• 29 نومبر, 2020

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے؟

ذاتی تجربات کی روشنی میں
تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے؟
(قسط پنجم)

انڈو امریکن نیوز 26 ستمبر 1994ء نے راؤٹر کے حوالہ سے اسلام آباد سے اس عنوان سے خبر دی

Ahmadiyya worship site razed.

یعنی احمدیہ عبادت گاہ کو منہدم کر دیا گیا۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی کے احمدیہ کمیونٹی کے عہدے دار مجیب الرحمان نے فون پر بتایا کہ احمدیہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی کھلم کھلا ان کو (احمدیوں) ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اتھارٹیز نے عبادت گاہ کو متشدد مولویوں کے پریشر کی وجہ سے منہدم کیا ہے۔ اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جبکہ احمدیوں نے ہائی کورٹ میں اس کے خلاف اپیل بھی پہلے سے دائر کر رکھی ہے۔ جس کی ابھی اگلے سوموار کو سماعت بھی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہتھوڑوں اور کلہاڑیوں اور دیگر چیزوں سے عبادت گاہ کا ہال اور باؤنڈری نیز رہائشی کوارٹر کو منہدم کیا گیا ہے۔

اس عبادت گاہ کے خلاف متشدد علماء نے شکایت کر رکھی تھی۔ جبکہ رحمان صاحب کا کہنا ہے کہ یہ جگہ پچھلے 50 سال سے جماعت احمدیہ کی ملکیت ہے۔ یہ نہایت شرمناک اور غیرقانونی پریشر ہے۔

وائس آف ایشیا نے اپنی اشاعت 19ستمبر 1994ء میں ریجنل جلسہ سیرت النبی کی خبر شائع کی ہے ۔

وائس آف ایشیا نے اپنی اسی اشاعت میں صفحہ 14 پر جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ کے گرانے کی خبر شائع کی ہے۔ خبر کا عنوان یہ ہے

Ahmadiyya’s place of worship demolished in Pakistan.

انہوں نے بھی راؤٹر کے حوالہ سے اسلام آباد سے خبر دی ہے۔ خبر کا عنوان اور متن قریباً وہی ہے جو انڈوامریکن نیوز نےد یا ہے۔

دی ہیوسٹن پوسٹ نے اپنی 29 اکتوبر 1994ء صفحہ 4 E پر ہمارے جلسہ کی خبر دی ہے کہ میری لینڈ میں جلسہ سالانہ ہوا۔ اور اس موقع پر وہاں ’’مسجد بیت الرحمن‘‘ کا افتتاح بھی ہوا۔ ہیوسٹن کے مشنری سید شمشاد احمد ناصر نے جلسہ سالانہ میں تقریر کی۔ ہیوسٹن کی مسجد 8121 Fairbank White Ook روڈ پر واقع ہے۔ جلسہ میں 6 ہزار سے زائد لوگ شامل ہوئے۔

دی فجی سن جو کیلیفورنیا سے نکلتا ہے نے اپنی نومبر 1994ء کی اشاعت میں مسجد بیت الرحمن کی تصویر کے ساتھ جلسہ سالانہ کی خبر دی ہے۔ مسجد کے بارہ میں بتایا ہے کہ اس پر 4 ملین ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ 6 ہزار سے زائد لوگ شامل ہوئے۔ لوکل اتھارٹیز نے جماعت احمدیہ جو کہ امن کی علمبردار ہے کو اور جماعت کے روحانی لیڈر مرزا طاہر احمد کو اس موقع پر ان کی خدمات کو سراہا۔

پورٹ لواکا دی ویو نے اپنی اشاعت 24 ستمبر 1994 صفحہ 9A پر ہمارے ریجنل جلسہ سیرت النبی (ﷺ) کی خبر شائع کی ہے اور لکھا ہے کہ اس کانفرنس سے لوگوں کی اسلام کے بارے غلط فہمیاں دور کر نے کا موقع ملے گا۔ جماعت احمدیہ کی اس وقت 142 ممالک میں شاخیں ہیں جنہوں نے دنیا کی 65 اہم زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ بھی کیا ہے۔

انڈو امریکن نیوز 31 اکتوبر 1994ء کی اشاعت میں ’’مسجد بیت الرحمن‘‘ کی تصویر دے کر ہمارے جلسہ سالانہ کی خبر شائع کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ کمیونٹی کے روحانی لیڈر مرزا طاہر احمد نے شرکت کی اور 6 ہزار سے زائد مندوبین سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ہیوسٹن سے بھی 100 سے زائد احمدی لوگ جلسہ میں شامل ہوئے۔

مرزا طاہر احمد نے اس موقع پر جمعہ بھی پڑھایا اور خطبہ جمعہ دیا۔ اسکے بعد یو ایس اے کی بڑی بڑی سیاسی شخصیات کی طرف سے آپ کے لئے Proclamations بھی پڑھے گئے۔ ہفتہ 15 اکتوبر کو سید شمشاد احمد ناصر آف ہیوسٹن نے صبح کی نماز پڑھائی اور ’’مسجد کے آداب‘‘ پر درس بھی دیا۔

جلسہ کے آخری دن جماعت احمدیہ کے عالمگیر روحانی پیشوا نے اختتامی تقریر کی اس موقع پر 25 لوگوں نے بیعت بھی کی جو جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔

دی لیڈر 10 نومبر 1994ء کی اشاعت میں (جو نارتھ زون کے علاقہ کے لئے ہے) ’’احمدیہ مسلم‘‘ کے عنوان سے جماعت احمدیہ امریکہ کے 46 ویں جلسہ سالانہ کی خبر دی ہے کہ یہ جلسہ جماعت احمدیہ کے ہیڈ کوارٹر میری لینڈ میں ہوا ہے، جہاں جماعت نے حال ہی میں 4:25 ملین ڈالر کی لاگت سے ’’مسجد بیت الرحمن‘‘ تعمیر کی ہے۔ اس جلسہ میں جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا مرزا طاہر احمد لندن سے خطاب کرنے کے لئے تشریف لائے تھے اور اس موقعہ پر 6 ہزار سے زائد احمدی جلسہ میں شامل ہوئے تھے۔ س موقع پر امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی نمائندے شامل ہوئے۔ کینیڈا، برطانیہ، ٹرینیڈاڈ گوئٹے مالا، مغربی جرمنی، گھانا، ماریشس، برازیل، جاپان، انڈیا اور پاکستان۔ ہیوسٹن سے بھی 100 سے زائد احباب جلسہ میں شامل ہوئے۔

جلسہ سالانہ میں مختلف عناوین پر تقاریر بھی ہوئیں۔ مثلاً سیٹلائٹ کے ذریعہ نارتھ، ساؤتھ اور وسطی امریکہ میں احمدیہ مسلم ٹی وی پروگرامز ۔اور سیاسی لیڈروں کی طرف سے بھیجے گئے تہنیتی پیغامات جس میں جماعت احمدیہ کی خدمات کو سراہا گیا تھا۔ اسی طرح جماعت احمدیہ کے پیشوا مرزا طاہر احمد صاحب کی خواتین کے جلسہ میں تقریر جس میں انہوں نے خواتین کو اپنے بچوں کی صحیح رنگ میں اسلامی طرز پر تربیت کرنے کی طرف توجہ دلائی۔

1960 East Sun نے بھی جلسہ سالانہ کے انعقاد کی خبر اشاعت 2 نومبر 1994ء صفحہ 4 B پر دی۔ خبر کا متن وہی ہے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے خواتین میں تقریر کہ بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دلائی گئی کو بیان کیا ہے۔

وائس آف ایشیا نے 31 اکتوبر 1994ء کی اشاعت میں بھی جلسہ سالانہ اور احمدیہ مسلم کمیونٹی کے ’’ارتھ سٹیشن‘‘ کی خبر دی ہے۔

دی فجی سن نے نومبر 1994 صفحہ 16 پر پورے صفحہ کی خبر 5 تصاویر کے ساتھ شائع کی ہے۔ یہ خبر خاکسار کے نام کے حوالہ سے ہے۔ ایک تصویر میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کینیڈین ممبر آف پارلیمنٹ کے ساتھ معانقہ کر رہے ہیں جو کہ حضور کو دیکھ کر بہت خوشی اور اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ مرزا مظفر احمد صاحب امیر جماعت بھی تصویر میں نمایاں ہیں۔ دوسری تصویر میں حضورؒ ہیڈ ٹیبل پر بیٹھے ہیں۔ حضور کے ساتھ حکومتی سطح کے اور سیاسی لیڈرز بیٹھے ہیں جو کہ مسجد کے افتتاح کے لئے تشریف لائے تھے۔ تیسری تصویر میں سامعین کا ایک منظر ہے۔ چوتھی تصویر مسجد بیت الرحمن کی ہے اور پانچویں تصویر خاکسار کی ہے۔

خبر میں لکھا ہے کہ جلسہ جماعت احمدیہ کی نئی تعمیر شدہ مسجد بیت الرحمن میں ہوا جس میں 6 ہزار سے زائد مندوبین مختلف ممالک اور امریکہ سے شامل ہوئے۔ حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے حوالہ سے انہوں نے لکھا کہ آپ نے تقاریر کیں اور خطبہ جمعہ میں حضورؒ نے فرمایا کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے جماعت امریکہ کو مسجد بنانے کی توفیق دی۔

حضورؒ نے اپنے خطاب میں بتایا کہ پاکستان سے باہر اللہ تعالیٰ نے جماعت کو مساجد تعمیر کرنے کی توفیق دی ہے۔ جبکہ پاکستان میں جماعت کی مساجد کو مسمار کیا جارہا ہے جو کہ جماعت احمدیہ کے خلاف آرڈیننس کا نتیجہ ہے۔ حال ہی میں راولپنڈی میں جماعت کی مسجد کو منہدم کرنے کا واقعہ ہوا ہے۔ حضورؒ نے یہ بھی بتایا کہ اس مسجد کے افتتاح کے ساتھ ساتھ مسجد سے ملحقہ سیٹلائٹ ارتھ سٹیشن کا بھی افتتاح کیا جارہا ہے اس کے ذریعہ امریکہ کے تمام ممالک میں صبح و شام TV پروگرام نشر کئے جائیں گے جو کہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا اصل مقصد تو جماعت احمدیہ کے افراد کی علمی روحانی اور اخلاقی استعدادوں کو نشوونما دینا ہے۔ اس موقع پر حضور کی خدمت میں اکیس Proclamations سیاسی اور حکومتی شخصیات نے پیش کئے۔ حضورؒ نے حاضرین کو بتایا کہ بانی اسلام محمد رسول اللہ (ﷺ) نے مسجد کو عبادت کرنے والوں کے لئے کھولا تھا اس لئے ہماری مساجد کے دروازے بھی ہر اس شخص کے لئے کھلے رہیں گے جو ایک خدا کی عبادت کرتا ہے۔ اس موقعہ پر مٹھائی بھی سب میں تقسیم کی گئی۔ اگلے دن کا آغاز نماز تہجد سے ہوا۔ نماز فجر کے بعد سید شمشاد احمد ناصر نے مسجد کے آداب پر درس دیا۔ لیڈیز کے اجتماع میں جو الگ بھی ہو رہا تھا جس میں امام جماعت احمدیہ نے بچوں کی صحیح رنگ میں تربیت پر زور دیا۔

