• 21 مئی, 2022

اُردو صحافت کے 200 سال (1897ء تا 1908ء)

اُردو صحافت کے 200 سال
اور احمدیہ جماعت کی صحافتی خدمات
(1897ء تا 1908ء)

آج ساری اُردو دنیا میں اُردو صحافت پر دو سو سال مکمل ہونے پر شایان شان جشن اور سمینار منعقد ہو رہے ہیں۔ اور سال بھر جشن منانے کے بارے میں غور و خوص ہو رہا ہے بلکہ اس پر اتفاق بھی ہوا ہے۔ تقریباََ ہر اُردو اخبار میں اس پر مضا مین اورمقالے طبع ہورہے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری اور ساری ہے۔ صحافت عربی زبان کا لفظ ہے جو صحف سے ماخوذ ہے۔ لغت کے اعتبار سے اس کے معنی کتاب، رسالہ اور صفحہ کے ہیں ایک جگہ پر اخبار کےبھی ہیں۔ یعنی ایسا مطبوعہ مواد جو مقرره وقتوں کے بعد شائع ہوتا رہے صحافت کہلاتا ہے۔ صحافت کا اولین فریضہ خدمت انسانیت ہے۔ صحافت انسانی اقدار کے تحفظ کی ضامن ہے۔ دورِ حاضر کی تینر رفتار ترقی اور نت نئے ايجادات صحافت کو کمزور نہیں کر سکی۔ آج بھی اس کی وہی اہمیت اور حیشیت ہےجو شروع میں تھی۔

اردو صحافت میں احمدیہ جماعت کی خدمات ان دو سو سالوں میں بہت نمایا قابل ذکر اور قابل قدر ہیں۔ کسی حال میں بھی ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ وہ جشن وسمینار نا مکمل اور ادهورا ہے جس میں میری احمدی صحافتی خدمات کا ذکر نہ ہو۔ اس عرصہ میں احمدیت کا طویل ترین صحافتی دور ایک روشن باب ہے جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔اس کالم میں احمدیہ جماعت کی ایک سو پچیس سالا خدمات کا احاطہ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

سردست صرف ابتدائی دور کی کچھ جھلکیاں 1897 تا 1908 تک کی پیش کی جاری ہیں۔

بانئی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے چاہا کہ سیف (تلوار) کا کام قلم سے لیا جائے اور تحریر سے مقابلہ کرکے مخالفوں کو پست کیا جائے ….. اس وقت جو ضرورت ہے وہيقناََ سمجھ لوسیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے‘‘

(ملفوظات جلداول صفحہ59)

تاریخ احمدیت میں اُردو صحافت کی ابتداء بانئی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کے زمانہ میں ہوئی۔ آپ کے دو مخلص صحابی حضرت یعقوب علی عرفانؓ اور حضرت محمد صادقؓ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ابتدائی ا خبارات ’’الحکم‘‘ اور ’’البدر‘‘ کے اولین مدیراور صحافی کے طور پر میدان صحافت میں نمایاں اور قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ اس پر خوشنودی کا ا ظہار کرتے ہوئے بانئی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام نے فرمایا یہ اخبارالحکم و بدر ہمارے دو بازو ہیں

(ذکر حبیب مولف حضرت محمدصادقؓ صفحہ193)

