• 21 مئی, 2022

پھول یو نہی کھلا نہیں کرتے، بیج کو دفن ہونا پڑتا ہے

شاعر نے اس شعر میں دنیا کی ایک حقیقت کو کیا ہی عمدگی سے سمو دیا ہے۔ اور ہم روزانہ ہی بلکہ ہر لمحہ اس حقیقت کو اپنی زندگی میں، اپنے معاشرہ میں وقوع پذیر ہو تادیکھتے ہیں۔ یہ لہلہاتے کھیت، یہ رنگ برنگے پھولوں سے سجی کیاریاں اور یہ روزانہ کھانے والی سبزیوں کی کیاریاں اس بات کی گواہ ہیں کہ جب بیج زمین میں پھینکا جاتا ہے تو وہ پہلے فنا ہو تا ہے۔ وہ اپنی حیثیت اور کیفیت کو ختم کرتا ہے پھر اس سے ایک ننھا منا پو دا زمین سے نمودار ہوتا ہے۔ اگر وہ بیج سبزی کا ہو تو سبزی کے پودے کی بیل بن کر آگے ایسی ذائقے دار سبزیاں اُگاتا ہے جو انسان میں زندگی بخشتی ہیں۔ اگر وہ بیج کسی پھول کا ہو تو وہ آگے ایسے خوشبو دار، خوبصورت پودوں کی شکل میں ڈھل کر پھول پیدا کرتاہے۔ جو انسان کی آنکھوں کوبھلا محسوس ہوتے ہیں اور طبیعت خوشگوار کر جاتے ہیں۔ اگر یہ بیج پھلوں کے ہوں تو ان میں سے بعض پودوں یا بعض درختوں کی شکل میں سامنے آتے ہیں جن پر ایسے ذائقہ دار پھل لگتے ہیں۔ جن کو کھا کر انسان خوشی اور حلاوت محسوس کرتا ہے۔ یہ پھل انسان میں نئی زندگی کا باعث بنتے ہیں اور صحت برقرار رکھتے ہیں اور اس حقیقت کو سیاسی، تکنیکی، سائنسی اور مذہبی دنیا کے حوالہ سے دیکھیں تو کوئی بھی بڑا آدمی ایسے نہیں بن جاتا جب تک وہ اپنے آپ کو قربان نہ کرے۔ جب تک اپنے نفس کو ختم نہ کرے۔ وہ اپنی راتوں کو قربان کرتا ہے۔ اپنی نیند اور آرام کو مخلوق کے فائدے کے لئے قربان کر تا ہے۔ جتنے بڑے بڑے سائنس دان گزرے ہیں، ہیئت دان پائے جاتے ہیں یا سیاسی میدان کے نامور ہیں جیسے نیلسن منڈیلا یاکسی نبی، رسول اور خلیفہ کو دیکھ لیں۔ وہ خدا کی مخلوق کے لئے اپنے آپ کو بظاہر ختم کر لیتے ہیں نہ ان کو راتوں کی نیند کا خیال رہتا ہے اور نہ دن کے آرام کا۔ وہ راتوں کو اللہ کے حضور جھکتے ہیں اور ان کے دل اللہ کے حضور اس طرح سجدہ ریزہوتے ہیں، روتے بلبلاتے ہیں کہ گویا وہ ذبح کیے گئے ہیں۔ ان کو نہ کھانا یادرہتا ہے، نہ آرام اور نہ نیند۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا ہے کہ ’’میرا تو یہ حال ہے کہ پاخانہ اور پیشاب پر بھی مجھے افسوس آتا ہے کہ اتنا وقت ضائع ہو جاتا ہے، یہ بھی کسی دینی کام میں لگ جائے‘‘ اور فرمایا: جب کوئی دینی ضروری کام آپڑے، تو میں اپنے اوپر کھانا پینا اور سونا حرام کر لیتا ہوں جب تک وہ کام نہ ہو جائے۔ فرمایا: ہم دین کے لئے ہیں اور دین کی خاطر زندگی بسر کرتے ہیں۔ بس دین کی راہ میں ہمیں کوئی روک نہ ہونی چاہیے۔

ہم اپنے خلیفۃ المسیح کو دیکھتے ہیں کہ وہ ایک متقیوں، اللہ والوں اور حقیقی مسلمانوں کی جماعت کے لئے کسی قدر قربانی کرتے ہیں۔ راتوں کو جاگتے ہیں اور دنوں کو خد مت دین میں گزارتے ہیں۔ انبیاء اور خلفاء کی انہی قربانیوں کی وجہ سے، اپنے آپ کو فنا کرنے اور اپنے اوپر موت وارد کرنے کاصلہ ایسے مقدسین، صحابہ کی صورت میں دیتا ہے جن کو الله تعالیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡہُ کے لقب سے نوازتا ہے۔

