• 15 جنوری, 2021

حضرت منشی ہاشم علی صاحب رضی اللہ عنہ۔ سنور

حضرت منشی ہاشم علی صاحب رضی اللہ عنہ ولد میاں محمد بخش صاحب قوم ارائیں سنور ریاست پٹیالہ کے رہنے والے تھے اور تحصیل برنالہ میں پٹواری تھے ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ بیعت سے قبل کے عقیدت مندوں میں سے تھے چنانچہ آغاز احمدیت میں ہی سلسلہ احمدیہ سے وابستہ ہوگئے اور عقیدت اور ارادت مندی میں دن بدن بڑھتے چلے گئے ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ میں تحریر فرمایا ہے: ’’اب میں اُن مخلصوں کا نام لکھتا ہوں جنھوں نے حتی الوسع میرے دینی کاموں میں مدد دی یا جن پر مدد کی امید ہے یا جن کو اسباب میسر آنے پر طیار دیکھتا ہوں۔‘‘ (روحانی خزائن جلد3 صفحہ520) چنانچہ ان مخلصین کے ناموں میں 21 ویں نمبر پر حضور علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: ’’منشی حشمت اللہ صاحب مدرس مدرسہ سنور اور منشی ہاشم علی صاحب پٹواری تحصیل برنالہ اس عاجز کے یکرنگ مخلصین میں سے ہیں۔ خدا تعالیٰ ان کا مددگار ہو۔‘‘

(روحانی خزائن جلد3 صفحہ533)

آپ پہلے پٹواری تھے ، بعد ازاں گِرداور بن گئے چنانچہ اپنی اس ڈیوٹی کے سلسلے میں برنالہ، سردول گڑھ اور سنگت کلاں وغیرہ مختلف جگہوں پر متعین رہے، جہاں بھی رہے احمدیت کا نمائندہ اور عمدہ نمونہ بن کر رہے۔ جماعت کی مالی تحریکات میں خود بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور دوسروں کو بھی اس کی اہمیت سمجھاتے ہوئے اس میں شامل ہونے کی تلقین کرتے۔ جماعتی لٹریچر میں متعدد جگہوں پر آپ کی مالی قربانی اور ایثار کا ذکر محفوظ ہے جس میں سے بعض کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔

خلافت اولیٰ کے آغاز میں خالصہ قوم میں تبلیغ کے لیے ایک مجلس ’’سادھ سنگت‘‘ کے نام سے قائم ہوئی جس کے لیے آپ نے بھی امداد کا وعدہ فرمایا جس پر اخبار الحکم لکھتا ہے: ’’منشی ہاشم علی کے ذکر پر میں اپنے دل میں جوش پاتا ہوں کہ اُن کے نمونہ کو قوم کے سامنے رکھوں کہ وہ خدمت دین کے لیے اپنے مال کو کس طرح قربان کرنے کے لیے طیار رہتے ہیں۔ سادھ سنگت کے ممبر چاہتے ہیں کہ منشی ہاشم علی صاحب کی طرف سے ہی ایک ٹریکٹ چھپوا کر تقسیم کیا جاوے ۔ اللہ تعالیٰ ایسے تمام دوستوں کے اموال میں اور نفوس میں برکت رکھ دے۔‘‘

(الحکم 21/28 جولائی 1909ء صفحہ10)

