• 18 اکتوبر, 2021

ارشادات حضرت مسیح موعودؑ بابت مختلف ممالک وشہور (قسط 5)

ارشادات حضرت مسیح موعودؑ
بابت مختلف ممالک وشہور
قسط 5

ارشادات برائے دہلی

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’میں نے ایک بار ایک شخص کو دہلی سے عطر لانے کے لئے کہا وہ کہنے لگا کہ جب میں عطار کی دکان پر گیا تو جو عطر وہ دکھاتا تھا میں اس کو ہی واپس کر دیتا تھا۔ آخر عطار نے کہا کہ میاں تم یہاں دوکان میں بیٹھے ہو تمہیں پتہ نہیں لگتا۔ جب دوکان سے باہر لے کر جاؤ گے تب اس عطر کی حقیقت معلوم ہوگی چنانچہ جب وہ عطر لے کر آیا تو اس نے بیان کیا کہ جو گاڑیاں ہم سے پیچھےآتی تھیں ان کے سوار کہتے تھے کہ کس کے پاس عطر ہے گویا اس کی اتنی خوشبو تھی۔‘‘

(ملفوظات جلددوم صفحہ315-316)

اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے عرض کی کہ دربار دہلی پرجو میموریل روانہ کرنا ہے وہ طبع ہو کر آگیا ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حکم دیا کہ
اسے کثرت سے تقسیم کیا جاوے کیونکہ اس سے ہماری جماعت کی عام شہرت ہو تی ہے اور ہمارے اصولوں کی واقفیت اعلیٰ حکام کو ہوتی ہے اور ان کی اشاعت ہو تی ہے۔

(ملفوظات جلدسوم صفحہ475-476)

نَدوۃُ العلماء کے جلسہ کی تقریب پر فرمایا کہ
اشاعت رسالوں کی خوب ہوگئی۔ بہت اچھا ہوا۔ بہت سے لوگ واقف ہو جائیں گے اور ان کو پڑ ھ لیں گے۔ دہلی کے جلسہ سے پہلے نزول المسیح بھی تیا ر ہو جاوے تو اچھا ہے۔

(ملفوظات جلدسوم صفحہ231-232)

اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو احباب میں سے ایک نے خواجہ کمال الدین صاحب کی وساطت سے سوال کیا کہ در بار دہلی میں شامل ہونے کا بہت شوق ہے اگر اجازت ہو تو ہو آؤں۔ میں تو دل کو بہت روکتا ہوں مگر پھر خیال یہی غالب رہتا ہے کہ ہو آؤں۔

حضرت اقدسؑ نے فرمایا :
’’ہو آویں کیا حرج ہے۔ ایک کتاب میں لکھا ہے کہ جنید بغدادی علیہ الرحمۃ کو ایک دفعہ خیال آیا کہ سفر کو جانا چاہیئے پھر سوچا کس وا سطے جاؤں تو سمجھ میں نہ آیا کہ کس ارادہ اور نیت سے جانا چاہتے ہیں اس لئے پھر ارادہ ترک کیا حتی کہ سفر کا خیال غالب آیا اور آپ جب اسے مغلوب نہ کر سکے تو اس کو ایک تحریک الہٰی خیال کر کے نکل پڑے اور ایک طرف کو چلے۔ آگے جا کردیکھتے ہیں کہ ایک درخت کے تلے ایک شخص بے دست و پا پڑا ہے۔ اس نے ان کو دیکھتے ہی کہا کہ اے جنید! میں کتنی دیر سے تیر ا منتظر ہوں تو دیر لگا کر کیوں آیا۔ تب آپ نے کہا کہ اصل میں تیری ہی کشش تھی جو مجھے بار بار مجبور کرتی تھی تو اسی طرح ہر ایک امر میں ایک کشش قضا و قدر کی مقدر ہوتی ہے وہ پوری نہ ہولے تو آرام نہیں آتا۔ آپ سفرکریں تو دین کی نیت سے کریں دنیا کی نیت سے جوسفر ہوتا ہے وہ گناہ ہوتا ہے اور انسان تب ہی درست ہوتا ہے کہ ہر ایک بات میں کچھ نہ کچھ اس کا رجوع دین کا ہووے ۔ ہر ایک مجلس میں اس نیت سے جاوے کہ کچھ پہلو دین کا حاصل ہو۔ حدیث شریف میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے مکان بنا یا پیغمبر خدا صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں اس نے عرض کیا کہ آپ وہاں تشریف لے چلیں تو آپ کے قدموں سے برکت ہو۔ جب وہاں حضرتؐ گئے تو آپ نے ایک در یچہ دیکھا پوچھا کہ یہ کیوں رکھا ہے اس نے عرض کی کہ ہوا ٹھنڈی آتی رہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اگر تو یہ نیت کر لیتا کہ اذان کی آواز سنائی دے تو ہوا بھی ٹھنڈی آتی رہتی اور ثواب بھی ملتا۔‘‘

