• 21 مئی, 2022

میری پیاری امی

میری پیاری امی مکرمہ گوہر سلطانہ صاحبہ (اہلیہ مکرم فضل الرحمٰن خان صاحب، سابق امیر ضلع راولپنڈی) 7؍اکتوبر 2021ء کنگسٹن اپان ٹیمز یو کے میں ایک سال بوجہ کینسر بیمار رہنے کے بعد اپنے بیٹے عطاء الحفیظ کے گھر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔

امی 19؍ جولائی 1944ء کو ڈاکٹر محمد زبیر صاحب کے گھر بمقام ڈاڈر (ایبٹ آباد) میں پیدا ہوئیں۔ میرے نانا میرے دادا کے بھتیجے لگتے تھے۔ اس طرح امی کے پڑ دادا اور ہمارے پڑدادا ایک ہی شخصیت یعنی مکرم مولوی شرف دین صاحب تھے۔امی کی والدہ بھی انتہائی مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ اور خود بھی بہت عبادت گزار تھیں۔ امی نے ابتدائی تعلیم پارہ چنار کرم ایجینسی میں حاصل کی جہاں میرے نانا سول ہسپتال میں بحیثیت ڈاکٹر کام کرتے تھے۔ پارہ چنار چونکہ ایک پسماندہ علاقہ تھا جہاں لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں تھا۔لیکن امی کو تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا جو کہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ادھورے تھے جو انہوں شادی کے کافی عرصے کے بعد پورے کئے۔ قرآن مجید کی تجوید سیکھی۔ میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا اور پھر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایف۔اے کا امتحان دیا۔امی کی شادی سترہ سال کی عمر میں میرے والد صاحب مکرم فضل الرحمٰن صاحب ساتھ ہوئی۔ امی کا نکاح 1961ء میں مشاورت کے موقع پر ربوہ میں ہوا۔ آپ کا نکاح مکرم جلال الدین شمس صاحب نے پڑھایا تھا اور اس کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے دعا کروائی۔امی بیاہ کر حیدر آباد آ گئی تھیں جہاں میرے والد صاحب ذیل پاک سیمنٹ فیکٹری میں جنرل مینجر کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ حیدرآباد ہی میں میرے بڑے دونوں بھائیوں کی پیدائش ہوئی۔ اس کے بعد بنوں، کوہاٹ اور راولپنڈی میں بھی قیام رہا۔

میں نے شروع سے ہی امی کو صوم و صلوٰۃ کا پابند پایا۔ تہجد اور نوافل کی ادائیگی ان کا روزمرہ کا معمول تھا۔ صبح گھر کے کام کاج سے فارغ ہونے کے بعد ظہر کی نماز کے لئے خاص اہتمام سے تیار ہوتیں۔ رمضان کے روزے باقاعدگی سے رکھتیں۔ چند سال پہلے اس بات کا ذکر کیاکہ ان کی یادداشت کے مطابق جو بھی روزے چھوٹے تھے وہ انہوں نے پورے کر لئے ہیں اور ساتھ ہی کہتیں کہ اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ آمین

جیسا کہ حدیث ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ امی بلا شبہ اس پر عمل کرنے والی تھیں۔ صفائی ستھرائی کا بہت خیال رکھتیں۔ نہ صرف جسمانی اور لباس کی صفائی کا خیال رکھتیں بلکہ گھر کی صفائی اور کھانا پکانے میں بھی بہت محتاط ہوتیں۔ کوئی خشک برتن پانی سے دھوئے بغیر استعمال نہ کرتیں۔ بیماری کے آ خری دنوں میں جب بالکل بستر پر تھیں اور بمشکل چند نوالے ہی کھاتیں لیکن اس کے بعد لازمی دانت برش کرتیں۔ انتہائی خوش لباس اور نفاست پسند تھیں۔گھر کے ملازمین کا بہت خیال رکھتیں۔ رمضان میں جب گھر والوں کے لئے سحری بناتیں تو ملازمین کے لئے بھی ویسا ہی کھانا تیار کرتیں۔ اسی طرح افطاری بھی تیار کر کے ٹرے میں رکھ کر ان کو دیتیں۔ عید کے دن عید کی نماز کے بعد بڑے اہتمام سے عید کے لوازمات ڈرائینگ روم کے میز پر لگاتیں اور باہر سے تمام ملازمین کو اندر بلوا کران کی خاطر مدارت کرواتیں۔ جب روزمرہ کا کھانا تیار ہوتا تو سب سے پہلے انکے لئے کھانا نکالتیں۔ گھر کی ملازمہ کی طبیعت خراب ہوتی تواپنے سامنے بٹھا کر گرم دودھ میں اَووَلٹین ڈال کر دیتیں۔ کبھی انڈا بوائل کر کے دیتیں اور اپنے پاس سے دوائیاں بھی دیتیں۔ جو ملازمین عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے اب کام نہیں کر سکتے تھے ان سے فون پر رابطہ رکھتیں اور ان کو پیسے بھجواتیں۔

امی کی طبیعت کی ایک بہت بڑی خوبی تھی کہ وہ غیبت سے نفرت کرتی تھیں اور اگر انکے سامنے کوئی غیبت کرتا تو اسے روکتیں یا اٹھ کر وہاں سے چلی جاتیں۔ اکثر ہمیں کہتی تھیں کہ اگر کوئی غیبت کر رہا ہے اور روکنے کے باوجود نہیں منع ہو رہا تو میں دل ہی دل میں استغفار پڑھنا شروع کر دیتی ہوں۔ لڑائی جھگڑے سے ہمیشہ دور رہتیں اور صلح صفائی والی بات کرتیں۔ ملنے ملانے والوں میں بھی اگر کوئی ایسی بات کرتا جو بعد میں لڑائی کی صورت اختیار کر سکتی تھی تو بالکل خاموش ہو جاتیں تاکہ بات وہیں ختم ہو جائے۔ بات چیت کرنے میں بہت محتاط ہوتیں۔

احمدی ہونے پر اکثر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتیں۔ خلافت سے بہت عقیدت رکھتی تھیں۔ میرے والد صاحب جو امیر جماعت ضلع راولپنڈی تھے کی جماعتی ذمہ داریوں میں انکے شانہ بشانہ رہیں۔ ہر سفر میں انکے ساتھ ہوتیں اور گھر آنے والے جماعتی مہمانوں کی مہمان نوازی کرتیں۔ اکثر لوگ اپنے مسائل لے کر والد صاحب کے پاس آتے چاہے وہ نجی ہوتے یا جماعتی ہوتے۔ امی انکی رازداری کو قائم رکھنے کا بہت خیال رکھتیں۔ جماعتی چندہ جات بہت باقاعدگی سے دیتی تھیں۔اس کے علاوہ حصہ جائداد اپنی زندگی میں ہی ادا کر دیا تھا۔

شروع سے امی کی عادت تھی کہ وہ ڈائری لکھا کرتی تھیں۔آپ کو بہت کثرت سے سچے خواب نظر آتے۔ اکثر خواب میں قرآن پاک کے الفاظ آپ پڑھ رہی ہوتیں اور جب آنکھ کھلتی تو حقیقتاً وہ الفاظ اپ کی زبان پر ہوتے۔ آپ اپنے خواب ڈائری میں لکھ لیتیں پھر جب وہ خواب پورا ہوتا تو وہ بھی لکھ لیتیں۔ اپنی ڈائری میں یادداشت کے طور حضور اقدس سے کی جانے والی ملاقات کی تفصیل لکھتیں۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کی تجوید کے اصول، مختلف ممالک میں جن مساجد میں آپ گئیں، اشعار، اقوال زریں اور گھریلو ٹوٹکے وغیرہ بھی لکھ لیتیں۔قرآن مجید میں مسنون دعاؤں پر نشانات لگا لیتیں۔درثمین کے اکثر دعائیہ اشعار بھی لکھ لیتیں۔

آپ کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی جس کا ذکر آپ کی وفات کے بعد اکثر لوگوں نے اپنے تعزیتی پیغامات میں کیاہے۔ اور اعلیٰ اخلاق کی تصدیق کی ہے۔ انتہائی دھیمے مزاج کی تھیں۔ ہمدرد، پرخلوص، خیال رکھنے والی، خدمت گزار، عبادت گزار،دعا گو، حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں پر عمل کرنے والی تھیں۔

شادی سے پہلے اپنے والدین کی خدمت اور چھوٹے بہن بھائیوں کا بہت خیال رکھتیں۔سب بہن بھائیوں میں بڑی ہونے کی وجہ سے سب کے لئے ماں کا درجہ رکھتی تھیں اور ایک شفیق ماں کی طرح ہی سب کا خیال رکھتیں۔سترہ سال میں شادی ہو گئی تھی۔ آپ نے اپنے ساس سسر کی بہت خدمت کی۔میری پھپھو جن کو کینسر ہو گیا تھا اور وہ اپنے چار معصوم بچوں کے ساتھ ہمارے والد صاحب کے پاس آ گئی تھیں۔آپ نے سب کی بے لوث خدمت کی۔پھپھو کی وفات کے بعد بچے والد صاحب کی ہی کفالت میں رہے اور سب بچوں کا امی کے ساتھ بہت پیار اور محبت کا رشتہ تھا۔

اپنی بیماری بھی انتہائی صبر اور وقار کے ساتھ گزاری۔ جب بھی ان سے حال پوچھتے تو کہتیں شکرًا الحمد للّٰہ۔ انتہائی مہمان نواز تھیں جس کا ذکر اکثر جماعتی عہدیداران کرتے۔ آخری ایام میں بھی جب نرسز آتیں یا کوئی عیادت کے لئے آتاتو ہمیں مہمان نوازی کرنے کا کہتیں۔ وفات سے ایک ہفتہ پہلے کہنے لگیں کہ میری طرف سے آخری دفعہ سب بچوں کی دعوت کر دو۔انسانی کوشش جس قدر ممکن تھی وہ ان کے علاج کے لئے کی گئی لیکن تقدیر مبرم کو کون ٹال سکتا ہے۔ 7؍ اکتوبر2021ء کو ہماری پیاری امی صبح دس بجے اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡن۔ حضور اقدس نے از راہ شفقت حاضر نماز جنازہ پڑھایا اور پرانے بہشتی مقبرہ میں تدفین کی اجازت مرحمت فرمائی۔امی اکثر یہ دعا کرتیں کہ خدایا میری آزمائش لمبی نہ کرنا اور خاتمہ بالخیر کرنا۔اور ہم نے اپنی انکھوں سے انکی دعائیں قبول ہوتے ہوئے دیکھیں۔وفات سے دس دن قبل Covid کی پابندیاں اٹھائی گئیں اور پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکال دیا گیا۔اور ہمارے لئے ممکن ہوا کہ ہم امی کا جنازہ لے کر ربوہ جائیں۔ اور امی کی دلی خواہش کے مطابق انہیں بہشتی مقبرہ میں والد صاحب کے قریب دفن کریں۔ الحمدللّٰہ۔

ہزاروں رحمتوں کے زیر سایہ
دعاؤں کے لئے بھاری خزانے
ہمارے گھر کی زینت جا رہی ہے

(ناصرہ مسرت مرزا۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مئی 2022

اگلا پڑھیں

کرب کے وقت کی دعا