• 1 اکتوبر, 2020

ھَلْ جَزَاءُالْاِحْسَانِ اِلَّاالْاِحْسَان

حضرت اقد س مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’نیکی یہ ہے کہ خداتعالیٰ سے پاک تعلقات قائم کئے جاویں۔ اور اس کی محبت ذاتی رگ و ریشہ میں سرایت کر جاوے جیسے خداتعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآءِِ ذِی الْقُرْبٰی خدا کے ساتھ عدل یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو یاد کرکے اس کی فرمانبرداری کرو۔ اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور اسے پہچانو۔اور اس پر ترقی کرنا چاہو تو درجہ احسان کا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ذات پر ایسا یقین کر لینا کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے۔ اور جن لوگوں نے تم سے سلوک نہیں کیا ان سے سلوک کرنا۔ اور اگر اس سے بڑھ کر سلوک چاہو تو ایک اور درجہ نیکی کا یہ ہے کہ خدا کی محبت ،طبعی محبت سے کرو، بہشت کی طمع یا لالچ، نہ دوزخ کا خوف ہو بلکہ اگر فرض کیا جاوے نہ بہشت ہے نہ دوزخ ہے تب بھی جوش محبت اور اطاعت میں فرق نہ آوے۔ اور ایسی محبت جب خدا سے ہو تو اس میں ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور کوئی فتور واقع نہیں ہوتا۔‘‘

(البدر جلد ۲ نمبر ۴۳۔ ۱۶؍نومبر ۱۹۰۳ء صفحہ۳۳۵)

پھر والدین کے احسان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہےاور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ مشکل سے اس کی ماں نے اپنے پیٹ میں اس کورکھا اور مشکل ہی سے اس کو جنا۔ اور یہ مشکلات اس دور دراز مدت تک رہتی ہیں کہ اس کا پیٹ میں رہنا اور اس کے دودھ کا چھوٹنا ۳۰مہینے میں جا کر تمام ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ایک نیک انسان اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے تو دعا کرتا ہے کہ اے میرے پروردگار! مجھ کو اس بات کی توفیق دے کہ تو نے جو مجھ پر اور میرے ماں باپ پر احسانات کئے ہیں تیرے ان احسانات کا شکر یہ ادا کرتارہوں اور مجھے اس بات کی بھی توفیق دے کہ مَیں کوئی ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو جائے ……۔ ‘‘

(چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۰۹حاشیہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 ستمبر 2020