• 18 اپریل, 2024

Practice Makes a Man Perfect

اس ضرب المثل کو انسان کی پیدائش سے دیکھا جائے تو ڈاکٹرز ایک طرف زچہ کو سنبھال رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف نرس بچے کو الگ کر دیتی ہے جہاں پیڈز(Peds) کے ڈاکٹرز بچے کا پورا معائنہ کرتے ہیں اور اس کی حرکات و سکنات کو دیکھ کر بلکہ اس کے رونے کی آواز سے بچے کی زندگی کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ پاؤں ہلانے، آنکھیں مٹکانے سے، اس کے اعضاء کے صحت و سلامتی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اس کو انسان کی پہلی practice کہا جاتا ہے جس سے بچے کی تکمیل کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد بچہ بڑے ہونے تک جن ادوار سے گزرتا ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں ہلانے اور اس کی دوسری جسمانی حرکات سے اس کی جسمانی perfectionکا جو اندازہ لگایا جاتا ہے اس کی تفصیل کو چھوڑتے ہوئے قارئین کو صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ انسان کی Perfectionکے اندازہ کا آغاز اس کے بچپن بلکہ اس کی پیدائش سے شروع ہو جاتا ہے۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان اپنی جبلی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ والدین ہی اُسے یہودی، نصرانی،مجوسی اور مسلمان بناتے ہیں۔ یعنی تمام مذاہب والوں کی اپنی سطح پر یہ کوشش ہوتی ہے کہ اسےPerfectبنانے کے لیےاصول و ضوابط سکھلائے جائیں اور وہ مختلف طریقوں سے ان کو پرفیکٹ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے ایشیائی معاشرہ میں نرسری اسکولز میں کوئی معاشرتی تعلیم تو نہیں دی جاتی لیکن مغربی دنیا میں قوم کے معمار بچوں کو ہر میدان میں perfectبنانے کے لیے نرسری سے ہی practiceکروائی جاتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ مغربی دنیا میں ان بچوں کو سڑک عبور کرنا سکھایا جاتا ہے، مارکیٹوں اور سپر اسٹورز سے خرید و فروخت کرنی سکھائی جاتی ہے حتٰی کہ بینک کارڈ کا استعمال سکھلانے کے لیے اسکولز کی کنیٹینز سے کارڈ کے ذریعہ اشیاء کی خرید سکھائی جاتی ہے۔ کبھی کیک بنانا سکھایا جاتا ہے اور کبھی کچھ۔ بچوں کو بچپن سے ہی ان باتوں کا علم دینا معاشرہ میں انسان بننا سکھلاتا ہے۔

یہ سلسلہ زندگی کے ہر موڑ پر جاری رہتا ہے اور انسان اپنی زندگی کو اپنے اعمال سے سمجھاتا ہے۔ کس لیے ؟اپنے آپ کو perfect بنانے کے لیے۔ اس کے لیے وہ اپنے کولیگز سے مقابلہ بھی کرتا ہے۔وہ خاموشی سے اپنے کولیگز کو پڑھتا ہے اس لیے کہ ان سے مقابلہ کر سکے۔ اسے مسابقت الی الخیر بھی کہتے ہیں۔ یہ سب جتن اپنے آپ کو perfectبنانے کے لیے ہوتے ہیں۔ گو کوئی انسان تمام میدانوں میں تو perfectنہیں ہو سکتا لیکن انسان کو شش تو کرتا ہے کہ وہ اپنی سیرت و کردار اور اپنے اعمال سے معاشرہ میں نمایاں طور پر نظر آئے۔ اسی کو ایک شاعر نے یوں بیان کیا ہے۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

زیر نظر ضرب المثل میں ایک اور سبق بھی ہمیں دستک دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ صرف عمل اور کردار ہی کافی نہیں بلکہ آپ کے اعمال آپ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی تائید کر رہے ہوں۔ کیونکہ انسان جب بولتا ہے تو سامعین اس کے بول اور قول کو اس سپیکر کی perfectionکا اندازہ لگانے کے لیے اس کے جسمانی ڈھانچے میں ڈال کر دیکھتے ہیں۔

سبق تو بہت ہیں۔ ایک اہم سبق خود احتسابی کا بھی ہے اور انسان کو اپنے اندر بہتری لانے کی توفیق ملتی رہتی ہے۔

اس مضمون کو بہت سے طریق سے لوگوں نے اُجاگر کیا ہے۔ خاکسار نے اپنے اس مضمون کا آغاز تعلیمی ادارے کی performenceسے کیا تھا۔ اس حوالہ سے مجھے ایک ضرب المثل یاد آرہی ہے جو خاکسار نے اپنے لاہور قیام کے دوران سمن آباد کے ایک ہائی اسکول کی دیوار پر لکھی ہوئی دیکھی تھی کہ

Education is not only Education but formation.

