• 23 اکتوبر, 2020

صحبت صالح ترا صالح کند

اس مضمون کو ’’صحبت صالحین‘‘ کا عنوان بھی دیا جاسکتا ہے۔ صحبت کے معنی دوستی، ہم جلیسی، ہم نشینی کے لئے جاسکتے ہیں اور اسلامی اصطلاح ’’صحابی‘‘ بھی اسی سے مشتق ہے جس کے معنی ساتھی، دوست اور ہم مجلس کے ہیں اور جب ’’صحابی رسولؐ‘‘ کہا جاتا ہے تو اس کے معنی آنحضورﷺ کے رفیق، ساتھی اور صحبت یافتہ کے لئے جاتے ہیں۔ جس نے سرور کونین حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو اپنی جسمانی آنکھوں سے دیکھا ہو اور ہم صحبت رہ کر چند باتیں بھی رسول خدا ﷺ کی زبان مبارک سے سنی ہوں۔ اس ہم نشینی کے بدلے اور صلہ صحابہ نیک، پارسا، پرہیزگار، نیک چلن اور متقی بنے اورمندرجہ بالا عنوان آپ صحابہ پر صادق آیا کہ سیدنا حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی اچھی و نیک صحبت نے صحابہ کو شائستہ، صالح اور نیک بنادیا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد بار نیک، صالح اور پارسا لوگوں کی صحبت رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ جیسے سورۃ توبہ آیت 119 میں مومنوں کو مخاطب ہوکر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِتَّقُوْااللّٰہَ کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِ قِیْنَ کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ ہوجاؤ۔

سورۃ توبہ ہی کی آیت 71 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں جو اچھی باتوں کا حکم اور بری باتوں سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں نیز اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ انہی پر اللہ ضرور رحم کرے گا۔

سورۃ ال عمران آیت 29 میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تاکیداً حکم دیا کہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کی صحبت اختیار نہ کرو۔ ایسا کرنے والے کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔

احادیث میں سرور کائنات سیدنا خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بھی مسلمانوں کو صحبت صالحین اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ایک موقع پر نیک اور بُرے ساتھی کی مثال دو اشخاص سے دے کر صحابہ کو اس اہم مضمون کی طرف یوں توجہ دلائی کہ ایک شخص کستوری اٹھائے ہوئے ہو اور دوسرا بھٹی جھونکنے والا ہو۔ کستوری والا مفت میں خوشبو دے جائے گا۔ اس کی مہک سے تو فائدہ اٹھا جائے گا (یہ ذکر الہٰی کی محافل ہیں) اور بھٹی والے کے قریب بیٹھنے سے کپڑے جل جائیں گے اور اس کا بدبودار دھواں تنگ کرے گا۔

(مسلم کتاب البّر والصلۃ)

اس حدیث کی تشریح میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ ہم سب کو کستوری کی خوشبو بانٹنے والا بنائے اور ہمارے اندر وہ پاک تبدیلیاں پیدا ہوں جو نہ صرف ہمیں فائدہ پہنچارہی ہوں بلکہ لوگ بھی ہم سے فائدہ اٹھا رہے ہوں۔‘‘

(خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 398)

پھر فرمایا:
’’بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پاک مجالس میں تو بیٹھتے ہیں لیکن ان مجالس کی نیکیوں کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کی سوچ ہی ایسی ہوتی ہے کہ اگر کوئی بری بات نظر آئے تو اس کو لے کر زیادہ شور مچایا جاتا ہے۔ تو ایسے لوگوں کی ہی مثال دیتے ہوئے آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ اس شخص کی مثال جو حکمت کی بات سنے اور پھر سنی ہوئی باتوں میں سے سب سے شرانگیز بات کی پیروی کرے ایسے شخص کی ہے جو ایک چرواہے کے پاس آیا اور کہا کہ اپنے ریوڑ میں سے مجھے ایک بکری کاٹ دو۔ تو چرواہا اسے کہے کہ اچھا ریوڑ میں سے تمہیں جو بکری سب سے اچھی لگتی ہے اسے کان سے پکڑ لو۔ تو وہ جائے اور ریوڑ کی حفاظت کرنے والے کتے کو کان سے پکڑ لے۔

