• منگل 25 فروری 2020   (1 رجب 1441)

نُصِرْتَ بِالرُّعْبِ

سپین کے سفر سے حضور ابھی واپس تشریف لائے ہی تھے کہ تین ہفتوں کے طویل وقفہ کے بعد خاکسار پہلی مرتبہ حضور انور کی خدمت میں حاضر ہونے والا تھا۔ بہت سے معاملات تھے جن پر ہدایت لینا مقصود تھا اور پھر اس روز ملاقات کے لئے حاضر احباب کی تعداد بھی کچھ زیادہ تھی۔ لگتا تھا کہ شاید بمشکل تمام معاملات پیش کر سکوں گا۔ مگر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا احوال کچھ عجیب ہے۔ پیچیدہ سے پیچیدہ معاملہ بھی ثانیوں میں حل فرما دینا، اس پر ہدایات ارشاد فرمانا اور سائل کے تمام سوالات کے جوابات چند ہی الفاظ میں یکجا کر کے اسے مطمئن کر دینا حضور ہی کا خاصہ ہے۔

حضور انور نے یاد فرمایا، حاضر ہوا، معاملات پیش ہوئے اور حضور انور نے انہیں سلجھا دیا۔ پھر ارشاد ہوا:
’’ اور؟‘‘

یہ ’’ اور؟‘‘ بہت قیمتی تھا۔ سو وہ سوال خدمت اقدس میں پیش کر دیا جو بہت عرصہ سے ذہن میں تھا۔ بلکہ بہت سے ذہنوں میں ہوگا۔
یہ سوالات اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے بصیرت افروز ارشادات قارئین کیلئے پیش ہیں۔

’’حضور ! آپ دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں میں تشریف لے جاتے ہیں۔ عام آدمی تو ایسے ا سٹیج پر جاتے ہوئے دل میں ایک رُعب محسوس کرے گا۔ حضور کے احساسات کیا ہوتے ہیں؟‘‘

’’جن لوگوں کو یہ رُعب محسوس ہوتا ہے، وہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی طرف سے کوئی بات بیان کرنی ہو۔ اپنا کوئی نظریہ، کوئی فلسفہ بیان کرنا ہو ۔ میں نے اپنی ذاتی بات تو بیان کرنی نہیں ہوتی۔ نہ ہی مجھے ذاتی شہرت کی کوئی خواہش ہوتی ہے۔ میں نے اسلام کی تعلیم بیان کرنی ہوتی ہے، اور بس میرا کام تو اللہ نے بڑا آسان کر دیا ہوا ہے۔ جتنی تقریریں ہیں، وہ سب قرآن کریم کی آیات، احادیث، حضرت رسول کریم ﷺ کی سنت، فرمودات حضرت مسیح موعودؑ پر ہی مبنی ہوتی ہیں۔ جہاں یہ باتیں بیان ہوں، وہاں دوسرے رُعب میں آئیں گے ، بیان کرنے والا رُعب میں نہیں آئے گا۔

مجھے یاد ہے، جب میں کیپٹل ہل میں خطاب کرنے جا رہا تھا۔ جماعت امریکہ کے بعض احباب نے اس ایوان کی عظمت و شوکت کا ذکر کیا اور اس کی اہمیت خوب بیان کی۔ اس میں وہاں کی فوج کے پادری اور بعض پڑھے لکھے امریکن افراد کا ایک گروپ جو لیکچر وغیرہ دیتے ہیں، وہ ملا۔ آپ نے کل کیپٹل ہل میں خطاب کرنا ہے، کوئی پریشانی اور گھبراہٹ تو نہیں؟ میں نے کہا میں نے مذہب کی تعلیم اور حالات حاضرہ کا ذکر کرنا ہے، اس لئے مجھے فی الحال تو کوئی گھبراہٹ نہیں۔ تعجب سے کہنے لگے ہم وہاں اکثر لیکچر دیتے ہیں لیکن اس سے پہلے بہت گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں۔بہرحال، بات آئی گئی ہو گئی۔