کہ انسان جب تک اپنے علم کو، اپنی تعلیم کو عمل کے سانچے میں نہیں ڈھالتا اس وقت تک اس کی تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔ بہت سے پڑھے لکھے لوگ جیسے ٹیچرز، ڈاکٹرز اور علماء وغیرہ کے اعمال ان کے اقوال اور تعلیم سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ہم اسلامی ممالک میں اکثر دیکھتے ہیں کہ کئی افراد ‘‘حاجی’’ کا لیبل لگانے کے لیے کہ ان کا کاروبار چمکے حج کرتے ہیں اور پھر دل کھول کر اشیاء میں ملاوٹ بھی کر رہے ہوتے ہیں اور بے ایمانی بھی۔

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:
’’ یاد رکھو! ہماری جماعت اس بات کے لیے نہیں ہے جیسے عام دنیا دار زندگی بسر کرتے ہیں۔ نرا زبان سے کہہ دیا کہ ہم اس سلسلہ میں داخل ہیں اور عمل کی ضرورت نہ سمجھی جیسے بد قسمتی سے مسلمانوں کا حال ہے۔ کہ پوچھو تم مسلمان ہو؟ تو کہتے ہیں شکر الحمدللہ مگر نماز نہیں پڑھتے اور شعائر اللہ کی حرمت نہیں کرتے۔ پس میں تم سے یہ نہیں چاہتا کہ صرف زبان سے ہی اقرار کرو اور عمل سے کچھ نہ دکھاؤ یہ نکمی حالت ہے۔ خدا تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا اور دنیا کی اس حالت نے ہی تقاضا کیا کہ خدا تعالیٰ نے اصلاح کے لیے مجھے کھڑا کیا ہے۔ پس اب اگر کوئی میرے ساتھ تعلق رکھ کر بھی اپنی حالت کی اصلاح نہیں کرتا اور عملی قوتوں کو ترقی نہیں دیتا۔ بلکہ زبانی اقرار ہی کو کافی سمجھتا ہے۔ وہ گویا اپنے عمل سے میری عدم ضرورت پر زور دیتا ہے۔ پھر تم اگر اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہو کہ میرا آنا بے سود ہے تو پھر میرے ساتھ تعلق کرنے کے کیا معنے ہیں ؟ میرے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہو تو میری اغراض و مقاصد کو پورا کرو اور وہ یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنا اخلاص اور وفا داری دکھاؤ اور قرآن شریف کی تعلیم پر اسی طرح عمل کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا اور صحابہ نے کیا۔ قرآن شریف کے صحیح منشا کو معلوم کرو اور اس پر عمل کرو۔ خدا تعالیٰ کے حضور اتنی ہی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ زبان سے اقرا ر کر لیا اور عمل میں کوئی روشنی اور سر گرمی نہ پائی جاوے۔ یاد رکھو کہ وہ جماعت جو خدا تعالیٰ قائم کرنی چاہتا ہے وہ عمل کے بدوں زندہ نہیں رہ سکتی۔ وہ عظیم الشان جماعت ہے جس کی تیاری حضرت آدم کے وقت سے شروع ہوئی۔ کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے اس دعوت کی خبر نہ دی ہو۔ پس اس کی قدر کرو اور اس کی قدر یہی ہے کہ اپنے عمل سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ اہل حق کا گروہ تم ہی ہو۔ ‘‘

(ملفوظات جلد3صفحہ370-371)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’حقیقت میں تو ہر نیکی جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں کرنے کا حکم فرمایا ہے، اُس کا حصول اور ہر برائی جس سے رکنے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم فرمایا ہے، اُس سے نہ صرف رکنا بلکہ نفرت کرنا عملی اصلاح کی اَصل اور جڑ ہے۔ پس ہم تب حقیقی مسلمان کہلائیں گے، ہم تب زمانے کے امام کی حقیقی جماعت کے فرد کہلائیں گے جب نیکیاں اور اعلیٰ اخلاق ہم میں پیدا ہوں گے، جن کے پیدا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ایک حقیقی مسلمان کو حکم دیا ہے اور دوسری طرف بدی سے انتہائی کراہت کے ساتھ نفرت ہو۔ گویا حقیقی مومن ایک ایسا سمویا ہوا انسان ہوتا ہے جو نیکیوں کی تلاش کر کے اُنہیں سینے سے لگانے والا اور بدیوں سے دور بھاگنے والا ہو۔ تبھی وہ اعتدال کے ساتھ اپنے معاملات طے کر سکتا ہے۔ یہ نہیں کہ برائیوں اور نیکیوں کے بیچ لٹکا ہوا ہو اور پھر دعوے بھی بلند بانگ ہوں…………لیکن جب ہم اس پہلو کی طرف دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں جو عملی تبدیلی پیدا کرنا چاہتے ہیں، اُس کی حالت کیا ہے؟ تو پھر فکر پیدا ہوتی ہے۔ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا ہم میں سے ہر ایک معاشرے کی ہر برائی کا مقابلہ کر کے اُسے شکست دے رہا ہے؟ کیا ہم میں سے ہر ایک کے ہر عمل کو دیکھ کر اُس سے تعلق رکھنے والا اور اُس کے دائرے اور ماحول میں رہنے والا اُس سے متاثر ہو رہا ہے، یا پھر ہم ہی معاشرے کے اثر سے متاثر ہو کر اپنی تعلیم اور اپنی روایات کو بھولتے چلے جا رہے ہیں۔ کیا ہم میں سے ہر ایک بھرپور کوشش کرتے ہوئے اپنی اس طرح عملی اصلاح کر رہا ہے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے جو ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے، یہ پوچھتی ہے کہ کیا ہم نے سچائی کے وہ معیار قائم کر لئے ہیں کہ جھوٹ اور فریب ہمارے قریب بھی نہ پھٹکے؟ کیا ہم نے اپنے دنیاوی معاملات سے واسطہ رکھتے ہوئے آخرت پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے؟ کیا ہم حقیقت میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہیں؟ کیا ہم ہر ایک بدی سے اور بدعملی سے انتہائی محتاط ہو کر بچنے کی کوشش کرنے والے ہیں؟ کیا ہم کسی کا حق مارنے سے بچنے والے اور ناجائز تصرف سے بچنے والے ہیں؟ کیا ہم پنجگانہ نماز کا التزام کرنے والے ہیں؟ کیا ہم ہمیشہ دعا میں لگے رہنے والے اور خدا تعالیٰ کو انکسار سے یاد کرنے والے ہیں؟ کیا ہم ہر ایسے بدرفیق اور ساتھی کو جو ہم پر بد اثر ڈالتا ہے، چھوڑنے والے ہیں؟ کیا ہم اپنے ماں باپ کی خدمت اور اُن کی عزت کرنے والے اور امورِ معروفہ میں اُن کی بات ماننے والے ہیں؟ کیا ہم اپنی بیوی اور اُس کے رشتہ داروں سے نرمی اور احسان کا سلوک کرنے والے ہیں؟ کیا ہم اپنے ہمسائے کو ادنیٰ ادنیٰ خیر سے محروم تو نہیں کر رہے؟ کیا ہم اپنے قصور وار کا گناہ بخشنے والے ہیں؟ کیا ہمارے دل دوسروں کے لئے ہر قسم کے کینے اور بُغض سے پاک ہیں؟ کیا ہر خاوند اور ہر بیوی ایک دوسرے کی امانت کا حق ادا کرنے والے ہیں؟ کیا ہم عہدِ بیعت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حالتوں کی طرف نظر رکھنے والے ہیں؟ کیا ہماری مجلسیں دوسروں پر تہمتیں لگانے اور چغلیاں کرنے سے پاک ہیں؟ کیا ہماری زیادہ تر مجالس اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کرنے والی ہیں؟

اگر ان کا جواب نفی میں ہے تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے دُور ہیں اور ہمیں اپنی عملی حالتوں کی فکر کرنی چاہئے۔ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو ہم میں سے وہ خوش قسمت ہیں جن کو یہ جواب ہاں میں ملتا ہے کہ ہم اپنی عملی حالتوں کی طرف توجہ دے کر بیعت کا حق ادا کرنے والے ہیں۔ لیکن اگر حقیقت کی آنکھ سے ہم دیکھیں تو ہمیں یہی جواب نظر آتا ہے کہ بسا اوقات معاشرے کی رَو سے متاثر ہوتے ہوئے ہم ان باتوں یا ان میں سے اکثر باتوں کا خیال نہیں رکھتے اور معاشرے کی غلطیاں بار بار ہمارے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں اور ہم اکثر اوقات بےبس ہو جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم میں سے 99.99 فیصد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم عقیدے کے لحاظ سے پختہ ہیں اور کوئی ہمیں ہمارے عقیدے سے متزلزل نہیں کر سکتا، ہٹا نہیں سکتا۔ لیکن ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ عملی کمزوریاں جب معاشرے کے زور آور حملوں کے بہاؤ میں آتی ہیں تو اعتقاد کی جڑوں کو بھی ہلانا شروع کر دیتی ہیں۔‘‘

( خطبہ جمعہ6؍ دسمبر2013ء)
(ابوسعید)

پچھلا پڑھیں

Cheneso طوفان سے متأثرہ افراد کی مدد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 مارچ 2023