• 21 مئی, 2022

اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کی تمام مشکلات کو دور کردے

  • پان افریقن ایسوسی ایشن یوکے کی ایک ممبر لجنہ نے حضور انور سے سوال کیا کہ قرآن کریم کی 64ویں سورۃ، 15ویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! یقیناً تمہارے ازواج میں سے اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں۔ پس اُن سے متنبہ رہو۔ کیا حضور انور! یہ بات بتائیں گے کہ کیوں یہاں بیویاں اور بچے کہا گیا ہے، اور خاوندوں نہیں کہا گیا؟

(انگریزی ترجمہ والے قرآن میں ترجمہ your wives and your children کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اِن کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا ہے۔)

حضور انور

(مسکراتے ہوئے) اگر ہم خاوندوں کو بھی اس میں شامل کرلیں تو آپ کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

اصل بات یہ ہے کہ یہاں قرآن نے الفاظ ’’اَزْوَاجِکُمْ وَ اَوْلَادِکُمْ‘‘ استعمال کئے ہے۔ اور ازواج کا صرف بیویاں ہی مطلب نہیں ہوتا۔ میری نظر میں ازواج کے معانی خاوند اور بیوی دونوں کے ہیں۔ اگر خاوند اچھا نہیں ہے تو آپ کو (یعنی بیویوں کو) بہت محتاط رہنا ہوگا اور اُن کے (یعنی خاوندوں کے) حرکات سے باخبر رہناہوگا اگر وہ اسلام اور احمدیت کے برخلاف ہوں۔ تو یہ میرا خیال ہے۔ اس کا ترجمہ (انگریزی ترجمہ والے قرآن میں) ’’بیویوں اور بچوں‘‘ کا کیا گیا ہے۔ لیکن جو عربی لفظ استعمال ہوا ہے وہ ازواج ہے جس کا مطلب ساتھی کا ہے۔ اور ساتھی میں دونوں شامل ہوتے ہیں۔ سو میں نے پتہ لگانے کی کوشش کی کہ ہم نے اسے (لفظ بیویاں) کیوں استعمال کیا ہے۔ اور بالآخر مجھے اس بات کا پتہ چلا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کی بھی یہی رائے تھی کہ ازواج کا مطلب ساتھی ہے۔ اور آپ نے اپنے اردو ترجمہ میں اس کا مطلب ازواج کیا ہے نہ کہ بیویاں۔ تو ساتھی اور اولاد۔ تو اگر آپ ساتھی کا لفظ استعمال کریں تو آپ کا اعتراض نہیں رہتا۔ تو اب اس کا حل ہوگیا۔ بات یہ ہے کہ بعض اوقات آپ کے خاوندبھی آپ کے دشمن بن جاتے ہیں اگر وہ آپ کو اسلام اور احمدیت کی تعلیمات کےخلاف عمل کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ تو اسی لئے بعض دفعہ کچھ خواتین کا اپنے مردوں پر زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اور کئی مرتبہ ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ مردوں کا اپنی بیویوں پر زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اسی لئے میرا خیال ہے کہ وہ جو اس کا ترجمہ کر رہے تھے وہ متأثر ہو چکے تھے۔ اُس زمانہ میں عورتیں اسلامی تعلیمات سے زیادہ واقف نہیں تھیں۔ مگر اب آپ کافی پڑھی لکھی ہوگئی ہیں۔آپ کو قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہے۔ آپ قرآن کریم پڑھ سکتی ہیں۔ آپ کو اسلام احمدیت کی روایات سے آگاہی ہے۔ آپ کے پاس علم ہے۔ بلکہ بعض دفعہ ہماری خواتین ہمارے مردوں سے زیادہ پڑھی لکھی ہوتی ہیں۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے خاوندوں اور بچوں سے متنبہ رہو۔

  • ایک اور ممبر نے سوال کیا کہ میر اسوال ہے کہ اِن غیر معمولی اور غیر متوقع حالات میں جس میں لوگوں نے اپنے عزیز و اقارب کھوئے ہیں یا نوکریاں کھوئی ہیں یا بدلنی پڑی ہیں۔ اور مالی حالات میں اونچ نیچ ہو۔ تو کوئی کس طرح توکل علی اللہ پر مضبوطی سے قائم رہ سکتا ہے؟

حضور انور

جب آپ کے پاس زیادہ کام ہو اور آپ دنیوی معاملات میں مشغول ہوں اور اپنا کام کر رہے ہوں اور دوسرے کاموں اور ملازمتوں میں مصروف ہوں تو عمومی طور پر دیکھا جاتا ہے کہ آپ نمازوں کی طرف پوری توجہ نہیں دیتے۔ تو میں اس بات کو دوسری طرح دیکھتا ہوں۔ جب کبھی انسان کسی مشکل میں ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور زیادہ سجدہ ریز ہوتا ہے۔ تو یہی وہ وقت ہے جب آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اپنی نمازوں کو بروقت ادا کریں۔ اور خداتعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اُن تمام مسائل کو دور کرے اور آپ اس مشکل گھڑی سے نکل جائیں۔ تو میری رائے میں آپ کو پہلے سے زیادہ استقامت دکھانی چاہئے۔ جب آپ کی اچھی نوکری ہو، آپ کما بھی رہے ہو اور دنیوی کاموں میں مصروف ہو تو ہم عموماً دیکھتے ہیں کہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کون ہے؟ اور یہ کہ ہمیں کس کس وقت خدا کی عبادت کرنی ہے؟ یا یہ کہ آیا ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی بھی چاہئے یا نہیں۔ انسان اللہ تعالیٰ کو پھر یاد نہیں رکھتا۔ دیکھیں! ہم اس دنیا میں یہ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو دنیوی چیزوں میں مشغول ہیں وہ عمومی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے مغربی دنیا میں دہریت پھیلتی جا رہی ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اُن کی اپنی صلاحیتوں، اُن کی تعلیم، اُن کے علم اور اُن کے بہتر مالی حالات کی وجہ سے ہے۔ تو یہی ہم وعمومی طور پر مشاہدہ کرتے ہیں۔ کہ وہ لوگ جو دنیا دار ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں بجالاتے۔ اور نہ ہی اُن احکامات کی تعمیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیئے۔ اس کے برعکس جو غریب لوگ ہیں وہ زیادہ تر اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ اور اب اگر آپ سمجھتی ہیں کہ آپ پر ایک کڑا وقت آگیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپکی تمام مشکلات کو دور کر دے لیکن ساتھ ہی یہ عہد بھی کریں کہ جب آپکے حالات دوبارہ ٹھیک ہوجائیں تو آپ کبھی بھی خشوع و خضوع والی نمازوں کی ادائیگی کو ترک نہیں کریں گے۔ بس یہی وہ وقت ہے جب آپ اللہ تعالیٰ کے حضور زیادہ جھکیں۔ جب آپ کسی مشکل میں ہیں، جب آپ کا بچہ بیمار ہے، تو آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں۔ جب آپ خود بھی کسی مشکل میں ہیں یا بیمار ہیں تو آپ اللہ تعالیٰ سے کامل صحت کے لئے دعا کرتے ہیں۔ تویہی وہ وقت ہے جب آپ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں۔ بجائے یہ کہنے کے کہ ہم کس طرح دعا مانگیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کس طرح ادا کریں۔

(This Week with Huzoor نشر شدہ 04؍مارچ 2022ء مطبوعہ الفضل آن لائن 22؍مارچ 2022ء)

پچھلا پڑھیں

جلسہ سالانہ برکینا فاسو 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 مئی 2022