حضرت یعقوب على عرفانیؓ کا شمار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیمی مخلصین صحابہ اکرام میں ہو تا ہے اور آپ کو عین جوانی کی عمر میں یہ مقام لدھیانہ بیعت اولیٰ کے دنوں میں حضور علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور آپؓ کو یہ اعزاز اور شرف بھی حاصل ہے کہ آپؓ جماعت احمدیہ کے اولین صحافی اور مورخ احمدیت ہیں۔ آپ نے 18 اکتوبر1897 کو ایک ہفت روزہ اخبار ’’الحکم‘‘ کے نام سے جاری کیا۔ شروع میں یہ اخبار ریاض ہند پریس امرتسر سے شائع ہوتا رہا اور پھر 1898 میں قادیان منتقل ہوا درمیان میں کچھ توقف کے بعد جولائی 1943 تک جاری رہا۔ الحکم کے دور ثانی میں ادارت کے فرائض آپ کے فرزند شیخ محمود عرفانی صاحب نہایت عمدگی سے بجا لاتے رہے۔جماعت کی مالی حالت ایسی نہ تھی کہ اخبار کے طباعت کے اخراجات کی متحمل ہوتی۔ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کی درخواست کرتے ہوئے یہ خواہش ظاہر کی کہ ذاتی طور پر اس ذمہ داری کو بردا شت کرنیکی اجازت دی جائے۔ آپ کو اس کی اجازت مل گئی۔ پھر بھی یہ جماعتی اخبارتھا اور جماعت کی سرپرستی اور نگرانی میں شائع ہوتا رہا۔ تھوڑا عرصہ آپ اس اخبار کو امرتسر سے نکالتے ر ہے۔ جب آپ کو مدرسہ قادیان کی خدمت پر مامور كیا گیا تو آپ اخبار اور پریس بھی اپنے سا تھ قادیان لے آئے۔اس طرح یہ اخبار قادیان سے شائع ہونے لگا اور جب تک اخبار ’’البدر‘‘ کا اجراء نہ ہوا سِلسِلہ احمدیہ کا یہی واحد اخبار تھا جو احمدیہ جما عت کی ترجمانی کرتا رہا۔ اس اخبار نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زما نہ میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں ہیں۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرائیوٹ سیکریٹری بھی تھے۔ (بقول حضرت مصلح موعودؓ حضور علیہ السلام کے تازہ بتازہ الہامات، رویا، کشوف کی اشاعت کے علاوہ مجالسِ عرفان جو مختلف حالات اور موقعوں پر منعقد ہواکرتی تھیں ان کو پوری ذمہ داری سے باقاعدگی سے نوٹ کرکے اخبار الحکم میں شائع کرتے رہے۔ علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفروں کے حالات، اشتہارات، آریوں اور عیسائیوں سے ہوئے مناظرے اور مباحثہ کے روئیداد یں بھی شائع کرتے رہے۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذہبی چیلنجوں کو بھی اس اخبار کے ذریعہ دیا جاتا رہا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں 1902 میں ’’ریو ریوایلجنز‘‘ اردو زبان میں شروع ہوا اور نہایت کامیابی اور کامرانی کے ساتھ مُلک اور بیرون ملکوں میں متلاشیان حق کو سیراب کرتا رہا اس طرح دوران سال1902 میں اخبار البدر کا ا جراء ہوا اور اس کے محرک حضرت بابو منشی محمد افضلؓ صاحب اور ڈاکٹر فیض علی صاحبؓ تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں درخواست کی کہ ایک اخبار جاری ہونا چاہیئے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منظوری عطاء فرمائی۔ شروع شروع میں اس اخبار کا نام قادیان رکھا گیا تھا لیکن بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر اس کا نام البدر رکھا گیا۔ البدرا خبار کے اولین مدیرو مالک حضرت منشی محمد افضل خانؓ تھے۔ 21 مارچ 1905 کو آپ کی قادیان میں وفات ہوئی اندنوں حضرت مفتی محمد صادقؓ صاحب تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بطور ہیڈماسٹر فریضہ بجا لارہے تھے۔ آپؓ کو وہاں سے تبدیل کر کے اخبارالبدر کی ادارت اور ذمہ داری آپ کے سپرد کر دی گئی اور ساتھ ہی اخبار البدر کا نام بدر میں تبدیل ہوگیا جو آج بھی بدر کے نام سے قادیان در الامان سے باقاعدگی سےہفتہ وار شائع ہو رہا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس موقع پر دنوں حضرت مفتی محمد صادقؓ صاحب کا مدیربدر مقرر ہونے پراس رنگ میں خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ ’’میں بڑی خوشی سے یہ چند سطریں تحریر کرتا ہوں کہ اگر چہ منشی محمدافضل مرحوم ایڈیٹر البدر قضائے الہی سے فوت ہوگئے ہیں خدا تعالیٰ شکر اور فضل سے ان کا نعم البدل اخبار کوہاتھ آگیاہے یعنی ہمارے سلسلہ ایک برگزیدہ رکن جوان صالح اور ہرایک طور سے لائق جن کی خوبیوں کے یہاں بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں يعنی مفتی محمد صادق صاحب بھیروی قائم مقام حضرت منشی محمد افضل صاحب مرحوم ہوگئے ہیں میری دانست میں خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سےاس اخبارکی قسمت جاگ اٹھی ہے کہ اس کو ایسا لائق اور صالح ایڈیٹر ہاتھ آیا ہے خداتعالیٰ یہ کام ان کے لئے مبارک کرے اور ان کے کاروبار میں برکت ڈالے آمین ثم آمین‘‘ خاکسار مرزا غلام احمد

