• 5 اگست, 2021

حضرت مسیح موعود ؑ اور حج

حضرت مسیح موعود ؑاور حج
حج بیت اللہ کا مختصر تعارف

ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے حج بیت اللہ کیوں نہیں کیا؟ یہ اعتراض خود حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے زمانے میں، آپؑ پر بھی کیا گیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اس اعتراض کا کافی و شافی جواب عطا فرمایا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے اپنے الفاظ میں ہی اس کا جواب تحریر خدمت ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام دئیے ہیں۔ بعض اُن میں سے ایسے ہیں کہ اُن کی بجا آوری ہر ایک کو میسر نہیں ہے ،مثلًا حج۔ یہ اُس آدمی پر فرض ہے جسے استطاعت ہو،پھر راستہ میں امن ہو ،پیچھے جو متعلقین ہیں اُن کے گذارہ کا بھی معقول انتظام ہواوراس قسم کی ضروری شرائط پوری ہوں تو حج کرسکتا ہے۔‘‘

(الحکم 31جولائی 1902ء صفحہ6)

نیز فرمایا:
’’اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں، وہ حج کرے۔‘‘

(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد19 ص17)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام حج پر نہ جانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یہ لوگ شرارت کے ساتھ ایسا اعتراض کرتے ہیں۔ آنحضرت ؐ دس سال مدینہ میں رہے۔ صرف دو دن کا راستہ مدینہ اور مکہ میں تھا مگر آپؐ نے دس سال کوئی حج نہ کیا۔ حالانکہ آپؐ سواری وغیرہ کا انتظام کر سکتے تھے۔ لیکن حج کے واسطے صرف یہی شرط نہیں کہ انسان کے پاس کافی مال ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی قسم کے فتنہ کا خوف نہ ہو۔ وہاں تک پہنچنے اور امن کے ساتھ حج ادا کرنے کے وسائل موجود ہوں۔ جب وحشی طبع علماء اس جگہ ہم پر قتل کا فتویٰ لگا رہے ہیں اور گورنمنٹ کا بھی خوف نہیں کرتے تو وہاں یہ لوگ کیا نہ کریں گے۔ لیکن ان لوگوں کو اس امر سے کیا غرض ہے کہ ہم حج نہیں کرتے۔ کیا اگر ہم حج کریں گے تو وہ ہم کو مسلمان سمجھ لیں گے؟ اور ہماری جماعت میں داخل ہوجائیں گے؟ اچھا یہ تمام مسلمان علماء اوّل ایک اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ہم حج کر آویں تو وہ سب کے سب ہمارے ہاتھ پر توبہ کر کے ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہمارے مرید ہو جائیں گے۔ اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرار حلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے اسباب آسانی کے پیدا کر دے گا تا کہ آئندہ مولویں کا فتنہ رفع ہو۔ ناحق شرارت کے ساتھ اعتراض کرنا اچھا نہیں ہے ۔ یہ اعتراض ان کا ہم پر نہیں پڑتا بلکہ آنحضرت ؐ پر بھی پڑتا ہے کیونکہ آنحضرت ؐ نے بھی صرف آخری سال میں حج کیا تھا۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ248)

آپ علیہ السلام مزید فرماتے ہیں :
’’حج کا مانع صرف زادِ راہ نہیں اور بہت سے امو رہیں جو عنداللہ حج نہ کرنے کے لئے عذر صحیح ہیں چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے۔ اور نیز ان میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکہ میں امن کی صورت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا (اٰل عمران:98) عجیب حالت ہے کہ ایک طرف بداندیش علماء مکہ سے فتویٰ لاتے ہیں کہ یہ شخص کافر ہے اور پھر کہتے ہیں کہ حج کے لئے جاؤ۔ اور خود جانتے ہیں کہ جبکہ مکہ والوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا تو اب مکہ فتنہ سے خالی نہیں اور خدا فرماتا ہے کہ جہاں فتنہ ہواس جگہ جانے سے پرہیز کرو۔ سو میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسا اعتراض ہے۔ ان لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ فتنہ کے دنوں میں آنحضرت ﷺ نے کبھی حج نہیں کیا اور حدیث اور قرآن سے ثابت ہے کہ فتنہ کے مقامات میں جانے سے پرہیز کرو وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ (البقرۃ:196) پس ہم گنہگار ہوں گے اگر دیدہ دانستہ تہلکہ کی طرف قدم اٹھائیں گے اور حج کو جائیں گے اور خدا کے حکم کے برخلاف قدم اٹھانا معصیت ہے۔ حج کرنا مشروط بشرائط ہے مگر فتنہ اور تہلکہ سے بچنے کے لئے قطعی حکم ہے جس کے ساتھ کوئی شرط نہیں۔ اب خود سوچ لو کہ کیا ہم قرآن کے قطعی حکم کی پیروی کریں یا اس حکم کی جس کی شرط موجود ہے۔ باوجود تحقق شرط کے پیروی اختیار کریں‘‘