اسی طرح خلافت اولیٰ میں ہی ممالک غیر میں تبلیغ کے لیے آپ کے جوش کا ذکر کرتے ہوئے اخبار الحکم لکھتا ہے: ’’مکرم مخدوم منشی ہاشم علی صاحب منصرم بندوبست سردول گڑھ نے اطلاع دی ہے کہ وہ اس مد میں ایک روپیہ ماہوار دیں گے۔ منشی ہاشم علی صاحب کو قدرت نے خدمت دین کے لیے ایک فیاض اور پُر جوش دل عطا کیا ہے، سابق بالخیرات ہونے کی انھیں ہمیشہ آرزو رہتی ہے۔ مجھے آج تک کوئی تحریک یاد نہیں جس میں سب سے اول انھوں نے شمولیت کے لیے قدم نہ اٹھایا ہو، ایک متمول اور خوش حال آدمی کے لیے سو پچاس خرچ کر دینا اتنا مشکل نہیں ہوتا جس قدر ایک معمولی آدمی کے لیے چند پیسے دینا مگر منشی ہاشم علی صاحب ہر دینی تحریک میں دل کھول کر حصہ لیتے ہیں اور اپنی ذاتی ضروریات پر وہ دینی ضرورتوں کو مقدم کرتے ہیں، اس لحاظ سے ان کی ایک روپیہ ماہوار کی امداد نہایت قیمتی اور قابل قدر امداد ہے، اللہ تعالیٰ اُنھیں جزائے خیر دے۔‘‘

(الحکم 28جولائی 1910ء صفحہ10)

قادیان میں تعمیر مدرسہ کے متعلق اخبار بدر لکھتا ہے: ’’برادر منشی ہاشم علی صاحب احمدی گرداور ریاست پٹیالہ بدر میں تعمیر مدرسہ کی خبر پڑھ کر اپنی وسعت کے مطابق تعمیر مدرسہ کے واسطے کچھ نقد ارسال کرتے ہیں اور کچھ ماہواری چندہ مقرر کرتے ہیں اور لکھتے ہیں میری استطاعت بہت تھوڑی ہے ورنہ دل تو چاہتا ہے کہ لاکھ کا لاکھ میں ہی دے دوں…‘‘

(بدر 29فروری 1912ء صفحہ7)

خلافت ثانیہ کے موقع پر غیر مبائعین کے پروپیگنڈے کو مٹانے کے لیے کوشاں رہے، اس سلسلے میں ایک مرتبہ آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں لکھا: ’’حضورؓ کا خطبہ جمعہ مورخہ 10؍ستمبر جس میں خواجہ صاحب کے مطالبہ کا جواب ہے اور 13؍ستمبر کے الفضل میں شائع کیا گیا ہے، بلحاظ اپنی اہمیت کے اس قابل ہے کہ جیسے پانچ سوالوں کا جواب اس عاجز کی تحریک پر علیحدہ چھپ کر مفت تقسیم ہو چکا ہے اسی طرح اس کی بھی ایک ہزار کاپی ٹریکٹ کی شکل میں چھپے جس کی لاگت خاکسار دینے کو تیار ہے۔‘‘ جس پر اخبار الفضل نے لکھا: ’’آپ کی یہ نیک تحریک واقع میں قابل تائید اور ضرور التعمیل ہے پھر اس کے ساتھ مالی قربانی کی مثال اور بھی لائق تحسین و تقلید ہے، فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔‘‘ (الفضل 30ستمبر 1915ء صفحہ1) اسی طرح اخبار الفضل 5؍مئی 1917ء صفحہ1 پر ’’ایک ہزار کے لیے اپیل‘‘ کی تحریک میں آپ کا اخلاص بھرا خط شائع شدہ ہے۔ چندہ جلسہ سالانہ کے علاوہ بھی جلسہ سالانہ کے اخراجات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے، اس سلسلے میں آپ نے یہ وعدہ کیا ہوا تھا کہ جلسہ سالانہ میں نمک کا خرچ آپ ادا کریں گے، جلسہ سالانہ 1915ء کے موقع پر آپ کا ذکر یوں درج ہے: ’’اخویم مکرم جناب منشی ہاشم علی صاحب سنوری گرد اور قانون گو (پٹیالہ) نے جلسہ سالانہ کے متعلق نمک کا کل خرچ اپنے ذمہ لیا جس کا سابقا ًاعلان ہو چکا ہے، اب آپ نے مبلغ آٹھ روپے علی الحساب بھیج دیے ہیں، اس سے زیادہ جو ہوگا وہ بھی ان شاء اللہ خود آ کر دے دیں گے، مرحبا، جزاہ اللہ۔‘‘ (الفضل 19دسمبر 1915ء صفحہ2 کالم 3) اسی صفحہ پر ترجمۃ القرآن انگریزی کی اشاعت کے لیے آپ کے 10 جلدیں فروخت کرانے کا وعدہ مذکور ہے۔