(ملفوظات جلدسوم صفحہ467-468)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’کتابوں کو شائع کرنا چاہیے تاکہ تبلیغ ہو۔ دیکھا جاتا ہے کہ دہلی کے پرے بہت کم لوگوں کو ہمارے دعاوی کی خبر ہے۔ اس کا انتظام یوں ہونا چاہیے کہ ایک لمبا سفر کیا جاوے اور اس میں یہ تمام کتب جو کہ بہت سا ذخیرہ پڑا ہوا ہے تقسیم کی جاویں تاکہ تبلیغ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سے سامان دئیے ہیں ان سے فائدہ نہ اٹھا نا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار ہوتا ہے۔ ہمارے لیے ریل بنائی گئی ہے جس سے مہینوں کا سفر دنوں میں ہوتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلدپنجم صفحہ191)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
دہلی کے جلسے میں جو لوگ بڑے شوق سے جاتے ہیں سوائے اس کے کہ وہاں بعض مسخ شدہ شکلوں کو دیکھیں اور کیا دیکھیں گے یہ لوگ ایسے دور دراز خیالات میں آ کر پڑے ہیں کہ جب فرشتے آ کر جان نکالیں گے تو اس وقت ان کو حسرت ہوگی۔

ایمان لانے اور خدا کی عظمت کے دل میں ہونے کی اول نشانی یہ ہے کہ انسان ان تمام کومثل کیڑوں کے خیال کرے ان کو دیکھ کر دل میں نہ ترسے کہ یہ فاخرہ لباس پہن کر گھوڑوں پر سوار ہیں۔ در حقیقت ان لوگوں کی قسمت بد اور کتوں کی سی زندگی ہے (کہ مردار دنیا پر دانت ماررہے ہیں)۔ انسان کو اگر دیکھنے کی آرزو ہو تو ان کو دیکھے جو منقطعین ہیں اور خدا کی طرف آ گئے ہیں اور خدا ان کو زندہ کرتا ہے ان کی زیارت سے مصائب دور ہوتے ہیں جو شخص رحمت والے کے پاس آوے گا تو وہ رحمت کے قریب تر ہوگا اور جو ایک لعنتی کے پاس جاوے گا وہ لعنت کے قریب تر ہو گا۔ دنیا میں یہی بات غور کے قابل ہے خدا تعالی فرماتا ہے کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (التوبۃ: 119) یعنی اے بند و تمہارا بچاؤ اسی میں ہے کہ صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔

پھر نماز کی حلاوت کے سوال پر فرمایا :
نشوونما رفتہ رفتہ ہوا کرتا ہے یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں آ گئے اگر خدا نہ چاہتا تو آپ کیا کرتے؟ ممکن تھا کہ اول دلی کی طرف جاتے تو وہاں سے سوائے لاف و گزاف کے کیا ساتھ لے جاتے یا چند ایک تماشہ شعبدہ بازی کے دیکھ لیتے۔

سائل نے عرض کی کہ میرا خیال تھا کہ آپ ضرور جلسہ دہلی میں ہوں گے آپ کا کیمپ معہ ا پنی جماعت کے الگ ہو گا۔

حضرت اقدسؑ نے فرمایا :
ہم ان باتوں سے ایسے متنفر ہیں کہ ان کے خیمے ہمارے نزدیک بھی ہوں تو ہم یہ خواہش کریں کہ خدا جلد تر ان کو یہاں سے اٹھا دے جیسے ایک مُردار جب پاس پڑا ہو تواسے جلدی اٹھوا دیتے ہیں کہ ہمیں متعفن ہو کر بیماری کا باعث نہ ہو۔

سائل نے عرض کی کہ اس سے پیشتر مجھے بہت شوق جلسہ کا تھا مگر اب دو تین دن سے ذرہ خیال تک بھی نہیں ہے حضور کی زیارت کو دل چاہتا ہے۔

حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ حق یہی ہے۔

(ملفوظات جلدچہارم صفحہ7-8)

صبح کے وقت حضورؑ نے گاڑیاں منگوائیں اور خواجہ میر درد صاحب اور شاہ ولی اللہ صاحب کے مزار مبارک پر تشریف لے گئے۔ راستہ میں قبرستان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:
’’یہ انسان کی دائمی سکونت ہے جہاں ہر قسم کے امراض سے نجات پاکر انسان آرام کرتا ہے۔‘‘