(مسند احمد باقی مسند المکثرین باقی المسند السابق)

تو ایسے لوگ جو اس سوچ کے ہوتے ہیں اور اس سوچ سے مجلسوں میں آتے ہیں باہر نکل کر اچھی باتوں کا ذکر کرنے کی بجائے اگر انہوں نے کسی کی وہاں بُرائی دیکھی ہو تو اس کا زیادہ چرچا کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کی صلاحیت ہی یہی ہے اور ان کی کم نظری یہ ہے کہ انہوں نے کتے کے علاوہ کچھ دیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اس لئے آگے بڑھ کر صرف کتے کا کان ہی پکڑتے ہیں۔ اچھی مجلسوں سے فائدہ اٹھانا بھی مومن کی شان ہے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد دوم صفحہ 492-493)

پھر فرمایا اَلْمَرْءُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہٖ فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُخَالِلُ (ابو داؤد کتاب الادب) کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے یعنی دوست کے اخلاق کا اثر انسان پر ہوتا ہے اس لئے دوست بناتے وقت غورو خوض کرنا چاہیے۔

ایک عربی شاعر نے اس مضمون کو اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے

عن المرء لاتسئل و ابصر قرینہ
فان القرین بمالمقارن مقتدی
اذاکنت فی قوم فصاحب خیارھم
ولا تصحب الاروی فتردی مع الردی

کہ اگر تم کوکسی شخص کے متعلق تحقیق مقصود ہو تو اس شخص کی تحقیق نہ کرو بلکہ اس کے ہم نشینوں کو دیکھو کیونکہ دوست اپنے ہم نشینوں کا متبع ہوتا ہے جیسے ہم نشین ہوں گے ویسا ہی وہ شخص ہوگا۔ جب تم کسی قوم میں ہو تو اس قوم کے اچھوں کی صحبت اختیار کرو، ناکارہ لوگوں کی صحبت میں نہ بیٹھو ورنہ تم ہلاک ہو جاؤ گے۔

قادیان میں کسی شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ سے عرض کی کہ میرا بیٹا دہریت جیسی باتیں کرتا ہے۔ آپؓ نے فوراً ہدایت فرمائی کہ کلاس روم میں اس کی جگہ تبدیل کردو۔ اس پر اس کے کلاس فیلو کا اثر ہورہا ہے چنانچہ جگہ تبدیل کرنے سے وہ بچہ دوبارہ ایمان کی راہیں اختیار کرگیا۔

بعض ماثورہ اقوال میں وحدۃُ المرء خیر من جلیس السود بھی ملتا ہے کہ اگر صالح ہم نشین اور اچھا ساتھی میسر نہ ہو تو پھر انسان کے لئے تنہائی ہی بہتر ہے۔

آنحضورﷺ نے فرشتوں کے متعلق فرمایا کہ ان کو ذکر کی مجالس کی تلاش رہتی ہے جب وہ ایسی مجلس کو پاتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہورہا ہو تو فرشتے وہاں بیٹھ کر مجلس کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں۔ ساری فضا ان کے اس بابرکت سایہ سے مہک اٹھتی ہے اور جب مجلس برخواست ہوتی ہے تو فرشتے بھی واپس چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس جیسی مجلس میں کام سے آئے ایک شخص کو بھی انہی میں سے قرار دے کر ان مبارک لوگوں کے ساتھ شامل کردیا جن پر فرشتے پَر پھیلائے سایہ کیے ہوئے تھے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’جب انسان ایک راستباز اور صادق کے پاس بیٹھتا ہے تو صدق اس میں کام کرتا ہے لیکن جو راستبازوں کی صحبت کو چھوڑ کر بدوں اور شریروں کی صحبت اختیار کرتا ہے تو ان میں بدی اثر کرتی جاتی ہے۔ اسی لئے احادیث اور قرآن شریف میں صحبتِ بد سے پرہیز کرنے کی تاکید اور تہدید پائی جاتی ہے اور لکھا ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اہانت ہوتی ہو اس مجلس سے فی الفور اُٹھ جاؤ ورنہ جو اہانت سُنکر نہیں اٹھتا اس کا شمار بھی ان میں ہی ہوگا۔

