• 27 اکتوبر, 2020

پس یہ تکبر توڑنے کی ضرورت ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پس یہ تکبر توڑنے کی ضرورت ہے اور اپنے دلوں کی سطح ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔ مَیں پھر دوبارہ ان نام نہاد علماء کو کہوں گا۔ بات پھر وہیں پلٹ جاتی ہے کہ جب تک مسیح موعودؑ کے مقابلہ میں اپنے تکبر سے پُر سَرجو ہیں وہ نیچے نہیں کرو گے تو قرآن کی اور اسلام کی اسی قسم کی تعریفیں ہی کرتے رہو گے جو مضحکہ خیز ہیں۔ اب اللہ اور رسولﷺ سے محبت کا دم بھرنا ہے تو امام وقت سے تعلق جوڑنا بھی ضروری ہے۔ پھر دیکھو مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں تم کس طرح عزت کی نگاہ سے دیکھے جاؤ گے۔ تب اس پاک کلام کے اسرار و رموز تمہیں سمجھ آئیں گے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ پر اتارا۔ اس کا فہم تمہیں حاصل ہو گا۔ کیونکہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے بھی خداتعالیٰ کے برگزیدہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسا کہ خود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ۔ فِیْ کِتَابٍ مَّکْنُوْنٍ۔ لَایَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ (الواقعہ: 78-80) کہ یقینا ایک عزت والا قرآن ہے، ایک چھُپی ہوئی کتاب ہے، محفوظ کتاب ہے کوئی اسے چھُونہیں سکتا، سوائے پاک کئے ہوئے لوگوں کے۔

ان آیات میں جہاں غیر مسلموں کے لئے قرآن کریم کی عزت و عظمت کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کو بتایا گیا ہے کہ اس کی عظمت ہے۔ ایک ایسی کتاب ہے جو بیش بہاخزانہ ہے۔ جس کی تعلیم محفوظ ہے یعنی اس کے نزول کے وقت سے یہ محفوظ چلی آ رہی ہے اور تاقیامت محفوظ رہے گی۔ لیکن فائدہ وہی اٹھائیں گے جو پاک دل ہو کر اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔ وہاں مسلمانوں کے لئے بھی اس میں نصیحت ہے کہ صرف مسلمان ہو کر اس سے فیض نہیں پایا جا سکتا۔ جب تک پاک دل ہو کر اس پر عمل نہیں کرتے اور اس کا مکمل فہم حاصل نہیں کرتے اور اس دُرّ مکنون کو حاصل کرنے کے لئے ان مُطَہَّرِیْن کی تلاش نہیں کرتے جن کو خداتعالیٰ نے اس کے فہم سے نوازا ہے یا نوازتا ہے اور اس زمانے میں آنحضرتﷺ کی پیشگوئیوں اور خداتعالیٰ کے وعدے کے مطابق یہ مقام آنے والے مسیح و مہدی کو ہی ملنا تھا اور ملا ہے اور خداتعالیٰ سے براہ راست علم پا کر آپؑ نے اس عظیم کتاب کے اسرار ورموز ہم پر کھولے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:۔ ’’قرآن کے حقائق و دقائق انہیں پر کھلتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں۔ پس ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کے سمجھنے کے لئے ایک ایسے معلم کی ضرورت ہے جس کو خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پاک کیا ہو۔ اگر قرآن کے سیکھنے کے لئے معلم کی حاجت نہ ہوتی تو ابتدائے زمانہ میں بھی نہ ہوتی‘‘۔ فرمایا کہ ’’یہ کہنا کہ ابتدا میں توحل مشکلات قرآن کے لئے ایک معلم کی ضرورت تھی لیکن جب حل ہو گئیں تو اب کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حل شدہ بھی ایک مدت کے بعد پھر قابل حل ہو جاتی ہیں۔ ماسوا اس کے اُمّت کو ہر ایک زمانہ میں نئی مشکلات بھی تو پیش آتی ہیں‘‘۔

اب دیکھیں عملاً اُمّت میں اس کا اظہار بھی ہو گیا۔ کئی سو آیات ایک وقت میں قرآن کریم کی منسوخ سمجھی جاتی تھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے پاک بندے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، ان کو حل کرتے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان تمام کو حل کر دیا۔ پس معلم کی ضرورت تو خود اسلام کی تاریخ سے بھی ثابت ہے۔ یہ جو اتنے فرقے بنے ہوئے ہیں یہ بھی اس لئے ہیں کہ جس جس کو اپنے ذوق کے مطابق سمجھ آئی اور اس نے اسی کوآخری فیصلہ سمجھ کے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا اور لاگو کرلیا اس پر قائم ہو گیا۔ بڑے بڑے مسائل تو ایک طرف رہے اب وضو کے بارہ میں ہی مسلمانوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، حالانکہ قرآن کریم میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔

(خطبہ جمعہ 11؍ ستمبر 2009ء) (الفضل انٹرنیشنل جلد 16شمارہ 40 مورخہ 2 اکتوبر تا 8 اکتوبر 2009ء صفحہ 5 تا صفحہ 8)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اکتوبر 2020