• 25 ستمبر, 2020

فرائض میں سستی نہ کرو

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔
’’ہر ایک امیر خدا کے حقوق اور انسانوں کے حقوق سے ایسا ہی پوچھا جائے گا جیسا کہ ایک فقیر بلکہ اس سے زیادہ۔ پس کیا بدقسمت وہ شخص ہے جو اس مختصر زندگی پر بھروسہ کر کے بکلّی خدا سے منہ پھیر لیتا ہے اور خدا کے حرام کو ایسی بیباکی سے استعمال کرتا ہے کہ گویا وہ حرام اس کے لئے حلال ہے غصہ کی حالت میں دیوانوں کی طرح کسی کو گالی کسی کو زخمی اور کسی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور شُہوات کے جوش میں بے حیائی کے طریقوں کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے سو وہ سچی خوشحالی کو نہیں پائے گا یہاں تک کہ مرے گا۔ اے عزیزو تم تھوڑے دنوں کے لئے دنیا میں آئے ہو اور وہ بھی بہت کچھ گزر چکی سو اپنے مولیٰ کو ناراض مت کرو ایک انسانی گورنمنٹ جو تم سے زبردست ہو اگر تم سے ناراض ہو تو وہ تمہیں تباہ کر سکتی ہے پس تم سوچ لو کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے کیونکر تم بچ سکتے ہو اگر تم خدا کی آنکھوں کے آگے متقی ٹھہر جاؤ تو تمہیں کوئی بھی تباہ نہیں کر سکتا۔ اور وہ خود تمہاری حفاظت کرے گا اور دشمن جو تمہاری جان کے درپے ہے تم پر قابو نہیں پائے گا ورنہ تمہاری جان کا کوئی حافظ نہیں اور تم دشمنوں سے ڈر کر یا اَور آفات میں مبتلا ہو کر بیقراری سے زندگی بسر کرو گے اور تمہاری عمر کے آخری دن بڑے غم اور غصہ کے ساتھ گزریں گے خدا اُن لوگوں کی پناہ ہو جاتا ہے جو اُس کے ساتھ ہو جاتے ہیں سو خدا کی طرف آجاؤ اور ہر ایک مخالفت اُس کی چھوڑ دو اور اُس کے فرائض میں سستی نہ کرو اور اُس کے بندوں پر زبان سے یا ہاتھ سے ظلم مت کرو اور آسمانی قہر اور غضب سے ڈرتے رہو کہ یہی راہ نجات کی ہے۔

اے علماءاسلام میری تکذیب میں جلدی مت کرو کہ بہت اسرار ایسے ہوتے ہیں کہ انسان جلدی سے سمجھ نہیں سکتا۔ بات کو سن کر اسی وقت رد کرنے کے لئے تیار مت ہو جاؤ کہ یہ تقویٰ کا طریق نہیں ہے اگر تم میں بعض غلطیاں نہ ہوتیں اور اگر تم نے بعض احادیث کے اُلٹے معنی نہ سمجھے ہوتے تو مسیح موعود کا جو حَکَم ہے آنا ہی لغو تھا تم سے پہلے یہ عبرت کی جگہ موجود ہے کہ جس بات پر تم نے زور مارا ہے اور جس جگہ تم نے قدم رکھا ہے اُسی جگہ یہودیوں نے رکھا تھا یعنی جیسا کہ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے منتظر ہو وہ بھی الیاس نبی کے دوبارہ آنے کے منتظر تھے اور کہتے تھے کہ مسیح تب آئے گا جب کہ پہلے الیاس نبی جو آسمان پر اُٹھایا گیا دوبارہ دنیا میں آ جائے گا اور جو شخص الیاس کے دوبارہ آنے سے پہلے مسیح ہونے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے اور وہ نہ صرف احادیث کی رو سے ایسا خیال رکھتے تھے بلکہ خدا کی کتاب کو جو صحیفہ ملاکی نبی ہے اس ثبوت میں پیش کرتے تھے لیکن جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی نسبت یہودیوں کے موعود مسیح ہونے کا دعویٰ کر دیااور الیاس آسمان سے نہ اُترا جو اُس دعویٰ کی شرط تھی تو یہ تمام عقیدے یہودیوں کے باطل ثابت ہوگئے۔‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19ص 73 ،71)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 فروری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 فروری 2020