خواجہ میردرد صاحب کی قبر پر آپ نے فاتحہ پڑھی اور کتبہ کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ
’’کتب لکھنا شریعت میں منع نہیں ہے۔ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔‘‘

یہاں سے ہوکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کی قبر پر گئے اور فاتحہ پڑھی۔

فرمایا کہ
’’شاہ ولی اللہ صاحب ایک بزرگ اہل کشف اور کرامت تھے۔ یہ سب مشائخ زیر زمین ہیں اور جو لوگ زمین کے اوپر ہیں وہ ایسے بدعات میں مشغول ہیں کہ حق کو باطل بنارہے ہیں اور باطل کو حق بنارہے ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ183 ایڈیشن 1984ء)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’اس شہر میں اس قدر انقلاب آئے ہیں کہ شاید کسی دوسرے شہر پر یہ حالات وارد ہوئے ہوں۔ کئی دفعہ یہ شہر آباد ہوا اور کئی دفعہ خاک میں مل گیا۔‘‘

(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ184 ایڈیشن 1984ء)

سیٹھ صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا:
یہ سر زمین بمبئی سے زیادہ سخت ہے ا س کے لئے آسمانی سرزنش کا حصہ ہمیشہ رہا ہے ۔صرف انگریزوں کے ساتھ ہی بغاوت نہیں کی بلکہ سلاطین اسلامیہ کے ساتھ بھی شورہ پستی کرتے رہے ہیں۔ اس جگہ کے اکابر اور مشائخ کے اخلاق کا بھی اس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ انہوں نے ایسے شہر میں کس طرح بسر کی۔ یہ بزرگ بہت ہی سلوب الغضب تھے۔ انہوں نے اپنے آپ کو مٹی کی طرح کر دیا تھا۔ مرزا جان جاناں کو ان لوگوں نے قتل کر دیا ۔ اور بڑے دھوکے سے کیایعنی ایک آدمی نذر لے کر آیا اور دھو کا سے طپنچہ مار دیا۔ شاہ ولی اللہ کے لئے بھی دہلی والوں نے ایسے ہی قتل کے ارادے کئے تھے مگر ان کو خدا تعالی نے بچا لیا۔ میرے ساتھ جب مباحثہ ہوا تھا تو آٹھ نوہزار آدمی کامجمع تھا اورمیں نے سنا ہے کہ بعض کے ہاتھ میں چاقواور بعض کے ہاتھ میں پتھر بھی تھے۔ یہاں تک کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو اندیشہ ہوا کہ کہیں غدر نہ ہو جاوے اس واسطے اس نے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھاکر مجمع سے باہر کیا اور گھر پہنچایا۔ ایسے وقت میں یہ لوگ کوتاه اندیش، پست خیال اورسفلہ ہونا ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے بالمقابل پنجاب میں بڑی سعادت ہے۔ ہزارہا لوگ سلسلہ حقہ میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ پنجاب کی زمین بہت نرم ہے۔ اور اس میں خداپرستی ہے۔طعن وتشنیع کو برداشت کرتے ہیں مگریہ لوگ بہت سخت ہیں جس سے اندیشہ ایسے عذاب الہٰی کا ہے جو پہلے ہوتا رہا ہے کیونکہ جب کوئی مامورمن اللہ اور ولی اللہ آتا ہے اور لوگ اس کے درپے ایذا اور توہین ہوتے ہیں توعادت اللہ اسی طرح واقع ہےکہ بعد اس کے ایسے شہراور ملک پرجو سرکش اور بے ادب ہوتا ہے ضرور تباہی آتی ہے۔ پنجاب میں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ وہ لوگ خدا تعالی کاخوف رکھتے ہیں اور خدا تعا لےٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں اور اس کثرت سے پنجابیوں کا ہماری طرف رجوع ہورہا ہے کہ بعض اوقات ان کو ہماری مجالس میں کھڑا ہونے کی جگہ نہیں ملتی۔

فرمایا:
وہ باقی باللہ صاحب کی عمر بہت تھوڑی تھی۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سے بھی کم عمر پائی تھی۔ مولوی صاحب موصوف کی عمر سینتالیس سال کی تھی۔

خواجہ باقی باللہ کی قبر پرکھڑے ہو کر بعد دعا کے فرمایا:
ان تمام بزرگوں کی جودہلی میں مدفون ہیں کرامت ظاہر ہے کہ ایسی سخت سرزمین نے ان کو قبول کیا۔ یہ کرامت اب تک ہم سے ظہور میں نہیں آئی۔