ایک مرتبہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ نے اخبار الفضل میں اعلان شائع کرایا کہ کتاب اسلام اصول کی فلاسفی کا فرانسیسی ترجمہ چھپ کر تیار ہے، اخباروں وغیرہ میں اس کے اشتہار کے لیے کچھ روپوں کی ضرورت ہے، احباب اس مد میں مدد کریں، تو حضرت منشی ہاشم علی صاحبؓ نے فورا ًاس پر لبیک کہا، اخبار الفضل لکھتا ہے: اس کے متعلق منشی ہاشم علی صاحب گرداور جو بہت مخلص اور جوشیلے احمدی ہیں، لکھتے ہیں: ’’فرانسیسی کتاب کے متعلق جناب مفتی محمد صادق صاحب نے تھوڑی سی رقم بہت جلد منگائی ہے اور الفضل میں درج ہے کہ روپیہ معرفت حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جمع ہوکر آنا چاہیے، اس لیے مبلغ ساڑھے آٹھ روپیہ کا منی آرڈر اسی وقت ڈاکخانہ میں بھیج دیا جس کی کوپن پر تفصیل حسب ذیل درج ہے: خاکسار کتاب الحروف امداد فرانسیسی کتاب پانچ روپیہ ….. خدا کرے اگلی اشاعت میں ہی الفضل لکھ دے کہ مفتی صاحب کے مطالبہ سے زیادہ رقم جمع ہوچکی ہے، آمین ثم آمین۔‘‘ ہم جناب منشی صاحب موصوف کو جزاک اللہ احسن الجزاء کہتے ہوئے دوسرے احباب کے سامنے ان کی مثال پیش کر کے توجہ دلا دیتے ہیں کہ وہ بھی ولایت فنڈ میں اسی جوش کے ساتھ حصہ لیں تاکہ مفتی صاحب کی مطلوبہ رقم بہت جلد جمع ہوسکے۔‘‘

(الفضل 9جون 1917ء صفحہ 2)

اسی طرح اخبار الفضل 28؍جولائی 1917ء صفحہ2 پر آپ کے دینی اخلاص کا ذکر یوں درج ہے: ’’مکرمی ہاشم علی صاحب گرداور سنگت کلاں بڑے مخلص اور جوشیلے احمدی ہیں، ہر تحریک میں بڑے اخلاص سے حصہ لیتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کی ہمت میں اور برکت دے اور دیگر احباب کو ان کی تقلید کی توفیق بخشے۔ صاحب موصوف اپنے تازہ خط میں لکھتے ہیں: ’’الفضل 14؍جولائی 1917ء کے مضامین عیدالفطر، تبلیغ انگلستان۔ حضرت میر ناصر نواب صاحب ہسپتال کے لئے چندہ مانگتے ہیں، نے دل بیتاب کو بالکل بے قرار کر دیا، اپنی ذمہ داریوں کے مقابلہ میں جب کبھی کمزوری، لا پرواہی کو رکھا تو بہت افسوس ہوا، اس اخبار سے دل میں بہت ہی درد پیدا ہوا جس کی تھوڑی سی دوا پھر پھرا کر پیدا کی ہے جو بحضور حضرت خلیفۃ المسیح ارسال کر دیے ہیں۔ گر قبول اُفتد زہے عزّ و شرف۔‘‘

آپ نے 28؍مارچ 1925ء کو وفات پائی، میت قادیان نہ آسکی بوجہ موصی (وصیت نمبر 2287) ہونے کے یادگاری کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگا ہوا ہے۔ اخبار الفضل نے خبر وفات دیتے ہوئے لکھا:

’’جناب منشی ہاشم علی صاحب کا انتقال‘‘

’’جناب منشی صاحب مرحوم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے بہت پرانے خدام میں سے نہایت مخلص اور سلسلہ سے خاص محبت اور شیفتگی رکھنے والے تھے، 28؍ مارچ 1925ء کی صبح کو 65سال کی عمر میں فوت ہو کر محبوب حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم میں وہ تمام خوبیاں اور صفات پائی جاتی تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے اصحاب اوّلین کے لئے مخصوص ہیں، باوجود پیرانہ سالی کے اشاعت سلسلہ میں نوجوانوں سے بڑھ کر جوش رکھتے اور تبلیغ کا کوئی موقعہ نہ جانے دیتے۔ ہمیشہ اپنی استطاعت سے بڑھ کر سلسلہ کی مالی مدد کرتے اور ہر تحریک میں پیش پیش رہتے ۔ ایسے مخلص اور ایثار مجسم بزرگ کی وفات یقینا ًنہایت رنج دہ اور افسوسناک ہے۔ خدا تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے اور آپ کے پسماندگان کو دینی خدمات میں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ سب احباب مرحوم کے لیے دعامغفرت کریں۔‘‘

(الفضل 21؍ اپریل 1925ء صفحہ2)

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ نے لکھا: ’’حضرت منشی ہاشم علی صاحب کا نام میری کسی معرفی کا محتاج نہیں ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت ہی پرانے مخلصین میں سے تھے، آپ دعوے سے بھی پہلے حضورؑ کے ساتھ تعلق محبت و ارادت رکھتے تھے …. مرحوم کچھ عرصہ سے بیمار چلے آتے تھے۔ وہ سلسلہ کے نہایت ہی مخلص اور فدائی تھے۔ سلسلہ کے تمام کاموں اور تحریکوں میں سب سے اول حصہ لینے کی خواہش رکھتے تھے اور لیتے تھے۔ ہمیشہ مالی قربانیوں میں اپنی طاقت سے بڑھ کر حصہ لیتے۔ سالانہ جلسہ کی تقریب پر لنگرخانہ میں اجناس اور دوسری اشیاء کے دینے کی سب سے ابتدائی تحریک ان کی طرف سے ہوئی تھی۔ انھوں نے نمک کا کل خرچ لے کر اس مبارک تحریک کا آغاز کیا اور مجھے یقین ہے کہ ان کا اخلاص ہمیشہ اس نیک عمل کو صدقہ جاریہ کی صورت میں اَلدَّالُّ عَلَى الخَيْرِ كَفَاعِلِهِ کے ماتحت رکھے گا۔سلسلہ کی کتابوں اور اخبارات کی اشاعت میں بڑی کوشش کرتے تھے۔ کبھی اور کسی حال میں ان کو کوئی شک و شبہ پیدا ہی نہیں ہوتا تھا۔ غرض مرحوم بہت سی خوبیوں کے جامع تھے ….‘‘

(الحکم 7/14 اپریل 1925ء صفحہ6)

آپ کی اولاد میں ایک بیٹی اور ایک بیٹے کا علم ہوا ہے۔ آپ کی بیٹی کی شادی حضرت رحمت اللہ صاحب ابن حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوئی۔ (آپؓ نے اپنی طرف سے حضرت اقدسؑ کو اپنا وکیل بننے کی درخواست کی تھی جو حضور نے منظور فرمائی۔ بدر 11؍ اپریل 1907ء صفحہ10) بیٹی کا نام مذکور نہیں لیکن بہشتی مقبرہ قادیان میں ایک یادگاری کتبہ (وصیت نمبر 1262) استانی رحمت زوجہ رحمت اللہ صاحب سنور پٹیالہ لگا ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ بیٹے محمد اسماعیل صاحب تھے (الفضل 28؍ اپریل 1939ء) اللھم اغفر لہٗ و ارحمہ۔

(مرسلہ: غلام مصباح بلوچ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 جنوری 2021