صادقوں اور راستبازوں کے پاس رہنے والا بھی ان میں ہی شریک ہوتا ہے۔ اس لئے کس قدر ضرورت ہے اس امر کی کہ انسان کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِ قِیْنَ کے پاک ارشاد پر عمل کرے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملائکہ کو دنیا میں بھیجتا ہے وہ پاک لوگوں کی مجلس میں آتے ہیں اور جب واپس جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن سے پوچھتا ہے کہ تم نے کیا دیکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مجلس دیکھی ہے جس میں تیرا ذکر کررہے تھے مگر ایک شخص ان میں سے نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہیں وہ بھی ان میں سے ہی ہے کیونکہ اِنَّھُمْ قَوْمٌ لَا یَشْقٰی جَلِیْسُھمْ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صادقوں کی صُحبت سے کس قدر فائدے ہیں سخت بد نصیب ہے وہ شخص جو صحبت سے دُور رہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 3 صفحہ 507)

ایک اور موقع پر صحبت صالحین کی غرض بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’بات یہ ہے کہ مُردوں سے مدد مانگنے کے طریق کو ہم نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ ضعیف الایمان لوگوں کا کام ہے کہ مُردوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور زندوں سے دور بھاگتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں لوگ اُن کی نبوت کا انکار کرتے رہے اور جس روز انتقال کرگئے تو کہا کہ آج نبوت ختم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی مُردوں کے پاس جانے کی ہدایت نہیں فرمائی۔ بلکہ کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ (التوبہ:119) کا حکم دے کر زندوں کی صُحبت میں رہنے کا حکم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو بار بار یہاں (قادیان) آنے اور رہنے کی تاکید کرتے ہیں۔ اور ہم جو کسی دوست کو یہاں رہنے کے واسطے کہتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ محض اس کی حالت پر رحم کرکے ہمدردی اور خیر خواہی سے ہی کہتے ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایمان درست نہیں ہوتا جبتک انسان صاحب ایمان کی صُحبت میں نہ رہے اور یہ اس لئے چونکہ طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں۔ ایک ہی وقت میں ہر قسم کی طبیعت کے موافقِ حال تقریر ناصح کے منہ سے نہیں نکلا کرتی۔ کوئی وقت ایسا آجاتا ہے کہ اس کی سمجھ اور فہم کے مطابق اُس کے مذاق پر گفتگو ہوجاتی ہے۔ جس سے اُس کو فائدہ پہنچ جاتا ہے اور اگر آدمی بار بار نہ آئے اور زیادہ دنوں تک نہ رہے، تو ممکن ہے کہ ایک وقت ایسی تقریر ہو جو اُس کے مذاق کے موافق نہیں ہے۔ اور اُس سے اُس میں بددلی پیدا ہو اور وہ حسنِ ظن کی راہ سے دور جا پڑے اور ہلاک ہوجاوے۔‘‘

(ملفوظات جلد 1 صفحہ 339)

