• 5 جون, 2023

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط 79)

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں
قسط 79

ڈیلی بلٹن نے اپنی اشاعت 7؍نومبر 2011ء میں خاکسار کا ایک مضمون انگریزی میں شائع کیا جس کا عنوان یہ رکھا:

‘‘Giving Back To The Community’’

اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے لئے کوشش مومن کا ایک فریضہ ہے۔ حال ہی میں امریکہ میں جو 9/11 کی دسویں سالگرہ منائی گئی اور جسے میڈیا کی بھرپور کوریج بھی ملی۔

احمدیہ مسلم جماعت امریکہ میں وہ واحد کمیونٹی ہے جس نے اس موقعہ پر خون کے عطیات اکٹھے کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ جو تین ہزار لوگ 9/11 کو حملہ میں اپنی جان کھو بیٹھے ان کے عوض 30 ہزار لوگوں کی جانوں کو ’’خون کے عطیات دے کر‘‘ بچایا جائے۔ اس موقعہ پر دس ہزار یونٹ خون اکٹھے کئے گئے یہ دس گنا زائد ہے ان اموات سے جو 9/11 میں ہوئی تھیں اور اس کے علاوہ ابھی بھی یہ کام جاری ہے۔ ہمارا خون کے عطیات اکٹھے کرنے کا جو ٹارگٹ تھا اس سے کہیں زیادہ جمع کیا گیا۔ یہ خیال کہ کمیونٹی کی اس طرح خدمت کی جائےدراصل اسلام ہی کی تعلیم ہے۔ ہم ان لوگوں کے بھی شکر گذار ہیں جنہوں نے خدمت انسانیت کر کے خون کے یہ عطیات دیئے۔

میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جماعت احمدیہ مسلمہ کی طرف سے ان سب احباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے خون کے عطیہ جات دیئے، جنہوں نے اس کام کو احسن رنگ میں آرگنائز کیا، تمام رضا کار جنہوں نے اس کو کامیاب بنانے میں اپنے اپنے رنگ میں خدمت کی۔ فَجَزَاھُمُ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْجَزَاءِ

ہم اس وقت خدا تعالیٰ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جس نے ہمیں یہ کام کرنے کی توفیق دی تا وہ لوگ جن کی زندگی بچانے کے لئے خون کی ضرورت ہے یہ ان کے کام آئے۔ ریڈ کراس اور لائف سٹریم نیز سارے امریکہ کی 70 جماعتوں میں جتنے رضا کار ہیں اور وہ سب رحم دل انسان جنہوں نے جس قدر کام بھی کیا اور خون کے عطیات بھی دیئے سب کے شکر گذار اور سب کے لئے دعا گو ہیں۔ اس وقت تک 168 شہروں میں 276 بلڈ ڈرائیوز کا انتظام ہوا۔ جس سے گیارہ ہزار یونٹ (بوتلیں) خون کی اکٹھی ہوئیں۔ کئی جگہ پر تو خون کے عطیات دینے والے ہمارے اندازے اور انتظام سے بھی زیادہ تھے اور ان کو واپس بھیجنا پڑا۔ مثلاً مسجد بیت الحمید میں 50 یونٹ (بوتلیں) خون کی اکٹھی کی گئیں یہ کام یہاں پر 6 گھنٹے میں ہوا اور 20 آدمیوں کو جو خون کا عطیہ دینے آئے تھے ٹائم نہ ہونے کی وجہ سے واپس بھیجنا پڑا۔

ملک کے کیپٹل واشنگٹن کے علاقہ میں بھی ہماری طرف سے بلڈ ڈرائیو کا انتظام کیا گیا تھا۔ جس میں کانگرس کے ممبرز نے بھی خون کے عطیہ جات دیئے جس میں ریپبلکن کے مینسوٹا کی کیتھ الیسن بھی شامل ہیں۔

حال ہی میں مولانا نسیم مہدی صاحب نائب امیر امریکہ نے صدر اوباما کو بھی اس بارے میں بتایا کہ جماعت احمدیہ خون کے عطیہ جات 9/11 کے حوالہ سے اکٹھی کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات صدر اوباما کو حال ہی میں عید کے ڈنر کے موقع پر بتائی۔ اسی طرح صدر اوباما کے وائس صدر جو بائیڈن کو بھی ایک فلائر کے ذریعہ جو کہ یہ تھا Muslim For Life پتہ لگا۔

