• 25 ستمبر, 2020

اپنے رب سے گفتگو

اُس کو پانے کی جُستجو کرنی
جِس سے چُھپ کر ہے گفتگو کرنی
اور کچھ مانگنا نہیں ربّ سے
بس فقط اُس کی آرزو کرنی
بات جو کچھ بھی میرے دل میں ہے
بات وہ اُس کے رو برو کرنی
سَر کو سجدے میں رکھ کے اب دِل نے
بارش آنکھوں کی ہے لہو کرنی
یہ جو بنجر زمیں کی تنہائی
گُل کے دامن سے رنگ و بُو کرنی
جب مُلاقات یار سے کرنی
دِل یہ کہتا کہ باوضو کرنی
گلے گل چیں کے اے صبالگ کر
یہ خزاں دِل کی مُشکبو کرنی
یہ جو اُدھڑی ہوئی ہے کانٹوں سے
یہ بھی پوشاک اب رفو کرنی
جب بھی مشکل ہو باوضو ہو کر
اپنے ربّ سے ہے گفتگو کرنی
اُس کو ہی یار اب بنانا ہے
اپنی ہر سانس اللہ ہُو کرنی
پیڑ اب کاٹ کر اَنا کا یہ
اب کبھی بھی نہ میں نہ تُو کرنی
عشقِ فرہاد کی طرح میں نے
جاری پتھر سے آبجُو کرنی
اپنے ساقی کے اِس میخانے میں
زیست یہ ساغر و سَبُو کرنی

(عبدالجلیل عبادؔ ۔جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 فروری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 فروری 2020