• جمعہ 10 اپریل 2020   (17 شعبان 1441)

اسلام کی تعلیم کی طرف قدم ۔ہندوؤں کی کھاپ پنچایت کا فیصلہ

جن لوگوں کو ہندوستان کے صوبہ ہریانہ، راجستھان اور اُترپردیش جانے کا اتفاق ہوا ہے یا وہ وہاں کے کلچرکے متعلق کچھ معلومات رکھتے ہیں، وہ اس با ت سے ضرور واقف ہوں گے کہ ان صوبوں میں عموماً اور ہریانہ میں خصوصاً ’’کھاپ‘‘ یا ’’سرب کھاپ‘‘ پنچایتوں کی بڑی اہمیت ہے۔ ’’یہ ایک سماجی ایڈمنسٹریشن سسٹم اور تنظیمیں ہیں‘‘ جو ہندوستان کے ان صوبوں میں پرانے زمانہ سے رائج ہیں۔ یہ جھگڑوں کا کورٹ کچہری سے باہر بیٹھ کر نپٹارہ کرتی ہیں۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جمہوری سسٹم کو بنیاد مانتے ہوئے مہاراجہ ہرش وردھن نے 643ء میں ’’سروکھاپ‘‘ پنچایت سسٹم شروع کیا تھا۔ ویسے تو کھاپوں کا وجود مہاراجہ ہرش وردھن کے زمانہ سے مانا جاتا ہے لیکن سترول کھاپ اس سے بھی پرانی بتائی جاتی ہے۔

مہاراجہ ہرش وردھن کے زمانہ میں اس خطہ کے سات گاؤں باس، اُگالن، کھاڑا کھیڑی، پیٹواڑ، تھورانہ، بڑھ چھیڑ اورنارنود آباد تھے۔ اس وقت ان دیہاتوں میں آپس میں بھائی چارہ بناتے ہوئے سترول کھاپ بنائی گئی تھی۔ رفتہ رفتہ اس کے دیہات کی تعداد بڑھتی گئی اور اس وقت سترول کھاپ میں 42 دیہات شامل ہیں جو چار پتوں (ضمنی شاکھاؤں) میں بٹی ہوئی ہیں’’

(روزنامہ ہند سماچار 22۔اپریل 2014 ءصفحہ 2)

کچھ عرصہ پہلے سترول کھاپ کی شادی بیاہ کے متعلق اخبارات میں ایک اہم خبر شائع ہوئی۔ جس کا تعلق ہندو مذہب کی قدیم روایت سے ہے۔ چونکہ یہ فیصلہ ہندو مذہب کے تمدن و تاریخی روایات میں ایک اہم تبدیلی تھی اس لئے اس خبر کو تمام بڑے اخبارات نے شائع کیا ہے۔ روزنامہ اخبار دینک سویرا جالندھر نے اپنی اشاعت21۔اپریل 2014ء کے صفحہ1 پر اس خبر کو شائع کرتے ہوئے لکھا کہ

سترول کھاپ نے بدلی 650 سال پرانی روایت، بھائی چارہ والے 42 گاؤں کر سکیں گے آپس میں شادیاں۔

حصار 20۔اپریل نے لکھا کہ ‘‘ریانہ میں حصار ضلع کے نارنود علاقہ کے 42 گاؤں کے سترول کھاپ نے آج تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے 650 سال سے چلی آرہی روایت کو بدل دیا۔ کھاپ کی نارنود میں ہوئی مہاپنچایت میں لئے گئے فیصلہ میں ان 42 گاؤں میں آپس میں لڑکے لڑکیوں کا رشتہ کرنے پر 650 سال پہلے لگائی گئی پابندی کو ہٹا لیا گیا ہے۔ مہاپنچایت میں لئے فیصلہ کے مطابق اب ان 42 گاؤں کے لوگ اپنے گاؤں پڑوسی گاؤں اور گوتر کو چھوڑ کر کسی بھی گاؤں میں اپنے لڑکے، لڑکیوں کی شادی کروا سکتے ہیں۔ کھاپ کا یہ فیصلہ ہریانہ کی دوسری کھاپوں کے لئے بھی نمونہ کا کام کرے گا۔ علاوہ سترول کھاپ نے انٹر کاسٹ شادی کو بھی اپنی منظوری دے دی ہے۔

ایک وقت تھا جب ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا جاتا تھا کہ مسلمان اپنے بھائیوں سے شادیاں کر لیتے ہیں۔ یعنی مسلمانوں میں ماموں زاد، خالہ زاد، پھوپھی زاد، اسی طرح چچازاد بھائی بہنوں کی شادیاں ہوتی ہیں، جو ہندوؤں کو معیوب لگتی تھیں۔ آج بھی ہندوستان کے کئی صوبوں میں اس طرح کی شادیوں کو ہندو طعنہ کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ لیکن اس فیصلہ نے بتا دیا کہ انسانی قانون بنانے والے جتنے بھی عمدہ قوانین بنا لیں اپنی سوچ کو جہاں تک بلند کر لیں لیکن اُس میں خامیاں اور کمیاں ضرور رہتی ہیں۔ اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ قوانین جو کسی زمانہ میں بہتر اور اعلیٰ گنے جاتے تھے آئندہ آنے والی نسلیں اسے ترک کرنے کا فیصلہ کرلیتی ہیں۔صرف اسلام ہی ایک کامل اورمکمل مذہب ہے جس کی تعلیمات قیامت تک کے لئے رہنما اور قابل تقلید ہیں۔ اسلام نے شادی بیاہ کے متعلق جو تعلیم دی ہے وہ انتہائی پُرحکمت ہے۔ اسلام نے جن عورتوں سے شادی کی ممانعت کی ہے اُس کی فلاسفی انتہائی پُرحکمت ہے۔ اسلام سلسلہ رحم ، سلسلہ نسب، سلسلہ صھر کا احترام کرتے ہوئے شادی بیاہ کے متعلق واضح ہدایات دیتا ہے کہ ان ان عورتوں سے شادیاں منع ہیں اس کے علاوہ دیگر عورتوں سے کوئی مرد شادی کر سکتا ہے۔ اسلام رسموں کو توڑتا ہے اور شادی بیاہ کے متعلق بھی اسلام کے قوانین واضح اور فطرت کے عین مطابق ہیں۔

ہندوؤں کی جانب سے اسلام میں عم زاد بھائیوں کے ساتھ شادی پر جو اعتراض کیا جاتا ہے خود ہندو مذہب کے عظیم رہنما شری کرشن جی کا عمل ہندوؤں کی تردید کرتا ہے۔ شری کرشن جی مہاراج کو ہند وقوم انتہائی عزت اور احترام سے دیکھتے ہیں۔ سناتن دھرمی تو اُن کو خدا کا اوتار تسلیم کرتے ہیں یعنی اُن کے نزدیک خداتعالیٰ ہی خود شری کرشن کا جامہ پہن کر انسان کی شکل میں دنیا میں ظاہر ہوئے ہیں۔ آریہ سماجی بھی اُن کی عزت کرتے ہیں اور انہیں ’’یوگی راج‘‘ اور ’’یوگیشور کرشن‘‘ کہتے ہیں۔ مشہور آریہ سماجی لیڈر لالہ لاجپت رائے تحریر کرتے ہیں کہ

’’کرشن جی مہاراج نہ فقط سچے عشق اور محبت اور بیرتا کا ہی نمونہ تھے بلکہ وہ دھرم کے اپدیشٹا بھی تھے۔ انہوں نے ایسے وقت میں جنم لیا جب کہ ایک طرف ویدک دھرم کی ناؤ جھوٹے ویراگ اور دوسری طرف ملحدانہ خیالات اور فلاسی کی لہر میں بہی جارہی تھی اور دھرم کی میزان اپنے مرکز پر قائم نہ تھی۔ کبھی جھوٹے ویراگ کا اور کبھی خشک فلاسفی کاپلڑا بھاری ہو جاتا تھا۔ ویراگ اور اس فلاسفی کو عدل میں رکھنا نا ممکن تھا اور چونکہ اُن کو ایسے وقت میں دھرم کا اُپدیش کرنا پڑا اس لئے ان کا جیون ایک اعلیٰ اُپدیشٹا کا آدرش تھا۔‘‘

(سری کرشن اور ان کی تعلیم صفحہ 6)

اس سے معلوم ہو تا ہے کہ شری کرشن جی مہاراج کو نہ صرف سناتن دھرمیوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ آریہ سماجی بھی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ آریہ سماجیوں کی طرف سے کئی آدمیوں نے شری کرشن جی کی سوانح عمریاں لکھی ہیں،جن میں مشہور آریہ سماجی مناظر پنڈت چموپتی کی ’’یوگیشور کرشن‘‘ اور ڈاکٹر بھوانی لال مشر کی ’’شری کرشن چرتر‘‘ معروف ہیں۔

شری کرشن جی کے متعلق تمام ہندو اس بات پر متفق ہیں کہ آپ دھرم کے دوبارہ قیام کی غرض سے دنیا میں مبعوث ہوئے تھے۔ بے شک بعد کے زمانہ میں اُن کے درجہ کو اُن کے متبعین نے بڑھا دیا اورانہیں خدائی کے منصب پر بٹھا دیا۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ آپ مذہب کو دوبارہ اُس کی جڑوں پر قائم کرنے کیلئے آئے تھے۔ آپ نے خود بیان کیا ہے کہ ’’میں دھرم کو قائم کرنے کے لئے آیا ہوں‘‘

(گیتا ادھیائے 4 شلوک نمبر 8)

اسی طرح آپ نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ جو لوگ میرے نقش قدم پر چلیں گے وہ کامیاب ہوں گے

(گیتا ادھیائے 18شلوک نمبر 66)

جو لوگ میرے مسلک اور طریق سے انحراف کریں گے وہ ہلاک ہوں گے۔

(گیتا ادھیائے 18شلوک 59)

شری کرشن کی سوانح عمری میں یہ بات واضح طور پر لکھی ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنی بہن سبھدرا کی شادی اپنے حقیقی پھوپھی کے لڑکے ارجن سے کی۔ چنانچہ لالہ لاجپت رائے صاحب نے شری کرشن جی کا نسب نامہ تحریر کرتے وقت شری کرشن جی کے بزرگوار والد واسو دیو جی کو ارجن کی ماں کنتی کو حقیقی بہن بھائی قرار دیا ہے۔ شری کرشن کی سوانح عمری کے مطالعہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ سبھدرا اور ارجن کی شادی کو کروانے میں شری کرشن جی کا خاص کردار رہا ہے ۔ آپ دل سے چاہتے تھے کہ سبھدرا کی شادی ارجن کے ساتھ ہو جائے۔

شری کرشن جی کے اس واقعہ سے بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہندوؤں کے پراچین بزرگوں اور تاریخ سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ اُس زمانہ میں ماموں زاد بہن سے شادی بیاہ کرنے کا رواج تھااور معاشرہ میں اس کو برا تسلیم نہیں کیا جا تا تھا۔ اس قسم کی شادی معاشرہ میں معیوب ہوتی تو ارجن اپنی ماموزاد بہن سے شادی کے لئے شری کرشن جیسے مقدس انسان سے اصرار نہ کرتے۔ اسی طرح ارجن اور سبھدرا کی شادی میں تمام رشتہ داروں کا راضی ہونا بھی اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ پرانی ہندوستانی تہذیب میں حقیقی بہن پھوپھی زاد سے بیاہی جاتی تھی اور پراچین زمانہ میں اس کا رواج عام تھا۔ بقول ہندو شری کرشن جی کاہر کام مذہب کے مطابق تھا لہٰذاا ٓج کون کہہ سکتا ہے کہ شری کرشن جی کا یہ فعل مذہب کے خلاف تھا۔ ارجن اور سبھدرا کی اس شادی کا ذکر ہندوؤں کی مشہور کتاب مہابھارت میں بھی موجود ہے۔

آج اگر ہمارے ہندو بھائی اس رواج کو معیوب سمجھتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے وہ اپنے پراچین رشیوں اور منیوں کا مسلک اور طریق بھول چکے ہیں۔ خود ہندو علماء اور وِددان اس بات کا اقرار کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ موجودہ ہندو مذہب کے اصل راستہ سے بھٹک چکاہے۔ پُرانے حوالوں کو اگر چھوڑ دیا جائے توبطور نمونہ صرف ایک نیا حوالہ پیش ہے۔ اخبار ستیہ سودیش ہندی مطبوعہ پٹھانکوٹ بتاریخ 24۔اپریل صفحہ15میں ’’انی رُودھ جوشی شتایو‘‘ صاحب اپنے مضمون ’’برہم ہی ستیہ ہے‘‘، میں بزبان ہندی لکھتے ہیں کہ:

’’عہد وسطیٰ کے ہندوؤں کو دوبارہ ویدوں اور توحید کی طرف اور موڑنے کی مسلسل کوششیں ہوئیں، لیکن سبھی ناکامیاب ہوئیں۔ زمانہ حال میں برہم سماج،آریہ سماج جیسی تنظیموں نے ہندوؤں کو مورتی پوجا کرم کانڈ اور طرح طرح کے دیوتاؤں کو پوجنے سے روکنے کی بہت کوشش کی مگر وہ سب بھی ناکامیاب ہوئے، کئی سادھوں سنت ہوئے جنہوں نے کہا کہ سب کا مالک ایک ہی ہے، لیکن ہندو اب راستہ سے بھٹک گیا ہے‘‘

اس لئے آج ضروری ہے کہ ہم آج کے ہندوؤں کا کردار اور عمل نہ دیکھیں بلکہ شری کرشن جی مہاراج کے عمل اور نمونہ کو مدنظر رکھیں جنہوں نے خود ماموں زاد اور پھوپھی زاد بھائی بہنوں میں شادی کروائی، اور اپنا نمونہ قائم کیا۔ سترول کھاپ پنچایت کا یہ فیصلہ دراصل اسلام کی تعلیم کی فوقیت کو تسلیم کرنے کی جانب ایک بڑھتا ہوا قدم ہے۔

(شیخ مجاہد احمد شاستری۔قادیان)

پچھلا پڑھیں

ویلنٹائن ڈے Valentine Day

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 فروری 2020