• 4 فروری, 2023

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 11؍نومبر 2022ء

خلاصہ خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍نومبر 2022ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یو کے

آنحضرت صل الله علیہ و سلم کی وفات پر آپؐ کی تدفین کے بعد حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کے اشعار یہ بیان کئے جاتے ہیں: (ترجمہ) اَے آنکھ تجھے سیّد دو عالَم ؐ پر رونے کے حق کی قسم! تُو روتی رہ اور اب تیرے آنسو کبھی نہ تھمیں۔۔۔ اَے آنکھ خندف (یعنی قبیلۂ قریش) کے بہترین فرزند پر آنسو بہا جو کہ شام کے وقت لحد میں چھپا دیئے گئے ہیں۔۔۔ پس بادشاہوں کے بادشاہ، بندوں کے والی اور عبادت کرنے والوں کے ربّ کا آپؐ پر درود ہو۔۔۔ پس حبیب کے بچھڑ جانے کے بعد اب کیسی زندگی، دس جہانوں کو زینت بخشنے والی ہستی کی جدائی کے بعد کیسی آراستگی۔۔۔ پس جس طرح ہم سب زندگی میں بھی ساتھ ہی تھے، کاش! موت بھی ہم سب کو ایک ساتھ گھیرے میں لے لیتی

حضور انور ایدہ الله نے تشہد، تعوذ اور سورۃالفاتحہ کی تلاوت کے بعد ارشاد فرمایا! حضرت ابوبکر صدیق رضی الله تعالیٰ عنہ کا ذکر ہو رہا تھا، آپؓ کی سیرت کا کچھ بیان ہوا تھا، اِس بارہ میں جو روایات ہیں اُن میں یہ بھی ہے کہ آپؓ ماہر حسب و نسب اور شعری ذوق بھی رکھنے والے تھے۔

ماہر حسب و نسب

آپؓ لوگوں میں سب سے زیادہ اہل عرب کے حسب و نسب کو جاننے والے تھے۔ فن علم الانساب میں کمال تک پہنچے ہوئے جُبیرؓ بن مُطعم نے کہا:مَیں نے نسب کا علم حضرت ابوبکرؓ سے سیکھا ہے، خاص طور پر قریش کا حسب و نصب ، کیونکہ آپؓ قریش میں سے اُن کےحسب و نسب اور جو اچھائیاں اور برائیاں اُن کے نسب میں تھیں اُن کا آپؓ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور آپؓ اُن کی برائیوں کا تذکرہ نہیں کرتے تھے۔

اہل مکہ کے نزدیک بہترین لوگوں میں سے

اہل مکہ کے نزدیک آپؓ اُن کے بہترین لوگوں میں سے تھے چنانچہ جب بھی اُنہیں کوئی مشکل پیش آتی تو آپؓ سے مدد طلب کرتے۔

اِن اشعار کے پیچھے ابوبکر کی رہنمائی اور مشورہ شامل ہے

جب شعراءِ قریش نے آنحضرتؐ کی ہَجْو میں اشعار کہے تو حضرت حسّانؓ بن ثابت کے سپرد یہ خدمت ہوئی کہ وہ اشعار میں ہی اُن کی ہَجْو کا جواب دیں۔ حضرت حسّانؓ جب بخدمت آنحضرتؐ حاضر ہوئے تو آپؐ نے اُنہیں فرمایا! تم قریش کی ہَجْو کیسے کہو گے جبکہ مَیں خود بھی قریش میں سے ہوں؟ اِس پر اُنہوں نے عرض کیا: یا رسول اللهؐ! مَیں آپؐ کو اُن سے ایسے نکال لوں گاجیسے آٹے یا مکھن سے بال۔ آپؐ نے فرمایا! تم ابوبکر کے پاس جاؤ اور اُن سے قریش کے نصب کے بارہ میں پوچھ لیا کرو۔حضرت حسّان کہتے پھر مَیں اشعار لکھنے سے پہلے بخدمت حضرت ابوبکرؓ حاضر ہوتا اور وہ میری قریش کے مَردوں اور عورتوں کے بارہ میں رہنمائی فرماتے۔ چنانچہ جب حضرت حسّان کے یہ اشعار مکہ جاتے تو مکہ والے کہتے کہ اِن اشعار کے پیچھے ابوبکر کی رہنمائی اور مشورہ شامل ہے۔

عربوں کی باہم جنگوں کی تاریخ کے بہت بڑے عالِم

حضرت ابوبکرؓ علم الانساب کی طرح ایّام عرب یعنی عربوں کی باہم جنگوں کی تاریخ کے بھی بہت بڑے عالِم تھے۔