جماعت احمدیہ اس وقت دنیا کے 200 ممالک میں اسلام کی صحیح تعلیمات کو پھیلا رہی ہے۔ کیوں کہ مغربی دنیا میں یہ تاثرعام پایا جاتا ہے کہ اسلام تشدد کی تعلیم دیتا ہے۔ چنانچہ اس کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے جماعت احمدیہ یہ تقاریب منعقد کر رہی ہے اور Muslim For Life سے پہلے Muslim For Peace پمفلٹ بھی سارے ملک میں تقسیم کر چکی ہے۔

مضمون کے آخر میں جماعت احمدیہ کا تعارف ہے کہ یہ جماعت 1889ء میں انڈیا میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے ذریعہ وجود میں آئی جس کا مقصد اسلام کی حقیقی تعلیمات کو پھیلانا ہے اور اس کا ایک مقصدمخلوق کا اپنے خالق کے ساتھ رشتہ جوڑنا ہے۔ ہمارا گول، نعرہ اور ماٹو یہ ہے ’’محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں‘‘۔

ہفت روزہ پاکستان ایکسپریس نے اپنی اشاعت 11؍نومبر 2011ء میں صفحہ13 پر خاکسار کا ایک مضمون بعنوان ’’سنت ابراہیمی کی ادائیگی میں مشکلات اور ان کا حل‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ یہ مضمون اس سے پہلے دوسرے اخبار کے حوالہ سے آچکا ہے۔

ہفت روزہ نیویارک عوام نے اپنی اشاعت 11 تا 17؍نومبر 2011ء میں صفحہ12 پر خاکسار کا یہی مضمون ’’سنت ابراہیمی کی ادائیگی میں مشکلات اوران کا حل‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا جو اوپر گزر چکا ہے۔

الانتشار العربی نے اپنی اشاعت 9؍نومبر 2011ء میں صفحہ20 پر دو تصاویر کے ساتھ ہماری خبر شائع کی ہے۔ اس خبر کی ہیڈ لائن یہ ہے کہ
’’چینو میں مقیم احمدیہ جماعت کے امام میری لینڈ میں سیرالیون کی 50 ویں یوم آزادی مناتے ہیں‘‘۔

ایک تصویر میں مسٹر بکاری سٹیون سفیر سیرالیون اور مسٹر ایم پی بایو سابقہ ایمبیسیڈر آف نائیجریا کھڑے ہیں جبکہ دوسری تصویر میں ایمبیسیڈر سیرالیون مقیم واشنگٹن، خاکسار سید شمشاد احمد ناصر اور دیگر سیرالیون کے دوست ہیں۔ یہ گروپ فوٹو ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ اپریل 1961ء میں مغربی افریقہ کے ملک سیرالیون کو برٹش سے آزادی ملی 16؍اپریل 2011ء کو ملک سیرالیون سے تعلق رکھنے والے قریباً 125 لوگ مسجد بیت الرحمان جو کہ سلور سپرنگ میں واقع ہے اور جماعت احمدیہ کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے، میں اپنا 50 واں یوم آزادی منانے کے لئے اکٹھے ہوئے۔ 25 کے قریب احمدی بھی شامل ہوئے اور کیلی فورنیا سے امام شمشاد ناصر بھی اس تقریب میں شامل ہونے کے لئے پہنچے۔ امام شمشاد نے سیرالیون میں جماعت احمدیہ کے مبلغ کے طور پر 1982ء تا 1986ء تک خدمت کی ہے۔

اس تقریب کا افتتاح دعا سے ہوا جو پاسٹر ریورنڈ گلوریا نے کی پھر قرآن کریم سے تلاوت کی گئی جو سلیمان باری (آف سیرالیون) نے کی۔ ایک سیرالیون کی لڑکی نے جو چھٹی جماعت کی طالبہ ہے امریکہ اور سیرالیون کا قومی ترانہ خوش الحانی سے پیش کیا۔ ڈاکٹر احسان اللہ ظفر امیر جماعت احمدیہ امریکہ نے حاضرین کو استقبالیہ دیا اور سب کے آنے پر 50 ویں یوم آزادی کے موقعہ پر مبارکباداور خوشی کا اظہار کیا۔ مکرم امیر صاحب نے حاضرین سیرالیون کے سفیر متعین امریکہ مسٹر بکاری سٹیون اور مسٹر ایم پی بایو جو سیرالیون کے نائیجریا میں بھی سفیر رہ چکے تھے (جماعت احمدیہ کا فعال ممبر تھے سیرالیون میں) اور دیگر شخصیات کو بھی خوش آمدید کہا۔ امیر صاحب نے سیرالیون کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیرالیون کی آزادی مبارک ہو، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریاں بھی ادا کرنی چاہئیں خصوصاً علم کے میدان میں خاصی ترقی کریں۔

