• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

معروف مجددینِ اُمت محمدیہؐ۔ تعارف اور خدمات

اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی کے سر پر ایسے لوگ کھڑا کرتا رہے گا جو اس کے دین کی تجدید کرتے رہیں گے۔ (حدیث نبویؐ)

پہلی صدی نبوت اور خلافت کی صدی ہے۔ بعد کی ہر صدی میں سے ایک دو بزرگوں کا انتخاب کیا گیاہے۔ 12 صدیوں کے روشن ستارے

آنحضرت ﷺ نےہر صدی کے سرپر ایسے مجددین کی پیشگوئی فرمائی ہے جو خدا تعالیٰ کی نصرت سے کھڑے ہو کر دینِ اسلام کی تجدید کریں گے اور امت کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کے لئے سرگرم ہوں گے۔ چنانچہ پہلی اور دوسری صدی کے سنگم سے یہ سلسلہ جاری ہوا اور حضرت مسیح موعودؑ تک جاری رہا اور ہزار ہا بزرگان نے مختلف خطوں اور وقتوں میں خدمات سرانجام دیں اور ایک ہی وقت میں مختلف مجددین مختلف علاقوں میں خدمت کر رہے تھے۔ اب یہی کام خلافت احمدیہ منہاج نبوت پر عالمگیر سطح پر کر رہی ہے۔مسیح موعودکے علاوہ کسی اور مجدد کےلئے دعویٰ ضروری نہیں تھااور نہ ہی ان پر ایمان لانے کی ہدایت تھی اس لئے محض چند ایک کا دعویٰ ملتا ہے اور مختلف لوگوں نے اپنے ذوق اور تحقیق کے مطابق کئی بزرگوں کو مجدد قرار دیا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں نواب صدیق حسن خان صاحب نے13 صدیوں کے مجددین کی ایک فہرست تیار کی جس میں ہر صدی کے فتنوں اور ان کا قلع قمع کرنے والے ایک سے زیادہ بزرگوں کا ذکر تھا (حجج الکرامہ ص 135 تا 139)۔ یہی فہرست ملک عبدالرحمان خادم صاحب نے انہی کے حوالے سے اپنی پاکٹ بک میں بھی درج کی اور یہی فہرست احمدیہ لٹریچر میں بھی متداول رہی۔اس اعتراض کے جواب میں کہ اگر مرزا صاحب 14ویں صدی کے مجدد ہیں توپہلے 13 صدیوں کے کون تھے؟ ایک احمدی عالم مرزا خدا بخش صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں اپنی کتاب عسل مصفیٰ میں ایک فہرست شائع کی اور کئی بزرگوں کا ذکر کیا (یہ بعد میں لاہوری جماعت میں شامل ہو گئے)۔

یہ سارے بزرگ یقیناً مجدد اور خادم اسلام تھے مگر بعض صدیوں میں ان سے زیادہ بڑے بزرگوں کا ذکر رہ گیا ہے اس لئے یہ نئی فہرست تیار کی گئی ہے جس میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ مثلاً نواب صاحب نے پہلے مجدد کے طور پر حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ذکر کیا ہے جبکہ اسی وقت میں حضرت امام ابو حنیفہؒ کی خدمات وسعت اور پائیداری میں ان سے بڑھ کر تھیں۔ اسی طرح دوسرے مجدد حضرت امام شافعیؒ کا ذکر ہے جبکہ اسی وقت حضرت امام بخاری بھی تھے جنکی خدمات کا دائرہ بہت بالا اور دائمی ہے۔ ساتویں صدی میں حضرت معین الدین چشتی ؒ کے ساتھ ابن عربیؒ کو بھی شامل کی گیا ہے کیونکہ ان کی خدمات بھی کم نہیں اور وہ ہمارے مسلک کے زیادہ قریب ہیں۔ آٹھویں صدی میں امام ابن تیمیہ کی بجائے ابن قیم کو شامل کیا گیا ہے جن کا کام بہت زیادہ ٹھوس اور ہمارے نقطہ نگاہ سے مطابقت رکھتا ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ نے اورنگ زیب عالمگیر اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے حضرت عثمان ڈان فودیو کو بھی مجدد قرار دیا ہے، اس لئے ان کو بھی فہرست میں شامل کر لیا گیاہے۔ اس طرح بعض صدیوں میں ایک کی بجائے 2 کا ذکر ہے۔