(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد14صفحہ415)

شیخ ابو سعید محمد حسین بٹالوی نے خط میں اعتراض کیا کہ آپؑ کیوں حج نہیں کرتے؟ تو فرمایا کہ ’’میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل اور صلیب کی شکست ہے۔ ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں۔ بہت سے خنزیر مر چکے ہیں اور بہت سے سخت جان ابھی باقی ہیں۔ ان سے فرصت اور فراغت تو ہو لے۔ شیخ بٹالوی صاحب اگر انصاف سے کام لیں تو امید ہے، یہ لطیف جواب انہیں تسلیم ہی کرنا پڑے گا۔ کیوں شیخ صاحب! ٹھیک ہے نا! پہلے خنزیروں کو قتل کر لیں؟‘‘

(ملفوظات جلد2۔صفحہ 283)

مخالفوں کے اس اعتراض پر کہ مرزا صاحب حج کیوں نہیں کرتے؟ فرمایا:
’’کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ جو خدمت خدا تعالیٰ نے اول رکھی ہے، اس کو پس انداز کر کے دوسرا کام شروع کر دیوے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عام لوگوں کی خدمات کی طرح ملہمین کی عادت کام کرنے کی نہیں ہوتی۔ وہ خدا تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی سے ہر ایک امر کو بجا لاتے ہیں۔ اگرچہ شرعی تمام احکام پر عمل کرتے ہیں، مگر ہر ایک حکم کی تقدیم و تاخیر ارادہ سے کرتے ہیں۔ اب اگر ہم حج کو چلے جاویں، تو گویا اس خدا کے حکم کی مخالفت کرنےوالے ٹھہریں گے اور مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا (اٰل عمران:98) کے بارے میں کتاب حجج الکرامہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر نماز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو حج ساقط ہے۔حالانکہ اب جو لوگ جاتے ہیں، ان کی کئی نمازیں فوت ہوتی ہیں۔ مامورین کا اول فرض تبلیغ ہوتا ہے۔ آنحضرتؐ 13 سال مکہ میں رہے، آپؐ نے کتنی دفعہ حج کئے تھے؟ ایک دفعہ بھی نہیں کیا تھا‘‘

(ملفوظات جلد3۔ صفحہ280)

حضرت اقدس مسیح موعود ؑکی طرف سے حج بدل

احادیث میں لکھا ہے کہ جو شخص بوجوہ حج نہ کرسکے ،اس کی طرف سے حج ِبدل کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ خثعم قبیلہ کی ایک خاتون نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہؐ میرے باپ پر حج اس وقت فرض ہوا جبکہ وہ انتہائی ضعیف ہو چکا ہے اور سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتا۔ تو کیا میں اپنے باپ کی طرف سے حج کا فریضہ ادا کردوں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔

(بخاری کتاب الحج باب وجوب الحج وفضلہ)

اسی طرح حیات نبی ﷺ میں ایک شخص کا اپنے بھائی شبرمہ کی طرف سے حج بدل کرنے کا تذکرہ بھی کتب احادیث میں ملتا ہے۔

(ابو داؤد کتاب المناسک باب الرجل یحج عن غیر)

چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ تحریر کرتے ہیں:
’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ آخری ایام میں حضرت مسیح موعودؑ نے میرے سامنے حج کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا۔ چنانچہ میں نے آپ کی وفات کے بعد آپ کی طرف سے حج کروا دیا ۔ (حضرت والدہ صاحبہ نے حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم کو بھیج کر حضرت صاحب کی طرف سے حج بدل کروایا تھا) اور حافظ صاحب کے سارے اخراجات والدہ صاحبہ نے خود برداشت کئے تھے۔ حافظ صاحب پرانے صحابی تھے اور اب عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں۔‘‘