مکرم امیر صاحب نے جماعت احمدیہ کے پانچویں خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کی طرف سے بھی اس موقعہ پر مبارکباد پیش کی۔ محترم امیر صاحب نے فرمایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ملک سیرالیون کے 6 مختلف علاقوں میں ٹیوب ویل سولر سسٹم سے چلنے کی منظوری بھی دی ہے۔

محترم امیر صاحب کی تقریر کے بعد مکرم مسٹر بنگورا آف واشنگٹن نے بھی مختصرًا تقریر کی ’’یہ بھی سیرالیون کے احمدی ہیں‘‘ جس میں انہوں نے ’’جماعت احمدیہ کی خدمات سیرالیون میں‘‘ کے حوالہ سے بات کی یعنی جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملک سیرالیون میں تعلیمی و طبی میدان میں جو خدمات کر رہی ہے اسے بیان کیا اور سیرالیون کے عوام کو جو ان سے فائدہ مل رہا ہے اس کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا اور جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 1920ء سے جب سے کہ احمدیت اس ملک میں آئی ہے جماعت احمدیہ کے مبلغین، ڈاکٹرز اور اساتذہ سیرالیون کے عوام کی ہر میدان میں خدمت کر رہے ہیں اور ملک سیرالیون میں اس وقت 200 پرائمری سکولز، 53 سیکنڈری سکولز اور 550 احمدیہ مساجد ایک ریڈیو سٹیشن اور ایک احمدیہ مشنری ٹریننگ کالج بھی ہے۔ الحمدللّٰہ (یہ 2011ء کی بات ہے)

ان کے بعد اگلے سپیکر مسٹر ایم پی بایوتھے۔ یہ فری ٹاؤن میں احمدیہ سیکنڈری سکول کے 25 سال تک پرنسپل بھی رہے ہیں اور سیرالیون کے نائیجریا میں سفیر بھی اور تعلیم کے شعبہ سے بھی منسلک رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس وقت حکومتی اہل کار، نمائندے اور چیفس اور دیگر اہم شخصیات نے جماعت احمدیہ کے سکولوں میں تعلیم حاصل کی ہے۔ یہ جماعت احمدیہ کی ایسی خدمت ہے جس نے سیرالیون کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اسے کبھی بھی بھلا یا نہیں جا سکتا اس موقعہ پر مسٹر ایم پی بایو نے سیرالیون کے یوم آزادی کے موقعہ پر ایک تحفہ بھی امام شمشاد کی خدمت میں پیش کیا۔

امام شمشاد کے دل میں سیرالیون کے لوگوں سے بہت محبت ہے۔ کیوں کہ انہوں نے 1982ء سے 1986ء تک کا عرصہ سیرالیون میں گزارا ہے۔ اگلے سپیکر سفیر عزت مأب جناب Hon. Mr Bockarie Stevens تھے۔ انہوں نے بھی جماعت احمدیہ کی سیرالیون میں تعلیمی و طبی میدان میں خدمات کو سراہا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تعریف کی کہ جماعت احمدیہ نے کس طرح آزادی کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد مسٹر سلمان باری کی قیادت میں سابقہ طلبا آف سیرالیون نے مل کر سیرالیون کے احمدیہ سکولوں میں پڑھا جانے والا ترانہ پیش کیا۔ جس میں صَلِّ عَلیٰ نَبِیِّنَا، اسلام زندہ باد اور احمدیت زندہ باد، نعرہ تکبیر بھی شامل تھا اور اردو میں بھی اشعار پڑھے گئے۔ (یہ بھی سیرالیونین تھے)

