• 14 جولائی, 2024

مالک یوم الدین کی حقیقت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
”سورۃ فاتحہ میں فقرہ  مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن سے صرف یہ مراد نہیں ہے کہ قیامت کو جزا سزا ہوگی بلکہ قرآن شریف میں بار بار اور صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ قیامت تو مجازات کُبریٰ کا وقت ہے مگر ایک قسم کی مجازات اسی دنیا میں شروع ہے جس کی طرف آیت یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ فُرۡقَانًا اشارہ کرتی ہے۔ اب یہ بات بھی سنو کہ انجیل کی دعا میں تو ہر روزہ روٹی مانگی گئی ہے جیسا کہ کہا کہ ’’ہماری روزانہ روٹی آج ہمیں بخش‘‘ مگر تعجب کہ جس کی ابھی تک زمین پر بادشاہت نہیں آئی وہ کیونکر روٹی دے سکتا ہے ابھی تک تو تمام کھیت اور تمام پھل نہ اُس کے حکم سے بلکہ خود بخود پکتے ہیں اور خود بخود بارشیں ہوتی ہیں اُس کا کیا اختیار ہے کہ کسی کو روٹی دے جب بادشاہت زمین پر آجائے گی تب اُس سے روٹی مانگنی چاہئے ابھی تو وہ ہر ایک زمینی چیز سے بے دخل ہے جب اس جائیداد پر پورا قبضہ پائے گا تب کسی کو روٹی دے سکتا ہے اور اس وقت اس سے مانگنا بھی نا زیبا ہے اور پھر اس کے بعد یہ قول کہ جس طرح ہم اپنے قرض داروں کو بخشتے ہیں تو اپنے قرض کو ہمیں بخش دے اس صورت میں یہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ زمین کی بادشاہت ابھی اُس کو حاصل نہیں اور ابھی عیسائیوں نے کچھ اس کے ہاتھ سے لے کر کھا یانہیں تو پھر قرضہ کون سا ہوا۔ پس ایسے  تہی دست خدا سے قرضہ بخشوانے کی کچھ ضرورت نہیں اور نہ اس سے کچھ خوف ہے کیونکہ زمین پرابھی اس کی بادشاہت نہیں اور نہ اُس کی حکومت کا تازیانہ کوئی رعب بٹھلا سکتا ہے۔ کیا مجال کہ وہ کسی مجرم کو سزا دے سکے یا موسٰیؑ کے زمانہ کی نافرمان قوم کی طرح طاعون سے ہلاک کر سکے یا قوم لوط کی طرح ان پر پتھر برسا سکے یا زلزلہ یا بجلی یا کسی اور عذاب سے نافرمانوں کو نابود کر سکے کیونکہ ابھی خدا کی زمین پر بادشاہت نہیں پس چونکہ عیسائیوں کا خدا ایسا ہی کمزور ہے جیسا کہ اس کا بیٹا کمزور تھا اور ایسا ہی بے دخل ہے جیسا اس کا بیٹا بے دخل تھا تو پھر اُس سے ایسی دعائیں مانگنا لا حاصل ہیں کہ ہمیں قرض بخش دے اُس نے کب قرض دیا تھا جو بخش دے کیونکہ ابھی تک تو اس کی زمین کی بادشاہت نہیں جب کہ اس کی زمین پر بادشاہت ہی نہیں تو زمین کی روئیدگی اُس کے حکم سے نہیں اور زمینی چیزیں اس کی نہیں بلکہ خود بخودہی ہیں کیونکہ اُس کا زمین پر حکم نافذ نہیں اور جبکہ زمین پر وہ فرمانروا اور بادشاہ نہیں اور کوئی زمینی آسائش اُس کے شاہانہ حکم سے نہیں تو اُس کو سزا کا نہ اختیار ہے نہ حق حاصل۔ لہٰذا ایسا کمزور اپنا خدا بنانا اور اس سے زمین پر رہ کر کسی کارروائی کی امید رکھنا حماقت ہے کیونکہ ابھی اُس کی زمین پر بادشاہی نہیں۔ لیکن سورۃ فاتحہ کی دعا ہمیں سکھلاتی ہے کہ خدا کو زمین پر ہر وقت وہی اقتدار حاصل ہے جیسا کہ اور عالموں پر اقتدار حاصل ہے اور سورۃ فاتحہ کے سر پر خدا کے اُن کا مل اقتداری صفات کا ذکر ہے جو دنیا میں کسی دوسری کتاب نے ایسی صفائی سے ذکر نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ   رحمانہے وہ  رحیم ہے  وہ  مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن ہے پھر اس سے دعا مانگنے کی تعلیم کی ہے اور دعا جو مانگی گئی ہے وہ مسیح کی تعلیم کردہ دعا کی طرح صرف ہر روزہ روٹی کی درخواست نہیں بلکہ جو جو انسانی فطرت کو ازل سے استعداد بخشی گئی ہے اور اس کو پیاس لگا دی گئی ہے وہ دعا سکھلائی گئی ہے اور وہ یہ ہے اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙصِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ یعنی اے ان کامل صفتوں کے مالک اور ایسے فیاض کہ ذرّہ ذرّہ تجھ سے پرورش پاتا ہے اور تیری رحمانیت اور رحیمیت اور قدرت جزا سزا سے تمتّع اٹھاتا ہے تو ہمیں گزشتہ راست بازوں کا وارث بنا اور ہر ایک نعمت جو ان کو دی ہے ہمیں بھی دے اور ہمیں بچا کہ ہم نافرمان ہو کر موردغضب نہ ہو جائیں اور ہمیں بچا کہ ہم تیری مدد سے  بے نصیب رہ کر گمراہ نہ ہو جاویں۔آمین“

(کشتی نوحؑ، روحانی خزائن جلد19صفحہ42-44)

پچھلا پڑھیں

تحریک جدید کا کام

اگلا پڑھیں

اس دور میں اشاعت اسلام کی ایجادات