(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ168-169 ایڈیشن 1984ء)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
کئی دفعہ میرصاحب نے ذکر کیا کہ دلی سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہیئے مگر میرے دل میں یہی آتا ہے کہ یہ بات درست نہیں۔ دلی میں بھی بعض پاک دل ضرور چھپے ہوئے ہونگے جوآخر اس طرف آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جو ہمارا تعلق دلی سے کیا ہے۔ یہ بھی خالی از حکمت نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ہم کبھی نا امید نہیں ہوسکتے۔ آخر خود میر صاحب بھی دلی ہی کے ہیں۔ غرض یہ کوئی نا امید کرنے والی بات نہیں ہے۔ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا پاک اورکامل نمونہ ہمارے سامنے ہے کہ گھر والوں نے کیسی مخالفت کی اور پھر اسی مکہ میں سے وہ لوگ نکلے جو دنیا کی اصلاح کرنے والے ٹھہرے ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں میں سے تھے۔ وہ ابوبکرؓ جن کی بابت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ابوبکرؓ کی قدرو منزلت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس بات سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔ پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ انہیں مکہ والوں میں سے تھے۔ حضرت عمرؓ بڑے بھاری مخالف تھے۔ یہانتک کہ ایک مرتبہ مشورہ قتل میں بھی شریک اورقتل کے لئے مقرر ہوئے۔ لیکن آخر خدا تعالی نے ان کو وہ جوش اظہار اسلام کا دیا کہ غیرقو میں بھی ان کی تعریف کرتیں اور ان کا نام عزت سے لیتی ہیں۔

ہم کو وہ مشکلات پیش نہیں آئے جو آنحضرت صلےاللہ علیہ وسلم کو پیش آئے ۔ باوجود اس کے آنحضرت صلےاللہ علیہ وسلم فوت نہ ہوئے جب تک پورے کامیاب نہیں ہو گئے اور آپ نے اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَ الۡفَتۡحُ۔ وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا کا نظارہ دیکھ نہیں لیا۔

(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ159 ایڈیشن 1984ء)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
صبر بڑا جوہر ہے۔ جو شخص صبر کرنے والا ہوتا ہے اور غصے سے بھر کر نہیں بولتا اس کی تقریر اپنی نہیں ہوتی بلکہ خداتعالیٰ اس سے تقریر کراتا ہے۔ جماعت کو چاہیئے کہ صبر سے کام لے اور مخالفین کی سختی پر سختی نہ کرے اور گالیوں کے عوض میں گالی نہ دے۔ جو شخص ہمارا مکذب ہے اس پر لازم نہیں کہ وہ ادب کے ساتھ بولے۔ اس کے نمونے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی بہت پائے جاتے ہیں۔ صبر جیسی کو ئی شئے نہیں۔ مگر صبر کرنا بڑامشکل ہے۔ اللہ تعالےٰ اس کی تائید کرتا ہے جو صبر سے کام لے۔ دہلی کی سرزمین سخت ہے۔ تاہم سب یکساں نہیں۔ کئی آدمی مخفی ہو ں گے۔ جب وقت آئے گا تو وہ خود بخود سمجھ لیں گے۔ عرب بہت سخت ملک تھا۔ وہ بھی سیدھا ہوگیا ۔ دہلی تو ایسی سخت نہیں۔

(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ200 ایڈیشن 1984ء)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
جیسا اثر دعا میں ہے ویسا اور کسی شئے میں نہیں ہے مگر دعا کے واسطے پورا جوش معمولی باتوں میں پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ معمولی باتوں میں توبعض دفعہ دعا کرنا گستاخی معلوم ہوتی ہے اور طبیعت صبر کی طرف راغب رہتی ہے۔ ہاں مشکلات کے وقت دعا کے واسطے پوراجوش دل میں پیدا ہوتا ہے تب کوئی خارق عادت امرظاہر ہوتا ہے۔

کہتے ہیں دہلی میں ایک بزرگ تھا۔ بادشاہ وقت اس پر سخت ناراض ہوگیا۔ اس وقت بادشاہ کہیں باہر جاتا تھا۔حکم دیا کہ واپس آکر میں تم کو ضرور پھانسی دوں گا اور اپنے اس حکم پرقسم کھائی۔ جب اس کی واپسی کا وقت قریب آیا تو اس بزرگ کے دوستوں اور مریدوں نے غمگین ہو کر عرض کی کہ بادشاہ کی واپسی کا وقت اب قریب آگیا ہے۔ اس نے جواب دیا ہنوز دلی دور است۔ جب بادشاہ ایک دو منزل پر آگیا تو انہوں نے پھر عرض کی۔ مگر اس نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ ہنوز دلی دور است۔ یہانتک کہ بادشاہ عین شہر کے پاس آگیا اور شہر کے اندر داخل ہونے لگا۔ تب لوگوں نے اس بزرگ کی خدمت میں عرض کی کہ اب تو بادشاہ شہر میں داخل ہونے لگا ہے یا داخل ہوگیا ہے مگر پھر بھی اس بزرگ نے یہی جواب دیا کہ ہنوز دلی دور است۔ اسی اثنا میں خبر آئی کہ جب بادشاہ دروازه شہر کے نیچے پہنچا تو اوپر سے دروازہ گرا اور بادشاه ہلاک ہوگیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس بزرگ کو کچھ منجانب اللہ معلوم ہوچکا تھا۔