(30؍مارچ 1905ء)

محترم با بومنشی محمد افضل صاحب کی وفات کے بعد اخبار البدر میں جو تعطل آیا اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مولانا نورا لدین خلیفۃ المسیح اؤلؓ نے فرمایا ’’میرا دل گوارہ نہیں کرسکتا تھا کہ قادیان سے کوئی مفید سلسلہ جارہی ہو اور وہ رک جائے۔ البدرکا چندروزہ دقنہ رنج تھا۔ سردست اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے تد بیرنکالی ہے میاں معراج دین عمرجن کو دينی امور میں اللہ تعالیٰ نے خاص جوش بخشا ہے اس طرف متوجہ ہوئے اورنصرت اللہ یوں جلوہ گر ہوئی کہ اس کی ایڈیٹری کیلئے میرے نہایت عزیز مفتی محمد صادق ہیڈ ماسٹرہائی سکول قادیان کو منتخب کیا گیا اور اس تجویز کوحضرت امام ؑ نے بھی پسند فرمایا میں یقین کرتا ہوں کے ہمارے احباب اس نعم البدل پر بہت کوش ہوں گے‘‘۔ (نورالدین)

بزرگان سلسلہ کی دعاؤں اور منشاء کے مطابقآپ نے صحافت کی ذمہ داری کو کمال حُسن خُوبی سے ادا کیا۔ایک صحافی کی مکمل صفات آپ کے اندر تھیں۔ آپ کو سات زبانوں پر عبور حاصل تھا اور آپکو ایڈیٹر بدرہفت زبان کا ٹائٹل ملا تھا۔ انگریزی، عربی، فارسی، میں عبور حاصل تھا۔ فرنچ اور پرتگالی زبان سے بھی واقف تھے۔ نہایت فصیح و بلیغ اُردو زبان بولتے اور لکھتے تھے۔ آپ کے ’’بدر‘‘ میں تحریر کردہ اداریے مقبول عام کی سند حاصل کرچکے تھے۔ آپ کا ایک اداریہ جو کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔

’’ہزاروں ہزار ملینوں ملینز سلام اور صلوٰۃ اور برکات اور رحمتیں نازل ہوں اس محمد (ﷺ) پر جس نے ہم کو ایسا اب سنایا اور دیکھایا اور ملایا اور اس محمدﷺ کے جانشین احمدؑ پر جس نے اس زمانہ میں پھر توحید الہٰی کا جھنڈا بلند کر دیا اور خشک زمین پر اپنے نیم شبی آب چشم سے سیراب کرکے مردوں کو زندہ کر دیکھایا۔ ۔۔ حضرت ابی المکرم حکیم نورالدینؓ کو جن کی جان قرآن ہے اور جن کے درس قرآن سے اس اخبار کے ناظرین نے آج تک فائدہ اُٹھایا ہے اور آئندہ مستفید ہونگے ان شاءاللہ اور ایسا ہی دنیا و دین کی نعمتیں اور برکتیں عطا فرما۔ قوم کے لیڈر حضرت مولوی عبادلکریم صاحب جن کی درد مندانہ پُرتاثیر نصائع اور و عظ انسان کو حقیقہ عاشق مزاج بنا دیتی ہیں اور اپنی بخشش اور رحمت اور برکت نازل کرئے میرے مکرم دوست حضرت مولوی محمد علی صاحب ایم اے پر جنہوں نے اخبار کے انتظام کو اپنا ماتحتی کا فخر عطا فرمایا ہے رحمت اور مغفرت نازل کرمحمد افضل خان کی روح پر جس نے البدر اخبار کی بنیاد رکھی تھی اور اب تک چلایا تھا اسے جزائے خیر دے اور نیز رحمت و برکت نازل فرما اس اخبار کے پروپرائٹر میاں معراج الدین عمر پر جس نے اپنی فراخ حوصلگی سے اس کو نئے سرے سے جاری کرنے کا بوجھ بھی اپنے سر پر اُٹھایا ہے۔ اور بھی ترقی عطافرما۔۔۔‘‘

(البدر 6 اپریل 1905 صفحہ3)