حضرت مصلح موعودؓ نے صالحین کی صحبت میں بیٹھنے کے فلسفہ کو نہایت عمدگی کے ساتھ اپنے ایک لیکچر میں یوں بیان فرمایا ہے:
’’اسی لئے صحبت صالح کا حکم ہے اس میں یہی حکمت ہے خدا کے برگزیدہ بندوں کی بات تو تحریر کے ذریعہ یا دوسروں کی زبانی بھی معلوم ہوسکتی ہے۔ پھر کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِ قِیْنَ (التوبہ: 119) میں صادقوں کی صحبت میں رہنے کا کیوں اشارہ کیا گیا ہے۔ پھر رسول کریم ؐ کے پاس رہ کر تعلیم حاصل کرنے یا مسیح موعود کا اپنی صحبت میں رہنے کی تاکید کرنے کا کیا مطلب ہے؟ درحقیقت بات یہ ہے کہ صرف الفاظ اس قدر اثر نہیں رکھتے جس قدر وہ رَو رکھتی ہے جو قلب سے نکلتی ہے اور چونکہ ہر قلب ایسا نہیں ہوتا جو اسے دور سے محسوس کرسکے اس لئے قریب ہونے کی وجہ سے چونکہ رَو کی شدت بڑھ جاتی ہے اور جلدی اثر ہوجاتا ہے اس لئے قرب کا حکم دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو بتا یا گیا کہ جو تیرے زمانہ کے لوگ ہوں گے وہ اچھے ہوں گے اور جو ان سے بعد کے ہوں گے وہ ان سے کم درجہ کے ہوں گے اور جو ان سے بعد کے ہوں گے وہ ان سے کم درجہ کے ہوں گے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ (بخاری کتاب المناقب باب فضائل اصحاب النبی ﷺ) اب سوال ہوتا ہے کہ ان سب کی اصلاح تو قرآن کریم اور احادیث کے ذریعہ ہوئی اور اسی طرح سے وہ پاک و صاف ہوئے پھر وجہ کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے لوگ اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں اور ان کے بعد کے ان سے کم اور ان کے بعد کے ان سے بھی کم۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ پہلوں پر جس قدر رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ کے وجود پاک سے نکلی ہوئی لہر کا اثر ہوا وہ بُعدِ زمانی کی وجہ سے بعد والوں پر کم ہوتا گیا۔ دیکھو پانی میں جب پتھر پھینکا جائے تو قریب قریب کی لہریں بہت نمایاں اور واضح ہوتی ہیں اور جوں جوں لہریں پھیلتی جاتی ہیں مدھم ہوتی جاتی ہیں یہی حالت روحانی لہروں کی ہوتی ہے ان پر جوں جوں زمانہ گزرتا جاتا ہے اور وہ پھیلتی جاتی ہیں تو گو مٹتی نہیں مگر ایسی کمزور اور مدھم ہوتی ہیں کہ ہر ایک دل انہیں محسوس نہیں کرتا اور جو محسوس کرتا ہے وہ بھی پورے طور پر محسوس نہیں کرسکتا۔ اس لئے جن لوگوں کو روحانیت کی لہر پیدا کرنے والے وجود کا قربِ مکانی یا قربِ زمانی حاصل ہوتا ہے وہ اس لہر سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعد میں آنے والوں سے بہت بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔

قربِ مکانی اور زمانی کے اثر کا عام اور ظاہری ثبوت اس سے مل سکتا ہے کہ آپ لوگوں نے کئی دفعہ تجربہ کیا ہوگا اگر کسی کو کوئی کام کرنے کے لئے خط لکھا جائے تو وہ انکار کردیتا ہے اگر خود اس کے پاس جاکر کہا جائے تو کام کردیتا ہے۔ ہر ایک کہنے والا نہیں جانتا کہ اس کی کیا وجہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ منہ دیکھے کا لحاظ کیا گیا ہے لیکن دراصل وہ رَوکا اثر ہوتا ہے جو قرب کی وجہ سے زیادہ پڑتا ہے اور اس طرح جس کو کچھ کہا جائے وہ مان لیتا ہے۔ اسی طرح وہی تقریر جو ایک جگہ مقرر کے منہ سے سنی جائے جب چھپی ہوئی پڑھی جائے تو اس کا وہ اثر نہیں ہوتا جو سننے کے وقت ہوتا ہے۔ اس وقت بڑا مزا اور لطف آتا ہے لیکن چھپی ہوئی پڑھنے سے ایسا مزا نہیں آتا۔ جس پر کہہ دیا جاتا ہے کہ لکھنے والے نے اچھی طرح نہیں لکھی لیکن بات یہ ہوتی ہے کہ لکھنے والا تو صرف الفاظ ہی لکھتا ہے۔ وہ لہریں جو تقریر کرنے والے سے نکل رہی ہوتی ہیں ان کو محفوظ نہیں کرسکتا۔ اس لئے صرف الفاظ کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا لہروں کے ساتھ ملنے سے ہوتا ہے جو قرب کی وجہ سے سننے والے تک پورے طور پر پہنچ رہی ہوتی ہیں۔ اس لئے تقریر سننے سے زیادہ اثر ہوتا ہے اور پڑھنے کے وقت ایک تو بُعد ہوتا ہے اور دوسرے صرف لفظ ہوتے ہیں اس لئے وہ لطف نہیں آتا نہ اتنا اثر ہوتا ہے۔‘‘