شعری ذوق

حضرت ابوبکرؓ باقاعدہ شاعر تو نہ تھے لیکن شعری ذوق خوب تھا۔ آپؓ کے سیرت نگاروں نے یہ بحث اُٹھائی ہے کہ آپؓ نے باقاعدہ طور پر شعر کہےتھے یا نہیں اور کچھ سیرت نگاروں نے نفی کی ہے کہ آپؓ نے اشعار کہے ہوں گے البتّہ بعض سیرت نگاروں نے آپؓ کے کچھ اشعار کا بھی ذکر کیا ہے۔ اِسی طرح آپؓ کے اشعار پر مشتمل 25 قصائد پر مشتمل ایک مخطوطہ، جو کہ ترکی کے کتب خانہ سے دستیاب ہوا ہے، بیان کیا جاتا ہے کہ یہ آپؓ کے اشعار ہیں۔ اِس میں کسی لکھنے والے نے یہاں تک لکھا ہے کہ مجھے اِن اشعار کی آپؓ کی طرف نسب کی تصدیق الہامی طور پر ہوئی ہے۔ طبقات ابن سعدؒ اور سیرت ابن ہشّامؒ نےیہی لکھا ہے کہ آپؓ نے کچھ اشعار کہے تھے۔

سب سے بڑھ کر اپنی رفاقت اور مال کے ذریعہ نیکی کرنے والا

حضرت ابوسعید خُدریؓ نے بیان کیا: نبیؐ نے فرمایا! الله تعالیٰ نے ایک بندہ کو اختیار دیا ہے دنیا کا یا اُس کا جو اِس الله کے پاس ہے تو اُس نے جو الله کے پاس ہے اُس کو پسند کیا۔ اِس پر حضرت ابوبکرؓ رو پڑے تو مَیں نے اپنے دل میں کہا: اِس بزرگ کو کیا بات رُلا رہی ہے؟ اگر الله تعالیٰ نے بندہ کو دنیا یا جو اُس کے پاس ہے پسند کرنےکے متعلق اختیار دیا ہے تو پھر اِس نے جو الله عزوجل کے پاس ہے اُسے چن لیا ہے تو رسول اللهؐ ہی وہ بندے تھے اور حضرت ابوبکرؓ ہم سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا! ابوبکر مت رو، یقینًا تمام لوگوں میں سب سے بڑھ کر مجھ سے نیکی کرنے والا، اپنی رفاقت اور اپنے مال کے ذریعہ ابوبکر ہی ہے۔ اگر مَیں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بنانے والا ہوتا تو مَیں ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی برادری اور محبّت ہی ہے، مسجد میں کوئی دروازہ نہ رہے مگر بند کر دیا جائے سوائے ابوبکر کے۔ دروازہ کی تشرح بیان کرتے ہوئےحضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام فرماتے ہیں۔ اِس میں یہی سرّ ہے کہ مسجد چونکہ مظہر اسرار الٰہی ہوتی ہےاِس لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی طرف یہ دروازہ بند نہیں ہو گا۔

مجموعۃ الفراستین

آپؑ فرماتے ہیں۔ یہ بات نہیں کہ اور صحابہ محروم تھے بلکہ ابوبکر کی فضیلت وہ ذاتی فراست تھی جس نے ابتداء میں بھی اپنا نمونہ دکھایا اور انتہاء میں بھی، گویا ابوبکر کا وجود مجموعۃ الفراستین تھا۔ حضرت ابوبکرؓ صاحب تجربہ اور صاحب فراست لوگوں میں سے تھے۔۔۔ آپؓ مصائب پر صبر کرنے والے اور صاحب ریاضت تھے، پس الله تعالیٰ نے آپؓ کو اپنی آیات کے مُورِد صل الله علیہ و سلم کی رفاقت کے لئے چُنا اور آپؓ کے صدق و ثبات کے باعث آپؓ کی تعریف کی، یہ اشارہ تھا اِس بات کاکہ آپؓ رسول اللهؐ کے پیاروں میں سے سب سے بڑھ کر ہیں۔

رسول اللهؐ کے بعد سب سے بڑےمُعبّر

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کو تعبیر الرؤیاء کا فن بھی بہت آتا تھا، علم تعبیر میں آپؓ بڑا ملکہ رکھتے تھے، علم تعبیر میں آپؓ کو سب سے زیادہ فوقیت حاصل تھی یہاں تک کہ حضور سرور کائنات ؐ کے عہد مبارک میں آپؓ خوابوں کی تعبیر بتایا کرتے تھے۔امام محمدؒ بن سیرین فرماتے ہیں: رسول اللهؐ کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ سب سے بڑے مُعبّرتھے۔

مَردوں میں سب سے پہلا مسلمان کون تھا؟

اِس بارہ میں یہی کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اپنی تصنیف سیرت خاتم النبیینؐ میں سب سے پہلےنبی کریمؐ پر کون ایمان لایا تھا پربحث کرتے ہوئے تفصیلی نوٹ لکھا ہے نیز حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کو مسلّمہ طور پر مقدّم اور سابق بالایمان قرار دیا ہے۔

