• جمعرات 20 فروری 2020   (26 جمادى الآخرة 1441)

محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم غیروں کی نظر میں

جان و دلم فدائے جمالِ محمد ؐ است
خاکم نثارِ کوچۂ آلِ محمد ؐ است
دیدم بعینِ قلب و شنیدم بگوشِ ہوش
در ہر مکان ندائے جلال ِ محمد ؐ است

(درثمین فارسی صفحہ145)

وہ ذات جس کی حمد کے ترا نے ملا ئکہ گا تے ہیں، جسے خداتعالیٰ نے ’’رحمۃ للعالمین‘‘ قرار دیا، اس کی ذات بابرکات کو زمانے بھر کے لئے اسوۂ حسنہ ٹھہرایا ، جس کی پروازکی منزل سدرۃالمنتہیٰ ہے۔ آ نحضرت ﷺ کی ذات با برکات صفاتِ باری تعالیٰ کا مظہرِ اتم تھی۔ جہاں آپ ﷺ نے صفتِ رحما نیت کی ردا اوڑھی اور جلال اور محبو بیّت کے لباس میں جلوہ گر ہو ئے وہاں آپ ﷺ نے رحیمیّت اور جمال کے لباس میں بھی تجلّی فرمائی۔ آپ ﷺ اخلاقِ فاضلہ کے بحرِ بیکراں تھے۔

آپ ﷺ کی بعثت کامقصد مکارم اخلاق کی تکمیل

آ پ ﷺ کو قریب سے دیکھنے والی ہستی نے آ پ ﷺ کی ذات کی تفسیر وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ یعنی آپؐ عظیم الشان اخلاق پر فائز تھے (قلم :5) کہہ کر بیان فرمائی ہے۔ جس طرح قرآن پاک کی تفسیر کی تکمیل ممکن نہیں ہو سکتی اِسی طر ح آ قائے نامدار حضرت محمد مصطفی ﷺ احمد مجتبیٰ ﷺ کی ذات کے فضائل اور شما ئل کا بیان کبھی ممکن نہیں ہو سکتا ۔مشہور ہندو شاعر جگن نا تھ نے بہت خو ب کہا ہے۔

مجھے اک محسن انسانیت کا ذکر کرنا ہے
مجھے رنگ عقیدت فکر کے سانچے میں بھرنا ہے
بیاں کرنا ہے اوجِ ابنِ آدم بن کے کون آیا
بیاں کرنا ہے فخر ہر دو عالم بن کے کون آیا
جسے حق نے کیا تسلیم ختم المرسلیں آیا
جسے دنیا نے مانا رحمت للعالمین آیا
خلیق آیا کریم آیا رؤف یا رحیم آیا
کہا قرآن نے جس کو صاحب خلق ِ عظیم آیا

(نعت مبارکہ، جگن ناتھ آزاد)

آ پ ﷺ وہ انسانِ کامل ہیں جن کی صداقت، امانت اور وفا شعاری، فراست اور دائمی تعلیمات، حسنِ اخلاق اور اخوت جیسی ابدی صفات کا دشمن بھی ببا نگِ دہل اقرار کر تے ہیں۔ یہ اعلیٰ اخلاق اور شمائل ہی تو تھے جن کی بنا پر آپ ﷺ کے سخت سے سخت دشمن بھی آ پ ﷺ کی ذاتِ اقدس کے حضور کوئی گستا خانہ بات کہنے کی جرأت نہیں کر سکتے بلکہ ہمہ وقت آپ ﷺ کی صفاتِ اکمل کا اقرار کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کی سیرت کا یہ کمال ہے کہ آپ ﷺ کے بد ترین دشمنوں نے بھی ان کے صادق اور امین ہونے کی گواہی دی۔ انہیں اعلیٰ ترین اخلاق وکردار کا حامل انسان قرار دیا۔ آنحضرت ﷺ کا ابو جہل سے بڑھ کر دشمن کون تھا؟ مگر وہ آنحضرت ﷺ کو بر ملا کہا کرتا تھا کہ ’’ہم تجھے جھوٹا نہیں کہتے بلکہ اس تعلیم کی تکذیب کرتے ہیں جو تو لیکر آیا ہے‘‘

(بحوالہ نبیوں کا سردار صفحہ 195 مطبوعہ پرنٹ ویل امرتسر، سن اشاعت فروری 2004ء)