(اصلاح اعمال کی تلقین، انوار العلوم جلد 4 صفحہ 171-173)

جیسا کہ اوپر ایک شاعر کے حوالہ سے لکھا جاچکا ہے کہ یہ مضمون اتنا اہم ہے کہ اسے اپنے معاشرے کی تزین و آرائش اور بہتری کے لئے قوم کے لیڈروں نے خواہ ان کا تعلق مشرکین سے ہو، دہریت سے ہو یا عیسائیوں، یہودیوں اور دیگر مذاہب سے۔ اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ اچھی صحبت اچھے لوگ مہیا کرتی ہے۔

کسی نے اس مضمون کو اس آسان لہجہ میں سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ گلاب کے پھول کی پتیاں جس زمین پر (یعنی پودا کے نیچے زمین پر) گرتی ہیں اسے بھی خوشبودار کردیتی ہیں۔

کسی نے کہا کہ تخم را تاثیر صحبت را اثر کہ بیج کی تاثیر اور صحبت کا اثرہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس حوالہ سے فرماتے ہیں:
’’مثل مشہور ہے۔ تخم تاثیر صحبت رااثر‘‘ اس کے اول جزو (حصہ) پر کلام ہو تو ہو، لیکن دوسرا حصہ ’’صحبت رااثر‘‘ ایسا ثابت شدہ مسئلہ ہے کہ اس پر زیادہ بحث کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں۔ہر ایک شریف قوم کے بچوں کاعیسائیوں کے پھندے میں پھنس جانا اور مسلمانوں حتٰی کہ غوث و قطب کہلانے والوں کی اولاد اور سادات کے فرزندوں کا رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرنا دیکھ چکے ہو۔ اُن صحیح النسب سیدوں کی جو اولاد اپنا سلسلہ حضرت امام حسینؓ تک پہنچاتے ہیں۔ ہم نے کرسچن (عیسائی) دیکھی ہے۔ اور بانی اسلام کی نسبت قسم قسم کے الزام (نعوذ باللہ) لگاتے ہیں۔ ایسی حالت میں بھی اگر کوئی مسلمان اپنے دین اور اپنے نبیؐ کے لئے غیرت نہیں رکھتا، تو اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا؟

اگر تم اپنےبچوں کوعیسائیوں، آریوں اور دوسروں کی صحبت سے نہیں بچاتے یا کم از کم نہیں بچانا چاہتے، تو یاد رکھو کہ نہ صرف اپنے اوپر بلکہ قوم پر اور اسلام پر ظلم کرتے اور بہت بڑا بھاری ظلم کرتے ہو۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ گویا تمہیں اسلام کے لئے کچھ غیرت نہیں۔ نبی کریم ﷺ کی عزت تمہارے دل میں نہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد1 صفحہ45)

کسی نے کہا ہے کہ

گندم از گندم بروید جو از جو
ازمکافات عمل غافل مشو

کہ گندم سے گندم اور جو سے جو اُگتے ہیں۔ تو مکافات عمل سے ہرگز غافل نہ ہو۔

اسی مضمون کو ایک انگریزی مثل میں یوں سمویا گیا ہے

“The duty of an apple is to ensure that an apple tree grow out of it.”

کہ سیب کے ذمہ لگایا گیا ہے کہ وہ ممکن بنائے کہ اس کے ذریعہ سیب کے درخت اُگیں گے۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اکتوبر 2020