ایسا ہی شیخ نظام الدین کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ بادشاہ کاسخت عتاب ان پر ہوا۔اورحکم ہوا کہ ایک ہفتہ تک تم کو سخت سزا دی جائے گی۔ جب وہ دن آیا تووه ایک مرید کی ران پر سر رکھ کر سوئے تھے۔ اس مرید کو جب بادشاہ کے حکم کا خیال آیا تو وہ رویا۔ اور اس کے آنسوشیخ پر گرےجس سے شیخ بیدار ہوا اورپوچھا کہ تو کیوں روتا ہے۔ اس نے اپنا خیال عرض کیا اور کہا کہ آج سزا کا دن ہے۔ شیخ نے کہا کہ تم غم مت کھاؤ ہم کو کوئی سزا نہ ہوگی۔ میں نے ابھی خواب میں دیکھا ہے کہ ایک مارکھنڈ گائے مجھے مارنے کے واسطے آئی ہے۔ میں نے اس کے دونوں سینگ پکڑ کر اس کو نیچے گرا دیا ہے۔ چنانچہ اسی دن بادشاه سخت بیمار ہوا۔ اور ایسا سخت بیمار ہوا کہ اسی بیماری میں مر گیا۔

یہ تصرفات الہٰی ہیں جو انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتے۔ جب وقت آجاتا ہے تو کوئی نہ کوئی تقریب پیدا ہوجاتی ہے۔ سب دل خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس طرح چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ خدا تعالٰے کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے اذن کے بغیر کوئی جان بھی نہیں نکل سکتی خواہ کیسے ہی شدید عوارض ہوں۔ ناامید ہونےوالا بت پرست سے بھی زیادہ کافر ہے۔

(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ36-38 ایڈیشن 1984ء)

ارشادات برائے پشاور، کوہاٹ وسرحد

علاقہ پشاور میں ان دنوں کسی سفاک پٹھان نے دو بے گناہ انگریزوں کو قتل کر دیا۔ اس پر حضرت اقدسؑ نے ایک مجمع میں فرمایا:
’’یہ جو دو انگریزوں کو مار دیا ہے۔ یہ کیا جہاد کیا ہے؟ ایسی نا بکار لوگوں نے اسلام کو بدنام کر رکھا ہے۔ چاہے تو یہ تھا کہ ان لوگوں کی ایسی خدمت کرتا اور ایسی عمدہ طور پر ان سے برتاؤ کرتا کہ وہ اس کے اخلاق اور حسن سلوک کو دیکھ کر مسلمان ہو جاتے۔ مومن کا کام تو یہ ہے کہ اپنی نفسانیت کو کچل ڈالے۔ لکھا ہے کہ حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ ایک کافر سے لڑے۔ حضرت علیؓ نے اس کو نیچے گرالیا اور اس کا پیٹ چاک کرنے کو تھے کہ اس نے حضرت علیؓ پر تھوکا ۔ حضرت علیؓ یہ دیکھ کر اس کے سینے پر سے اتر آئے۔ وہ کافر حیران ہوا اور پوچھا کہ اے علی ؓ! یہ کیا بات ہے؟ آپؓ نے فرمایا کہ میرا جنگ تیرے ساتھ خدا کے واسطے تھا لیکن جب تو نے میرے منہ پرتھوکا تو میرے نفس کا بھی کچھ حصہ مل گیا۔ اس لئے میں نے تجھے چھوڑ دیا۔ حضرت علیؓ کے اس فعل کا اس پر بہت بڑا اثر ہوا۔

میں جب کبھی ان لوگوں کی بابت ایسی خبریں سنتا ہوں تو مجھےسخت رنج ہوتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم سے بہت دور جا پڑے ہیں اور بے گناہ انسانوں کا قتل ثواب کا موجب سمجھتے ہیں۔

