• 25 جون, 2024

ایڈیٹر کے نام خط

مکرمہ عطیة العلیم۔ ہالینڈ سے لکھتی ہیں:
اداریہ ’’خدا کی خو شامد‘‘ میں آپ نے ایک بہت اہم نقطہ جس کا قبولیت دعا سے گہرا تعلق ہے کی طرف توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا حوالہ دے کے دعا کی جائے۔اسی ضمن میں خیال آیا کہ میرے جیسے بعض نکمے بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں مانگنے کا ڈھنگ ہی نہیں آتا اور وہ الفاظ ہی نہیں ملتے جو دل کے درد کو بیان کر سکیں۔ایسے موقع پر پھر رحمت عالم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی پھر مسیحا بنتے ہیں اور جو دعائیں آپ نے کی ہوئی ہیں وہ زخموں پہ مرہم کا کام کرتی ہیں۔ایسی بے شمار دعائیں ہمیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملتی ہیں جن میں نہایت خوبصورتی سے اللہ تعالیٰ کے ذکر کو بلند کر کے اور اپنی کم مائیگی کو سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور مناجات کی گئی ہیں لیکن آج صرف ایک دعا پیش ہے جس میں ازالہ غم وہم اور حب قرآن کی دعا کی گئی ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو کثرت کے ساتھ ہموم و غموم کا سامنا ہو وہ یہ دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہم وغم دور کر دیتا ہے اور کشائش کے سامان فرماتا ہے۔ نیز جو شخص یہ دعا سنے ضرور سیکھے۔

اے اللہ! میں تیرا غلام اور تیرے غلام اور لونڈی کی اولاد ہوں۔میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔تیرا حکم مجھ میں جاری ہےاور تیرا فیصلہ ہی میرے لیے انصاف ہے۔میں تجھے تیرے نام کا واسطہ دیتا ہوں۔جو تیرا ہے جو تو نے خود اپنا رکھا ہے یا اپنی کتاب میں اسے نازل کیا یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہےیا اپنے علم غیب جن صفات کو تو نے ترجیح دی یے (ان کا واسطہ )کہ قرآن کو میرے دل کی بہار بنا اور میری آنکھوں کا نور بنا دے اور میرے غم و حزن کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے۔ (خزینہ الدعا،مناجات رسول صفحہ100۔101سن اشاعت 2014ء)

آمین یا رب العالمین

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مارچ 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