(سیرت المہدی روایت نمبر 55جلد اول صفحہ نمبر 44)

تاریخ احمدیت صوبہ سرحد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حج بدل کی مزید تفصیل میں لکھا ہے کہ حضرت حافظ احمد اللہ صاحبؓ کا اصل وطن ہندوستان تھا۔ آپ اپنے وطن سے پشاور آئے تھے اور پشاور صدر میں مقیم تھے۔ مذہباً اہلحدیث تھے۔ حضرت مولانا غلام حسنؓ کی احمدیت کی وجہ سے، ان کو بھی حضرت احمدؑ کی طرف توجہ ہوئی اور آخر کار بعد از تحقیقات احمدی ہو گئے۔ آپ اہلحدیث کے امام الصلوٰۃ تھے۔ احمدیت آپؓ نے1897ء سے قبل اختیار کی اور بعد ازاں پشاور سے قادیان ہجرت کر لی اور وہیں سکونت پذیر رہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے زمانے میں، جب حضرت محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانیؓ اور حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ بغرض حج بیت اللہ شریف 1912ء میں حجاز مقدس تشریف لے گئے۔ تو آپ کو بھی حضرت اماں جان ؓ نے آنے جانے کا خرچ دیا۔ تا کہ وہ حضرت احمد ؑ کی طرف سے حج بدل کر آویں۔ چنانچہ آپ بھی اس قافلہ میں جس کا سالار حضرت محمود احمد تھا، شامل ہوئے اور حج بدل کر آئے اور اس طرح حضرت مسیح موعود ؑ کا حج، بذریعہ حضرت احمد اللہ، ادا ہوا۔ آپؓ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے زمانہ خلافت میں کئی سال زندہ رہ کر فوت ہوئے اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے ۔

(تاریخ احمدیت صوبہ سرحد ۔از قاضی محمد یوسف فاروقی صفحہ 58)

حج بیت اللہ کا مختصر تعارف
فرضیت حج

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حج کی فرضیت کے متعلق فرماتا ہے:

وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ۔

(آل عمران:98)

ترجمہ: اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ وہ اس کے گھر کا حج کریں جو بھی اس گھر تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو۔ اور جو انکار کردے تو یقیناً اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔

٭ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا میں اللہ تعالیٰ نے حج سے متعلق بنیادی شرائط بیان کر دی ہیں کہ حج صرف ان لوگوں پر فرض ہے جو بیت اللہ جانے کی طاقت رکھتے ہوں۔ چنانچہ اگر کسی کے پاس سامانِ سفر نہیں ہے تو آیت کریمہ کے مطابق اس پر حج فرض نہیں، اسی طرح اگر زادِ راہ تو ہے لیکن بیمار ہے اور صحتِ بدن اسے سفر کی اجازت نہیں دیتی تو پھر بھی حج فرض نہیں رہتا۔ اگر مذکورہ بالا دونوں شرائط موجود ہوں لیکن راستہ پر امن نہ ہو اور فتنہ کا اندیشہ ہو اور پابندیاں ہوں تو آیت کریمہ کے مطابق اس پر بھی حج فرض نہیں رہتا۔

لازمی ارکانِ حج

حج کے تین بنیادی ارکان ہیں:

٭ 1۔ احرام یعنی نیت باندھنا
٭ 2۔ وقوف ِعرفات یعنی 9 ذی الحجہ کو میدان عرفات میں ٹھہرنا
٭ 3۔ طواف ِزیارت جسے طواف ِافاضہ بھی کہتے ہیں یعنی وہ طواف جو وقوف عرفہ کے بعد 10 ذی الحجہ یا اس کے بعد کی تاریخوں میں کیا جاتا ہے

حج کے متعلقہ بعض اصطلاحات

میقات : مکہ معظمہ کے گرد، وہ مقامات جہاں سے حاجی احرام باندھ کر ہی آگے جا سکتے ہیں۔