لیکن میں جس وقت کار میں وہاں جا رہا تھا تو راستے میں اپنے خطاب کے نوٹس دیکھے۔ اُس وقت میرے دل میں ایک ثانیہ کے لئے یہ خیال آیا کہ امریکہ دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے اور پھر اس طاقت کے سربراہوں اور صاحبان بسط وکشاد کے سامنے بات کرنی ہے۔ ابھی یہ خیال دل کے پاس سے گزرا ہی تھا اور اس پر غور کرنے کا موقع بھی نہ ملا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں بڑے زور سے یہ ڈالا کہ حضرت مسیح موعودؑ سے اللہ تعالیٰ کا نُصِرْتَ بِالرُّعْبِ (تیری مدد رُعب کے ذریعہ کی گئی) کا وعدہ ہے اور میں حضرت مسیح موعود ؑ کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ یہ الفاظ ایسی طاقت اور شان و شوکت کے ساتھ اللہ نے میرے دل میں ڈالے کہ کسی دوسرے خیال کے دل کو چھو کر گزرنے کے آثار بھی باقی نہ رہے۔ یہ الفاظ حضرت مسیح موعود ؑ کو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائے تھے۔ اور پھر یہی الفاظ میرے دل میں بھی ڈال کر میرا حوصلہ بڑھایا۔ اس کے پیچھے بھی یہی حکمت ہو گی کہ میں کون سا وہاں اپنی کوئی ذاتی باتیں بیان کرنے جا رہا تھا، یا اپنی ذاتی برتری ثابت کرنے۔ میں نے تو اسلام کی تعلیمات بیان کرنی تھیں اور وہ خدا جس نے اسلام نازل فرمایا، وہ اپنے اس دین کے لئے بہت غیرت رکھنے والا خدا ہے‘‘

’’حضور ! امریکی لوگوں کا تو ایک اپنا خاص مزاج ہے۔ اور پھر ان کے سربراہوں میں تو اس مزاج کے ساتھ ساتھ ایک تفاخر بھی ہوتا ہے۔ حضور کا ان سے ملنے کا تجربہ کیسا ہے ؟‘‘

’’جب میں 2008ء میں امریکہ گیا تو وہاں کا ایک سینیٹر ملنے کے لئے آیا تھا۔ جماعت امریکہ کے جن لوگوں نے اُسے مدعو کیا تھا، وہ انہیں بار بار یہی کہتا جاتا تھا کہ اُس کے پاس وقت بہت کم ہو گا اور زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے گا۔ جب مجھ سے ملا تو بھی عجیب عجلت کا مظاہرہ کرتا رہا۔ اسے جماعت کا تعارفی لٹریچر بھی دینا چاہا تو یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں سینیٹر ہوں، تحفے وصول نہیں کر سکتا۔ پوچھا کہ کتابوں کا تحفہ بھی نہیں، کہنے لگا کوئی بھی تحفہ۔ بلکہ ہماری تقریب سے پہلے ہی اٹھ کر چلا گیا۔ جب مجھ سے ملا تو پوچھنے لگا کہ ‘‘ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟‘‘ مجھے خیال آیا کہ یہ متکبرانہ انداز ہے۔ میں نے کہا میں تم سے کچھ لینے نہیں آیا، بلکہ تم لوگوں کو صرف یہ بتانے آیا ہوں کہ اگر تم اپنے ملک اور دنیا کو بچانا چاہتے ہو تو پھر انصاف سے اپنے ماحول کا جائزہ لو۔

خیر! جب میں 2012ء میں امریکہ گیا ہوں اور کیپٹل ہل میں تقریر کی ہے تو تم نے دیکھا ہی ہے کہ حاضرین کے تاثر ات کیسے تھے (قارئین کو یاد ہو گا کہ کانگریس کے تمام موجود ممبران نے حضور کے خطاب کے بعد کھڑے ہو کر دیر تک دادو تحسین پیش کی۔ ناقل) وہاں وہ سینیٹرز اور عمائدین کے جوش و جذبہ کو دیکھ کر بڑا مرعوب نظر آتا تھا۔ پھر خود بڑے ادب سے ملنے کے لئے بھی آیا۔ تو ان دنیا داروں کا تو یہی حال ہے کہ دنیا کے رنگوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ اور جو دنیا داری سے متاثر ہو جائے، لوگوں کے رویہ کو دیکھ کر اپنے رویہ کو تبدیل کر لے، اس کا کیسا رعب؟‘‘