یہ شمع احمدیت کے درخشندہ صحافی تھے جنہوں نے اشاعت اسلام کے ساتھ ساتھ اردو زبان اور اردو ادب کو فروغ دینے اس کی ترقی و ترویج میں ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ احمدیہ صحافت کے روح رواں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ ملفوظات، مکتوبات، اشتہارات اور کتب روحانیہ ہیں جو قرآن کریم اور احادیث شریف کی روشنی میں تحریر فرمائیں جن کے متعلق آپ کا فرمان ہے ان کا ایک ایک حرف اور ایک ایک نقطہ خدا کی تائید و نصرت سے لکھا گیا ہے ااس تعلق میں ایک مقام پر فرماتے ہیں۔ ’’میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرا لفظ لفظ اور حرف حرف کوزندگی بخشتی ہے‘‘۔

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد3 صفحہ403)

حضرت مسیح موعود علیہ السلامکا زندگی بھر جاری رہنے والا صحافتی دور ایک روشنی کا بلند مینار ہے جس کی شعائیں ملکی سرحدوں کو عبور کرکے تشنگان روحانیت کوآج تک سیرا ب کررہی ہیں۔ آپنے 28 سال کے قلیل عرصہ میں1880 سے 1908 تک 90 سے زائد کتابیں تصنیف فرمائیں ہیں۔ اشتہارات کی تین جلدیں ہیں۔ آپ کی زبان مبارک سے بیان ہرے شیریں کلمات کو عاشقِ احمدیت نے بڑی عقیدت سے قلمبند کیا ہےیہ بھی اس صحافتی دور میں شمار ہوتے ہیں اس کی دس جلدیں ہیں۔ آپ نے اپنے دست مبارک سے جو مکاتیب تحریر کئے جو بعد میں کتابی شکل شائع ہوئے ان کی سات جلدیں ہیں۔ یہ عظیم الشان علم کلام علم ومعرفت کا ایک خزانہ ہے اس عظیم صحافت کا ایک شیریں ثمر ہے جو آپ سے ظہور میں آیا۔ عالم الغیب خدا نے عرشِ بریں سے آپ کو ’’سلطان القلم‘‘ کا خطاب سے نوازا۔ ایک صحافی کیلئے اس بڑا اعجاز اور سِند ہو ہی نہیں سکتی عام طورپر صحافیوں کو پُرسکاء اور سمان حکومتیں دیا کرتی ہیں لیکن الله تعالیٰ کی طرف سے یہ عظیم الشان پُرسکاء آپ کو ملا ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ۔ آپ کی تحریرات کا تجزیہ صحافت کے اعتبار سے کیا جائے تو یہ بھی دلچسپی اور حیرانی سے کم نہیں ہے یہ صحافتی مواد اٹھارہ ہزار پانچ سو اکہتر صفحات پر مشتمل ہے اور کم و بیش 78 لاکھ الفاظ کا ذخیرہ ہے۔ یہ الفاظ بھی کسی دنیاوی صحافی کے نہیں بلکہ ایک ایک لفظ ایک ایک حرف مامور من اللہ کے ہیں۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔

آپ کے صحافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے دہلی کے اخبار کرزن گزٹ کےایڈیٹر مرزا حیرت دہلوی نے لکھا ’’مرحوم کی اعلىٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسایوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحن ہیں۔ اس نے مناظرے کا بلکل انگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لیٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کہ ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ کو اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلے میں زبان کھول سکتا۔ ۔۔۔۔اگرچہ مر حوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا لکھنے والا کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا پرزور لیٹریچر اپنی شان میں بلکل نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

(کرزن گزٹ دہلی یکم جون 1908)

اسی طرح ہندوستان کے مشہور اخبار وکیل امرتسرنے جو خراج تحسین پیشں کیا وہ الفاظ تاریخ نے ریکارڈ کر لئے ہیں لکھا ہے۔ ’’۔۔۔۔۔ غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گرانہار احسان رکھے گی انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدا فعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یاد گا ر چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں ز ندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جزیہ ان اشعارِ قومی کا عنوان نظر آئے قائم رہے گا۔

(اخبار و کیل امرتسر 30مئی 1908)

الفضل کا اجراء اور صحافتی دنیا میں خدمات

جماعت احمدیہ کی صحافت کی دنیا میں الفضل کا اگر ذکر نہ ہو تو یہ مضمون ادھورا محسوس ہو گا۔ حضرت مصلح موعود مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ نے اسے 18 جون 1913ء کو قادیان انڈیا سے جاری فرمایا جو مشکلات اور بندشوں کے مختلف ادوار سے گزرتا ہوا اب لندن سے آن لائن کی صورت میں پوری آب و تاب کے ساتھ لاکھوں پیاسی روحوں کو سیراب کر رہا ہے۔ اسے نہ صرف جماعت احمدیہ کی تاریخ میں سب سے طویل عمر پانے والے اخبار کا درجہ حاصل ہے بلکہ اردو صحافت کی دنیا میں برصغیر اور دنیا بھر میں سب سے لمبی عمر پانے کا اعزاز حاصل کر چکا ہے۔