یہ فہرست پہلی فہرست سے زیادہ جامع اور جماعت احمدیہ کے نقطہ نظر سے زیادہ ہم آہنگ ہے ورنہ مختلف زاویوں سے کئی قسم کی فہرستیں مرتب کی جاسکتی ہیں۔ سابقہ لوگوں نے تو صرف ناموں کی فہرست بنائی ہے مگر اس فہرست میں تفصیل کے ساتھ بزرگوں کے حالات اور خدمات اور ان مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں وہ جماعت احمدیہ کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔

(مرتب کردہ)

صدی

نام و نسب

پیدائش۔وفات

علاقہ

تصانیف

مقام و اہم خدمات

دوسری
(1)
حضرت امام ابو حنیفہؒ۔

نعمان بن ثابت
ولادت 80ھ۔

وفات 150ھ۔

عمر 70 سال

5ستمبر 699ء۔

14 جون 767ء۔
کوفہ

(عراق)
مسند الامام الاعظم۔

العالم و المتعلم۔

فقہ اکبر۔

27 کے قریب آپ کی طرف منسوب ہیں۔
72 صحابہؓ سے ملاقات ہوئی۔ رؤیا میں خدمت دین کی بشارت ملی۔ فقہ حنفیہ کی بنیاد ڈالی اور اپنے شاگردوں کی مدد سے استنباط کا طرزِ فکر قائم کیا جسکی بنیاد قرآن پر تھی۔ انکے مسلک کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قبولیت عطا فرمائی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے استخراج ِ مسائلِ قرآن میں ان سے اپنی خاص مناسبت کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ امام ابو حنیفہ ایک بحرِ اعظم تھے، دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں۔
(2)
حضرت عمربن عبدالعزیزؒ
آپ کی والدہ ام عاصم حضرت عمرؓ کی پوتی تھیں۔
61 تا 101 ھزمانہ حکومت 99 تا 101ھ
حمص (شام) حکومت دمشق
تدوین حدیث کے لئے خصوصی کوشش کی اورذخیرہ روایات قلمبند کرنے کے لئےحکومتی سطح پر کارروائی کی۔اوراس مقصد کے لئے علماء کے وظائف مقرر کئے۔
واحدمجددجواسلامی حکومت کےسربراہ بھی تھے۔ بعض کےنزدیک خلیفہ راشدبھی ہیں۔ بدرسومات کوختم کیا۔ ہندوستان کےسات راجاؤں کواسلام کی دعوت دی۔
تیسری
حضرت امام بخاری
محمد بن اسماعیل
ولادت13 شوال194ھ۔
وفات30 رمضان 256ھ۔
عمر62سال
19جولائی 810ء۔
31 اگست 870ء۔
بخارا
سمرقند
(ازبکستان)
صحیح بخاری کی علاوہ 23 کتب ہیں۔ الادب المفرد۔
تاریخ کبیر۔ تاریخ اوسط۔ تاریخ صغیر۔
بخاری کی شروح 100 کے قریب ہیں۔
رؤیا کی بنا پر خدمتِ حدیث کا آغاز کیا۔ صحیح احادیث کی پہچان کا مربوط طریقہ کار بنایااور6 لاکھ احادیث میں سے قریباْ 8 ہزار پر مشتمل صحیح بخاری 16 سالوں میں مکمل کی جسے اصح الکتب بعد کتاب اللّٰہ کہا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود نے اپنے مذہب کی بنیاد قرآن کے بعد بخاری اور مسلم پر رکھی ہے۔ فقہ پر بھی آپ کی گہری دسترس تھی۔ وفاتِ مسیح کے قائل تھے۔ جماعت احمدیہ کے کئی مخصوص کلامی مسائل بخاری کی احادیث اور امام بخاری کے استنباط سے ثابت ہوتے ہیں۔
چوتھی
امام طبری۔
ابو جعفر محمد بن جریر۔
ولادت224ھ۔
وفات26 شوال 310ھ۔
عمر 86سال۔
838ء تا 16فروری 923ء۔
طبرستان
(ایران)
بغداد
(عراق)
تفسیر طبری۔ تاریخ الامم و الملوک
اسلام کے مشہور اور مستند علماء میں سے تھے۔ تفسیر، سیرت اور تاریخ میں نہایت عمدہ ذخیرہ چھوڑا ہے۔ تفسیر جامع البیان اہل سنت کی قدیم ترین تفسیر اور ماخذ ہے۔ انہیں امام المفسرین اور امام المؤرخین بھی کہا جاتا ہے۔ تاریخ بھی اولین ماخذ ہے۔ اسلام کے عالمگیر غلبہ کے متعلق لکھا ’’ھذا عند خروج المھدی‘‘ یہ واقعہ مہدی کے زمانہ میں ہو گا۔
پانچویں
حضرت امام ابن حزم۔
علی بن احمد بن سعیدبن حزم۔
ولادت 384ھ وفات 456ھ عمر 72 سال۔
7 نومبر 994ء تا اگست1064ء
پیدائش: قرطبہ
وفات: اشبیلیہ
(سپین)
400 کے قریب کتب ہیں۔ المحلیٰ اصول فقہ کی بہترین کتاب اور فقہ اسلامی کا انسا ئیکلوپیڈیا ہے۔ الاحکام فی اصول الاحکام۔ الفصل بین الآراء والاھواء والنحل۔
دین میں حجت قرآن اور سنت کو قرار دیا۔تقلید کے سخت خلاف تھے۔ وفات مسیح کے قائل تھے۔ انکی کتب کو مصادرِ اسلام کا بہترین مجموعہ کہا جاتا ہے۔
چھٹی
حضرت سید عبدالقادر جیلانی۔
بن ابو صالح۔
حضرت علی کی نسل سےہیں۔
ولادت یکم رمضان470 ھ
وفات 11 ربیع الثانی561 ھ
عمر 91 سال۔
17 مارچ 1078ء۔
12 فروری 1166ء۔
بغداد
(عراق)
فتوح الغیب۔الفتح الربانی۔سرالاسرار۔ الفیوضات الروحانیہ۔ تحفة المتقین۔ جلاء الخاطر۔ آداب السلوک۔ حزب الرجاء۔ غنیة الطالبین۔
حضرت مسیح موعودؑ نے مجدد قرار دیا۔ (حمامة البشریٰ)۔ آپ نے فرمایا میں نائب رسول اور آپ کا وارث اور تم پر حجت ہوں۔ میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔ رسول اللہ اور حضرت علیؓ نے خواب میں تبلیغ کی ہدایت فرمائی۔ شرک کے خلاف جہاد کیا۔ تصوف میں سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں۔ 40 سال تک تبلیغ و تربیت کے لئے دور دراز کے سفر کئے اور وفود روانہ کئے۔ آپ ؒ کو غوث اعظم اور سلطان الاولیا بھی کہا جاتا ہے۔
ساتویں
(1)
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری
بن غیاث الدین۔حضرت علیؓ کی نسل سے ہیں۔
ولادت 14 رجب 537ھ۔
وفات6 رجب 633ھ ۔
عمر 96 سال۔
2 فروری 1143ء۔
15 مارچ 1236ء۔
سیستان،
(ایران)
وفات اجمیر شریف
(ہندوستان)