احرام: احرام لغت میں حرام کرنے کو کہتے ہیں ،حاجی جب میقات سے حج کی نیت کر لیتا اور تلبیہ پڑھ لیتا ہے تو اس پر چند حلال اور جائز چیزیں حرام ہو جاتی ہیں ۔اس لئےاس کو احرام کہتے ہیں ۔مردوں کے احرام میں دو بے سلِی چادریں ہوتی ہیں ۔ ایک تَہ بند کا کام دیتی ہے، دوسری چادر کندھوں پر ڈالی جاتی ہے ۔ جبکہ عورتیں اپنے عام سادہ کپڑوں میں حج ادا کر تی ہیں ۔

تلبیہ : وہ وِرد جو حج اورعمرہ کے دوران حالت ِ احرام میں کیا جا تا ہے۔ اس کے الفاظ درج ذیل ہیں ۔

لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ ۔

طواف: خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگانے کوطواف کہتے ہیں ۔ہر چکر کے طواف کوحجر اسود سے شروع کیا جاتا ہے۔

سعی: صفا اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان سات مرتبہ چکر لگانا ۔سعی صفا سے شروع کی جاتی ہے۔

رمیِ جمار : جِمار کی واحد جمرہ ہے۔ جمرہ کنکری کو کہتے ہیں ،یہاں جمرات سے مراد وہ 3ستون ہیں،جو منٰی میں ہیں۔ جن کو جمرۃ الاولیٰ، جمرۃ الوسطیٰ اور جمرۃ العقبہ کہا جاتا ہے ان جمرات (ستونوں) پر مختلف اوقات میں 7.7 کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ جسے رمی جمار کہتے ہیں جمروں کو لوگ عرفِ عام میں ’’شیطان‘‘ کہتے ہیں ۔

استلام : حجرِِ اسود کو بوسہ دینا اور ہاتھ سے چھونا ۔ اگر ایسا ممکن نہ ہوسکے تو پھر صرف دور سے اشارہ کر کے بوسہ دینا۔

مقامِ ابراہیم : خانہ کعبہ کے مشرق کی طرف ایک پتھر رکھا ہوا ہے ، جسے مقام ِ ابرا ہیم کہاجاتا ہے۔ روایات کے مطابق حضرت ابراہیم ؑنے اس پتھر پر کھڑے ہو کر تعمیر کعبہ فرمائی تھی۔

حطیم : کعبہ کی شمالی دیوار کے متصل ایک گول دیوار میں گھراہو ا احاطہ، جو خانہ کعبہ کا حصہ ہے اسے حجر اسمٰعیل بھی کہا جاتا ہے۔

وقوف : اس کے معنے ہیں ٹھہرنا ۔ اصطلاح ِ شریعت میں عرفات ، مزدلفہ اور منٰی میں حاجیوں کا ہدایات کے مطابق قیام کرنا۔

حج کی 3 اقسام

حجِ مفرد : عمرہ کے بغیر صرف حج ادا کرنا ، حج افراد کہلاتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے جو حج مفرد ادا کر رہا ہو ، ضروری ہے کہ وہ ایام حج کے آغاز میں احرام باندھے اور10ذی الحجہ کو رمی کے بعد احرام کھول ڈالے۔ حج مفرد میں قربانی فرض نہیں ہے۔

حجِ تمتع : اس سے مراد یہ ہے کہ حج کے مخصوص مہینوں میں سب سے پہلے صرف عمرہ کا احرام باندھے اور مکہ پہنچ کر عمرہ ادا کرے۔ اس کے بعد احرام کھول دے۔ پھر 8ذی الحجہ کو دوبارہ حج کے لیے احرام باندھے اور حج کی ادائیگی کے بعد 10ذی الحجہ کو رمی الجمار کے بعد احرام کھول دے ۔ تمتع کے معنے فائدہ اٹھا نے کے ہیں حج کرنے والا ایک ہی سفر سے دو فائدے اٹھاتا ہے۔ حج تمتع کرنے والے کے لیے قربانی ضروی (فرض ہے) اگر قربانی نہ کر سکے، تو قرآنی تعلیم کے مطابق دس روزے رکھے۔ 3 حج کے دنوں میں اور 7 روزے واپس گھر آکر پورے کرے ۔