اس کے بعد امام شمشاد ناصر نے سب حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور اس موقعہ پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ امام شمشاد نے پھر ان لوگوں کو جنہیں سیرالیون میں خدمات کا موقع ملا تھا۔ اساتذہ، ڈاکٹرز، مبلغین اور ان کی اولادوں کو دعوت دی کہ اگر ان میں سے بھی کوئی آکر اپنے تجربات بیان کرنا چاہتا ہے۔ تو پوڈیم پر آجائیں چنانچہ ایک پاکستانی نوجوان مسٹر عبدالقدوس جو کہ سیرالیون ہی میں پیدا ہوئے تھے۔ (ان کے والد صاحب مسٹر عبدالرشید فوزی صاحب ہیں جو احمدیہ سکول فری ٹاؤن میں 27 سال ٹیچر رہے تھے) نے بتایا کہ وہ سیرالیون میں کس طرح پلا بڑھااور آج بھی اس کے دل میں وہ یادیں تازہ ہیں۔ یہ نوجوان جب یہ باتیں بیان کر رہا تھا تو سیرالیون کے لوگوں کی محبت کی وجہ سے ہچکیاں لے کر رو بھی رہا تھا۔ جس نے سب حاضرین کو بہت متاثر کیا۔

آخر میں پھر امام شمشاد نے سب کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی مبلغین کرام جنہوں نے سیرالیون اور مغربی افریقہ میں کام کیا تھا کہ نام بھی سنائے۔ مکرم داؤد حنیف صاحب (جو اس وقت کینیڈا کے جامعہ کے پرنسپل ہیں) امام ظفر اللہ ہنجرا صاحب، امام ارشاد ملہی صاحب، امام ظفر سرور صاحب اور امام سعید خالد صاحب کا بھی ذکر کیا۔

مکرم امیر صاحب امریکہ ڈاکٹر احسان اللہ ظفر نے دعا کرائی اور سب حاضرین کو جماعت کی طرف سے کھانا بھی پیش کیا گیا۔ جس میں پاکستانی کھانے کے ساتھ ساتھ سیرالیون کے ٹریڈیشنل کھانے بھی پکوائے گئے تھے۔

انڈیا ویسٹ نے اپنی اشاعت 14؍نومبر 2011ء پر رنگین تصویر کے ساتھ ہماری خبر شائع کی جس کی ہیڈ لائن یہ ہے ’’احمدیہ مسلم کمیونٹی سیرالیون کا یوم آزادی مناتی ہے۔‘‘ تصویر میں خاکسار پوڈیم پر تقریر کر رہا ہے۔ جب کہ ہیڈ ٹیبل پر مکرم ڈاکٹر احسان اللہ ظفر صاحب امریکہ درمیان میں، آپ کے ساتھ سٹیج پر ایمبیسیڈر سیرالیون اور دیگر اہم شخصیات بیٹھی ہیں۔ خبر کا متن وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے۔

الاخبار نے اپنے عربی سیکشن میں حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبہ عید الاضحیہ کا خلاصہ حضور کی تصویر کے ساتھ صفحہ9 پر شائع کیا۔

حضور نے اس خطبہ میں سورہ الصافات کی آیات

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعۡیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذۡبَحُکَ فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾ فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَتَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ ﴿۱۰۴﴾ۚ وَنَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ ﴿۱۰۵﴾ۙ قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا ۚ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡبَلٰٓـؤُا الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۰۷﴾ وَفَدَیۡنٰہُ بِذِبۡحٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۰۸﴾ وَتَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾ۖ

(الصافات: 103-109)

حضور انور نے ان آیات کا ترجمہ اور تشریح اور حضرت ابراہیمؑ کی رؤیا کا ذکر اور آپ کی اللہ تعالیٰ کے راستے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا ذکر فرمایا اور پھر ذِبْحٍ عَظِیْم کا ذکر کیا۔ جو مینڈھے یا دنبے کی قربانی نہیں تھی۔ اس ضمن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ اجمعین کی قربانیوں کا ذکر کیا پھر انہیں اللہ تعالیٰ نے رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْ عَنْہُ کا سرٹیفکیٹ عطا فرمایا یہ ان قربانیوں کا ہی نتیجہ تھا جو انہوں نے کیں اور جن کے اسلوب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھے۔ پھر خدا تعالیٰ انہیں نہ صرف اخروی زندگی میں جنت اور نعماء عطا فرمائے گا بلکہ انہیں اس زندگی میں بھی بے شمار نعمتوں سے نوازا اور وہ عرب میں حکمران بنائے گئے اور اس کی ایک وجہ ان کی وہ دعائیں تھیں اور عبادات تھیں جو وہ انہماک سے خدا تعالیٰ کی کرتے تھے۔ حضور نے اس سال مفتی سعودی کا خطبہ حج کا ذکر کیا جس میں انہوں نے کہا کہ جب حکام عدل و مساوات اور انصاف سے کام نہ لیں تو پھر فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور پھر جب حکام عوام کے حقوق نہ دیں پھر بھی فساد شروع ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مسلمان مسلمان کا اس وقت خون کر رہا ہے۔