امام جماعت احمدیہ نے یہ بھی اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ کی آب و ہوا زہریلی ہو چکی ہے جس کو صاف کرنا ہو گا اور سوشل و سیاسی عناصر نے امریکہ کی ہوا کو خراب کیا ہوا ہے۔ احمدیوں کے لئے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ اس سوسائٹی میں رہتے ہوئے کس طرح اپنے آپ کو صحیح اسلامی تعلیمات سے آراستہ کرنا ہے۔

دوسرے دن کے افتتاح کے بعد شام کو مسجد میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔

اور بچوں کی آمین کی تقریب بھی ہوئی جو امام جماعت احمدیہ نے کرائی۔ آپ نے قران کریم کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنے کی بھی تلقین کی۔ اس موقع پر 25 نواحمدی بھی شریک ہوئے۔ جلسہ کے موقع پر والنٹیرز نے کھانا بھی پکایا اور 6 ہزاور لوگوں میں تقسیم ہوا۔

دی لیڈر نے 16 مارچ 1995ء کی اشاعت میں احمدیہ جماعت کی عیدا لفطر کی خبر دی۔ اخبار نے لکھا کہ ساؤتھ ویسٹ ریجن کے مبلغ سید شمشاد احمد ناصر نے عید کی نماز پڑھائی اور خطبہ دیا جس میں رمضان کے روزوں کا اجر اللہ تعالیٰ دے گا کے مضمون پر روشنی ڈالی۔

وائس آف ایشیا کی 20 مارچ 1995ء کی اشاعت میں ایک خبر اور نٹرویو شائع ہوا اس کا پس منظر یہ تھا کہ ملک میں ’’Gun‘‘ بندوقیں رکھنے کی کھلی اجازت ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر مقامات پر متشدد اور جارحانہ رویہ رکھنے والے لوگ حملہ کر کے لوگوں کو مارتے ہیں بعض اوقات یہ حملے سکولوں پر بھی ہوئے اور معصوم بچے مارے گئے؟ جس پر اخبار نے مختلف لوگوں کے انٹرویو لئے اس میں دیگر لوگوں کے ساتھ خاکسار کا بھی انٹرویو شائع ہوا ہے۔

خاکسار کے حوالہ سے اخبار نے لکھا کہ شمشاد ناصر ریجنل مشنری آف احمدیہ مسلم جماعت نے ’’Sheebha‘‘ کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ انسانی جان کا ضیاع ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انسانی جان کی قدر کرنی چاہئے اور اسے عزت دینی چاہئے۔ خواہ کوئی کسی مذہب یا رنگ و نسل سے تعلق رکھتا ہو۔

وائس آف ایشیا نے 13 مارچ 1995 صفحہ 38پر نصف سے زائد صفحہ پر ہماری عید کی خبر دی جس میں دو تصاویر بھی شامل ہیں۔ ایک تصویر خاکسار کی ہے۔ خطبہ عید دیتے ہوئے اور ایک سامعین کی ہے۔ تصاویر کے نیچے خبر میں لکھا ہے کہ احمدیہ مسلم جماعت نے 3 مارچ کو اپنے مشن ہاؤس میں عیدالفطر منائی سید شمشاد احمد ناصر نے عید کی نماز پڑھائی اور خطبہ عید دیا۔ شمشاد نے اپنے خطبہ عید میں بتایا کہ رمضان کے مہینے میں امام جماعت احمدیہ مرزا طاہر احمد ؒ نے روزانہ 90 منٹ کا درس القرآن بھی دیا۔ آخری درس القرآن میں مرزا طاہر احمد عالمگیر روحانی پیشوا جماعت احمدیہ نے سب کو کہا کہ وہ اپنی دعاؤں میں امت مسلمہ کو یاد رکھیں۔ ضرورت مند لوگوں کو اور خصوصیت سے پاکستان کے لوگوں کے لئے دعائیں کریں۔

1960 East Sun نے اپنی اشاعت 15 مارچ 1995ء صفحہ 2B پر ہماری عیدالفطر کی خبر شائع کی۔

پاکستان لنک کی انگریزی اشاعت جس کا ایڈیٹر ایم فیض الرحمن صاحب تھے کی 17 مارچ 1995 کی صفحہ 6 پر خاکسار کا ایک خط شائع ہوا ہے جس میں پاکستان میں 2 امریکن لوگوں کا قتل ہوا تھا۔ جن کے نام یہ ہیں:

Gary C. Drueu آف اوہایو اور Jackie Van آف ساؤتھ کیرولینا۔ ان کا کراچی پاکستان میں قتل ہوا تھا۔

خاکسار نے بتایا کہ کسی بھی انسانی جان کا قتل جائز نہیں خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ یہ پرابلم پاکستان میں 1974ء میں شروع ہوا جب کہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نام نہاد علماء کے دباؤ میں آئی اور نیشنل اسمبلی آف پاکستان نے احمدیہ جماعت کو قانون کی اغراض کی خاطر انہیں ناٹ مسلم قرار دیا۔

اس کے بعد 1984ء میں ضیاء نے اس بنیاد پر ایک اور آرڈیننس جاری کیا جس کی وجہ سے کوئی احمدی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتا۔ اس ملک میں یہ سب کچھ دہشتگردی کی بنیاد بنی ہے۔ اور اسی وجہ سے ’’ہولی وار‘‘ کا تصور پایا جاتا ہے اور انہی خیالات کی وجہ سے اس وقت یہ ’’قاتلانہ‘‘ اقدام اور منصوبہ نام نہاد علماء کی طرف سے کیا جاتا ہے۔

خاکسار نے بتایا کہ مندرجہ بالا قانون یا کسی کا قتل کسی وجہ سے بھی اسلام میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک سیاسی گروپ چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے جس سے ایسے لوگوں کو شہ ملتی ہے۔ اگر ان خبروں کو نظر انداز کر کے حکومت امن و امان قائم کرنے کی کوشش کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسا نہ ہو۔

انڈو امریکن نیوز نے اپنی 13 مارچ 1995ء صفحہ 32 پر ایک تصویر کے ساتھ ہماری عید الفطر کی خبر شائع کی۔

انڈو امریکن نیوز نےاپنی اشاعت 17 اپریل 1995ء کی اشاعت مں ایک خبر اس عنوان سے شائع کی۔

Ahmadi Stoned to death by mob.

ایک احمدی کو مشتعل ہجوم نے پتھر مار کر ہلاک کر دیا۔

اخبار نے یہ خبر پشاور سے راؤٹر کے حوالہ سے لکھی ہے کہ 9 اپریل کو مسلمانوں کے متشدد لوگوں کے ایک گروہ نے ایک شخص کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا اور دوسرے کو زخمی کر دیا گیا۔ یہ واقعہ پاکستان کے علاقہ پشاور میں اتوار کو پیش آیا۔ یہ واقعہ عدالت میں سماعت کے دوران پیش آیا جبکہ مدعی کا کہنا تھا ’’شب قدر‘‘ شہر میں دو آدمی رشید اور ریاض اسی شہر کے ایک اور مکیں دولت خان کو احمدیت کی تبلیغ اور اپنے مذہب میں داخل کرنے کی کوشش کر رہے تھے لوگوں نے رشید اور ریاض پر پتھراؤ کیا جس کی وجہ سے رشید تو موقع پر ہلاک ہو گئے اور ریاض کو ہسپتال لے جایا گیا۔

اخبار نے لکھا کہ 1974ء کے اسمبلی کے قانون کی وجہ سے احمدیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے اور پھر ضیاء حکومت نے جو کہ 1977ء میں برسرِ اقتدار آئی نے 1984ء میں آرڈیننس احمدیوں کے خلاف پاس کیا جس کی وجہ سے ملک میں ایسا ہو رہا ہے۔

میموریل سپرنگ برانچ سن نے اپنی اشاعت 13 جولائی 1995ء میں ’’احمدیہ‘‘ عنوان کے تحت ایک مختصر سی خبر ہمارے جلسہ سالانہ کی دی ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ یہ 47 واں جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ کا میری لینڈ میں ہوا۔ جہاں انہوں نے حال ہی میں ایک نئی مسجد تعمیر کی ہے۔ جس کا افتتاح گزشتہ سال مرزا طاہر احمد ؒ نے کیا تھا۔

انڈیا لنک نے اپنی اشاعت اپریل 1995ء صفحہ 2 پر خاکسار کا وہ خط شائع کیا ہے جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ جو پاکستان لنک نے دو امریکیوں کے کراچی پاکستان میں قتل پر شائع کیا ہے۔

1960 East Sun نے اپنی اشاعت 26اپریل 1995ء صفحہ 7B پر اس عنوان سے خبر دیتا ہے ‘‘مسلمان عورت کا ہماری سوسائٹی میں بہت بلند مقام ہے’’ اخبار لکھتا ہے کہ یونیورسٹی آف آسٹن ٹیکساس کے احمدی مسلمان طلباء نے ایک میٹنگ کا اہتمام کیا جس کی صدارت جماعت احمدیہ کے ریجنل مبلغ شمشاد ناصر نے کی۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ عوام الناس کی سوچ کو تبدیل کیا جائے کہ اسلام میں عورت کا صحیح مقام کیا ہے۔ اس موقعہ پر مریم چوہدری نے جو کہ شکاگو سے تعلق رکھتی تھیں اور تعلیم کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ نیز منعم نعیم صاحب جو نوجوانوں کے (احمدیہ مسلم یوتھ) کے صدر ہیں نے بھی اس موقعہ پر تقاریر کیں۔ مریم چوہدری نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’عورت کا صحیح مقام‘‘ کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو سمجھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں مسلمان عورت وہی حقوق رکھتی ہے جو مرد کے حقوق ہیں۔ مسلمان عورت پر تو سوسائٹی میں اعلیٰ اخلاق کو قائم کرنے کی بڑی ذمہ داری ہے لیکچرز کے بعد سامعین نے سوالات بھی کئے۔