ایسی شہادتیں اغیار آپ ﷺ کی حیات میں بھی دیتے رہے اور ان کے وصال کے بعد آج تک دیتے چلے آرہے ہیں۔ بحیثیت مسلمان قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کی موجودگی میں اغیار کی ان آراء کی کوئی وقعت نہیں اور نہ ہی آپ ﷺ کی سیرت اس کی محتاج ہے مگر تبلیغی نکتۂ نگاہ سے ان کی افادیت مسلّمہ ہے وہ لوگ جو مذہب پر ایمان نہیں رکھتے، قرآن کریم جیسی جامع اور اکمل کتاب پر جن کا یقین نہیں، احادیث کو وقعت نہیں دیتے۔ ان لوگوں کو ان ہی کے ہم مذہب، ہم قوم دانشوروں اور اکابرین کے اقوال اور تحریرات سے قائل کیا جاسکتا ہے کہ دیکھو ہم تمہیں اس ہستی پر ایمان لانے کے لئے کہہ رہے ہیں جن کے متعلق تمہارے بڑوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ کامل ہستی اخلاق فاضلہ کے بلند مینار پر ایستادہ ہے۔اشاعت اسلام کے لئے (خود کو اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ بنا کر پیش کرنے کے بعد) یہ بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

چنا نچہ مشہور مصنّف ما ئیکل ایچ ہارٹ اپنی تصنیف 100عظیم آدمی ’’ A Ranking of the most Influential Persons in History‘‘ میں رقمطراز ہے: ’’ممکن ہے کہ انتہا ئی متاثر کن شخصیات میں محمد ﷺ کا شمار سب سے پہلے کر نے پرکچھ لوگ حیران ہوں۔ کچھ اعتراض کریں لیکن یہ وہ واحد تاریخی ہستی ہیں جو کہ مذہبی اور د نیاوی دونوں محاذوں پر یکساں طور پر کا میاب رہے۔‘‘

مشہور جرمن شاعر گوئٹے (Johann Wolfgang von Goethe) آپ ﷺ کو خراجِ تحسین پیش کر تے ہوئے کہتا ہے۔’’اگر اسلام یہی ہے تو ہم سب مسلمان ہیں۔ بے شک محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کا لا یا ہوا دین اخلاص انسانیت کے ساتھ ہمدردی اورمعاشرے کے لئے اعلیٰ تر ین اخلاقی ہدایت ہے۔ اسلام کبھی نا کام نہیں ہو سکتا کیو نکہ اس کی تعلیم انسان کو ان بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے جو انسانی تصور سے بالاترہے۔‘‘

مشہور برطانوی ڈرامہ نگار اور فلسفی جارج برنارڈشا (Sir George Bernard Shaw) آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتِ اقدس کے بارے میں یوں رطب اللسان ہے: ’’اور میرا یقین ہے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) جیسے شخص کو جد ید دنیا کی مطلق العنان حکومت سونپ دی جائے تو وہ اس دنیا کے مسائل اس طرح سے حل کر ے گا کہ دنیا حقیقی مسرّتوں اور راحتوں سے بھر جائے گی۔ میں نے انہیں پڑ ھا ہے۔ وہ کسی بھی طرح کے مکرو فریب سے کوسوں دُور ہیں انہیں بجاطور پرانسا نیت کا نجات دہندہ کہا جاسکتا ہے۔ میں نے پیشگوئی کی تھی کہ محمد( صلی اللہ علیہ و سلم) کا عقیدہ یورپ کے لئے آنے والے کل میں اتنا ہی قابلِ قبول ہوگا کہ جتنا آج قابلِ قبول بننے لگا ہے۔‘‘

(از ’’حقیقی اسلام‘‘ 1936 جارج برنارڈشاہ جلد 1 نمبر 8)

(The Genuine Islamِ (Der wahre Islam) Vol. 1, No. 8, 1936)

مشہور زمانہ مفکر ٹالسٹائی (Leo Tolstoi)آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی شان یوں بیان کرتا ہے: ’’حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و سلم)کا طرز ِعمل اخلاق انسانیت کا حیرت انگیز کارنامہ ہے، ہم یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کی تبلیغ و ہدایت سچائی پر مبنی تھی۔‘‘

