• 15 اپریل, 2024

جماعت احمدیہ لگزمبرگ کا پہلا جلسہ سیرۃ النبی ؐ

حضرت مسیح موعود ؑسے اللہ تعالیٰ نے جماعت کے پھلنے پھولنے کے جو وعدے فرمائے ہیں ہماری خوش قسمتی ہے کہ ایسے وقت میں موجود ہیں جبکہ ہماری آنکھیں شب و روز ان وعدوں کو پورا ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔ لگزمبرگ کی سرزمین بھی آجکل انہیں وعدوں اور پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کی دعاؤں کی بدولت اپنی ترقیات کی منازل تہہ کرتی ہوئی نظر آرہی ہے ہر روز ’’روز عید اور ہر شب شب برأت است‘‘ کے نظارے ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ مورخہ 12مارچ 2022 کی تاریخ جماعت احمدیہ لگزمبرگ کے لئے تاریخی حیثیت رکھتی ہے بلکہ یوں کہنا نامناسب نہ ہوگا کہ یہ تاریخ جماعت احمدیہ کے قیام کے مقصد کو پورا کرنے میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود ؑ کی آمد کا مقصد ہی اسلام اور آنحضرت ﷺ کی شخصیت کی عظمت کو دنیا کے دلوں میں بٹھانا تھا اور اسی عظیم کام کے اجراء کی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ لگز مبرگ کو توفیق عطا ہوئی۔ چنانچہ مورخہ 12 مارچ جماعت احمدیہ لگزمبرگ کو اپنا پہلا جلسہ سیرۃ النبی ﷺ منعقد کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔ جس کا موضوع ’’آنحضرت ﷺ شرم و حیاء کے پیکر‘‘ تھا۔ جلسہ کی تیاری کی غرض سے خاکسار نے تاریخ مقرر ہونے کے بعد ایک بینر کی تیاری کے لئے ترکی میں مقرر مربی سلسلہ مکرم تلمیذ احمد صاحب سے یہ خدمت بجا لانے کی درخواست کی جس پر انہوں نے ہمارے لئے ایک نہایت ہی خوبصورت بینر تیا کیا جسے تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بعد ازاں جلسہ کے کامیاب انعقاد کے لئے خاکسار نے جلسہ سے تعلق رکھنے والے کاموں کی ذمہ داری مختلف احباب کے سپرد کی جسمیں تیاری پروگرام، تیاری جلسہ گاہ، ضیافت، نظافت شامل تھے۔ چنانچہ تیاری پروگرام خاکسار نے انجام دی جبکہ جلسہ گاہ کی تیاری اور آرائش کے لئے مکرم عثمان باجوہ صاحب نے خدمت انجام دی، مکرم عطاء الہادی صاحب نے ضیافت اور مکرم جاوید منصور چٹھہ صاحب نے نظافت کی ذمہ داری احسن رنگ میں ادا کی۔ لیکن ان احباب کی مدد کے لئے بہت سے دیگر احباب نے اپنے وقت کی قربانی دی اور انتظامات کو بھرپور رنگ میں مکمل فرمایا خاص طور پر ہماری لجنہ میں مکرمہ رابعہ صاحبہ اور عاشفہ ظفر صاحبہ نے کھانے کی تیاری میں مکمل تعاون فرمایا اور اپنے لذید کھانے پیش کر کے حضرت مسیح موعود ؑ کے مہمانوں کی کماحقہٗ خدمت بجا لائیں۔ الحمد للّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام مدد کرنے والوں کو بہترین جزاء عطا فرمائے۔ آمین۔

شام 5 بجکر 30 منٹ پر جلسہ کا بابرکت آغاز ہوا جس کی صدارت جرمنی کے نیشنل سیکرٹری تبلیغ مکرم حافظ فرید احمد صاحب فرمائی۔ تلاوت مکرم عثمان باجوہ صاحب، نظم مکرم عمر وقار صاحب نے پیش کی۔ جلسہ کی پہلی تقریر مکرم خالد لارگٹ صاحب صدر جماعت احمد یہ لگزمبرگ نے فرنچ زبان میں پیش کی جسکا اردو زبان میں ترجمہ خاکسار نے پیش کیا۔ دوسری تقریر بزبان فرنچ خاکسار نے پیش کی جسکا اردو ترجمہ مکرم عمر وقار صاحب نے پیش کیا۔ جلسہ کے آخر پر مکرم حافظ فرید صاحب نے اپنے اختتامی خطاب بموضوع ’’آنحضرت ﷺ کے راہنماء اصول بحیثیت داعی الی اللہ‘‘ میں حاضرین کو بتایا کہ آنحضرت ﷺ نے تبلیغ کی غرض سے اپنا وطن اور گھر بار بھی چھوڑ دیا۔ اور طائف کی تبلیغی مہم پر جاتے ہوئے یہ حالات بتارہے تھے کہ مکہ میں واپسی کے وقت بھی آپ کو کسی نہ کسی کی پناہ کی ضرورت تھی مگر ان حالات کے باوجود طائف کے تبلیغی سفر کو ترک نہیں کیا۔ دوسری طرف صرف تبلیغ کی غرض سے اپنی عزت نفس کو بھی قربان کیا کرتے تھے چنانچہ روزانہ آپ پر کوڑا کرکٹ پھینکنے والی عورت بھی جب بیمار ہوئی تو اسکی عیادت کرنے اس کے گھر پہنچ گئے۔ مکرم حافظ فرید صاحب نے اپنے خطاب کے بعد دعا کرائی اور یوں لگزمبرگ کی تاریخ کا یہ پہلا جلسہ سیرۃ البنی اپنے اختتام کو پہنچا۔ جس کے بعد حاضرین کی خدمت میں رات کا کھانا پیش کیا گیا۔ الحمد للّٰہ علی ذالک

(رپورٹ: ظفر اللہ سلام۔ مربی سلسلہ و نمائندہ الفضل لگزمبرگ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اپریل 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