لہذا یہاں الفضل آن لائن کا مختصر تعارف دینا بے محل نہ ہو گا۔سیدنا حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی دوربین نگاہوں نے جن کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے غیر معمولی طور پر روحانی بصیرت عطا فرمائی ہوئی ہے محسوس کیا کہ یہ زمانہ قرآن مجید کی پیشگوئی کے مطابق وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ’’اور جب صحیفے نشر کئے جائیں گے‘‘ کے مطابق ضروری تھا کہ ایک ایسے اخبار کو جاری کیا جائے جو اس پیشگوئی کو پورا کر سکے۔ عالمگیر سطح پر ہر خاص و عام تک اسلام کا پیغام پہنچ جائے۔ روزنامہ الفضل کے جدید آن لائن ایڈیشن کا اجراء فرمایا۔ یہ سنہری دور میں خلافت خامسہ کا عظیم کارنامہ ہے۔ آج ساری دنیا میں پورے آب وتاب کےساتھ تشنگانِ روحانیت کو سیراب کر رہا ہے۔ پھر مذہب اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا کی گئیں ہیں۔ ان کو دور کرنے میں یہ اخبار اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ احمدیہ معاشرے کی تربیت بھی بڑی عمدگی کے ساتھ بجا لا رہا ہے۔ الحمد للّٰہ

اس اخبار کا پہلا شمارہ 13 دسمبر 2019ء کو منظر عام پر آیا۔ پھر ایک بار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ’’دیکھو! میرے دوستو اخبار شائع ہو گیا‘‘ (تذکرہ: 569) نہایت ہی شان سے پورا ہوا۔ الحمد للّٰہ

حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس اخبار کا اجراء کرتے ہوئے فرمایا ’’اللہ تعالی کے فضل سے جدید دور کی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روزنامہ الفضل لندن کے آن لائن ایڈیشن کا اجراء کیا جارہا ہے۔ یہ جماعت کا اہم اخبار ہے‘‘

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ الفضل کے پہلے شمارے میں اخبار کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
اے میرے مولا! …… لوگوں کے دلوں میں الہام کر کہ وہ الفضل سے فائدہ اٹھائیں اور اس کے فیض لاکھوں نہیں کروڑوں پر وسیع کر اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مفید بنا اس کے سبب سے بہت سی جانوں کو ہدایت ہو۔

(الفضل 18 جون 1913ء صفحہ3)

سیدنا حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا
میری بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی دعائیں قبول فرمائے اور الفضل ہمیشہ ترقی کی نئی سے نئی منازل طے کرتا چلا جائے اور یہ بھی خلیفہ وقت کے لیے ایک حقیقی سلطانِ نصیر کا کردار ادا کرنے والا ہو۔ آمین

حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نےاس اہم اخبار کی ادارت کے لیے مکرم ابو سعید آف لندن کو مدیر مقرر فرمایا یوں آپ کو الفضل آن لائن لندن کے جدید ایڈیشن کا اولین صحافی اور اولین مدیر اعلیٰ ہونے کا شرف اور اعزاز حاصل ہے۔ آپ کی ادارت میں یہ اخبار حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کے قبولیت دعا کے نتیجے میں اب لاکھوں لوگ اس سے فیض حاصل کر رہے ہیں اور وہ دن بھی دور نہیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا وہ اگلا فقرہ ’’کڑوروں لوگ فیض پائیں‘‘ پورا ہوتے ہوئے ہم اپنی زندگیوں میں ہی دیکھ لیں۔ آمین

الفضل اخبار کی بات چلی ہے تو یہاں سہ روزہ الفضل انٹر نیشنل لندن کا ذکر بھی ضروری ہے جسے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے 1991ء میں لندن سے ہفت روزہ جاری فرمایا جو اب ترقی کرتا ہوا تین روزہ ہو کر دنیا بھر میں اپنی علمی و روحانی خوشبوئیں بکھیر رہا ہے۔

(محمد عمر تماپوری۔ انڈیا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مئی 2022

اگلا پڑھیں

کرب کے وقت کی دعا