• منگل 25 فروری 2020   (1 رجب 1441)

اپنے ربّ کی عبادت کئے جا یہاں تک کہ تجھے موت آجائے

وَ اعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ

یہ سورۃ الحجر کی آخری آیت کریمہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کو مخاطب ہو کرفرمایا۔ اپنے ربّ کی عبادت کئے جا یہاں تک کہ تجھے موت آجائے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا مقصدحیات عبادت کو قرار دیا ہے اور اس سلسلہ میں انسان کو زندگی کے ابتدائی بچپن کے دن یا سال چھوڑ کر عبادت کی مسلسل تلقین کی گئی ہے۔آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ بچہ جب سات سال کا ہو جائے تو اُسے نماز کی طرف متوجہ کرو۔ اور جب 10 سال کا ہو جائےتو نماز ادا نہ کرنے کی صورت میں تادیب بھی کرو۔ اور جب نماز کی عادت ہو جائے تو مسجد میں آکر نماز باجماعت ادا کرو۔ جس کا اجر 27 گنا ہے اور نماز نہ پڑھنے کی صورت میں عذاب کی وعید بھی سنائی گئی۔ اور یہ عبادت بلاناغہ، بلا تعطل اس وقت تک ادا کرنی ہے کہ آپ کو موت آ لیوے۔ اسی لئے تو آنحضور ﷺزندگی کے آخری حصے میں جب بیماری عروج پر تھی دو صحابہ کے کندھوں کے سہارے مسجد میں آئے اور نماز با جماعت ادا کی۔

اور مامور زمانہ سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی زندگی کے آخری لمحات کے متعلق بھی یہی آتا ہے۔ ذرا ہوش آتی فوراً نماز کی طرف توجہ کرتے پھر غشی طاری ہو جاتی اور کچھ وقفہ کے بعد ہوش میں پھر نماز کی نیت باندھ لیتے۔

عبادت میں صرف نماز مراد نہیں بلکہ دیگر عبادات روزے، زکوٰۃ، نوافل، حقوق اللہ اور حقوق العباد مراد ہیں جن کا سلسلہ موت تک جاری رہنا چاہئے۔ یہی مفہوم ہے اس آیت کریمہ میں۔

تو اس آیت کریمہ کے پہلے اور ظاہری معانی یہ ہوئے کہ اپنی عبادات کو بغیر کسی وقفہ سے تسلسل کے ساتھ موت تک جاری و ساری رکھو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کےلطیف معانی یہ بھی لئے ہیں کہ نماز پڑھتے پڑھتے یہ کیفیت بھی انسان پر طاری ہو جائے کہ وہ اس دنیا سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہو کہ اس پر موت طاری ہے۔ جیسا کہ حضرت علیؓ کے متعلق آتا ہے کہ آپ کے پاؤں میں ایک بار کیل نما کانٹا چبھ گیا۔ آپ درد سے نڈھال ہوئے جا رہے تھے۔ کانٹے کو نکالتے وقت آپ کو بہت تکلیف ہوتی تو آپ نے فرمایاکہ ذرا ٹھہرو مجھے نماز پڑھنے دو میں جب نماز کی لذت و سرور میں مگن ہوں گا تو اس وقت کانٹا نکالنا۔ مجھے تکلیف نہ ہوگی۔ چنانچہ وہ کانٹا نماز کی حالت میں نکالا گیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان معنوں میں اس آیت کی تفسیر و تشریح میں فرماتے ہیں۔