بعض مولوی مجھے اس لیے دجال کہتے ہیں کہ میں انگریزوں کے ساتھ محاربہ جائز نہیں رکھتا مگر مجھے سخت افسوس ہے کہ یہ لوگ مولوی کہلا کر اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ انگریزوں نے تمہارے ساتھ کیا برائی کی ہے۔ اور کیا دکھ دیا ہے۔ شرم کی بات ہے کہ وہ قوم جس کے آنے سے ہم کو ہرقسم کی راحت اور آرام ملا۔ جس نے آ کر ہم کو سکھوں کے خونخوار پنجہ سے نجات دی اور ہمارے مذہب کی اشاعت کے لیے ہرقسم کے موقع اور سہولتیں دیں۔ ان کے احسان کا یہ شکرہے کہ بے گناه انگریزی افسروں کو قتل کر دیا جائے؟ میں تو صاف طور پر کہتا ہوں کہ وہ لوگ جو خون ناحق سے نہیں ڈرتے اور محسن کے حقوق ادا نہیں کرتے۔ وہ خدا تعالیٰ کے حضور سخت جوابدہ ہیں۔ ان مویولوں کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ اپنے جمہوری اتفاق سے اس مسئلہ کو اچھی طرح شائع کریں اور ناواقف اور جاہل لوگوں کو فہمائش کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ وہ امن، آزادی سے زندگی بسر کرتے ہیں اور اس کے عطیات سے ممنون منت اور مر ہون احسان ہیں اور یہ مبارک سلطنت نیکی اور ہدایت پھیلانے میں کامل مددگار ہے۔ پس اس کے خلاف محاربہ کے خیالات رکھنے سخت بغاوت ہے اور یہ قطعی حرام ہے۔ وہ اپنے قلم اور زبان سے جاہلوں کو سمجھائیں اور اپنے دین کو بدنام کر کے دنیا کو ناحق کا ضرر نہ پہنچائیں ۔ ہم تو گورنمنٹ برطانیہ کو آسمانی برکت سمجھتے ہیں اور اس کی قدر کرنا اپنا فرض۔افسوس ہے مولویوں نے خودتو اس کام کو کیا ہیں اور ہم نے جب ان جاہلانہ خیالات کو دلوں سے مٹانا چاہا تو ہم کو دجال کہا۔ صرف اس واسطے کہ ہم محسن گورنمنٹ کے شکر گزار ہیں ۔ مگر ان کی مخالفت ہمارا کیا بگاڑ سکتی تھی۔ ہم نے بیسیوں رسالے اس مضمون کے عربی، فارسی، اردو، انگریزی میں شائع کیے اور ہزاروں اشتہار مختلف بلا د وامصار میں تقسیم کر دیئے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ گورنمنٹ سے ہم کوئی عزت چاہتے ہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہم اس کام کو اپنا ضروری فرض سمجھتے ہیں اور اگر ہم کو اس خدمت کے بجالانے میں تکلیف بھی ہو تو ہم پرواہ نہیں کرتے، کیونکہ خدا نے فرمایا ہے کہ احسان کی جزا احسان ہے۔پس پوری اطاعت اور وفاداری گورنمنٹ برطانیہ کی مسلمانوں کا فرض ہے۔‘‘