پھر وہ مزید لکھتا ہے ’’حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) متواضع، خلیق اور روشن فکر اور صاحبِ بصیرت تھے۔ لوگوں سے عمدہ معاملہ رکھتے تھے۔ آپ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مدت العمر پاکیزہ الخصائل رہے‘‘

صرف یہ ہی نہیں بلکہ وہ آپ کو عظیم مصلح بھی قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے ’’محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) دنیا میں عظیم مصلح بن کر آئے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) میں ایسی برگزیدہ قوت پائی جاتی تھی جو کہ قوت بشر سے زیادہ ارفع و اعلیٰ تھی۔‘‘

مشہور یورپی مصنّفہ اینی بیسنٹ (Annie Besant) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار یوں کرتی ہیں۔ ’’یہ ناممکن ہے کسی بھی ایسے شخص کے لئے جس نے عرب کے عظیم پیغمبر (صلی اللہ علیہ و سلم) کی زندگی اور اس کے کردارکے بارے میں پڑھا ہوجو یہ جانتا ہوکہ اس پیغمبر (صلی اللہ علیہ و سلم) نے کیا تعلیم دی اور کیسے زندگی گزاری اور وہ اپنے دل میں اس عظیم پیغمبر (صلی اللہ علیہ و سلم) کے لئے انتہا ئی احترام کے علا وہ کچھ اور محسوس کرے ۔… خود میں جب بھی اس عظیم پیغمبر (صلی اللہ علیہ و سلم) کے بارے میں پڑھتی ہوں تو اس عظیم استاد کے لئے تعریف و تو صیف کی ایک نئی لہر میرے اندر اُٹھتی ہے۔ اور احترام کا ایک نیا جذبہ میرے اندر کروٹ لیتا ہے۔‘‘

(محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) زندگی اور ان کی تعلیمات ’’مدارس 1932 صفحہ 4)

(The Life and Teachings of Muhammad 1932 Page 4)

نپولین بونا پارٹ (Napoleon Bonaparte) اس طرح سے اظہا ر خیال کرتا ہے:‘‘محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم)نے اہلِ عرب کو اتحا دکا درس دیا ۔ان کے با ہمی جھگڑے ختم کئے ۔تھوڑی سی مدت میں آ پ ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی اُمت نے نصف صدی سے زیا دہ دُ نیا فتح کرلی ۔پندرہ برس کے مختصر عر صے میں عرب کے لوگوں نے بتوں اور جھو ٹے خداؤں کی پر ستش سے تو بہ کر لی۔مٹی کے بت مٹی میں ملا دیئے گئے ۔یہ حیرت انگیز کا رنا مہ محمد( صلی اللہ علیہ و سلم )کی تعلیمات اور ان پر عمل کر نے کے سبب انجا م پایا ۔’’

(Christian Cherfils: ‘Bonaparte and Islam,’ Pedone Ed., Paris, France, 1914, S. 105, 125)

دُنیا کے تمام مذاہب کے علمی، سیاسی، مذہبی، سماجی، دانشور،مؤرخین، مفکرین اور سکالرز اس بات پر متفق ہیں ۔آ پ (صلی اللہ علیہ و سلم)جامع اخلاق تھے اور کمال اخلاق یہ کہ ان میں کوئی تکلّف یا تصنّع کا شا ئبہ تک نہیں بلکہ فی ذاتہٖ مستقل اور قائم دا ئم ہیں ۔آ پ(صلی اللہ علیہ و سلم)کی ذات بر کات میں جہاں خدائے دو جہاں نے اخلا ق فا ضلہ کو جمع کیا اسی طرح آپ(صلی اللہ علیہ و سلم ) کو وہ ذہانت، فراست وعقل اور حسن انتظام بھی عطا کیا جس کی مدد سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صد یوں کی گمراہ اور بے راہ ر و قوم کو خیر الامم میں تبد یل کر نے کا معجزہ دُ نیا کے سامنے پیش کیا ۔

گاندھی جی آ پ صلی اللہ علیہ و سلم کو یوں ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ ’’میرا اس پر یقین پہلے سے بڑھ چکا ہے کہ یہ تلوار نہیں تھی جس کے ذریعے اسلام نے اپنا مقام حاصل کیا بلکہ ایک غیرلچک دار سادگی، پیغمبر اسلام کی نفس کشی، اپنے وعدوں کا احترام، اپنے دوستوں اور ماننے والوں کے لئے انتہائی درجہ کی وابستگی ،ان کی بہا دری اور بے خوفی اور اپنے خدا اور اپنے مشن پر غیر متزلزل اور مطلق ایمان نے انہیں کا میابیاں دلا ئیں اور اسی سے انہوں نے ہر مشکل پر قابو پایا ۔‘‘

