• 15 اپریل, 2024

جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں

مَیں کیونکر کہوں کہ جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں۔ ایسی باتیں نری بیہودگیاں ہیں۔ سچ تویہ ہے کہ سچ کے بغیر گزارہ نہیں۔ مَیں اب تک بھی جب اپنے اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو ایک مزا آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پہلو کو اختیار کیا۔ اس نے ہماری رعایت رکھی اور ایسی رعایت رکھی جو بطور نشان کے ہوگئی۔ وَمَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ

(الطلاق:4)

یقیناً یاد رکھو! جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں۔ عام طو رپر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہوجاتے ہیں۔ مگر مَیں کیونکر اس کو باور کروں؟ مجھ پر سات مقدمے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک میں بھی مجھے جھوٹ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ کوئی بتائے کہ کسی ایک میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے شکست دی ہو۔ اللہ تعالیٰ تو آپ سچائی کا حامی اور مددگار ہے۔ یہ ہو سکتاہے کہ وہ راستباز کو سزادے؟ اگر ایسا ہو تو دنیا میں پھر کوئی شخص سچ بولنے کی جرأت نہ کرے اور خدا تعالیٰ پر سے ہی اعتقاد اٹھ جاوے۔ راستباز تو زندہ ہی مر جاویں۔

اصل بات یہ ہے کہ سچ بولنے سے جو سزا پاتے ہیں وہ سچ کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ وہ سزا اُن کی بعض اَور مخفی درمخفی بدکاریوں کی ہوتی ہےاور کسی اور جھوٹ کی ہوتی ہے۔ خد اتعالیٰ کے پاس تو ان کی بدیوں اور شرارتوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ ان کی بہت سی خطائیں ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی میں وہ سزا پالیتے ہیں۔

میرے ایک استاد گل علی شاہ بٹالے کے رہنے والے تھے۔ وہ شیر سنگھ کے بیٹے پرتاپ سنگھ کو بھی پڑھایا کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ شیر سنگھ نے اپنے باورچی کو محض نمک مرچ کی زیادتی پر بہت مارا تو چونکہ وہ بڑے سادہ مزاج تھےانہوں نے کہاکہ آپ نے بڑا ظلم کیا۔ اس پر شیر سنگھ نے کہا۔ مولوی جی کو خبر نہیں اس نے میرا سو بکرا کھایا ہے۔ اسی طرح پر انسان کی بدکاریوں کا ایک ذخیرہ ہوتاہے اور وہ کسی ایک موقعہ پر پکڑا جاکر سزا پاتا ہے۔ جو شخص سچائی اختیار کرے گا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ذلیل ہو اس لیے کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے اور خد اتعالیٰ کی حفاظت جیسااور کوئی محفوظ قلعہ اور حصار نہیں۔ لیکن ادھوری بات فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ کیا کوئی کہہ سکتاہے کہ جب پیاس لگی ہوئی ہو تو صرف ایک قطرہ پی لینا کفایت کرے گا یا شدت بھوک کے وقت ایک دانہ یا لقمہ سے سیر ہو جاوے گا۔ بالکل نہیں۔ بلکہ جب تک پورا سیر ہو کر پانی نہ پئے یا کھانا نہ کھالے تسلی نہ ہوگی۔ اسی طرح پر جب تک اعمال میں کمال نہ ہو وہ ثمرات اور نتائج پیدا نہیں ہوتے جو ہونے چاہئیں۔ ناقص اعمال اللہ تعالیٰ کو خوش نہیں کرسکتے اور نہ وہ بابرکت ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ ہے کہ میری مرضی کے موافق اعمال کرو۔ پھر مَیں برکت دوں گا۔

(ملفوظات جلد 8 صفحہ 351-355 ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مارچ 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