دیوانِ معین، گنج الاسرار، انیس الارواح، احادیث المعارف، رسالہ وجودیہ۔ دلیل العارفین(ملفوظات کی کتاب ہے)
ہندوستان کے نامور مبلغ اسلام، رسول اللہ ﷺ نے رؤیا میں ہندوستان میں تبلیغ کا ارشاد فرمایا، روحانی علوم کے 4 ائمہ میں سے ہیں (حضرت المصلح الموعودؓ)۔ بروزی نبوت کے قائل تھے۔ تصوف کے سلسلہ چشتیہ کے بانی ہیں۔ خدمت خلق کی وجہ سے خواجہ غریب نواز بھی کہا جاتاہے۔
(2)
حضرت امام ابن عربی۔
محی الدین محمد بن علی بن محمد بن عربی الحاتمی
الطائی
ولادت 27 رمضان 560ھ
وفات۔ 28 ربیع الآخر 638ھ۔
عمر 78 سال،
28 جولائی 1165ء تا 10 نومبر 1240ء۔
ولادت، مرسیہ (سپین)
وفات، دمشق (شام)
فصوص الحکم، فتوحاتِ مکیہ، ترجمان الاشواق، الکبریت الاحمر،8سو کے قریب کتب اور رسائل لکھے۔ سو کے قریب موجود ہیں۔
دنیائے اسلام کے ممتاز صوفی، عارف، محقق، شاعر، شیخِ اکبر کہلاتے تھے۔ صاحبِ وحی والہام تھے، رؤیا و کشوف کے نتیجہ میں تصوف کی طرف مائل ہوئے۔ بہت سی پیشگوئیاں کیں اور بہت سے رازوں سے پردہ اٹھایا۔ امام مہدی کے توام ہونے اور چینی الاصل ہونے کی پیشگوئی کی، وفات مسیح، نزولِ مسیح نئے جسم کے ساتھ اور نبوتِ غیر تشریعی کے قائل تھے۔ فرمایا کہ مہدی کے سب سے بڑے دشمن علماء ہوں گے(فتوحات مکیہ)۔
آٹھویں
حضرت امام ابن قیم الجوزی۔
شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر۔
ولادت 7 صفر 691ھ۔
وفات 13 رجب 751ھ۔
عمر 60 سال۔
28 جنوری 1292ء۔
15 ستمبر 1350ء۔
دمشق
(شام)
اعلام الموقعین۔ زاد المعاد فی ہدی خیر العباد(سیرت النبیؐ کی بہترین کتاب ہے جس میں واقعات کے ساتھ فقہی مسائل اور نتائج کا بھی ذکر ہے)۔
شفاء العلیل۔
حنبلی مذہب کے جلیل القدر فقیہ تھے۔ کتاب و سنت سے باہر جانابالکل گوارا نہ تھا۔ قیدو بند کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مسیح ؑ کے جسمانی رفع کو بے بنیاد قرار دیا (زاد المعاد)
نویں
حضرت امام ابن حجر عسقلانی ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی
ولادت 12 شعبان 773ھ۔
وفات 8 ذوالحجہ 852ھ۔
عمر 79 سال۔ 18 فروری 1372ء۔ 2 فروری 1449ء۔
قاہرہ
(مصر)
500 کتب ہیں۔ فتح الباری(شرح بخاری)۔ بلوغ المرام۔ منبھات ابن حجر۔ الاصابہ۔ تہذیب التہذیب۔
نامور محدث، مفسر اور مؤرخ تھے۔ لقب حافظ حدیث۔ حدیث اور فقہ پر خاص دسترس رکھتے تھے۔ کئی بار قاضی مصر رہے۔ فتح الباری حدیث، فقہ اور عقائد کا شاہکار ہے۔الاصابہ اصحاب رسولؐ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ تہذیب التہذیب روایات حدیث کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔
دسویں
حضرت امام جلال الدین السیوطی۔ ابو الفضل عبدالرحمان الشافعی۔
ولادت یکم رجب 849ھ۔ وفات 19 جمادی الاول 911ھ۔عمر 62 سال۔
2 اکتوبر 1445ء۔ 17 اکتوبر 1505ء۔
سیوط قاہرہ (مصر)
576 کتب ہیں۔ درمنثور۔ الجامع الصغیر۔ الخصائص الکبری۔ تاریخ الخلفاء۔ مشکلات القرآن۔ تفسیر الاتقان۔
مجدد ہونے کا دعویٰ تھا۔ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے7 علوم تفسیر، حدیث، فقہ، نحو، معانی، بیان اور بدیع میں تبحر عطا فرمایا ہے۔ بہترین مؤرخ بھی تھے۔ حضرت عائشہ ؓ کا قول ’’قولوا انہ خاتم الانبیاء و لا تقولوا لا نبی بعدہ‘‘ درمنثور میں ہے۔ فرمایا مسیح موعودؑکے بعد کوئی مجدد نہیں ہو گا۔ وفات مسیح کا ذکر خصائص کبریٰ میں ہے۔ مسیح ؑ کو سلام پہنچانے والی حدیث درمنثور میں ہے۔
گیارہویں
حضرت مجدد الف ثانی
شیخ احمد فاروقی سرہندی ابن شیخ عبدالاحد۔
ولادت 14 شوال 971ھ۔ وفات 28 صفر 1034ھ۔ عمر 63 سال۔ 26 جون 1564ء۔ 10 دسمبر 1624ء۔
سرہند (ہندوستان)
مکتوبات مجدد الف ثانی۔ معارف لدنیہ۔ مبدأ و معاد۔
اکبر کے دین الٰہی اور جہانگیر کی بدرسوم کے خلاف مزاحمت کی۔ مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ علماء کی طرف سے مسیح موعودؑ کی مخالفت کی پیشگوئی کی۔ جہانگیر کو سجدہ کرنے سے انکارکیا اور دکھ اٹھائے۔
بارہویں
(1)
اورنگزیب عالمگیر
ابو الظفر محی الدین ابن شاہ جہان۔
ہندوستان پر 52 سال حکومت کی۔
31 جولائی 1658تا 31 مارچ 1707
ولادت 1028ھ۔
وفات 1118ھ۔
عمر 90 سال۔
3 نومبر 1618ء تا 13مارچ 1707ء۔
گجرات (ہندوستان)
خلد آباد میں مدفون ہوئے۔
بہت سی کتب مرتب کروائیں۔ فتاویٰ عالمگیری فقہ اسلامی کی بہت بڑی کتاب ہے۔
رقعات عالمگیر (خطوط کا مجموعہ)
مسلمانوں اور ہندوؤں کی بہت سی مشرکانہ رسوم اور بدعات کو ختم کیا۔ فحاشی اور ناچ گانے کا انسداد کیا۔ شراب ،افیون پر پابندی لگائی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے مجدد قرار دیا۔ (خطبات محمود جلد 21 صفحہ 60)۔ بہت خدا ترس اور دیندار بادشاہ تھا۔ حافظ قرآن تھا۔ قرآن لکھ کر اور ٹوپیاں سی کر روزی کا انتظام کرتا تھا۔ اس کے دور میں مغلیہ سلطنت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔
(2)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔
عظیم الدین شاہ۔
حضرت عمرؓ کی نسل سے تھے۔
ولادت1114 ھ۔
وفات 1176 ھ۔
عمر 62سال۔
21 فروری 1703ء۔
20۔اگست 1762ء۔