(ملفوظات جلداول صفحہ459-460 جدید ایڈیشن)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
تیسرا کمال شہداء کا ہے۔ عام لوگ تو شہید کے لئے اتنا ہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ شہیدوہ ہوتا ہے جو تیر یا بندوق سے مارا جاوےیا کسی اور اتفاقی موت سے مرجاوے۔ مگر اللہ تعالی کے نزدیک شہادت کا یہی مقام نہیں ہے۔ میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ سرحد کے پٹھانوں کو یہ بھی ایک خبط سمایا ہوا ہے کہ وہ انگریز افسروں پر آ کر حملے کرتے ہیں اور اپنی شوریدہ سری سے اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اگر ہم کسی کافر یا غیر مذہب والے کو ہلاک کر دیں گے تو ہم غازی ہوں گے اور اگر مارے جاویں گے تو شہید ہوں گے۔ مجھے ان کمینہ فطرت مُلانوں پر بھی افسوس ہے جوان شوریدہ سر پٹھانوں کو اکساتے ہیں ۔ وہ انہیں نہیں بتاتے کہ تم اگر کسی شخص کو بلا وجہ قوی قتل کرتے ہو تو غازی نہیں ظالم ٹھہرتے ہو اور اگر وہاں ہلاک ہو جاتے ہو تو شہید نہیں بلکہ خودکشی کر کے حرام موت مرتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ (البقرة: 196) وہ اپنے آپ کو خود ہلاکت میں ڈالتے ہیں اور فساد کرتے ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ سخت سزا کے مستوجب ہیں ۔ غرض عام لوگوں نے تو شہادت اتنی سمجھ رکھی ہے اور شہید کا یہی مقام ٹھہرا لیا ہے مگر میرے نزدیک شہید کی حقیقت قطع نظر اس کے کہ اس کا جسم کاٹا جاوے کچھ اور ہی ہے اور وہ ایک کیفیت ہے جس کا تعلق دل سے ہے۔ یاد رکھو کہ صدیق نبی سے ایک قرب رکھتا ہے اور وہ اس کے دوسرے درجہ پر ہوتا ہے اور شہید صدیق کا ہمسایہ ہوتا ہے۔ نبی میں تو سارے کمالات ہوتے ہیں یعنی وہ صدیق بھی ہوتا ہے اور شہید بھی ہوتا ہے صالح بھی ہوتا ہے۔ لیکن صدیق اور شہید ایک الگ الگ مقام ہیں۔ اس بحث کی بھی حاجت نہیں کہ آیا صدیق، شہید ہوتا ہے یا نہیں؟ وہ مقام کمال جہاں ہر ایک امر خارق عادت اور معجزہ سمجھا جا تا ہے۔ وہ ان دونوں مقاموں پر اپنے رتبہ اور درجہ کے لحاظ سے جدا ہے۔ اس لیے الله تعالیٰ اسے ایسی قوت عطا کرتا ہے کہ جو عمده اعمال ہیں اور جو عمدہ اخلاق ہیں ۔ وہ کامل طور پر اور اپنے اصلی رنگ میں اس سے صادر ہوتے ہیں اور بلا تکلف صادر ہوتے ہیں۔ کوئی خوف اور رجاء اُن اعمال صالحہ کے صدور کا باعث نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ اس کی فطرت اور طبیعت کا ایک جز و ہو جاتے ہیں۔ تکلف اس کی طبیعت میں نہیں رہتا۔ جیسے ایک سائل کسی شخص کے پاس آوے تو خواہ اس کے پاس کچھ ہو یا نہ ہو، تو اسے دینا ہی پڑے گا۔ اگر خدا کے خوف سے نہیں تو خلقت کے لحاظ سے۔ مگر اس قسم کا تکلف شہید میں نہیں ہوتا اور یہ قوت اور طاقت اس کی بڑھتی جاتی ہے اور جوں جوں بڑھتی ہے اسی قدر اس کی تکلیف کم ہوتی جاتی ہے اور وہ بوجھ کا احساس نہیں کرتا۔ مثلاً ہاتھی کے سر پر ایک چیونٹی ہوتو وہ اس کا کیا احساس کرے گا۔

(ملفوظات جلداول صفحہ346-347 جدید ایڈیشن)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
لوگوں نے شہید کے معنیٰ صرف یہی سمجھ رکھے ہیں کہ کسی کافر غیرمسلم کے ساتھ جنگ کی اور اس میں مارے گئے تو بس شہید ہو گئے۔ اگر اتنے ہی معنے شہید کے لئے جاویں تو پھر مخالفوں کو بہت بڑی گنجائش اعتراض کی رہتی ہے اور غالباً یہی وجہ ہےکہ عیسائیوں اور آریوں نے اسلام کو تلوار کے ذریعہ سے پھیلنے والا مذہب قرار دیا ہے؛ اگر چہ ان لوگوں کی سخت نادانی ہے کہ وہ بدوں دریافت کیے اصل منشاء کے اعتراض کر دیتے ہیں مگر ہم کو ان مولویوں پر بھی افسوس ہے جنہوں نے قرآن شریف کے حقائق کو پیش نہیں کیا اور خیالی اور فرضی تفسیر میں اور مصنوئی قصے بیان کر کے اسلام کے پاک اور خوشنما چہرہ پر ایک پردہ ڈال دیا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ جو خود اسلام کا محافظ اور ناصر ہے وہ اب چاہتا ہے کہ اسلام کا پاک اور درخشاں چہرہ دکھایا جاوے؛ چنانچہ یہ سلسلہ جو اس نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے۔ اسی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ الہی نصرت کا وقت آ پہنچا اور اسلام کی عزت اور جلال کے دن آ گئے ، کیونکہ خدا تعالی کی تائید یں اور نصرتیں جو ہمارے شامل حال ہیں، یہ آج کسی مذہب کے پیرو کو نصیب نہیں اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ کیا کوئی اہل مذہب ہے جو اسلام کے سوا اپنے مذہب کی حقانیت پر تائیدی اور سماوی نشان پیش کر سکے ۔ خدا تعالی نے یہ سلسلہ جو قائم کیا ہے یہ اس حفاظت کے وعدہ کے موافق ہے جو اس نے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر: 10) میں کیا ہے۔

