• 27 فروری, 2021

اللہ تعالیٰ کے فضل اور تین باتیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
مَیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بات کرنا چاہتا تھا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اس سال ہمیں یہ بھی ایک فضل عطا فرمایا جس کا مَیں اپنے جلسہ کے جو دوسرے دن کی رپورٹس ہوتی ہیں اس میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ رشین ڈیسک کے ذریعہ سے ایم۔ ٹی۔ اے پر رشین پروگرام بھی اب جاری ہیں، خطبات کا ترجمہ بھی اور ویب سائٹ بھی شروع ہو گئی ہے۔ پہلے کہیں اِکّا دُکّا مجھے رشین احمدیوں کے خطوط آیا کرتے تھے اور وہ تھے بھی چند ایک۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن کی تعداد سینکڑوں میں ہو گئی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام بھی ہے کہ روس میں ریت کے ذروں کی طرح احمدیت کو پھیلتے دیکھا۔

(ماخوذ از تذکرہ صفحہ 691۔ چوتھا ایڈیشن۔ مطبوعہ ربوہ)

اللہ کرے کہ یہ پیغام ان تک تیزی سے پہنچتا چلا جائے اور ہم اپنی زندگیوں میں اس الہام کے پورا ہونے کے بھی نظارے دیکھنے والے ہوں۔ ایک اور بات جس کا مَیں آج اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ مَیں نے یہ بات قادیان کے جلسے کے اختتام پر بتانی تھی کہ alislam جو ہماری ویب سائٹ ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے ایک نیا اضافہ کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی خزائن کے نام سے جو کتب ہیں اُن سب کو ایک ایسے سرچ انجن (Search Engine) میں ڈالا ہے جس میں اگر آپ نے تلاش کرنا ہے تو آپ کوئی بھی لفظ، مثلاً اللہ کا نام ہے، یسوع مسیح کا نام ہے، محمدؐ کا نام ہے اس میں ڈالیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں، اُن کتب میں جو روحانی خزائن کی جلدوں میں ہیں جہاں بھی وہ نام استعمال ہوا ہے، وہ نام اور اقتباس سامنے آ جائیں گے۔ اور پھر اسے آپ سرچ کر کے جو انٹرنیٹ سے دلچسپی رکھنے والے یا alislam دیکھنے والے ہیں وہ مزید صفحہ بھی دیکھ سکتے ہیں جو اصل کتاب کا صفحہ ہے۔ تو یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے اور یہ بہت مشکل کام تھا۔ اللہ کے فضل سے ہمارے نوجوانوں کی ٹیم نے یہ کیا ہے۔ جس میں سے دو تو واقفینِ نَو لڑکے ہیں، ایک نعمان احمد …. اور ایک … ہیں مبارک احمد۔ اس کے علاوہ انڈیا کے لڑکے ہیں۔ اس لئے مَیں قادیان کے جلسہ سالانہ کے آخری دن اعلان کرنا چاہتا تھاکہ اس میں سے تین کے علاوہ جوباقی لڑکے ہیں وہ سارے انڈیا کے ہیں۔ فضل الرحمن یہ چنائی کے ہیں۔ اسی طرح مقصود احمد بنگلور کے، شاہد پرویز بنگلور کے، عبدالسلام بنگلور کے اور پھر عائشہ مقصود صاحبہ ہیں بنگلور کی۔ پھر الطاف احمد بنگلور کے ہیں اور ریاض احمد مینگلور (Mangalore) اور اسی طرح ایک ہیں خرم نصیر، یہ پاکستان کے ہیں او ر کلیم الدین شیخ یہ چنائی کے ہیں۔ تو یہ ایک بہت بڑا کام ہے جو انہوں نے کیا ہے۔ دیکھنے والے تو اتنا محسوس نہیں کرتے۔ ہر کتاب کو پڑھنا، ہر کتاب میں سے ہر لفظ کو تلاش کرنا اور پھر اس کا انڈیکس بنانا، پھر اس انڈیکس کے اقتباسات، پھر اس کے صفحے کا پروگرام بنانا ایک کافی بڑا کام تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان نوجوانوں نے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے اور دنیا اس سے فائدہ اٹھانے والی ہو۔ معترضین تو آج کل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پر اعتراض کرتے رہتے ہیں لیکن اگر دیکھیں تو یہی ایک خزانہ ہے جو دنیا کی اصلاح کا باعث بن سکتا ہے۔ لیکن جن پر اثر نہیں ہونا وہ لوگ تو قرآنِ کریم کی آیات کا بھی استہزاء اڑاتے تھے، اُن پر اثر نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ دنیا کو عقل اور سمجھ دے۔