وائس آف ایشیا نے اپنی اشاعت 17 اپریل 1995ء میں ’’حماد ملک‘‘ جو کہ آسٹن یونیورسٹی کے ایک طالب علم تھے کے حوالہ سے ’’اسلام میں عورت کا مقام‘‘ کے عنوان پر میٹنگ کی پوری تفصیل شائع ہوئی ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ اس میٹنگ کا مقصد لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کرنا تھا کہ اسلام میں عورت کا کوئی خاص مقام اور درجہ نہیں ہے اس میٹنگ کی صدارت ریجنل مبلغ جماعت احمدیہ سید شمشاد احمد ناصر نے کی۔ اس موقع پر مریم چوہدری نے تقریر کی جو شکاگو سے تشریف لائی تھیں۔ مریم چوہدری صاحبہ فرانس سے 1963 ء میں امریکہ آکر آباد ہوئیں جہاں آپ نے اپنی تعلیم حاصل کی اور شکاگو میں تعلیم کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ ان کے علاوہ منعم نعیم صاحب جو کہ نوجوانوں کی آرگنائزیشن کے صدر ہیں نے بھی تقریر کی۔ حماد ملک صاحب نے جماعت احمدیہ کے مشن پر تفصیل سے روشنی ڈالی اس میٹنگ کے حوالہ سے انہوں نے بتایا کہ تلاوت اور ترجمہ کے بعد مکرم منعم نعیم صاحب سے جماعت احمدیہ کا تعارف میں بتایا کہ جماعت احمدیہ دنیا کے 144 ممالک میں پھیل چکی ہے۔ ان کے بعد مریم چوہدری نے ’’اسلام میں عورت کے مقام‘‘ پر تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان عورت اسی طرح حقوق رکھتی ہے جس طرح مسلمان مرد۔ آخر پر شمشاد ناصر ریجنل مبلغ نے عورت کے مقام پر ’’ماں، بیٹی، بہن اور بیوی‘‘ کے مقام پر خیالات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد سوال و جواب ہوئے۔ اس موقعہ پر کتب اور لٹریچر بھی رکھا گیا تھا احباب نے اپنی پسند کے لٹریچر اور کتب بھی حاصل کیں نیز سب کی تواضع بھی کی گئی۔

پاکستان لنک 14 اپریل 1995ء کی اشاعت صفحہ 8 پر اس عنوان سے خبر دیتا ہے

Crowd stones an Ahmadi to death in NWFP.

مجمع نے ایک احمدی کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا۔

اخبار نے پشاور کے علاقہ میں 19 اپریل کو ’’ایک احمدی کا قتل‘‘ کہ انہیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ خبر دی ہے۔ یہ واقعہ عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران پیش آیا کہ رشید اور ریاض نے شہر کے ایک آدمی دولت خان کو تبلیغ کی اور اسے احمدی بنانے کی وجہ سے پتھر مار کر ہلاک کر دیا۔ رشید تو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور ریاض کو ہسپتال لے جایا گیا۔ اس قسم کے واقعات کی بنیاد احمدیوں کے خلاف 1974ء کی اسمبلی کا قانون ہے اور اس کے بعد ضیاء حکومت کا آرڈیننس جو احمدیوں کو ان کی عبادت اور بنیادی حقوق سے محروم کرتا ہے۔

انڈو امریکن نیوز نے 3 اپریل 1995ء کو مختصر سی خبر میں بتایا کہ احمدیہ مسلم جماعت ’’امام مہدی کا دن‘‘ منا رہی ہے۔

وائس آف ایشیا نے بھی یہی خبر دی اور ہیوسٹن کرانیکل نے ’’مسیح موعود ڈے‘‘ کے حوالہ سے یہی خبر دی ہے۔

1960 West Sun نے 29 مارچ 1995ء کو صفحہ 4A پر مہمان کالم کے تحت خاکسار کا ایک خط شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے

Violence always political in nature, Missionary says.

اخبار نے لکھا کہ شمشاد احمد جو جماعت احمدیہ کے مبلغ ہیں اور پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت ساؤتھ ریجن کے انچارج ہیں۔ اخبار نے گزشتہ اور مندرجہ بالا خبر کو ہی من و عن بیان کیا ہے جس میں 2 امریکنوں کا قتل کراچی پاکستان میں ہوا ہے۔ جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔

وائس آف ایشیا نے بھی خاکسار کے اس خط کو شائع کیا ہے 20 مارچ 1995ء صفحہ 38 پر۔

انڈو امریکن نیوز نے خاکسار کا یہی خط 20 مارچ 1995ء صفحہ 21 پر شائع کیا ہے۔

پورٹ لِواکا ویو نے اپنی 18 مارچ 1995ء کی اشاعت میں خاکسار کی تصویر دے کر ہماری عید الفطر کی خبر دی ہے کہ احمدی مسلمانوں نے عیدالفطر منائی۔

