• جمعہ 10 اپریل 2020   (17 شعبان 1441)

100 مساجد کی تعمیر کے حوالے سے اہم سیمینار

جماعت احمدیہ کے صد سالہ جشن کے موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے جلسہ سالانہ جرمنی سے خطاب کے دوران فرمایا تھا کہ ’’میری یہ خواہش ہے کہ جرمنی وہ پہلا یورپین ملک ہو جہاں جماعت احمدیہ کو سو مساجد تعمیر کرنے کی توفیق ملے۔ اور یہ دراصل صدسالہ جشن تشکر کا ایک بہترین رنگ ہوگا۔ صد سالہ جشن تشکر کو منانے کے لئے جرمنی سو مساجد بنانے کا منصوبہ بنایا‘‘۔

(بمقام ناصر باغ۔ 14 مئی 1989ء)

یہ وہ دور تھا جب جماعت احمدیہ جرمنی ابھی اپنے پاوْں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ جرمنی کے طول و عرض میں جماعتوں کا قیام تو عمل میں آچکا تھا لیکن پاکستان سے ہجرت کرکے جرمنی میں سکونت اختیار کرنے والے احمدی اپنے مستقل قیام کی اجازت کے حوالے سے محدوش حالات کا سامنا کررہے تھے۔ لیکن خدا کے قائم کردہ خلیفہ کے منہ سے نکلی بات کو بارگاہ ایزدی میں شرف قبولیت عطا ہوتی اور احمدیوں کے مستقل قیام کے حوالے سے محدوش حالات احمدیوں کے حق میں بہتر ہوتے چلے گئے اور جماعت احمدیہ جرمنی نے اپنے پیارے امام کی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلئے اقدام اُٹھانا شروع کردیئے اور سو مساجد اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز کردیا۔ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی زندگی میں Wittlich شہر میں مسجد بیت الحمد۔ Osnabruck میں مسجد بیت البشارت کی تعمیر کے بعد نمازوں کی ادائیگی شروع ہو گئی تھی۔

میونسٹر میں مسجد بیت المومن کی تعمیر بھی حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے عہد خلافت میں مکمل ہوگئی تھی البتہ مسجد کا افتتاح حضرت خلیفتہ المسیح الخامس کے دور خلافت کے آغاز پر 03 مئی 2003ء کو ہوا۔

حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بھی وقتاً فوقتاً سو مساجد اسکیم کا جائزہ لے کر ہدایات سے نوازتے ہیں۔ آپ نے دور خلافت کے آغاز میں جماعت جرمنی کو فرمایا تھا کہ ’’مسجد کی تعمیر کا جو ٹارگٹ آپ کو دیا گیا۔ جس کو آپ نے قبول کر لیا اس کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور اس کو پورا کر نا چاہیئے اس سے بہرحال آپ نے پیچھے نہیں ہٹنا۔ ان شاء اللہ‘‘

(الفضل انٹر نیشنل 13 جولائی 2006 ء)

چنانچہ حضور کی خصوصی توجہ و رہنمائی اور احباب جماعت کی قربانیوں کے نتیجہ میں سو مساجد اسکیم کے تحت 55 مساجد تعمیر ہو چکی ہیں اور 11 مساجد اس وقت زیر تعمیر ہیں اور 34 مساجد کو تعمیر کرنا ابھی باقی ہے۔

کیونکہ یہ ایک وسیع منصوبہ ہے جس میں مقامی آبادی و شہری انتظامیہ کی طرف سے رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ انتظامی دشواریوں کا بھی سامنا کرنا پرتا ہے۔ اس لئے اس اسکیم کا بار بار جائزہ لینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 23 اپریل 2017 ء کو بیت السبوح میں نیشنل مجلس عاملہ ۔ لوکل و ریجنل امراء اور جرمنی کی تمام جماعتوں کے صدر صاحبان کے ساتھ جو میٹنگ کی تھی اس میں عہدیداران کو عمومی ہدایات کے علاوہ سو مساجد اسکیم اور اسکے بجٹ کا بھی تفصیل سے جائزہ لے کر مفصل ہدایات سے نوازا۔ اس بارے میں حضور کی ہدایات کے چنیدہ نکات کچھ اس طرح ہیں۔

  1. جن جماعتوں نے مساجد کی تعمیر کے حوالے سے پہلے قربانی دی ہوئی ہے اور ایک ملین دے دیا ہوا ہے یا پانچ ملین یا 6 ملین دے دیا ہے۔ پہلی ترجیح ان جماعتوں کو دینی چاہئے تھی۔
  2. ترجیحات کا سسٹم بننا چاہئے کہ کس کس جماعت نے کتنے کتنے پیسے دے دیئے ہیں اور اگر کسی خاص وجوہات کی بناء پر کوئی مسجد بنا رہے ہیں تو وہ وجوہات پتہ ہونی چاہیئے کہ کیوں ترجیح دی جارہی ہے۔
  3. اب کسی بھی ایسی جگہ مسجد تعمیر نہیں ہوگی جہاں جماعت نہیں ہے۔ پہلے ان علاقوں کو ترجیح دی جائے گی جہاں ہماری جماعت کی زیادہ تعداد ہے۔
  4. اُسی وقت تعمیر کا کام شروع ہوگا جب لوگوں نے جو وعدے کئے ہیں اس کا کم از کم 90 فیصد ادا کردیں۔
  5. عمومی ہدایات میں حضور نے فرمایا کہ اپنے آپ کو خادم دین سمجھیں اور خا دم دین سمجھ کر کام کیا کریں۔ عہدیدار سمجھ کر کام نہ کریں۔ عہدیداری یا افسری کا جو تصور پیدا ہوتا ہے اس سے جماعت کے افراد کو شکوے پیدا ہوتے ہیں۔ آپ ہر ایک کے خادم ہیں۔ اپنے اندر عاجزی پیدا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ کو یہی فرمایا ہوا ہے کہ میری عاجزانہ راہیں اُسے پسند آئیں۔ عاجزی ہی اصل چیز ہے جو آپ کو اصل مقام اور مرتبہ دیتی ہے۔ اور آپ کی عزت قائم کرتی ہے۔
  6. مسائل کو پیار سے محبت سے حل کرنا آپ کا کام ہے۔ مسائل کو رعب سے یا طاقت سے حل کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔

حضور انور کے ان ارشادات اور ہدایات کی روشنی میں سو مساجد کا بار بار جائزہ لیا جاتا رہا۔ جماعت جرمنی کی کوشش ہے کہ جرمنی میں جماعت کے قیام کو ایک سو سال گزرنے پر 2023ء تک سو مساجد تعمیر کرنے کا ٹارگٹ مکمل کر لیا جائے۔ حضور ایدہ اللہ کے دورہ جرمنی اکتوبر 2019ء سے قبل سو مساجد اسکیم میں بعض انتظامی تبدیلیاں کرکے دورہ کے دوران حضور سے ان کی منظوری حاصل کی گئی۔ شعبہ جائیداد میں مکرم حافظ مظفر عمران اور مکرم راشد ارشد خان کا تقرر بطور ایڈیشنل سیکرٹری جائیداد برائے سو مساجد عمل میں لایا گیا۔ اس کے علاوہ حضور انور نے جماعت جرمنی کی طرف سے تجویز کردہ دو امور کی بھی منظوری عطا فرمائی جن کے تحت مسجد کی تعمیر کے لئے مقامی جماعت پلاٹ کی قیمت خرید کا 80 فیصد ادا کرے گی اور جب مقامی جماعت مسجد کی تعمیر کے اخراجات کا 40 فیصد ادا کردے تو تعمیر کا کام شروع کردیں۔

ایڈیشنل سیکرٹریان جائیداد برائے سو مساجد نے اپنے رفقاء کے ساتھ ملکر تعمیر مساجد کا کام 2023ء تک مکمل کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ بنایا۔ اس منصوبہ پر احباب سے مزید مشورہ کرنے کے لئے مورخہ 26 جنوری بروز اتوار ایک روزہ سیمینار بیت السبوح فرینکفرٹ میں منعقد کیا گیا۔ جس میں جرمنی کی 60 منتخب جماعتوں کے صدر صاحبان یا سیکرٹریان جائیداد کو مدعو کیا گیا تھا۔ سیمینار کے چناوْ میں اُن بڑی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی جن کے ہاں ابھی مسجد تعمیر نہیں ہوئی یا وہ جماعتیں جنہوں نے سو مساجد اسکیم میں نمایاں مالی قربانی کی توفیق پائی ہے۔

اس خصوصی سیمینار کی صدارت مکرم صداقت احمد مبلغ انچارج جرمنی نے کی۔ تلاوت قرآن کریم مع اردو، جرمن ترجمہ کے بعد مکرم صداقت احمد نے اپنی تقریر میں حاضرین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے 5 ہزار سال پہلے خانہ کعبہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت ابراہیم ؑ کو حکم دیا کہ اپنی اولاد کو اس صحرا میں آباد کریں۔ جب خدا نے خانہ کعبہ کی تعمیر نو کا ارادہ کرلیا تو وہاں پانی و دیگر سامان بھی پیدا کردیا۔ خانہ کعبہ پر مخالف بادشاہ حملہ آور ہوا تو ابابیل کے ذریعہ اس گھر کو بچایا۔ دونوں واقعات میں صدیوں کا فرق ہے۔ ایک واقعہ 5 ہزار سال پہلے کا اور دوسرا 1400 سال پہلے کا۔ حضرت ابراہیم ؑ اور آنحضرت ﷺ کا خدا حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں بھی زندہ ہے۔ سو مساجد اسکیم کے حوالہ سے جماعتوں کی طرف سے رکاوٹوں انتظامیہ کی مشکلات کا ذکر سننے کو ملتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پر طاقر سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ حضور نے جب تحریک کی تو وہ جانتے تھے کہ جرمنی کی جماعت یہ ذمہ داری اُٹھا سکتی ہے۔ مومن جب تہیہ کرلے تو خداتعالیٰ مدد کرتا ہے اور کامیابی ملتی ہے۔ تہیہ ، پُر خلوص کوشش اور دعا کرنا مومن کا کام ہے۔ اس حوالے سے آپ نے آسٹریا میں مسجد بنانے کی مثال تفصیل سے بیان کی۔

سیمینار میں دس سال کے اعداد و شمار بھی پیش کئے گئے اور اُن کی روشنی میں فنڈ اکھٹا کرنا کا جائزہ لیا گیا۔ حاضرین کو سوالات کا موقع بھی دیا گیا اور جماعتوں نے اب تک مجموعی کا اور اسکیم میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالہ سے سوالات کرکے منتظمین سے جواب حاصل کئے۔ انتظامیہ نے مساجد کی زمین یا تعمیر شدہ بلڈنگ کے حصول کے لئے ضروری ہدایات بیان کین۔ مثلاً اب مسجد کےلئے پلاٹ کم ازکم 800 مربع میٹر اور زیادہ سے زیادہ 1500 مربع میٹر تک ہو۔ مربع شکل کا پلاٹ تعمیر کے اعتبار سے زیادہ فائدہ مند رہتا ہے۔ مقامی تعمیر مسجد کمیٹی بنائی جائے جس کے ممبران میں صدر جماعت، سیکرٹری جائیداد، صدر لجنہ، زعیم مجلس، قائد مجلس شامل ہونگے۔ مقامی جماعت کے دو ایسے ممبران جنکو تعمیر کا تجربہ ہو۔ مسجد کے لئے دیکھا جانے والا پلاٹ مقامی تعمیر مسجد کمیٹی سے پاس کرواکر مقامی عاملہ میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے۔ مقامی عاملہ کی منظوری کے بعد مرکز مسجد کا ڈیزائن تیار کرے گا۔ مسجد کا ڈیزائن فائنل منظوری کے لئے حضور انور کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل مقامی عاملہ کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ پلاٹ اور تعمیر کے لئے جو کاغذات مرکز کو چاہیئں اُنکی تفاصیل سے حاضرین کو بتایا گیا۔ اس سے پہلے یہ امور مرکز کے ہاتھ میں تھے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اب تعمیر ہونے والی مسجد میں ہر بات کی منظوری مقامی جماعت سے بھی لی جائے گی۔

نمازوں کی ادائیگی کے بعد محترم امیر صاحب جرمنی عبداللہ واگس ہاوْزر نے بھی حاضرین سے خطاب کیا اور اُنکے سوالات کے جوابات دیئے اور اپنی توقعات کا اظہار کیا۔ سیمینار کی کاروائی شام تک جاری رہی جسمیں 2023ء تک سو مساجد کو مکمل کرنے کے ہر پہلو کا جائزہ لیا گیا۔

قارئین روزنامہ الفضل لندن سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ اس اسکیم میں برکت دے اور جماعت احمدیہ جرمنی کو یہ توفیق دے کہ وہ بروقت اس الہیٰ منصوبہ کو مکمل کرنے والے ہوں۔ آمین۔

(عرفان احمدخان۔جرمنی)

پچھلا پڑھیں

ویلنٹائن ڈے Valentine Day

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 فروری 2020