حج قِران : اس سے مراد ہے کہ شروع میں عمرہ اور حج دونوں کا اکٹھا احرام باندھے یعنی حج اور عمرہ دونوں کی نیت کرتے ہوئے تلبیہ کہے۔ اس طرح احرام باندھنے والا مکہ پہنچ کر پہلے عمرہ کرے گا، اس کے بعد احرام نہیں کھولے گا، بلکہ اسی احرام کے ساتھ حج کے مناسک بھی ادا کریگا اور جس طرح اس نے عمرہ اور حج کا اکٹھا احرام باندھا تھا اسی طرح دسویں ذی الحجہ کو دونوں کا اکٹھاہی احرام کھولے گا۔ اس قسم کا حج کرنے والے کے لیے قربانی ضروری (فرض) ہے۔ اگر قربانی میسر نہ ہو، تو اسے بھی دس روزے رکھنے ہوں گے 3 ایام حج میں اور 7 اپنے گھر واپس پہنچ کر۔

عمرہ

حالت احرام میں بیت اللہ کے طواف اور سعی بین الصفا والمروہ وغیرہ کا نام عمرہ ہے عمرہ کے لئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے۔ یہ عبادت سال کے ہر حصہ میں ہو سکتی ہے البتہ نویں ذی الحجہ سے لے کر تیرہ ذی الحجہ تک ان چار دنوں میں عمرہ کا احرام باندھنا درست نہیں کیونکہ یہ حج ادا کرنے کے دن ہیں۔

طریقِ حج اور مناسک حج ایک نظر میں

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے حج کرنے کے طریق کے متعلق تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ چنانچہ آپؓ فرماتے ہیں کہ :۔
’’حج اسلامی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے اور ہر شخص جو بیت اللہ کا حج کرنا چاہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ میقات پر پہنچنے کے بعد احرام باندھ لے۔میقات اُن مقامات کو کہتے ہیں جہاں پہنچنے پر اسلامی ہدایات کے مطابق حاجیوں کو احرام باندھنا پڑتا ہے ۔مدینہ منورہ کی طرف سے آنے والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام کی طرف سے آنے والوں کے لیے جحفہ ، عراق کی طرف سے آنے والوں کے لئے ذات ِ عرق ،نجد کی طرف سے آنے والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن کی طرف سے آنے والوں کے لیے یلملم میقات مقرر ہیں۔ پاکستان سے جانے والوں کے لئے یلملم ہی میقات ہے اور حا جیو ں کو جہاز میں ہی احرام باندھنا پڑتا ہے ۔جو لوگ ان میقات کے اندر رہتے ہوں انہیں احرام کے لئے با ہر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اپنی اپنی جگہوں سے ہی احرام باندھ سکتے ہیں۔ احرام کا طریق یہ ہے کہ انسان حجامت بنوا کر غسل کرے ۔خوشبو لگائے اور اس کے بعد سلے ہوئے کپڑے اتار کر ایک چادرتَہ بند کے طور پر کمرسے باندھ لے اور دوسری چادر جسم کے اوپر اوڑھ لے۔ سر کو ننگا رکھے اور دو رکعت نفل پڑھے اور اس کے بعد اپنے اوقات کا اکثر حصہ تکبیر و تلبیہ اورتسبیح و تحمید میں بسر کرے اور بار بار لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ کہتا رہے۔ ہر نماز کے بعد خصوصیت کے ساتھ بلند آواز کے ساتھ تلبیہ کہنا چاہیے۔ محرم کے لئے سلے ہوئے کپڑے یعنی قمیض، شلوار، پاجامہ یا کوٹ وغیر ہ پہننا،سر کو ڈھانپنا، جرابیں پہننا، خوشبو لگانا، خوشبو دار رنگوں سے رنگے ہوئے کپڑے پہننا، سر منڈوانا، ناخن اتارنا، جوئیں نکالنا یا انکو مارنا، جنگل کے کسی جانور کا شکار کرنا، شکارکے جانور کو ذبح کرنا۔ کسی کو شکارکے لیے کہنا یا کسی شکاری کی مدد کرنا ،شہوانی تعلقات قائم کرنا یا شہوانی گفتگو کرنا ،فحش کلامی کرنا یا فحش اشعار پڑھنا ،فسق و فجور اور لڑائی جھگڑے میں حصہ لینا،یہ سب امور ناجائز ہوتے ہیں۔ البتہ محرم غسل کرسکتاہے۔کپڑے دھو سکتا ہے اور دریائی جانور کا شکار بھی کر سکتا ہے۔ محرم عورت کے لیے بھی ان ہدایات کی پابندی ضروری ہے۔ البتہ اسے بے سلے کپڑے پہننے کی ضروت نہیں۔ اسے اپنا معمولی لباس یعنی قمیض، پا جامہ اور دوپٹہ ہی رکھنا چاہیے۔ البتہ وہ برقعہ نہیں اوڑھ سکتی۔