انڈو امریکن نیوز نے یکم مئی 1995ء کی اشاعت میں یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن میں ایک ریلی کی خبر دی ہے جو کہ طلباء کی ایک ہیومن رائٹس کی تنظیم نے منعقد کی تھی۔ جس میں شمشاد ناصر احمدیہ مبلغ نے بھی تقریر کی۔جس میں انہوں نے احمدیہ مسلم کمیونٹی کو پاکستان میں مظالم کا نشانہ بننے کی وجوہات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں احمدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ اگر احمدی کلمہ پڑھیں یا عبادت کریں یا مسجد کو مسجد کہیں تو انہیں جیل میں بند کر دیا جائے گا۔

اخبار نے آخر میں ہماری ایک اور خبر بھی اس کے ساتھ لکھی کہ یورنیورسٹی آف ٹیکساس میں احمدیوں نے ’’اسلام میں عورت کا بلند مقام‘‘ کی تقریب بھی کی جس میں مریم چوہدری نے تقریر کی۔

پورٹ لواکا ویو نے اپنی اشاعت 13 مئی 1995ء میں اس عنوان کے تحت خبر دی۔

Texas Muslims visit with Nigerian Leaders.

ٹیکساس کے مسلمان نائیجیریا کے سیاسی لیڈر سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اخبار نے ’’مذہب‘‘ کے عنوان کے تحت ایک تصویر دی ہے جس میں نیچے لکھا ہے کہ شمشاد ناصر (درمیان میں) جو کہ ساؤتھ ریجن میں مسلمانوں کے لیڈر ہیں نے حال ہی میں نائیجیریا کے سفیر جو ان کے دائیں طرف ہیں محمد زکریا کزاوری (Kazavre) اور ان کے نائب کو جو کہ یونائیٹڈ نیشن میں ہوتے ہیں کو ہیوسٹن میں ایک ملاقات کے دوران قرآن کریم اور اسلامی اصول کی فلاسفی پیش کی۔

یو ایس ایشیا نیوز۔ 20 مئی 1995ء کی اشاعت کے پہلے صفحہ پر تصویر کے ساتھ خبر دیتا ہے کہ جماعت احمدیہ ہیوسٹن کے لوگوں نے اپنے مشن ہاؤس (سینٹر میں) عید منائی۔ یہ مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیں۔ عیدالفطر اور عید الاضحیہ۔ یہ عید 10 مئی 1995ء کو منائی گئی۔ یہاں احمدیہ جماعت کے مبلغ سید شمشاد احمد ناصر نے نماز عید (عیدالاضحیہ) پڑھائی اور خطبہ دیا۔ خطبہ عید میں انہوں نے ابراہیم کی قربانیوں کا ذکر کیا۔ یہ عید مسلمانوں کے ارکان اسلام جو کہ حج ہے کے ساتھ منسلک ہے۔ مسٹر شمشاد نے خطبہ میں حاضرین کو اپنے بچوں کی صحیح رنگ میں اسلامی طرز پر تربیت کی طرف توجہ دلائی۔

تصویر میں لوگ نماز عید پڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور ان کے پیچھے کلمہ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ مع انگریزی ترجمہ کے بینرپر لکھا ہوا نمایاں ہے۔

دی لیڈر اخبار نے اپنی 25 مئی 1995ء کی اشاعت میں چرچ نیوز کے عنوان سے Ahmadiyya Movement لکھ کر خبر دی کہ شمشاد جو کہ احمدیہ جماعت کا ہیوسٹن میں مبلغ ہے نے آسٹن یورنیورسٹی میں ہیومن رائٹس کی ریلی سے خطاب کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کی کمیونٹی پر پاکستان میں ناروا ظلم کیا جا رہا ہے اور اس وقت وہ لوگوں کو صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس وقت یہ ہو رہا ہے کہ احمدیوں کو پاکستان میں ان کے بنیادی حقوق سے بالکل محروم رکھا جارہا ہے جن میں آزادی، امن اور اپنے مذہب کی باتوں پر عمل کرنے میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔
اس خبر کے آخر میں اخبار نے ہماری عید الاضحیہ کی خبر بھی شائع کی ہے۔

ہیوسٹن کرانیکل 27 مئی 1995ء صفحہ 2E پر 3-4 جون کو جماعت احمدیہ کی ہیوسٹن شہر میں خدام و اطفال کے ریجنل اجتماع کے انعقاد کی خبر دیتا ہے۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ ٹیکساس کے علاوہ اکلوہوما، فلوریڈا اور لوذیانا سے بھی نوجوان اس میں شرکت کریں گے۔ اجتماع میں سید شمشاد احمد ناصر، منعم نعیم اور ناحیل احمد تقاریر کریں گے۔ اجتماع میں نمازیں اور علمی مقابلہ جات بھی ہوں گے۔

دی پورٹ لواکا ویو نے بھی 27 مئی 1995ء کی اشاعت میں صفحہ5 پر ہماری عید الاضحیہ کی خبر تصویر کے ساتھ دی ہے۔ تصویر میں احباب نماز عید ادا کر رہے ہیں جبکہ پیچھے کلمہ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ انگریزی ترجمہ کے ساتھ ہے۔ تصویر کے نیچے اخبار نے عید الاضحیہ کے بارے میں شمشاد احمد ناصر کے خطبہ کے بارے میں اور بچوں کی صحیح تربیت کرنے کے بارے میں لکھا ہے۔