(مہاتماگا ندھی ’’ینگ انڈ یا‘‘ 1924)

(Mahatama Gandhi’s Statement Published in Young India 1924)

آ پ صلی اللہ علیہ و سلم حسن ِ اخلاق میں شہرہ آفاق تھے۔ (پروفیسر تھا مس کار لائل Thomas Carlyle) ایک معروف برطانوی ادیب ہے۔ جو کسی تعارف کامحتاج نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتِ گرامی کے بارے میں اُس کی رائے کچھ اس طر ح ہے: ‘‘آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی عظمت میں قناعت کی شان نظر آتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شمار ان لوگوں میں تھا جن کا شعار سچائی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ فطرتاً بے لوث اور سچے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام پر عمل کرنے والے دُنیا کے بہترین انسان بن گئے۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بطور ہیرو اس لئے تسلیم کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) نے کبھی وہ بننے اور دکھانے کی کوشش نہ کی جو وہ نہیں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) میں خود نمائی سرے سے موجود نہیں تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) عظیم انسان اور عظیم ترین پیغمبر تھے۔‘‘

(On Heroes, Hero-Worship, and The Heroic in History by Thomas Carlyle)

پھر وہ مز ید لکھتا ہے ’’ہم لوگوں یعنی عیسا ئیوں میں یہ بات مشہور ہے کہ (محمد صلی اللہ علیہ و سلم) ایک پُر فَن اور فطرتی شخص اور جھو ٹے دعو یدار نبو ت تھے اور ان کا مذہب دیوانگی، خام خیالی کا ایک تو دہ ہے۔ اب یہ سب با تیں لوگوں کے نز دیک غلط ٹھہرتی چلی جا تی ہیں۔ ’’وہ کہتا ہے‘‘ اس وقت جتنے آدمی (محمد صلی اللہ علیہ و سلم) پر اعتقاد رکھتے ہیں اس سے بڑھ کرکسی اور کلام پر اس زمانے کے لو گ یقین نہیں رکھتے۔ میرے نزدیک اس خیال سے بد تر اور ناخدا پر ستی کا دوسراکو ئی خیا ل نہیں کہ ایک جھو ٹے آدمی نے یہ مذہب پھیلایا ۔‘‘(یعنی یہ با لکل غلط چیز ہے)۔

(On Heroes, Hero-Worship, and The Heroic in History by Thomas Carlyl)

سر ولیم میور (Sir Willam Muir) ایک مستشر ق ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات با بر کات کے حوا لے سے کافی مخا لف با تیں بھی کہی ہیں۔ وہ آ پ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں اپنی را ئے کا اظہا رکچھ ایسے الفاظ میں کرتا ہے:

’’تا ر یخ سے ثا بت ہو تا ہے کہ (محمد صلی اللہ علیہ و سلم )کے اندر ایک قابل حکمران کی تمام صلا حتیں مو جو د تھیں۔‘‘

(The Life of Mahomed by William Muir, Vol. IV, London: Smith, Elder and Co., 65 Cornhill, 1861, page 513.)

پھر یہی ولیم میور مز ید لکھتا ہے ’’حیا،شفقت،صبر،سخاوت، عاجزی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کے نمایاں پہلو تھے اور ان کے با عث آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) اپنے ماحول میں ہر شخص کو اپنا گرویدہ کر لیتے…آ پ (صلی اللہ علیہ و سلم) کی ایک نرالی خوبی یہ تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی محفل میں مو جود ہر شخص کو یہ خیال ہوتا کہ وہی اہم ترین مہمان ہے … ایک نرم اور مہربان طبیعت آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے تمام خواص میں نمایاں نظر آتی ہے … اپنی طا قت کے عروج پر بھی آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) منصف اور معتدل رہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) اپنے ان دشمنوں سے نر می میں ذرہ بھی کمی نہ کر تے جو آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) کے دُعا وی کو بخوشی قبو ل نہیں کر تے تھے۔محمد(صلی اللہ علیہ و سلم) نے چند مجر موں کے علا وہ عام معافی کا اعلان کر دیا اور ماضی کی تمام یا دوں کو یکسر بُھلا دیا۔…ان سے درگزر کر نا بھی ایک رو شن مثا ل ہے۔‘‘

(ایضاً۔صفحہ 305-307)

پھر ایک فر نچ فلا سفر لا مارٹین (Lamartine) ہسٹری آف ٹرکی History of Turkey) (میں لکھتا ہے ’’اگر کسی شخص کی قابلیت کو پر کھنے کے لئے تین معیار مقرر کئے جا ئیں کہ اس شخص کا مقصد کتنا عظیم ہے، اس کے پاس ذرا ئع کتنے محدود ہیں اور اس کے نتائج کتنے عظیم الشان ہیں تو آ ج کون ایسا شخص ملے گا جو محمد (صلی اللہ علیہ و سلم)سے مقابلہ کر نے کی جسارت کرے۔… محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) نے نہ صرف دنیا کی فوجوں، قوانین، حکومتوں، مختلف اقوام اور نسلوں بلکہ د نیا کی کُل آبادی کے ایک تہا ئی کو یکجا کر دیا ۔… انسا نی عظمت کو پر کھنے کا کو ئی بھی معیار مقرر کر لیں، کیا محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) سے بڑھ کر کبھی کوئی شخص پیدا ہوا؟‘‘

(History of Turkey by A. De Lamartine, New York: D. Appleton and Company, 346-348 Broadway, 1855. Vol. 1 page 154)

پروفیسر رام کر شنا راؤمیسور یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ لکھتے ہیں: ’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کا قلب مبا رک محبت اور اخوت سے لبریز تھا۔ آپ (ﷺ)ا للہ کے بندے اور پھر اس کے رسول تھے ۔‘‘

پنڈت ہری چند اخترجو ایک مشہو ر شا عر کی حیثیت سے دُنیا میں اپنا نام منوا چکا ہے وہ آ پ صلی اللہ علیہ و سلم کی مدح میں یوں نظم بند ہے۔

کس نے ذروں کو اُٹھایا اور صحرا کر دیا
کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا
کس کی حکمت نے کیا یتیموں کو درِیتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولیٰ کر دیا
زندہ ہو جا تے ہیں جو مر جاتے ہیں حق کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
شو کتِ مغرور کا کس شخص نے توڑا طلسم
منہدم کس نے الٰہی قیصر و کسریٰ کر دیا
سات پردوں میں چھپا بیٹھا تھا حسنِ کا ئنا ت
اب کسی نے اس کو عالم میں آ شکا را کر دیا
آدمیت کا غرض سامان مہیا کر دیا
اک عرب نے آدمی کا بول با لا کر دیا

آ پ صلی اللہ علیہ و سلم وہ ہستی ہیں جن کو خدا تعا لیٰ نے اپنی صفات سے متصف فرما یاتا کہ وہ اس کا ئنا ت میں پائی جا نے والی ہر ذرّے اور ذی رو ح کو اپنے سایۂ ر حمت و شفقت میں لے کر آ فتا ب بنائے۔ یہ سب صرف اور صرف اس تصور ِ تو حید اور کلمہ طیب کی بدولت ہے جو آ پ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے درسِ اول کی صورت میں مسلما نوں کو دیا۔

سکھ مذ ہب کے بانی بابا گرو نا نک صا حب آ پ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات ِ گرا می کی تعر یف اس طر ح سے کر تے ہیں۔

محمد ﷺ من تو من کتاباں چار
من خدا دی بندگی سچا اے دربار
الف اک ہے دوجا پاک رسول ﷺ
کلمہ پڑھ نانکا جو درگاہ پویں قبول

اور اس بات کی تصد یق ایک اور یو رپی ادیب John William Draper نے اپنی کتاب History of the Intellectual Development of Europe میں یوں کی۔ لکھتے ہیں کہ Tustiniah’’ کی وفات کے چار سال بعد 596ء میں مکہ میں ایک ایسا شخص پیدا ہوا جس نے تمام شخصیات میں سب سے زیادہ بنی نوع انسان پر اپنا اثر چھوڑا اور وہ شخص (محمدصلی اللہ علیہ و سلم) ہے۔… ان کا مذ ہب صرف یہی تھا کہ خدا ایک ہے …اس سچائی کو بیان کر نے کے لئے اُ نہو ں نے نظریاتی بحثوں کو اختیار نہیں کیا بلکہ اپنے پیروکاروں کو صفائی، نماز اور روزہ جیسے امور کی تعلیم دیتے ہوئے ان کی معاشرتی حالتوں کو عملی رنگوں میں بہتر بنایا۔ اس شخص نے صدقہ و خیرات کو باقی تمام کاموں پر فوقیت دی ۔‘‘

History of the intellectual Development of Europe by John William Draper M.D .L.L.D; New York: Harper and Brothers Publishers, Franklin Square .1863. Page 244.

پھر کیرن آرم سٹرانگ (Karen Armstrong) “Muhammad- A Biography of the Prophet” میں تحریر کر تی ہیں۔

کہ ’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بنیا دی تو حید پر مبنی روحانیت کے قیام کے لئے عملاً صفر سے کام کا آ غاز کرنا پڑا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے مشن کا آ غاز کیا تو نا ممکن تھا کہ کوئی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے مشن پر کام کر نے کا موقع فراہم کرتا۔ عرب قوم تو حید کے لئے با لکل تیار نہ تھی … در حقیقت اس تشدد اور خو ف ناک معاشرہ میں اس نظریہ کو متعارف کروانا انتہائی خطرنا ک ہو سکتا تھا …درحقیقت محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کی جان اکثر خطرہ میں گھری رہتی اور ان کا بچ جانا قریب قریب ایک معجزہ تھا۔

(صفحہ 54-53)

پھر وہ اس کتاب میں اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کا اعتراف کر تے ہو ئے لکھتی ہیں: ’’سلام میں کثیر الازدواجی کی اجازت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے عورت کے مصائب اور تکلیف کا بڑا سبب بتایا جاتا ہے۔ لیکن جب یہ اجازت دی گئی اس وقت یہ ایک نہایت عمدہ معاشرتی قدم تھا۔ اسلام سے پہلے مردوں اور عورتو کو ایک سے زیادہ بیو یاں اور شو ہر رکھنے کی اجازت تھی۔ شادی کے بعد عورتیں اپنے میکے میں ہی رہتی تھیں جہاں ان کے شوہر ان سے ملنے آ تے۔ یہ معاشرتی سیٹ اپ ایک قانونی قحبہ گری سے زیادہ کچھ نہ تھا۔

شوہروں کی زیادہ تعداد ہو نے کی وجہ سے بچو ں کی ولدیت کا تعین مشکل تھا اور بچے اپنی ما ں سے پہچا نے جا تے تھے اسی وجہ سے مرد نان و نفقہ اور اولا دو ں کی پرورش سے آزاد رہے۔عورت کو کو ئی انفرادی حقو ق حاصل نہ رہے ………اس کی حیثیت مرد کی ملکیت سے زیا دہ نہیں تھی۔اسلامی کثیر الازدواجی درحقیقت ایک سماجی قانون سازی ہے جس میں عورت کو مرد کی خواہش پورا کرنے کا آ لہ نہیں بنایا بلکہ کمزور اور بے سہارا خوا تین کے لئے گھرو ں اور نگہبانوں کا انتظا م کیا ،تمام تر حقو ق عزت اور احترام کے ساتھ اور سب سے بڑھ کر ورا ثت میں وہ حقو ق د ئیے جو مغر بی خوا تین کو 19 ویں صدی عیسو ی تک میسر ہی نہیں تھے۔

(کیرن آرمسٹر ونگ ۔Muhammad A Biography of the Prophet)

آ خر میں میں اپنے مضمون کا اختتام ایک ایسے بڑے مخالف کی گواہی کے بیان سے کرنا چاہوں گی جس نے آ پ صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت میں ہر طرح سے حصّہ لیا اور یہ شہادت بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کا مطالعہ کر نے والوں کی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں رائے نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانۂ نبوت میں ایک ایسے شخص کی گواہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے منصوبہ میں بھی شامل تھا۔ اس کا نام نضر بن الحارث تھا۔ یہ ان 19 اشخاص میں سے تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کے قتل کے منصو بہ میں شامل تھے۔ جب دعویٰ کے بعد لوگ مکہ میں آنے لگے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دعویٰ کا چر چا پھیلا تو ان کے لوگوں کو فکر پیدا ہوئی کہ حج کا موقع آ رہا ہے۔ بہت سے لوگ یہاں آ ئیں گے اور ان کے متعلق پو چھیں گے تو ان کو کیا جواب دیں گے ۔اس کے لئے انہوں نے مجلس کی جس میں قریش کے بڑے بڑے سردار اکٹھے ہوئے تا کہ سب مل کر ایک جواب سوچ لیں ایسا نہ ہو کہ کوئی کچھ کہے اور کوئی کچھ، اور سب لوگ ہمیں جھوٹا سمجھیں۔ اس مجلس میں مختلف جواب پیش کئے گئے۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ کہہ دیں کہ یہ جھوٹا ہے۔ اس وقت نضر بن الحارث کھڑا ہوا اور بڑے جوش سے کہنے لگا جواب وہ سو چو جو معقول ہو۔ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) تمہارے اندر پیدا ہوا، تمہارے اندر جوان ہوا، تم سب اسے پسند کر تے تھے اور اس کے اخلاق کی تعر یف کر تے تھے، اسے سب سے سچا سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ بوڑھا ہو گیا اور اس کے سر میں سفیدبال آگئے اور اس نے وہ دعویٰ کیا جو وہ کرتا ہے اب اگر تم کہو گے کہ وہ جھوٹا ہے تو اسے کون جھوٹا مانے گا۔ لوگ تمہیں جھوٹا کہیں گے۔ اس جواب کو چھوڑ کر کوئی اور جواب گھڑو۔ یہ دشمن کی گواہی ہے اور بہت بڑے دشمن کی گواہی ہے اور پھر تائید کے لئے گواہی نہیں بلکہ ایسی مجلس میں پیش کی گئی جو آ پ ؐ کی مخالفت میں منعقد کی گئی اور اس لئے پیش کی گئی کہ کس طرح لوگوں کو آ پ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے پھیرایا جا ئے۔

(بحوالہ دنیا کا محسن، انوار العلوم جلد 10صفحہ259 فضل عمر فاؤنڈیشن)

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 5۔اکتوبر 2012ء میں بیان فرماتے ہیں ’’اللہ کرے کہ دُنیا اس عظیم ترین انسان کے مقام کو سمجھتےہو ئے بجا ئے لا تعلق رہنے یا مخالفت استہزاء کر نے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن میں پناہ لینے کی کو شش کرے تا کہ اللہ تعا لیٰ کے عذاب سے بچ سکے۔ دُنیا کا نجات دہندہ صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ہر حقیقت پسند مصنف اور سچے غیرمسلم کا بھی یہی بیان ہو گا۔ پہلے انبیاء کی سچائی بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی سے ثا بت ہوتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہی ثابت ہو تی ہے۔ یہ ہے مقامِ ختم نبوت جس کا احمدی نے دُنیا میں پر چار کرنا ہے اور اس کے لئے ہر ایک کو کو شش کرنی چا ہئے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں آ پ صلی اللہ علیہ و سلم کے اسوہ عظیم پر چلنے کی توفیق دے جس کے دوست ہی نہیں دشمن بھی گواہ ہیں جو اپنوں کے لئے ہی نہیں غیروں کے لئے بھی مشعل راہ ہیں جن کی تعلیما ت دنیا ہی نہیں آ خرت بھی سنوار دیتی ہے ۔ آمین ثم آ مین

وہ پاک محمد ؐ ہے ہم سب کا حبیب آقا
انوارِ رِسالت ہیں جس کی چمن آرائی
محبوبی و رعنائی کر تی ہیں طواف اس کا
قدموں پہ نثا ر اُس کے جمشیدی و دارائی
نبیوں نے سجائی تھی جو بزمِ مَہ و انجم
وَاللہ اُسی کی تھی سب انجمن آرائی
دن رات درود اُ س پر ہر ادنیٰ غلام اُس کا
پڑ ھتا ہے بَصد مِنَّت جپتے ہو ئے نام اُ س کا

(کلام ِ طاہر صفحہ 2، ایڈیشن 2001 UK)

(اس مضمون کی تیاری میں انٹر نیٹ سے مدد لی گئی ہے۔)


(در ثمین احمد۔جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 فروری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 فروری 2020