جب حاجی حدود حرم میں داخل ہو (یعنی مکہ معظمہ اور اس کے ارد گرد کے علاقہ میں جو حرم کہلاتا ہے) تو وہ آداب ِ حرم کو ملحوظ خاطر رکھے اور جب بیت اللہ پرپہلی مرتبہ نظر پڑے تو اللہ تعالیٰ کے حضور فوراًدعا کے لیے اپنے ہاتھ اٹھا دے کیونکہ وہ قبولیت ِ دعا کا خاص وقت ہوتا ہے۔ اس کے بعد جب بیت اللہ کے پاس پہنچے تو حجر اسود سے خانہ کعبہ کاسات مرتبہ طواف کرے۔ طواف کرتے ہوئے اگرممکن ہو تو ہر دفعہ حجر اسود کوبوسہ دینا چاہیے اور اگرممکن نہ ہو تو صرف ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کر دینا بھی کافی ہے۔

طواف سے فارغ ہونے کے بعد دو رکعت نفل پڑھے اور پھر صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ چکر لگائے ۔صفا سے مروہ تک ایک چکر شمار ہوگا اور مروہ سے صفا تک دوسرا۔ پھر مکہ معظمہ میں ٹھہر کر ایام حج کا انتظار کرے۔

جب ذوالحجہ کی آٹھویں تاریخ ہو تو وہ مکہ سے منٰی چلا جائے اوروہاں پانچوں نمازیں پڑھے ۔ پھر وہاں سے دوسری صبح نماز فجر ادا کرنے کے بعد عرفات کی طرف ایسے وقت میں چلے کہ وہاں بعد زوال داخل ہو اور ظہر و عصر کی نمازیں جمع کر کے ادا کرے اور سورج کے ڈوبنے تک عرفات میں ہی رہے اور دعاؤں اور عبادات میں اپنا وقت گزارے۔ اس کے بعد مزدلفہ مقام میں آئے۔ جہاں مغرب اور عشاء کی نما زیں جمع کر کے پڑھے اور وہاں رات بھر عبادت اور دعاؤں میں بسر کرے۔ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد سورج نکلنے سے پہلے مشعر الحرام پر جا کر دعا کرے اور وہاں سے سورج نکلنے سے پہلے ہی روانہ ہو کر منٰی پہنچے اور وہاں جا کر جمرۃ العقبہ پر سات کنکریاں مارے اور ہر دفعہ کنکر پھینکنے کے ساتھ ساتھ تکبیر کہے۔ مگر یہ کام سورج نکلنے کے بعد کرے۔ یہاں سے فارغ ہو کر قربانی کرے۔ سر منڈوائے اور پھر اسی دن شام تک یاا گلے دن مکہ مکرمہ جا کر خانہ کعبہ کا طواف کرے۔ افضل یہ ہے کہ اسی دن شام تک جا کر کعبہ کا طواف کر آئے۔ پھر دوسرے دن منٰی میں واپس آجائے اور بعد زوال جمرۃ الدنیا ،جمرۃ الوسطیٰ، جمرۃ العقبہ پر سات سات پتھر مارے۔اسی طرح تیسرے دن اور پھر چوتھے دن بھی جو ایام تشریق کہلاتے ہیں یعنی گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں ذوالحج کو۔ تیرھویں تاریخ کو منٰی سے واپس آجائے اور بیت اللہ کا طواف الوداع کرے۔ جو شخص یہ تمام مناسک بجا لائے وہ فریضہ حج ادا کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سر خرو ہو جاتا ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ:432)

فلسفہ حج

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اسلام نے …… محبت کی حالت کے اظہار کے لیے حج رکھا ہے، ۔۔۔۔ حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں بعض وقت شدت محبت میں کپڑے کی بھی حاجت نہیں رہتی عشق بھی ایک جنون ہوتا ہے ،کپڑوں کو سنوار کر رکھنا یہ عشق میں نہیں رہتا۔ ۔۔۔ غرض یہ نمونہ جو انتہائے محبت کا لباس میں ہوتا ہے وہ حج میں موجود ہے، سر منڈایا جاتا ہے، دوڑتے ہیں، محبت کا بوسہ رہ گیا وہ بھی ہے جو خدا کی ساری شریعتوں میں تصویری زبان میں چلا آیا ہے پھر قربانی میں بھی کمال عشق دکھایا ہے۔‘‘

