• 21 مئی, 2022

خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے اس سے بچو

مُوْتُوْ قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا

جب بھی کشتی نوح میں سے ہماری تعلیم کا مطالعہ کیا تو ان عبارتوں کو پڑھ کر دل خوف سے لرز جاتا رہا ہے۔ جہاں پر حضرت اقدس مسیح موعود ؑ نے ایک پاک کامل جماعت کا نقشہ ہمارے سامنے باندھا ہے اور اپنی اس جماعت سے کیا توقعات وابستہ کی ہیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مجھے بہت سوزو گداز رہتا ہے کہ جماعت میں ایک پاک تبدیلی ہو۔ جو نقشہ اپنی جماعت کی تبدیلی کا میرے دل میں ہے وہ ابھی پیدا نہیں ہوا اور اس حالت کو دیکھ کر میری وہی حالت ہے۔ لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ اَلَّا یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ (الشعراء: 4) مَیں نہیں چاہتا کہ چند الفاظ طوطے کی طرح بیعت کے وقت رَٹ لیے جاویں۔ اس سے کچھ فائدہ نہیں۔ تزکیۂ نفس کا علم حاصل کرو کہ ضرورت اسی کی ہے۔ ہماری یہ غرض ہرگز نہیں کہ مسیحؑ کی وفات حیات پر جھگڑے اور مباحثہ کرتے پھرو۔ یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔ اسی پر بس نہیں ہے۔ یہ تو ایک غلطی تھی، جس کی ہم نے اصلاح کر دی، لیکن ہمارا کام اور ہماری غرض ابھی اس سے بہت دُورہے اور وُہ یہ ہے کہ تم اپنے اندر ایک تبدیلی پیداکرو اور بالکل ایک نئے انسان بن جائو، اس لیے ہر ایک کوتم میں سے ضروری ہے کہ وُہ اس راز کو سمجھے اور ایسی تبدیلی کرے کہ وہ کہہ سکے کہ مَیں اور ہوں۔‘‘

(ملفوظات جلد اول آن لائن ایڈیشن 1988ءصفحہ351-352)

اس تعلیم میں آپ ؑ نے ایسے ایسے باریک سوراخوں کی نشاندہی کی ہے جہاں سانپ اور بچھو بیٹھے ہمیں ڈنگ مارنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور ہر ایسے خطروں کے مقامات سے علیحدگی کی نصائح فرمائی ہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ یہ بھی میری جماعت میں سے نہیں ہے،وہ بھی میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ اس تعلیم کو غور سے پڑھنے کے بعد،ہرفقرے پر ٹھہرنے کے بعد خوف کا مقام پیدا ہوتا رہا ہے کہ اوہو میں تو یہاں بھی مارا جا رہا ہوں اور یہاں بھی مار ا جا رہا ہوں۔

نمونہ کے طور پر ایک تحریر پیش خدمت ہے جس کی روشنی میں اپنا جائزہ لینا مقصود ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں
’’انؔ سب باتوں کے بعد پھر میں کہتا ہوں کہ یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کر لی ہے ظاہر کچھ چیز نہیں خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور اُسی کے موافق تم سے معاملہ کرے گا۔ دیکھو میں یہ کہہ کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے اُس کو مت کھاؤ۔ خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے اس سے بچو دعا کرو تا تمہیں طاقت ملے جو شخص دعا کے وقت خدا کو ہر ایک بات پر قادر نہیں سمجھتا بجزوعدہ کی مستثنیات کے وہ میری جماعت میں سے نہیں۔ جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص پورے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بدعملی سے یعنی شراب سے قمار بازی سے بد نظری سے اور خیانت سے رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرّ ف سے توبہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص پنجگانہ نماز کا التزام نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص دعا میں لگا نہیں رہتا اور انکسار سے خدا کو یاد نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص بدرفیق کو نہیں چھوڑتا جو اس پر بد اثر ڈالتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا اور امور معروفہ میں جو خلاف قرآن نہیں ہیں اُن کی بات کو نہیں مانتا اور ان کی تعہّد خدمت سے لا پروا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص اپنی اہلیہ اور اُس کے اقارب سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص اپنے ہمسایہ کو ادنیٰ ادنیٰ خیر سے بھی محروم رکھتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص نہیں چاہتا کہ اپنے قصور وار کا گناہ بخشے اور کینہ پرور آدمی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے ہر ایک مرد جو بیوی سے یا بیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص اُس عہد کو جو اُس نے بیعت کے وقت کیا تھا کسی پہلو سے توڑتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص مجھے فی الواقع مسیح موعود و مہدی معہود نہیں سمجھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے اور جو شخص اموؔر معروفہ میں میری اطاعت کرنے کے لئے طیار نہیں ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے اور جو شخص مخالفوں کی جماعت میں بیٹھتا ہے اور ہاں میں ہاں ملاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ ہر ایک زانی،فاسق، شرابی، خونی، چور، قمار باز، خائن، مرتشی، غاصب، ظالم، دروغ گو، جعل ساز اور ان کا ہم نشین اور اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہ سے توبہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ یہ سب زہریں ہیں تم ان زہروں کو کھا کر کسی طرح بچ نہیں سکتے اور تاریکی اور روشنی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی۔‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ18-19)

اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو

اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتا ہے کہ

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ ۚ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوۡلُ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِہٖ وَاَنَّہٗۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ

(الانفال: 25)

ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہا کرو جب وہ تمہیں بلائے تاکہ وہ تمہیں زندہ کرے اور جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوتا ہے اور یہ بھی (جان لو) کہ تم اسی کی طرف اکٹھے کئے جاؤ گے۔

ایمان لانے والے تو پہلے ہی زندہ ہوچکے ہیں،پھر یہ کس نئی زندگی کی طرف بلایا جا رہاہے۔ ایمان لانے کے نتیجے میں ہمیں اللہ اور اس کے رسولﷺکی آواز پر لبیک کہنے کی پہلی صلاحیت تو عطا ہوگئی ہےمگر ابھی بدیوں سے پوری طرح خلاصی نہیں ہوئی۔ یہاں ہر انسان اپنی اندرونی حالت سے خوب واقف ہے۔ ان تمام خطروں کے مقامات سے جن کی نشاندہی حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمائی ان سے ہم کتنا بچ رہے ہیں۔اس پر انسان مختلف حالتوں میں کھڑا ہے۔

ہم میں سے بہت سے ہیں جو ایمان لانے کے باوجود اس آواز پر جو دراصل ایک نئی زندگی کی آواز ہے لبیک کہنے سے قاصر ہیں۔ یہ نئی زندگی ایک قسم کی موت کو چاہتی ہے۔مردوں سے نکل کر زندگی میں آنا اپنی مردہ حالت پر موت وارد کرنے کے مترادف ہے۔

ایک مردے کو زندگی کا جواب ہاں میں دینا بڑا ہی مشکل ہےعین اسی طرح جب زندہ انسان موت کواپنے سامنے کھڑا دیکھتا ہے اور تکلیف محسوس کرتا ہے۔

خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے اس سے بچو

صوفیاء کا ایک مقولہ ہے کہ ’’مُوْتُوْ قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا‘‘ یعنی مرنے سے پہلے مرجاؤ۔ اس سے قبل کہ موت تمہیں آپکڑے اپنی ان بدیوں پر موت وارد کردو جنہوں نے تمہارے قدموں کو جکڑ رکھا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مذکورہ بالا تحریر کو پڑھ کر ہم میں سے ہر ایک کی خواہش ہے کہ ان تعلیمات پر عمل کیا جائے مگر جب ان راہوں پر چلنے کی کوشش کریں جو دراصل اندھیروں سے روشنی کی طرف لوٹنے والی راہیں ہیں تو پھر وہی بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ ان راہوں کا سفر تو گویا مرجانے کے مترادف ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ جہاں فرماتے ہیں کہ ’’خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے اس سے بچو‘‘ یہاں مذکورہ بالا قرآنی آیت کی روشنی میں زندگی کی طرف بلانے کے لئے نافرمانی کو گندی موت قرار دیا ہے۔ آپ ؑ جن راستوں پر ہمیں بلا رہے ہیں تاکہ ہمیں ایک نئی زندگی حاصل ہو۔یہی وہ زندگی ہے جس کو صو فیاء نے موت کا نام دے رکھا ہے۔