’’حضور ! دنیا میں باقی لوگوں نے جب کسی جگہ تقریر کرنی ہو یا پریس کانفرنس کرنی ہو، انہیں بریفنگ دی جاتی ہے، یہاں تک کہ Body Language کے بارہ میں بتایا جاتا ہے کہ بات کرتے ہوئے اپنے چہرہ کو نہیں چھونا وغیرہ …‘‘

’’میں تو اپنی عام Body Language کو برقرار رکھتا ہوں، وہ بھی کسی شعوری کوشش سے نہیں۔ کبھی یہ سوچنا نہیں پڑا کہ کیسے کرنا ہے کیسے نہیں۔ اس میں بھی وہی بات ہے کہ اپنی ذاتی بات کرنی ہو گھبراہٹ ہو بھی، جب بات ہی اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی ہے، تو پھر یہ چیزیں تو بے معنی ہو جاتی ہیں‘‘

’’جب ٹی وی اور اخبارات کے نمائندے انٹرویو کرتے ہیں، تو حضور اس کی کوئی خاص تیاری فرماتے ہیں؟‘‘

’’انہوں نے بھی جو کچھ پوچھنا ہے، اس کا جواب بھی میں نے قرآن کریم ، حدیث اور حضرت مسیح موعودؑ کے فرمودات میں سے دے دینا ہے۔ جب کینیڈا میں پیٹر مینز برج نے انٹرویو کرنے آنا تھا تو کینیڈا کی جماعت کے امور خارجہ والے کہنے لگے کہ اس کے آگے بڑے بڑے وزیر سفیر بھی گھبراتے ہیں۔ شاید مجھے ذہنی طور پر تیار کر رہے تھے۔ میں نے یہی کہا کہ ٹھیک ہے، گھبراتے ہوں گے۔ انٹرویو کرے گا تو دیکھ لیں گے۔ تو جب انٹرویو کرنے آیا تو میں نے اس سے بھی اسی طرح بات کی جس طرح میں کسی بھی صحافی بلکہ کسی بھی غیر مہمان سے کیا کرتا ہوں۔ جب اس نے عورتوں کی Segregation کی بات کی تو میں نے بغیر کسی بھی طرح کی ہچکچاہٹ کے اسے کہا کہ ہم علیحدہ علیحدہ تقریبات کرتے ہیں۔ اس نے کہا کہ آپ نے خود Segregation کا لفظ استعمال کیا ہے، میں نے اسے فوراً درست کیا کہ اسلامی پردے کے لئے یہ لفظ مغربی دنیا کی اختراع ہے، میں نے تمہارا ہی لفظ تمہارے ساتھ استعمال کیا ہے۔ تو یہ بھی اسلامی تعلیم تھی۔ اللہ تعالیٰ خود بخود رعب پیدا فرما دیتا ہے، پھر سامنے خواہ کوئی بھی ہو‘‘

ایک اور سوال جو دل میں ایک لمبے عرصہ سے دبائے بیٹھا تھا، خدمت اقدس میں پیش کر دیا۔

‘‘خلافت جوبلی کے موقع پر جو حضور نے خطاب فرمایا، اس میں حضور نے فرمایا تھا کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے بہت پہلے سے تسلی دے رکھی ہے کہ وہ خود وفادار مددگار پیدا فرمائے گا۔ حضور، یہ وعدہ کب عطا ہوا تھا ؟‘‘

’’یہ تو بہت پہلے کا ہے۔ خلافت سے بھی بہت پہلے کا۔ زمانہ طالب علمی میں یہ الفاظ مجھے دکھائے گئے، بڑے واضح طور پر:

یَنْصُرُ کَ رَجِالٌ ………

پھر یہ وعدہ مختلف مواقع پر مختلف رنگوں میں پورا ہوتا رہا، مگر اصل معنی تو خلافت کی ذمہ داری ملنے کے بعد کھل کرسامنے آئے۔
اسی طرح ایک مرتبہ بہت جلی حروف میں، بہت خوبصورت، بہت وسیع وعریض رسم الخط میں آسمان پر لکھا ہوا دکھایا گیا :۔

اللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ

اور پھر دل میں ڈالا گیا کہ سب کام اللہ نے ہی کرنے ہیں۔ تو اسی طرح اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں سے بات دل میں ڈال دیتا ہے۔ مشکل ہو تو حل ہو جاتی ہے۔ سوال ہو تو جواب مل جاتا ہے‘‘

’’حضور ! یہ جو دل میں ڈالنے والی بات ہے… ‘‘ میں اس قدر کہہ کر آگے نہ بول سکا خاموش ہو گیا۔ حضور نے تبسم فرماتے ہوئے فرمایا۔

’’تم اپنا سوال پہلے Phrase کر لو‘‘

اس سوال کو فریز کرنا، اور وہ بھی حضرت صاحب کی موجودگی میں، تقریباً ناممکن تھا۔ حضور کی طرف سے یہ حوصلہ افزا جملہ نہ آتا تو شاید کبھی اپنے سوال کو الفاظ میں نہ ڈھال سکتا۔

’’حضور ! براہ راست کلام کا شرف تو حاصل ہوتا ہو گا؟‘‘ بہت ہمت کر کے یوں لجایا، شرمایا، گھبرایا سا سوال عرض کر دیا۔

’’بات یہ ہے کہ براہ راست کلام کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے تو اپنے طریقے ہیں۔ اور میرے ساتھ اللہ کا کچھ الگ ہی طریق ہے۔ دل میں اس شدت سے کوئی خیال پیدا فرما دیتا ہے کہ سب مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ یا صبر آ جاتا ہے۔ دل کو تسلی ہو جاتی ہے۔ یا پھر جو مسئلہ درپیش ہو اس میں رہنمائی مل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ خود میرے کام کر دیتا ہے۔ کام ہو گیا تو سمجھو کلام ہو گیا‘‘

اب یہ حال ہو چکا تھا کہ

بجھی نہیں ہے پیاس، کہ جانے کہاں کی ہے

’’حضور جب پاکستان میں تھے۔ بارہا خبروں میں اخباروں میں برٹش پارلیمنٹ کی عمارت کی تصویر دیکھی ہو گی۔ دنیا کے دیگر پارلیمنٹس کی تصاویر بھی نظر سے گزرتی ہوں گی۔ کبھی سوچا بھی نہ ہو گا کہ حضور ان ایوانوں میں خطاب فرمائیں گے‘‘

فرمایا: سوچنا کیا، کبھی کوئی ایسا خیال بھی ذہن سے نہیں گزرا۔ بات یہ ہے کہ

جس پنڈ جانا نئیں، اودھا راہ کیوں پچھنا؟

(جس گاؤں جانا ہی نہیں، اس کا راستہ کیا پوچھنا)

عرض کی کہ ’’حضور ! مگر اس پنڈ تو آنا ہی پڑا‘‘

ارشاد ہوا ۔ وہ تو اللہ تعالیٰ زبردستی لے آیا۔ ورنہ اس راستے کا تو نہ کبھی سوچا تھا، نہ پوچھا تھا۔ میرا حال تو ہمیشہ وہی رہا جو بلھے شاہ نے کہا ہے کہ

جے میں ویکھاں عملاں ولے، کج نئیں میرے پلے
جے ویکھاں تیری رحمت ولے، بلے ، بلے، بلے

یہاں یہ بارش تھم گئی۔ مگر اس بارش کے دوران ایسا تھا کہ وقت تھما ہوا تھا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایسے لمحات میں وقت ساکت محسوس ہوتا ہے۔ کیوں نہ ہو؟ جس ہستی سے اللہ نے نُصِرْتَ بِالرُّعْبِ کا وعدہ کیا ہو، اس کے آگے تو وقت بھی ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے۔


(آصف محمود باسط ۔لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 فروری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 فروری 2020

مقبول ترین