(الحکم مورخہ24 جولائی 1902ء صفحہ3)

حج کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں :
’’حج سے صرف اتنا ہی مطلب نہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلے اور سمندر چیر کر چلا جاوے اور رسمی طور پر کچھ لفظ منہ سے بول کر ایک رسم ادا کر کے چلا آوے اصل بات یہ ہے کہ حج ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جو کمال سلوک کا آخری مرحلہ ہے، سمجھنا چاہیے کہ انسان کا اپنے نفس سے انقطاع کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں کھویا جاوے اور تعشق باللہ اور محبت الٰہی ایسی پیدا ہو جاوے کہ اس کے مقابلہ میں نہ اسے کسی سفر کی تکلیف ہو اور نہ جان و مال کی پروا ہو ،نہ عزیز و اقارب سے جدائی کا فکر ہو جیسے عاشق اور محبّ اپنے محبوب پر جان قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی کرنے سے دریغ نہ کرے اس کا نمونہ حج میں رکھا ہے جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھا ہے یہ ایک باریک نکتہ ہے جیسا بیت اللہ ہے ایک اس سے بھی اوپر ہے جب تک اس کا طواف نہ کرو یہ طواف مفید نہیں اور ثواب نہیں۔ اس کے طواف کرنے والوں کی بھی یہی حالت ہونی چاہیے جو یہاں دیکھتے ہو کہ ایک مختصر سا کپڑا رکھ لیتے ہیں اسی طرح اس کا طواف کرنے والوں کو چاہیے کہ دنیا کے کپڑے اتار کر فروتنی اور انکساری اختیار کرے اور عاشقانہ رنگ میں پھر طواف کرے۔ طواف عشق الٰہی کی نشانی ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ گویا مرضات اللہ ہی کے گرد طواف کرنا چاہئے اور کوئی غرض باقی نہیں۔‘‘

(الحکم 17 جنوری1907ء صفحہ9)

مقام عرفات پر کی جانے والی دعا۔
از حضرت مسیح موعود ؑ

1886ء میں جب حضرت صوفی احمد جان صاحب ؓحج بیت اللہ کے لئےتشریف لے جانے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو ایک خط میں لکھا کہ:
’’اس عاجز ناکارہ کی ایک عاجزانہ التماس یاد رکھیں کہ جب آپ کو بیت اللہ کی زیارت بفضل اللہ تعالیٰ میسر ہو تو اس مقام محمود مبارک میں اس احقر عباد اللہ کی طرف سے انہیں لفظوں جسے مسکنت وغربت کے ہاتھ بحضور اُٹھا کر گزارش کریں کہ ’’اے اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ! ایک تیرا بندہ عاجز و ناکارہ پُر خطا اور نالائق غلام احمد جو تیری زمین ملک ہند میں ہے۔ اس کی یہ غرض ہے کہ اے اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ تو مجھ سے راضی ہو اور میرے خطیات اور گناہوں کو بخش کہ تو غفورا ور رحیم ہے اور مجھ سے وہ کرا ،جس سے تو بہت ہی راضی ہوجائے۔ مجھ میں اور میرے نفس میں مشرق اور مغرب کی دوری ڈال اور زندگی اور میری موت اور میری ہر ایک قوت جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کرا اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار اور اپنے ہی کامل محبین میں اُٹھا۔ اے اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ! جس کام کی اشاعت کے لئے تونے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کےلئے تونے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک اور عاجز کے ہاتھ سے حجت اسلام مخالفین پر اور ان سب پر جو اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر اور اس عاجز اور مخلصوں اور ہم مشربوں کو مغفرت اور مہربانی کے حمایت میں رکھ کر دین اور دنیا میں ان کامستقل اور سب کو اپنے دارالرضا میں پہنچا اوراپنے اور اس کے آل واصحاب پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام نازل کر۔ آمین یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔

(مکتوبات احمدیہ جلد 3صفحہ 27)

(رحمت اللہ بندیشہ۔جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

سانحہ ارتحال