اتر پردیش
دہلی
(ہندوستان)
25 کتب ہیں۔ التفہیمات الالٰہیہ۔ الفوز الکبیر۔ حجة اللہ البالغة۔ الخیر الکثیر۔ فیوض الحرمین۔ ازالة الخفا
پہلا ترجمہ قرآن بزبان فارسی کیا۔ عقیدہ ناسخ منسوخ کو 5 آیات تک پہنچایا۔ مجددیت کا دعویٰ کیا۔ مسیح موعودؑ کا زمانہ چراغ دین کے لفظ میں بیان فرمایا (1268)۔ غیر تشریعی نبوت کے قائل تھے۔ مسلمانوں کی سماجی اصلاح کا بہت کام کیا۔ سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کو مرہٹوں سے بچانے کے لئے افغانستان سے احمد شاہ ابدالی کو حملہ کی دعوت دی۔ آپ کے ایک بیٹے شاہ رفیع الدین نے اردو میں قرآن کا پہلا ترجمہ کیا۔ سید احمد شہید آپ کے بیٹے شاہ عبدا لعزیز کے شاگرد تھے۔
تیرہویں
(1)
حضرت سید احمد شہید بریلوی
ابن سید محمد عرفان۔
حضرت علیؓ کی نسل سے تھے۔
ولادت 6 صفر 1201ھ۔
وفات 24 ذیقعدہ 1246ھ۔
عمر 46 سال۔
29 نومبر 1786ء۔
6 مئی 1831ء۔
پیدائش:
رائے بریلی (ہندوستان)
شہادت: بالاکوٹ (پاکستان)
تنبیہ الغافلین۔ صراط مستقیم (ملفوظات)
ملہمات احمدیہ فی الطریق المحمدیہ۔
مکاتیب سید احمد شہید۔