دعا کرو تا تمہیں طاقت ملے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ جیسے کمزوروں کے لئے جو اس تعلیم کو پڑھتے ہیں اور خوف سے لرزاں رہتے ہیں ایک تسلی کا پیغام بھی دیا ہے کہ اگر تمہارا ان بدیوں سے چھٹکارا مشکل ہورہا ہے اور بعض دفعہ تو یہ کیفیت ہوتی ہے کہ چھٹکارا پانا تو الگ رہا اس کی تمنّا ہی نہیں اٹھتی۔ یہ تمنّا دعا کے نتیجے میں اٹھ سکتی ہے۔ ازسر نو بیدار ہوسکتی ہے۔ ورنہ دعا کے بغیر یہ سوئی پڑی رہے گی۔آپؑ سب سے پہلےجہاں جھوٹ سے اجتناب کی تلقین کرتے ہیں تو یہی وہ مقام ہے جہاں اگر چھوٹے موٹے ابتلاؤں میں جھوٹ سے بچ بھی جائیں تو ایسے مقام پر پھسلتے ہیں جب جھوٹ کے سوا اور کوئی سہارا دکھائی نہیں دیتا۔اور ہر حالت میں جھوٹ سے پرہیز کی تمنّا۔ یہ ہے خدا تعالیٰ کی طرف قدم آگے بڑھانا اور اس گندی موت سے بچنا جو خدا تعالیٰ کی نافرمانی تک لے جاتی ہے۔ اگر اس بدی سے بچنے کی تمنّا لیے انسان اپنی نیّت اور نفس کو پاک و صاف کر کے یہ فیصلہ کرکے دعا کرے کہ میں نے جھوٹ نہیں بولنا اور اس کے نتیجے میں ہر قسم کے نتائج بھگتنے کے لئے تیار بیٹھا ہوں اور میں جس کاہوں اسی کا ہو چکا ہوں، اسی سے مدد کا طلبگار ہوں اور اسی کے دربار میں میری روح سجدہ ریز ہے اور اپنامعاملہ اپنے خدا پر چھوڑتا ہوں۔ پھر خدا تعالیٰ ایسے مضطر دل کی دعا اس شان سےقبول کرتا ہے کہ آسانی کی راہیں پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہیں۔

عمل صالحہ دعا کو قوت بخشتا ہے

اگر ہماری دعاؤں اور اعمال کا رخ ایک ہی سمت میں ہوگا تو ایسے انسان کی دعائیں ضرور مقبول ہوتی ہیں۔اگر اپنے نفس کو دھو کر اس نیت سے دعائیں کریں کہ ہم اس بدی کو چھوڑ نے کے لئے تیار بیٹھے ہیں تو ہم اس بدی پر موت وارد کرسکتے ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم سےمعلوم ہوتا ہے کہ

اِلَیۡہِ یَصۡعَدُ الۡکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالۡعَمَلُ الصَّالِحُ یَرۡفَعُہٗ

(فاطر: 11)

ترجمہ: اُسی کی طرف پاک کلمہ بلند ہوتا ہے اور اسے نیک عمل بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔

وہ عمل صالح جو دعا کو طاقت بخشتا ہے وہ پہلا عمل یا نیت کا عمل ہے۔

روحانی بیماریوں کی فکر

حضرت خلیفة المسیح الاولؓ فرماتے ہیں:
’’ہزاروں خطوط میرے پاس آتے ہیں جن میں ظاہری بیماریوں کے ہاتھ سے نالاں لوگوں نے جو جو اضطراب ظاہر کیا ہے میں اسے دیکھتا ہوں لیکن مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ وہ ظاہری بیماریوں کے لئے تو اس قدر گھبراہٹ ظاہر کرتے ہیں مگر باطنی اور اندرونی بیماریوں کے لئے انہیں کوئی تڑپ نہیں۔ باطنی بیماریاں کیا ہوتی ہیں؟ یہی بد ظنی، منصوبہ بازی، تکبر، دوسرے کی تحقیر، غیبت اور اس قسم کی بدذاتیاں اور شرارتیں، شرک، ماموروں کا انکار وغیرہ۔ ان امراض کا وہ کچھ بھی فکر نہیں کرتے اور معالج کی تلاش انہیں نہیں ہوتی۔ میں جب ان بیماریوں کے خطوط پڑھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ کیوں یہ اپنے روحانی امراض کا فکر نہیں کرتے۔‘‘