’’جو ابدی اور راحت بخش زندگی ہے اُ س کا سلسلہ شروع نہ ہو جاوے اور جب تک اسی عارضی حیات دنیا کی سوزش اور جلن دور ہو کر ایمان میں ایک لذت اور روح میں ایک سکینت اور استراحت پیدا نہ ہو یقیناً سمجھو کہ جب تک انسان اس حالت تک نہ پہنچے ایمان کامل اور ٹھیک نہیں ہوتا۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے کہ توعبادت کرتا رہ جب تک کہ تجھے یقینِ کامل کا مرتبہ حاصل نہ ہو اور تمام حجاب اور ظلماتی پردے دور ہو کر یہ سمجھ میں آجاوے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو پہلے تھا بلکہ اب تو نیا ملک، نئی زمین، نیا آسمان ہے اور میں بھی کوئی نئی مخلوق ہوں یہ حیات ثانی وہی ہے جس کو صوفی بقا کے نام سے موسوم کرتے ہیں جب انسان اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی روح کا نفخ اس میں ہوتا ہے۔ ملائکہ کا اس پر نزول ہوتا ہے۔ یہی وہ راز تھا جس پر پیغمبر خدا ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا کہ اگر کوئی چاہے کہ مُردہ میت کو زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو وہ ابو بکر کو دیکھے اور ابو بکر کا درجہ اس کے ظاہری اعمال سے ہی نہیں بلکہ اس بات سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔‘‘

(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد دوم صفحہ 795)

فرمایا: ’’صوفیوں نے لکھاہے کہ ہر ایک انسان کے لئے باب الموت کا طے کرنا ضروری ہے اس پر ایک قصّہ بھی ہے کہ ایک شخص کے پاس ایک طوطا تھا جب وہ شخص سفر کو چلا تو اس نے طوطہ سے پوچھا کہ تو بھی کچھ کہہ۔ طوطہ نے کہا کہ اگر تو فلاں مقام پر گذرے تو ایک بڑا درخت ملے گا اس بہت سے طوطے ہوں گے ان لو میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ تم بڑے خوش نصیب ہو کہ کھُلی ہوا میں آزادانہ زندگی بسر کرتے ہو اور ایک میں بے نصیب ہوں کہ قیدمیں ہوں۔ وہ شخص جب اس درخت کے پاس پہنچا تو اس نے طوطوں کو وہ پیغام پہنچایا۔ ان میں سے ایک طوطہ درخت سے گرا اور پھڑک پھڑک کر جان دیدی۔ اس کو یہ واقعہ دیکھ کر کما ل افسوس ہوا کہ اس کے ذریعہ سے ایک جان ہلاک ہوئی۔ مگر سوائے صبر کے کیا چارہ تھا۔ جب سفر سے وہ واپس آیا تو اس نے اپنے طوطہ کو ساراواقعہ سُنایا اور اظہار غم کیا۔ یہ سنتے ہی ہوطوطہ جو پنجرہ میں تھا پھڑکا اور پھڑک پھڑک کر جان دیدی۔ یہ واقعہ دیکھ کر اس شخص کو اور بھی افسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ سے دوخون ہوئے۔ آخر اس نے طوطہ کو پنجرہ سے نکال کر باہر پھینک دیا تو وہ طوطہ جو پنجرہ سے مُردہ سمجھ کر پھینک دیا تھا اُڑکر دیوار پر جا بیٹھا اور کہنے لگا کہ دراصل نہ وہ طوطہ مرا تھا اور نہ میں ۔ میں نے تو اس سے راہ پوچھی تھی کہ اس قید سے آزادی کیسے حاصل ہو سو اس نے مجھے بتایا کہ آزادی تو مرکر حاصل ہوتی ہے پس میں نےبھی موت اختیار کی تو آزاد ہو گیا۔‘‘

(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 795-796)

پس ہم میں سے ہر احمدی مرد و عورت کو اپنے اوپر یہ لازم کرلینا چاہئے کہ ہم نے آخری عمر تک خود بھی عبادت بجا لانی ہے اور اپنے ماحول میں بسنے والے ہر احمدی فرد کو نہ صرف نمازی بنانا ہے بلکہ نسل در نسل عبادت گزار پیدا کرتے چلا جانا ہے اور اپنے اوپر اپنی ہی زندگیوں میں وہ موت بھی وارد کرنی ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں ہی لقائے باری تعالیٰ حاصل ہوجائے اور ہم اپنے خالق حقیقی کا دیدار کرلیں۔


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 فروری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 فروری 2020

مقبول ترین