مخالف بھی نیکی اور اخلاق فاضلہ کے قائل

حضرت المصلح الموعودؓ بیان فرماتے ہیں۔ ابوبکر رضی الله عنہ جیسا انسان جس کا سارا مکہ ممنون احسان تھا، وہ جو کچھ کماتے تھے غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کر دیتے ۔ آپؓ ایک دفعہ مکہ کو چھوڑ کر جا رہے تھے کہ ایک رئیس آپؓ سے راستہ میں ملا اور اُس نے پوچھا: ابوبکر تم کہاں جا رہے ہو؟ آپؓ نے فرمایا! اِس شہر میں اب میرے لئے امن نہیں ہے، مَیں اب کہیں اور جا رہا ہوں۔ اُس نے کہا: اگر تمہارے جیسا نیک آدمی شہر سے نکل گیا تو شہر برباد ہو جائے گا، مَیں تمہیں پناہ دیتا ہوں تم شہر چھوڑ کر نہ جاؤ۔۔۔ یہ آپؓ کے تقویٰ اور طہارت کا کتنا زبردست ثبوت ہے کہ محمد رسول اللهؐ کے وہ شدید دشمن تھے اور آپؐ کو گالیاں بھی دیا کرتے تھے لیکن ابوبکر رضی الله عنہ کی پاکیزگی کے وہ اتنے قائل تھے کہ اُس رئیس نے کہا کہ آپ کے نکل جانے سے شہر برباد ہو جائے گا۔

امامت نماز

نبی کریمؐ کی عدم موجودگی جن چند احباب کو مسجد نبویؐ میں نماز پڑھانے کی سعادت نصیب ہوئی اُن میں حضرت ابوبکرؓ بھی ہیں اور آپؓ کی ایک خصوصی سعادت یہ بھی ہے کہ آنحضرتؐ کے آخری ایّام میں بالخصوص آپؐ کے ارشاد کے مطابق نمازیں پڑھانے کی سعادت میسر آئی۔

شفقت اولاد

حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کو اپنی اولاد سے بہت محبّت تھی، آپؓ اپنے قول و عمل سے اکثر اِس بات کا اظہار بھی کرتے رہتے۔ بڑے صاحبزادے عبدالرحمٰنؓ الگ مکان میں رہتے تھے لیکن اُن کے گھر کا خرچ آپؓ نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ آپؓ کی بڑی صاحبزادی حضرت اسماء رضی الله عنہا کی شادی حضرت زُ بیرؓ بن العوام سے ہوئی تھی، وہ شروع شروع میں بہت تنگ دست تھے گھر میں کوئی خادمہ رکھنے کی مقدرت نہ تھی اِس لئے حضرت اسماءؓ کو بہت کام کرنا پڑتا، وہ آٹا گوندھتیں، کھانا پکاتیں، پانی بھرتیں، ڈول سیتیں اور کافی فاصلہ سے کھجور کی گٹھلیاں اپنے سَر پر لاد کر لاتیں یہاں تک کہ گھوڑے کو چارہ بھی کھلاتیں۔ آپؓ کو جب اِن حالات کا علم ہوا تو ایک خادم بھیجا جو گھوڑے کو چارہ کھلاتا اور اُس کی دیکھ بھال کرتا۔ حضرت اسماء ؓ کہتی ہیں خادم بھیج کر گویا ابّا جان نے مجھے آزاد کر دیا ہے۔ حضرت عبدالله بن ابوبکر رضی الله عنہما نے اپنی بیوی عاتکہ سے محبّت کی وجہ سے جہاد پر جانا چھوڑ دیا تھا، حضرت ابوبکرؓ یہ برداشت نہ کر سکتے تھے، اُنہوں نے بیٹے کو حکم دیا کہ تم نے بیوی کی وجہ سے جہاد پر جانا چھوڑ دیا ہے تو اُسے طلاق دے دو۔ اُنہوں نے حکم کی تعمیل تو کر دی لیکن عاتکہ کے فراق میں بڑے پُر درد اشعار کہے۔ آپؓ کے کانوں تک یہ اشعار پہنچے تو آپؓ کا دل پسیج گیا اور حضرت عبدالله رضی الله عنہ کو رجوع کرنے کی اجازت دے دی۔ حضرت براءؓ نے بیان کیا کہ مَیں حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ اُن کے گھر والوں کے پاس اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ اُن کی بیٹی عائشہؓ لیٹی ہوئی ہیں، اُنہیں بخار ہو گیا تھا، مَیں نے دیکھا کہ آپؓ نے حضرت عائشہؓ کے رخسار پر بوسہ دیا، اُن کی طبیعت پوچھی اور کہا! اَے میری بیٹی تم کیسی ہو۔

خطبۂ ثانیہ سے قبل: حضور انور ایدہ الله نے ارشاد فرمایا کہ یہ ذکر اِنْ شَآءَ اللّٰهُ آئندہ بھی بیان ہو گا کچھ۔

(قمر احمد ظفر۔ نمائندہ الفضل آن لائن جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 نومبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی