• 7 اگست, 2020

سچ سے برائیاں ختم کرنے اور نیکیاں کرنے کی توفیق ملتی ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
سچ ایک ایسی بنیادی چیز ہے کہ اگر یہ پیدا ہو جائے تو تقریباً تمام بڑی بڑی برائیاں ختم ہو جاتی ہیں اور نیکیاں ادا کرنے کی توفیق ملنا شروع ہو جاتی ہے۔ تبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب ایک شخص حاضر ہوا تھا اوراس نے عرض کی کہ میرے اندر اتنی برائیاں ہیں کہ میں تمام کو تو چھوڑ نہیں سکتا مجھے صرف ایک ایسی بیماری یاکمزوری یا برائی کے بارے میں بتائیں جسکو میں آسانی سے چھوڑ سکوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے زیادہ انسان کی نفسیات اورفطرت کو سمجھنے والے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔ تم یوں کرو کہ صرف جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔

وہ شخص بڑا خوش ہوا کہ چلویہ تو بڑا آسان کا م ہے اٹھ کر چلا گیا اور اس وعدے کے ساتھ اٹھا کہ آئندہ کبھی جھوٹ نہیں بولے گا۔رات کو جب اس کو چوری کا خیال آیا کیونکہ وہ بڑا چور تھا اسکو خیال آیا کہ اگر چوری کرتے پکڑا گیا تو آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش ہوں گا اور اقرار کرتا ہوں تو سزا ملے گی، شرمندگی ہوگی اگر انکار کیا تو یہ جھوٹ ہے۔ تو جھوٹ میں نے بولنا نہیں کیونکہ وعدہ کیا ہواہے تو آخر اسی شش و پنج میں ساری رات گزر گئی اور وہ چوری پر نہ جاسکا۔ پھر زنا کا خیال آیا تو پھر یہی بات سامنے آگئی شراب نوشی اوردوسری برائیوں کا خیال آیا تو پھر یہی پکڑے جانے کا خوف اور جھوٹ نہ بولنے کا عہد یا د آتا رہا۔ آخر کار ایک دن وہ بالکل پاک صاف ہو کر حاضر ہوا اور کہا کہ اس جھوٹ نہ بولنے کے عہد نے میری تمام برائیاں دور کر دی ہیں تو یہ ہے سچ کی برکت کہ صرف عہد کرنے سے ہی کہ میں سچ بولوں گا برائیاں دور ہوگئیں۔

تو جب کسی موقع پر آپ سچ بول رہی ہوں گی اور سچ کا پرچار کر رہی ہوں گی تو پھر اس میں کس قدربرکتیں ہو ں گی بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ذاتی گھریلو رنجشیں عہدہ داروں کے خلاف جھوٹی شکایتوں کی وجہ بن رہی ہوتی ہیں اور جب تحقیق کرو تو پتہ لگتاہے کہ اصل معاملہ تو دیورانی جٹھانی کا یا نند بھابھی کایا ساس بہو کا ہے نہ کہ جماعتی مسئلہ ہے اس لئے ہمیشہ سچ کو مقدم رکھیں سچ کو سب چیزوں سے زیادہ آپ کی نظر میں اہمیت ہونی چاہیے۔ سچی گواہی دیں۔ اپنے بچوں کو سچ بولنا سکھائیں۔

بچوں میں سچ بولنے کی اہمیت بہت زیا دہ ہے

یہاں پر پھر میں وہی بات کہوں گا کہ بچوں کوسکولوں میں سچ بولنے کی اہمیت بہت زیا دہ ہے اس معاشرہ میں اور اس کی تعلیم بھی دی جاتی ہے سکولوں میں بتا یا جاتا ہے کہ سچ بولنا ہے۔ تو جب بچہ گھر آتا ہے تو ایسی مائیں یا باپ جن کو نہ صرف سچ بولنے کی آپ عادت نہیں ہوتی بلکہ بچوں کو بھی بعض دفعہ ارادۃً یا غیر ارادی طور پر جھوٹ سکھا دیتے ہیں۔ مثلاً اسی طرح کہ گھر میں آرام کر رہے ہیں۔کوئی عہدہ دار سیکرٹری مال یا صدر یا کوئی مرد آیا یا کوئی عورت لجنہ کی آگئی تو کسی کام کے لئے۔ تو بچہ کو کہہ دیا کہا چلو کہہ دو جاکے کہ گھر میں نہیں ہے۔

یہ تو ایک مثال ہے۔ اس طرح کی اور بہت ساری چھوٹی چھوٹی مثالیں ہیں۔چا ہے یہ بہت تھوڑی ہی تعداد میں ہوں مگر ہمیں یہ بہت تھوڑی تعداد بھی برداشت نہیں جو سچ پر قائم نہ ہو۔کیونکہ اس تھوڑی تعداد کے بچے اپنے گھر سے غلط بات سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ خود مذہب سے دور جارہے ہوتے ہیں کہ سکول میں تو ہم کو سچ بولنا سکھایا جا رہا ہے اور گھر میں جہاں ہمارے ماں باپ ہمیں کہتے ہیں کہ مذہب اصل چیز ہے نمازیں پڑھنی چاہئیں نیک کام کرنے چاہئیں۔ اور اپنا عمل یہ ہے کہ ایک چھوٹی سے بات پر، کسی کونہ ملنے کے لئے جھوٹ بول رہے ہیں۔

(سالانہ اجتماع لجنہ و ناصرات UK سے خطاب فرمودہ 19/اکتوبر 2003)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 14 جولائی 2020ء