• 29 ستمبر, 2020

مومن ایک منزل پر آ کر رک نہیں جاتا

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :۔
’’جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مومن ایک منزل پر آ کر رک نہیں جاتا بلکہ آگے بڑھتا ہے تو ہماری انتہاء صرف عدل قائم کرنا ہی نہیں بلکہ اس سے آگے قدم بڑھانا ہے۔ ایک دنیادار کہے گا کہ جب عدل و انصاف کے اعلیٰ معیار قائم ہو گئے تو پھر کیا رہ گیا ہے۔ یہ تو ایک معراج ہے جو انسان کو حاصل کرنا چاہئے۔ اور جب یہ قائم ہو جائے تو دنیا کی نظر میں اس سے زیادہ کوئی نیکیوں پر قائم ہو ہی نہیں سکتا۔ ۔۔۔۔۔ ایک جگہ پر کھڑے ہو جانا دنیا کی نظر میں تو یہی اعلیٰ معیار ہے۔ لیکن کامل ایمان والوں کی نظر میں یہ اعلیٰ معیار نہیں بلکہ اس سے آگے بھی اللہ تعالیٰ کی حسین تعلیم کی روشنیاں ہیں۔ اور عدل سے اگلا قدم احسان کا قدم ہے۔ لیکن یاد رکھو یہ قدم تم اس وقت اٹھانے کے قابل ہو گے جب تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہو گی، جب تم میں بنی نوع انسان سے انتہاء کی محبت پیدا ہو گی۔ اور یہ باتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فضل یقینا ان پر ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے دوست ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے پیارے ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہے۔ ہر موقع پر دوست اور محبت کرنے والے کا حق ادا کرنے کے لئے وہ اس کے یعنی اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے احسان کرنا بھی ایک بہت بڑا حُکم اور خُلق ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 19؍ مارچ 2004ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 ستمبر 2020