• 1 دسمبر, 2020

اقوال و افکار

مدیر کے قلم سے
اقوال و افکار
حاصل مطالعہ (قسط سوم۔)

ایمانداری:اگر آپ نے ایمانداری اور محنت کو اپنا شعار کرلیا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کو منزل پر پہنچنے سے نہیں روک سکتی ۔یہ منزل چاہے زیر زمین کوئی راز ہو یا بغیر پروں کے آسمان کی پرواز ہو۔
خامیاں خوبیاں:انسان سے لے کر بے جان چیزوں تک میں خالص نا خالص کا فرق موجود ہے اگر آپ پانی ملے دودھ کو خالص دودھ نہیں کہتے تو دودھ ملے پانی کو کس طرح خالص پانی کہہ سکتے ہیں؟ یہی فرق نیک اور بد میں ہے۔ دودھ خراب ہو تو تھوڑی دیر بعد پھٹ جاتا ہے جبکہ خالص دودھ سے کشید شدہ مکھن خراب نہیں ہوتا۔ نیکی بھی اپنی انتہا تک نیکی رہتی ہے۔

دانت عیب دار ہوں تو ہونٹوںکو بند رکھا جاتا ہے تاکہ نظر نہ آئیں۔ اپنی زبان کو بند رکھیں گے تو حماقت کے بہت سے عیوب چھپے رہیں گے۔

انتہا پسندی:حد اعتدال سے کبھی باہر مت نکلیں ورنہ بکھر جائیں گے آخر وحشی سمندر کا بے پایاں پانی بھی تو کناروں کے اندر بہتا ہے۔

حقوق و فرائض:زندگی کو آپ محض انفرادی طور پر اپنا سمجھ کر نہیں گزار سکتے۔ اس میں بہت سے لوگوں کا حصہ اور حقوق شامل ہوتے ہیں اگر آپ نے اپنے حصے کے حقوق وفرائض کو رَد کردیا تو زندگی آپ کو رَد کردے گی۔

علم: علم کی قیمت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ ایک جاہل کروڑ پتی کروڑوں روپے دے کر بھی علم کا ایک لفظ نہیں خرید سکتا جبکہ ایک پڑھا لکھا غریب آدمی لفظوں کے زور پر کروڑ پتی بن سکتا ہے۔

علم جہاں سے بھی ملے ، جتنا بھی ملے، جب بھی ملے اور جس سے بھی ملے حاصل کرلیں کیونکہ اس کی تحصیل و تکمیل کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ یہ دائم رواں دواں چشمہ ہے۔ یہ بیساکھی کی مانند ہے جو آپ کو کسی بھی لمحے، کسی بھی سطح پر گرنے نہیں دیتا۔

وقت:وقت بھی انسان کی طرح جاندار ہے وہ انسان سے بدلہ لیتا ہے اگر آپ اسے ضائع کریں گے تو وہ بھی آپ کو ضائع کردے گا۔

وقت کی دولت کا جو blank چیک آپ کے پاس ہے اسے احتیاط سے اور بر وقت خرچ کریں کیونکہ وہ آپ کے کیش کرائے بغیر بھی کیش ہورہا ہے۔

محاورہ ہے وقت ایک دولت ہے میں کہتی ہوں وقت دولت سے بھی زیادہ قیمتی ہے کیونکہ اگر آپ کے پاس وقت ہے تو آپ اس سے دولت کے انبار پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کے برعکس آپ کے پاس اگر دولت کے انبار موجود ہیں تو آپ اس سے گزرا ہوا یا آنے والے وقت کا ایک لمحہ بھی نہیں خرید سکتے۔

غصہ:کہتے ہیں عقل مند کی پہچان غصے کے وقت ہوتی ہے میں کہتی ہوں جو عقل مند ہوتا ہے وہ غصہ کرنے کی حماقت ہی نہیں کرتا۔

بے جا غصہ احساس کمتری کی اولاد نرینہ ہے۔

صلاحیت و قابلیت:آنکھیں سب رکھتے ہیں نظر کسی کسی میں ہوتی ہے۔

جتنی صلاحیت و قابلیت آپ میں ہے آپ کو اس کا اتنا ہی تول کر ثمر عطا کیا جائے گا نہ تو تولہ کم نہ ماشہ زیادہ یہ وہ حساب ہے جس میں دونوں دنیاؤں میں ڈنڈی نہیں ماری جاتی۔

زندگی ہمیں خوبصورت کپڑے کے تھان کی طرح ملی ہے اس کی مناسب کتر بیونت، فِٹنگ اور حفاظت ہم نے خود کرنی ہے۔

غرور و مان:غرور احساسِ کمتری کی اولاد ہے۔

اگر ہر انسان انفرادی طور پر خود آگاہ ہوجائے اور اپنی بڑائی یا اچھائی پر خود ہی اعتبار کرلے تو وہ بڑا ہونا شروع ہوجاتا ہے لیکن اس کی رفعتوں اور عظمتوں کا قد تب بڑھے گا جب اسکی خود آگہی اور ذاتی بڑائی کا تصور مثبت اور عاجزانہ ہو، فرعونانہ اور مجنونانہ نہ ہو۔