اس مضمون کاایک اور پہلو سے جائزہ لیں تو قرآن کریم اور احادیث میں اللہ کی راہ میں جان کا نذرانہ دینے والوں کے مقام کا ذکرضر وری معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء آیت 70 میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والوں کو شہداء کے گروہ میں شامل کیا۔ اسی طرح سورۃ الحدید آیت 20 میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کو صدیق اور شہید ٹھہرایا ہے۔ اس شعر میں بیان حقیقت کو اگر ہم میں سے ہر ایک اپنے اوپر لاگو کرے تو اسے عاجزی، انکساری، خاکساری، تواضع اور فروتنی کے الفاظ میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے۔ جسے اختیار کر کے اللہ کو پایا جاسکتا ہے۔ بلندیاں سر ہو سکتی ہیں۔ ہم روزانہ مشاہدہ کرتے اور چوٹیاں سر کرنے والے کوہ پیماؤں کو ٹی وی چینلز پر دیکھتے ہیں کہ وہ بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹی سر کرنے کے لئے جھکتے ہیں۔ کیا کبھی کسی کو ڈاکٹر کو پہاڑ کی چوٹی سر کرتے دیکھا گیا ہے۔ ہر گز نہیں۔ اس کے بالمقابل جب درختوں اور پودوں پر پھل اور پھول لگتے ہیں تو وہ زمین کی طرف جھک جاتے ہیں۔ گویا اونچا مقام پانے کے لئے بھی جھکنا ہے اور جب آپ پھلدار ہو جائیں تو پھر بھی زمین کی طرف ہی جھکنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الفرقان آیت 63میں رحمان کے بندوں کی علامات میں سے ایک علامت یہ بیان فرمائی کہ وہ زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں پھر سورہ بنی اسرائیل آیت 37میں فرمایا کہ زمین پر اکڑ کر مت چلا کر تو ہر گز زمین کو پھاڑ نہیں سکے گا اور نہ ہی پہاڑ کی بلندیوں پرپہنچ سکے گا۔ تکبرایک ایسی بیماری اور کمزوری ہے جس کی بیخ کنی بچپن سے ہی ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کو ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے بچے کو یہ نصیحت کریں کہ تکبر سے اپنے گال کو مت پُھلا اور زمین پر اکڑ کر مت چل یقینا اللہ ہر متکبر اور شیخی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (لقمان: 18)

آنحضور ﷺ نے بھی ہمیں نصیحت فرمائی اِذَاتَوَاضَعَ الْعَبْدُرفَعَہُ اللّٰهُ إلىٰ السَّماءِ السَّابِعَة (صحیح مسلم كتاب البر و الصلة) کہ بندہ جب عاجزی اور فروتنی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کا ساتوں آسمان پر رفع کرلیتاہے۔ آنحضورﷺ کی عضباء نامی اُونٹنی دوڑ میں دوسری اونٹنیوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیتی تھی۔ ایک دفعہ کسی دیہاتی کی او نٹنی سبقت لے گئی۔ صحابہ کو افسوس ہوا۔ صحابہؓ کے افسردہ چہروں کو بھانپ کر آنحضورﷺنے صحابہؓ کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ اللہ تعالی کی یہ سنت ہے کہ دنیا میں جو بلند ہوتا ہے بالآخر اللہ اس کے غرور کو توڑنے کے لئے نیچادکھلا تا ہے۔ (بخاری کتاب الجہاد)

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے توسط سے اللہ تعالیٰ نے سارے افراد جماعت کو یہ پیغام دیا ہے کہ

تیری عاجز انہ راہیں اسے پسند آئیں

(تذکرہ صفحہ595)

پھر ایک جگہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’بد تربنو ہر ایک سے اپنے خیال میں‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21)

پھر بہت زور دیتے ہوئے احباب جماعت کو مخاطب ہو کر اپنی کتاب شہادت القرآن میں فرماتے ہیں۔ جب تک دل فروتنی کا سجدہ نہ کرے سجدوں پر امید رکھنا طمع خام ہے کہ قربانیوں کا خون اور گوشت خدا تک نہیں پہنچتا۔ ایسا ہی جسمانی رکوع و سجود بھی ہیچ ہیں۔ جب تک دل کا رکوع و سجود و قیام نہ ہو۔ قیام، دل کا یہ ہے کہ اس کے حکموں پر قائم ہو اور رکوع یہ ہے کہ اس کی طرف جھکے اور سجود یہ ہے کہ اُسی کے لئے اپنے وجود سے دستبردار ہو۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ عاجزی کوئی آسان کام ہے۔ بہت سی انائیں، بہت سی ضد یں، بہت سی سُستیاں، بہت سی دنیا کی لالچ، بہت سی دنیا کی دلچسپیاں ایسی ہیں جو یہ مقام حاصل کرنے نہیں دیتیں۔ فرمایا اَنَّهَالَکِبِیْرَۃٌ یہ آسان کام نہیں ہے، یہ بہت بوجھل چیز ہے……… اور اس بوجھل چیز کو اُٹھانا بغیر الله تعالیٰ کے فضل کے ممکن نہیں ہے۔ اس لئے اس کی مد د چاہو، اس کے فضل کو حاصل کرنے کے لئے اس کے آگے جھکو، کو شش کرو۔ لیکن یہ مدد اُس وقت ملے گی جب عاجزی اور انکساری بھی ہوگی۔

(خطبہ جمعہ 7 جون 2013ء)

(ابو سعید)

پچھلا پڑھیں

جلسہ سالانہ برکینا فاسو 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 مئی 2022