیں عاجز بندے
رحم کا برسا ہم پر پانی

(امۃ الباری ناصر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

چھوٹی مگر سبق آموز بات