میرا مطلب یہ تھا کہ شہید کے معنے صرف یہی نہیں کہ غیر مسلم کے ساتھ جنگ کر کے مر جانے والا شہید ہوتا ہے۔ ان معنوں نے ہی اسلام کو بدنام کیا اور اب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر سر حدی نادان مسلمان بےگناہ انگریزوں کو قتل کرنے میں ثواب سمجھتے ہیں؛ چنانچہ آئے دن ایسی وارداتیں سننے میں آتی ہیں۔ پچھلے دنوں کسی سرحدی نے لاہور میں ایک میم کو قتل کر دیا تھا۔ ان احمقوں کو اتنا معلوم نہیں کہ یہ شہادت نہیں بلکہ قتل بےگناہ ہے۔ اسلام کا یہ منشاء نہیں ہے کہ وہ فتنہ وفساد برپا کرے بلکہ اسلام کا مفہوم ہی صلح اور آشتی کو چاہتا ہے۔ اسلامی جنگوں پر اعتراض کرنے والے اگر یہ دیکھ لیتے کہ ان میں کیسے احکام جاری ہوتے تھے تو وہ حیران رہ جاتے۔ بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کوقتل نہیں کیا جا تا تھا۔ جز یہ دینے والوں کو چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اور ان جنگوں کی بناءدفاعی اصول پرتھی۔ ہمارے نزدیک جو جاہل پٹھان اس طرح پر بے گناہ انگریز وں پر پڑتے ہیں اور ان کو قتل کرتے ہیں وہ ہرگز شہادت کا درجہ نہیں حاصل کرتے بلکہ وہ قاتل ہیں اور ان کے ساتھ قاتلوں کا سا سلوک ہونا چاہیے۔

تو شہید کے معنے یہ ہیں کہ اس مقام پر اللہ تعالی ایک خاص قسم کی استقامت مومن کو عطا کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر مصیبت اور تکلیف کو ایک لذت کے ساتھ برداشت کرنے کے لئے طیار ہو جاتا ہے۔ پس اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ (الفاتحہ: 7-6) میں منعم علیہ گروہ میں سے شہیدوں کا گروہ بھی ہے اور اس سے یہی مراد ہے کہ استقامت عطا ہو، جو جان تک دے دینے میں بھی قدم کو ہلنے نہ دے۔‘‘

(ملفوظات ۔ جلددوم صفحہ180-182 جدید ایڈیشن)

خواجہ کمال الدین صاحب بی اے پلیڈر پشاور سے کو ہاٹ ہوتے ہوئے تشریف لائے اور نماز مغرب سے پیشتر مسجد میں حضرت اقدسؑ سے نیاز حاصل کی ۔ خواجہ صاحب نے پشاور اور کوہاٹ کا ذکر سنایا کہ وہاں پر اکثر اشتہارات جو کہ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ میں حضور کی مخالفت میں شائع ہوتے ہیں اس نظر سے پڑھے جاتے ہیں کہ گویا وہ حضور کے اشتہارات ہیں اسی مغالطہ سے سرحد کے لوگوں کے دلوں میں آپ کی طرف سے یہ خیالات ذہن نشین ہیں کہ نعوذ باللّٰہ جناب نے روزے اپنے خدام کو معاف کر دیئے ہیں اور نبی کریمؐ کی ہتک کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک جھوٹا نبی تھا میں اس سے افضل ہوں یہ اشتہار اس وضع اور عنوان سے لکھے ہوئے ہیں کہ عوام الناس کو دھوکا لگتا ہے اور یہی خیال کیا جاتا ہے کہ آپ کا مضمون اور آپ کی تحریر ہے۔

حضرت اقدس نے فر مایا :
کشتی نوح وہاں کثرت سے تقسیم کر دی جاوے یہی کافی ہے۔ خواجہ صاحب نے کہا کہ ایک ذی وجا ہت شخص کو میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اسے پڑھ کر کہا کہ کتاب تو عمدہ ہے اگر آخر میں مکان کے چند ہ کا ذکر نہ ہوتا۔ میں نے اسے جواب دیا کہ کیا تم سے بھی ایک پیسہ مرزا صاحب نے مانگا ہے یاتم نے دیا ہے؟ مرزا صاحب نے تو ان لوگوں کو مخاطب کیا ہے جو ان سے تعلق ابنیت کا رکھتے ہیں۔ کیا اگر ایک باپ اپنے بیٹوں سے دو ہزار اس لئے طلب کرے کہ اسے ایک مکان بنانا ہے تو کیا یہ فعل اس کا قابل اعتراض ہو گا؟ اس پر وہ خاموش ہو گیا۔

(ملفوظات جلدسوم صفحہ370-371 جدید ایڈیشن)

(جاری ہے)

(سید عمار احمد)

پچھلا پڑھیں

صبر ہی ہے جو دلوں کو فتح کر لیتا ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اکتوبر 2021