امامت کا دعویٰ کیا۔ بدعات کے خلاف تعلیم دی۔ سکھوں کے خلاف جہاد بالسیف کیا۔ شہید مجدد، ارہاص حضرت مسیح موعودؑ۔ تصوف میں طریقہ محمدیہ کی بنیاد ڈالی، جس کا محور صرف سنت نبوی تھی۔

(2)
حضرت عثمان ڈان فودیوؒ۔
فلانی قبیلہ سے تعلق تھا۔ جو عربی النسل ہے۔
ولادت 1159ھ۔
وفات 1232ھ۔
عمر 63 سال۔
پیدائش: گوبیر
وفات: سکوٹو
(نائیجیریا)
طریق الجنۃ۔ وثیقۃ الاخوان۔تنبيه الأمة على قرب ہجوم أشراط الساعة۔مرآة الطلاب۔
150 کے قریب کتب اور 480کے قریب نظمیں عربی، فلانی اور ہاؤسا زبان میں ہیں۔
صاحب کشوف والہام تھے۔ آپ کی پیدائش سے پہلے ملک کے اخیار کو مجدد کی پیدائش کی خبر دی گئی تھی۔ عام تبلیغ کے علاوہ حاکموں اور بادشاہوں کو بھی تبلیغ کی اور ایک منظم جماعت بنائی۔ آپکی جماعت پر پابندیاں بھی لگائی گئیں اور ہجرت بھی کرنی پڑی۔ ایک علاقہ کے حکمران بھی رہے۔ ان کے پیروکار انہیں امیر المؤ منین کہتے ہیں۔ سوکوٹو کا سلطان انکے خاندان سے منتخب کیا جاتاہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے انہیں مجدد قرار دیا۔ (الفضل 26 نومبر 1969)

پچھلا پڑھیں

ویلنٹائن ڈے Valentine Day

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 فروری 2020