تقدیر و تدبیر:آپ اپنی کامیابی کے لئے اپنی شخصیت، فن ، صلاحیت اور ذہانت کو تبھی کیش کراسکتے ہیں جب آپ کو تائیدِ ربی حاصل ہو۔

یاد رکھیے:آپ کے ساتھ اس وقت تک کوئی دشمنی نہیں کرسکتا جب تک کہ آپ کسی کے ساتھ گہری دوستی نہیں کرتے۔

لٹریچر:آپ کی تحریر و تقریر آپ کے اندر کی اِملا ہے۔ اِ ملا دینے والے کی راستی کا خیال رکھیئے۔

جس طرح شیشے ، لکڑی یا کسی بھی چیز کے ٹوٹنے سے آواز پیدا ہوتی ہے یا ابلتے ہوئے گرم پانی کی گونج سنائی دیتی ہے اسی طرح تحریریں بھی لکھاریوں کے شکستہ دلوں کی آواز ہوتی ہیں۔ بغیر شکستگی یا ابال کے کسی چیز سے آواز کس طرح برآمد ہوسکتی ہے؟

دعا:دعامانگنا رب العالمین کے دررحمت پر دستک دینا ہے اور دروازہ کھٹکھٹانے میں کیا حرج ہے ظاہر ہے کھٹکھٹایا جائے گا تو کھولا بھی جائے گا۔

دھوکہ اور فریب:جس طرح تمام تر سائنسی عروج کے باوجود کسی آدمی کے چھوٹے قد کو طویل القامت نہیں بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی غیر معمولی تیزی سے بڑھتے ہوئے قد کو روکا جاسکتا ہے اسی طرح آپ اپنے یا کسی کے کردار کے قد کو بھی چھوٹا بڑا نہیں کرسکتے۔

آزادی:یاد رکھیئے آزادی کی تڑپ کو کچلنے کا ارادہ رکھنے والی یا کچل ڈالنے والی ظالم قومیں کبھی مظلوم قوموں کے اجسام کو ظلم و ستم کا نشانہ بناکر اُن میں سےآزادی کی روح اور روح کی آزادی کو ختم نہیں کرسکتیں اگر ایسا ہوتا تو دنیا سے آزادی کے مطالبات اور تحریکیں کب کی ختم ہوچکی ہوتیں مگر اگر صدیوں سے ایسا نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے روح کی آزادی کا جسمانی طور پر فنا ہوجانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جذبے کا تعلق روح سے ہوتا ہے اور روح کو فنا نہیں ہے۔

قناعت:یادرکھیئے آپ کے پاس دولت جتنی بڑھتی جائے گی اسی مقدار و رفتار سے قناعت میں کمی آتی جائے گی جُوں جُوں قناعت کے جذبے میں امیر ہوتے جائیں گے دولت کی مقدار بے معنی ہوتی جائے گی۔

جُرم:جُرم کسی بھی قسم کا ہو ذہنی معذوری کا نام ہے۔

جُرم چھپانا جُرم کرنے کی نسبت زیادہ بڑا جرم ہے کیونکہ براہ راست جُرم کرنے کا موقع بہت کم ملتا ہے۔

خاموشی:خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے بعض اوقات چپ رہنا بولنے سے زیادہ زود اثر اور مفید ہوتا ہے۔

فن:فن من میں ہوتا ہے۔ زمانہ صرف موقع فراہم کرتا ہے۔

وکالت:جس طرح وکیل کے لئے دلیل دے کر جیت جانا یقینی امر نہیں ہے اسی طرح دلیل دینے کے لئے آپ کا وکیل ہونا بھی ضروری نہیں ہے ۔اگر آپ کی دلیل میں وزن اور سوچ میں توازن ہے تو آپ جیت سکتے ہیں۔

تجربات و مشاہدات:کسی تک اپنا مافی الضمیر فوری اور مؤثر انداز میں پہنچانا مقصود ہو تو ٹیلی گرام کی طرح مختصر الفاظ استعمال کیجیئے۔

طولِ کلام سے بچو۔ ہماری 80 فیصد پریشانیاں ہماری اپنی زبان کی پیداوار ہیں۔

متفرقات:اگر آپ کی شخصیت کا اپنا کوئی مخصوص رنگ ہے تو اُس پر کوئی دوسرا رنگ ہرگز نہیں چڑھ سکتا اور اگر آپ کسی دوسرے کے رنگ میں رنگے گئے ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ کا اپنا کوئی رنگ ہی نہ تھا۔

کیمرے کی آنکھ سے ڈرو کیونکہ اس میں حیا نہیں ہوتی۔

صد افسوس لوگ دریاؤں پہاڑوں سے موتی سونا نکالنے میں لگے رہتے ہیں ان کے من میں جو مائع سونا بہہ رہا ہے اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 نومبر 2020