تیسری بات مَیں آج یہ کہنا چاہتا تھا کہ مجھے پتہ لگا کہ میرے نام سے آج کل انٹرنیٹ وغیرہ پرفیس بک (FaceBook) ہے۔ فیس بُک کا ایک اکاؤنٹ کھلا ہوا ہے جس کا میرے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں۔ نہ کبھی مَیں نے کھولا نہ مجھے کوئی دلچسپی ہے بلکہ مَیں نے تو جماعت کو کچھ عرصہ ہوا اس بارہ میں تنبیہ کی تھی کہ اس فیس بُک سے بچیں۔ اس میں بہت ساری قباحتیں ہیں۔ پتہ نہیں کسی نے بے وقوفی سے کیا ہے۔ کسی مخالف نے کیا ہے یا کسی احمدی نے کسی نیکی کی وجہ سے کیا ہے لیکن جس وجہ سے بھی کیا ہے، بہر حال وہ توبند کروانے کی کوشش ہو رہی ہے ان شاء اللہ تعالیٰ وہ بند ہو جائے گا۔ کیونکہ اس میں قباحتیں زیادہ ہیں اور فائدے کم ہیں۔ اور بلکہ انفرادی طور پر بھی مَیں لوگوں کو کہتا رہتا ہوں کہ یہ جو فیس بُک ہے اس سے غلط قسم کی بعض باتیں نکلتی ہیں اور پھر اس شخص کے لئے بھی پریشانی کا موجب بن جاتی ہیں۔ خاص طور پر لڑکیوں کو تو بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ لیکن بہر حال مَیں یہ اعلان کر دینا چاہتا تھا کہ یہ جو فیس بُک ہے اور اس میں وہ لوگ جن کے اپنے فیس بُک کے اکاؤنٹ ہیں، وہ آ بھی رہے ہیں، پڑھ بھی رہے ہیں، اپنے کمنٹس (Comments) بھی دے رہے ہیں جو بالکل غلط طریقہ کار ہے اس لئے اس سے بچیں اور کوئی اس میں شامل نہ ہو۔ اگر ایسی کوئی صورت کبھی پیدا ہوئی جس میں جماعتی طور پر کسی قسم کی فیس بک کی طرز کی کوئی چیز جاری کرنی ہوئی تو اس کو محفوظ طریقے سے جاری کیا جائے گا جس میں ہر ایک کی access نہ ہو اور صرف جماعتی مؤقف اس میں سامنے آئے اور اس میں جس کا دل چاہے آ جائے۔ کیونکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ بعض مخالفین نے بھی اپنے کمنٹ (Comment) اس پر دئیے ہوئے ہیں۔ اب ایک تو ویسے ہی غیر اخلاقی بات ہے کہ کسی شخص کے نام پر کوئی دوسرا شخص چاہے وہ نیک نیتی سے ہی کر رہا ہو بغیر اس کو بتائے کام شروع کر دے۔ اس لئے جس نے بھی کیا ہے اگر تو وہ نیک نیت تھا تو وہ فوراً اس کو بند کر دے اور استغفار کرے اور اگر شرارتی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے خودنپٹے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے اور جماعت کو ترقی کی راہوں پر چلاتا چلا جائے۔

(خطبہ جمعہ 31؍ دسمبر 2010ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 فروری 2021