(خطبات نور جلد1 خطبہ نمبر20 صفحہ231)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہماری روحانی بیماریوں کی شناخت بھی کردی ہے اور اس کا علاج بھی تجویز کردیا ہے۔ اب ہماری یہ کوشش ہونی چاہئے کہ جس طرح ہم آج کل کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیارکرتے ہیں اور فکرمند رہتے ہیں اسی طرح ان روحانی وبائی امراض جو ہماری روح کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں ان کا فکر تو سب سے مقّدم ہے۔ کشتی نوح میں درج تعلیمات کا مطالعہ کرتے رہیں تاکہ ہماری سمت درست رہے۔آخرپر اپنے پیارے امام حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے درج ذیل ارشاد پر اپنے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔
’’بہت سی بیماریاں انسان کو اس لئے نقصان پہنچاتی ہیں کہ وہ خون میں گردش کر رہی ہوتی ہیں۔ آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں اور ایک وقت میں آ کر جسم پر بہت زیادہ اثر ڈالنا شروع کر دیتی ہیں۔ کسی وجہ سے انفیکشن ہو جاتا ہے اور اس کا اثر ہو جاتا ہے تو انسان کو شروع میں پتا نہیں چلتا کہ بیماری نے حملہ کر دیا ہے۔ بلکہ بہت ہی کوئی محتاط ہو، ذرا سی کسل مندی کے بعد وہ ڈاکٹر کے پاس جائے بھی تو ابتدائی حالت میں بعض ڈاکٹروں کو بھی پتا نہیں چلتا کہ بیماری اندر ہے، خون میں گردش کر رہی ہے۔ اور یہ بیماریاں آتی ہیں جیسا کہ میں نے کہا فضا میں بعض دفعہ جراثیم ہوتے ہیں ایک دوسرے سے بیماریاں لگتی ہیں اور آج بھی ہم دیکھتے ہیں بہت ساری وبائیں پھیلی ہوئی ہیں جن کا شروع میں پتا نہیں لگتا۔ آہستہ آہستہ جب پھیل جاتی ہیں تب پتا لگتا ہے۔ لیکن آجکل کے زمانے میں جو سب سے خطرناک چیز ہے وہ اس زمانے میں روحانی بیماریاں ہیں۔ اور روحانی بیماریوں کی تو فضا میں بھرمار ہوئی ہوئی ہے اور انسان کو پتا نہیں لگتا کہ کس وقت شیطان ہمارے خون میں چلا گیا ہے اور روحانی بیماری کو بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ لیکن شیطان کے خون میں گردش کرنے سے جو بیماری آتی ہے وہ جسمانی بیماری کی نسبت اس لحاظ سے زیادہ خطرناک ہے کہ جسمانی بیماری سے جسم پر اثرات پڑنے شروع ہو تے ہیں۔ جسم ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ کسل مندی کی کیفیت ہو جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ مزید تکلیف بڑھتی ہے۔ انسان خود محسوس کرتا ہے اور ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے کہ مَیں بیمار ہوں مجھے دوائی دو۔ لیکن روحانی بیماری خطرناک اس وجہ سے ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے انسان دُور ہٹتا ہے اور شیطان کے حملے کے نیچے آ جاتا ہے تو تب بھی خود کو بیمار محسوس نہیں کرتا بلکہ اپنے آپ کو اچھا ہی سمجھتا ہے۔ لیکن جب اس کے دوستوں، اس کے ہمدردوں کو پتا چلتا ہے کہ یہ بیمار ہے تو وہ اس کو سمجھاتے ہیں۔ جو بیماری کی انتہا کو پہنچ جائیں وہ دوستوں کے کہنے پر بھی خود کو بالکل ٹھیک سمجھتے ہیں اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کو غلط سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میرے دوست مجھے غلط کہہ رہے ہیں۔ پس شیطان کا حملہ یا روحانی بیماری جو ہے جسمانی بیماری سے بہت زیادہ خطرناک ہے کیونکہ بسا اوقات اس کے علاج کے لئے انسان تیار نہیں ہوتا۔ دوسرے توجہ بھی دلائیں کہ علاج کروا لو تو اس طرف توجہ نہیں ہوتی۔

پس ایک مومن کو اس سے پہلے کہ بیماری حملہ کرے اپنے جائزے لیتے ہوئے حفظ ماتقدم کے عمل کو شروع کر دینا چاہئے اور اس معاشرے میں جیسا کہ میں نے کہا کہ ر وحانی بیماریاں مستقل فضا میں پھیلی ہوئی ہیں اس لئے اپنے آپ کو بچانے کے لئے مستقل عمل کی بھی ضرورت ہے یا مستقل علاج کی بھی ضرورت ہے۔ حفظ ما تقدم کی ضرورت ہے اور یہی ایک حقیقی مومن کے لئے ضروری ہے اور اس کو چاہئے کہ وہ اس کے لئے ہمیشہ کوشش کرتا رہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 6؍مارچ 2015ء مطبوعہ خطبا ت مسرور جلد13صفحہ161۔162)

(خالد محمود شرما۔کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

جلسہ سالانہ برکینا فاسو 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 مئی 2022