انڈو امریکن نیوز اپنی اشاعت 29 مئی 1995ء پر ایک تصویر کےساتھ خبر شائع کرتا ہے۔ تصویر میں خاکسار نائیجیریا کے امریکہ میں سفیر محمد زکریا کورے کو قرآن کریم پیش کر رہا ہے۔

خبر میں لکھا ہے کہ شمشاد احمد جماعت احمدیہ کے مبلغ نے ایمبیسڈر آف نائیجیریا کو جو امریکہ میں ہیں کی خدمت میں ہاؤسا زبان میں قرآن کریم پیش کیا اور جماعت احمدیہ کی خدمات کو اس موقعہ پر بیان کیا۔ خصوصیت کے ساتھ نائیجیریا میں تعلیمی اور طبی میدان میں جماعت کی خدمات کو بیان کیا۔ اس کے ساتھ ہی نیچے اخبار نے مزید لکھا کہ جماعت احمدیہ نے حال ہی میں اپنے سینٹر میں عیدا لاضحیہ بھی منائی ۔

وائس آف ایشیا نے 29 مئی 1995ء صفحہ 33 پر ہماری دو خبریں ایک ساتھ شائع کی ہیں۔ پہلی خبر میں دو تصاویر جن میں عید الاضحیہ کے موقع پر احباب عید کی نماز پڑھتے نظر آرہے ہیں اور دوسری تصویر میں خاکسار خطبہ عید دے رہا ہے۔ کلمہ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ مع انگریزی ترجمہ بھی نمایاں ہے۔ تیسری تصویر میں خاکسار نائیجیریا کے سفیر کو ہاؤسا زبان میں قرآن کریم تحفہ دے رہا ہے۔

خبر میں بتایا گیا ہے احمدی مسلمانوں نے 10 مئی کو اپنے سینٹر میں عید الاضحیہ منائی۔ مسٹر ناصر نے خطبہ عید میں بتایا کہ حج ایک اہم رکن اسلام ہے اور لوگ حج کے لئے مکہ جاتے ہیں اور یہ عید حج کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے روحانی سفر کو خدا کی طرف جاری رکھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب انسان اپنی نفسانی خواہشات کو چھوڑ کر کلیۃً خدا کا ہو جائے ۔ نماز اور خطبہ عید کے بعد قرآن کریم کی مختلف زبانوں میں پبلک کے لئے نمائش بھی لگائی گئی تھی۔

ہیوسٹن کرانیکل نے 31 مئی 1995ء صفحہ 15 پر کمیونٹی نیوز کے تحت خدام و اطفال کے چوتھے سالانہ اجتماع کے بارے میں خبر لگائی ہے جو کہ 3-4 جون کو ہونا ہے۔ جس میں نماز تہجد باجماعت، پانچوں نمازیں، درس القرآن، درس حدیث (ﷺ) اور ملفوظات حضرت مسیح موعودؑ سے درس بھی دیا جائے گا۔ اس موقعہ پر سید شمشاد احمد ناصر، منعم نعیم اور ناحیل محمود تقاریر کریں گے۔

اس کے نیچے دوسری خبر بھی لگائی ہے کہ ریجنل خلافت ڈے بھی منایا جائے گا جس میں شمشاد احمد ناصر اور انور محمود خان تقریر کریں گے۔ خدام کے بارے میں بھی معلومات دی گئی ہیں کہ یہ آرگنائزیشن جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے بنائی تھی یہ تنظیم نوجوانوں کے روحانی اور علمی استعدادوں کو بڑھانے کے لئے بنائی گئی تھی۔

دی لیڈر اخبار نے یکم جون 1995ء کی اشاعت میں صفحہ 17 پر ’’احمدیہ موومنٹ اِن اسلام‘‘ کے تحت خبر دی ہے کہ خدام و اطفال کی تنظیم اپنا چوتھا سالانہ ریجنل اجتماع منعقد کر رہے ہیں۔ خبر میں مندرجہ بالا باتوں کو ہی بیان کیا گیا ہے کہ درس ہوں گے، نمازیں ہوں گی، علمی مقابلہ جات ہوں گے۔ اجتماع میں تقاریر کرنے والے شمشاد احمد ناصر، منعم نعیم اور ناحیل محمود ہوں گے۔ اسکے بعد اخبار نے نیچے دوسری خبر ہماری عید الاضحیہ کی دی ہے۔

وائس آف ایشیا نے بھی صفحہ 41 پر یہی خبر چوتھے ریجنل اجتماع خدام و اطفال الاحمدیہ کی لگائی ہے۔

پاکستان لنک نے 2 جون 1995ء کی اشاعت میں خاکسار کا ایک مضمون شائع کیا ہے جس کا عنوان یہ ہے

Our Impotence in Bosnia.

یعنی بازنیا سے متعلق ہماری کمزوری اور بے بسی کی حالت

اس مضمون میں خاکسار نے بازنیا میں جو ظلم و ستم ہو رہا تھا کے بارے میں اپنے خیالات کا اور جو امن کے لئے غلط پالیسی بنائی گئی تھی اس کا اظہار کیا گیا ہے۔

یو ایس ایشیا نیوز نے اپنی 3 جون 1995ء کی اشاعت میں ہمارے ریجنل چوتھے سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ کے انعقاد کی خبر دی ہے۔ اس خبر میں اخبار نے ہماری ساری تنظیموں کے بارے میں لکھا ہے کہ خدام الاحمدیہ کیا ہے؟ اسی طرح انصار اللہ، اطفال الاحمدیہ، ناصرات الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ کے بارے میں بھی بتایا ہے اور حضرت مصلح موعود ؓ نے ان سب تنظیموں کو قائم کیا تھا اور ان تنظیموں کے قائم کرنے کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے تا یہ سب تنظیمیں اپنے اپنے دائرہ میں اپنے ممبرز کو روحانی اور علمی استعدادوں کے بڑھانے کے لئے کام کریں اور قوم و ملت اور ملک کے لئے بہترین وجود بنیں۔ اس اجتماع میں آسٹن ،کالج سٹیشن، فلوریڈا، ڈلس، ہیوسٹن، نیوآرلینز اور تلسہ سے لوگ شامل ہوں گے۔ اجتماع کے پروگرام میں نماز تہجد، پانچوں نمازیں، درس قرآن و حدیث اور ملفوظات سے دیا جائے گا۔ علمی و ورزشی مقابلہ جات بھی منعقد ہوں گے۔اس موقعہ پر سید شمشاد احمد ناصر ریجنل مبلغ جماعت احمدیہ ، منعم نعیم صدر خدام الاحمدیہ امریکہ اور ناحیل محمود ریجنل قائد خدام الاحمدیہ تقاریر کریں گے۔

دی ہیوسٹن بینچ نے جون 1995ء کی اشاعت میں ایک تصویر مع مختصر خبر کے شائع کی ہے۔ تصویر میں خاکسار نائیجیریا کے ایمبیسڈر کو ہاؤسا زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ پیش کر رہا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ زومانتا ایسوسی ایشن کی میٹنگ کے موقع پر قرآن کریم کا تحفہ ایمبیسڈر کو دیا گیا ہے۔

ہیوسٹن کرانیکل نے 3 جون 1995ء کی اشاعت صفحہ 37A پر خاکسار کا مضمون بازنیا کی نازک حالت کے موقع پر شائع کیا۔ جس کا عنوان اخبار نے یہ لگایا۔

It is “Too Little, too late.’’

یعنی بازنیا کے لئے جو کچھ بھی کیا گیا یہ بہت ہی تھوڑا ہے اور بہت دیر سے کیا گیا ہے۔ بلکہ اوپر ایک کارٹون بھی اخبار نے بنا کر لگایا ہے۔ جس میں ایک بڑی قبر بنائی گئی ہے اور کتبہ پر بازنیا لکھا گیا ہے۔ ایک آدمی کی شکل ہے جس میں اس نے منہ پر ماسک لگا یا ہوا ہے اوراس کی شکل پر لکھا ہوا ہے ’’The West‘‘ یعنی مغربی اقوام۔ اس کا ایک ہاتھ قبر کی طر ف ہے اور دوسرے ہاتھ میں اس نے ابتدائی طبی امداد کا چھوٹا سا بیگ پکڑا ہوا ہے اور وہ کہہ رہا ہے۔

I am sorry for the delay.

افسوس کہ میں دیر سے آیا ہوں۔

اس تصویر میں بازنیا کی قبر کے ساتھ مٹی دکھائی گئی ہے اور شیول بھی جس سے مٹی ڈالی جاتی ہے۔

1960 East Sun نے 7 جون 1995ء پر ایک تصویر کے ساتھ مختصراً خبر لگائی ہے جس میں خاکسار نائیجیریا کے ایمبیسڈر کو ہاؤسا زبان میں قرآن شریف پیش کر رہا ہے۔

دی لیڈر اخبار نے 8 جون 1995ء صفحہ 19 پر ایک تصویر کےساتھ مختصراً خبر دی ہے۔ خبر کا عنوان ہے

A Holy Presentation.

پاکیزہ اور مقدس تحفہ

تصویر میں خاکسار نائیجیریا کے سفیر آنریبل محمد زکریا کورے کو ہاؤسا زبان میں قرآن کریم کا تحفہ پیش کر رہا ہے۔

وائس آف ایشیا کی 12 جون 1995ء کی اشاعت میں خاکسار کا وہی مضمون ایڈیٹر کے نام خط کے طور پر شائع ہوا ہے جس میں بازنیا کی حالت زار اور مغربی اقوام کی بے حسی اور جو کچھ انہوں نے ظلم ہوتے دیکھ کر وقت پر مدد نہ کرنے کی بات کو بیان کیا گیا ہے۔

انڈو امریکن نیوز نے 12 جون 1995ء کی اشاعت میں چوتھے ریجنل اجتماع خدام الاحمدیہ کے انعقاد کی مختصراً خبر دی ہے۔

1960 East Sun نے اپنی اشاعت 14 جون 1995ء صفحہ7 پر ایک تصویر کےساتھ جس میں احباب جماعت ہیوسٹن عید الاضحیہ کی نماز عید ادا کر رہے ہیں کے ساتھ یہ خبر لگائی ہے کہ ‘‘مسلمان سالانہ حج کر رہے ہیں’’ اس خبر میں حج کے بارے میں اور قرآن کریم کی نمائش کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

٭…٭…٭

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اکتوبر 2020