آپ نے مسلمانوں کو تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ آپس میں لڑائی کٹائی اور قتل و غارت کرنے کی بجائے اتحاد پیدا کریں اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اتحاد اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے امام زمانہ پر ایمان نہیں لایا جاتا۔ حضور نے فرمایا کہ مفتی مکہ نے تو ٹھیک کہا ہے کہ ہمیں اپنی حالتوں میں تغیر لانا چاہیئے لیکن یہ تغیر کیسے آئے گا۔ کاش وہ اس آسمانی آواز پر بھی کان دھریں جو اللہ تعالیٰ نے اس وقت بھیجی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قبول حق سے انکاری ہیں۔

حضور نے اس کا آسان طریقہ بھی بتایا کہ خدا تعالیٰ سے دعا کی جائے کہ اگر یہ مدعی خدا کی طرف سے سچا ہے تو ہمیں ہدایت عطا فرما اور اگر یہ لوگ صحیح نیت اور اخلاص سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت عطا فرمائے گا۔

حضور نے فرمایا جب وہ یہ طریق اختیار کریں گے تب جہاد کےحقیقی معنی پر بھی ان کو اطلاع ملے گی اور پھر وقت آئے گا کہ خدا تعالیٰ احمدیوں کے ذریعہ تمام لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرے گا۔

حضور نے تکالیف اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی جو قربانیوں سے بھری پڑی ہے آپ نے فرمایا کہ جماعت کی تاریخ دیکھ لیں کہ مصائب اور تکالیف پر ہم نے ہمیشہ ہی صبر اور دعا سے کام لیا ہے اور جنگ نہیں کی کیونکہ مسیح اور امام مہدی کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیا ہے وَیَضَعُ الْحَرْب کہ وہ جنگوں کا خاتمہ کرے گا۔ پس ہم احمدی ہی ہیں جو اس وقت اپنے نفسوں اور اموال سے اور اوقات کی قربانی دین اسلام کی سربلندی کے لئے کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے فضل سے گذشتہ 120 سالوں سے ہورہا ہے۔

آپ نے مندرجہ بالا آیت کی مزید روشنی اور وضاحت فرمائی کہ یہ امتحان صرف اکیلے باپ یعنی حضرت ابراہیمؑ کا ہی نہ تھا۔ بلکہ ان کے بیٹے کا بھی تھا جب اس نے کہا کہ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ اورپھر دیکھ لیں کہ خدا تعالیٰ نے اس کا بدلہ کیا دیا کہ قرآن کریم میں فرمایا اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۴۵﴾ اس زمانے میں ذبح عظیم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ظہور پذیر ہوا۔ جنہوں نے صبرم دعا اور وفا سے خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کیں۔

حضور نے اس ضمن میں قرآنی آیت قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (الانعام: 163) کی تشریح بھی فرمائی۔ پس یہ وہ ادراک ہے ذبح عظیم کا جو اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو عطا فرمایا ہے اور دنیا کے سارے ممالک میں خواہ وہ پاکستان ہو، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ہندوستان یا افریقہ کے ممالک ہوں یا عرب ممالک ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

ویسٹ سائیڈ سٹوری نیوز پیپر نے اپنی اشاعت 17؍نومبر 2011ء پر پہلے صفحہ پر ہماری خبر شائع کی۔ اس خبر کا عنوان ہے۔

’’یوم آزادی کے موقع پر سیرالیون کے لئے سولر سسٹم اور پانی کی فراہمی کے لئے دو واٹر ویل کا اعلان‘‘

اخبار نے ایک بڑی رنگین تصویر بھی ہیڈ لائن کے بعد پرنٹ کی ہے جس میں سیرالیون کے افریقن احباب دکھائے گئے ہیں جس کے نیچے لکھا ہے کہ سیرالیون کے خواتین اور مرد مسجد بیت الرحمان میری لینڈ میں سیرالیون کے یوم آزادی کے موقع پر تقاریر سن رہے ہیں۔ شاملین نے کھانے کو بھی بہت پسند کیا جو ان کی ضیافت کے لئے مسجد بیت الرحمان میں تیار کیا گیا تھا۔ جس میں پاکستانی اور سیرالیون کے کھانے شامل تھے۔ اس خبر کی تفصیل اس سے قبل دوسرے اخبارات کے حوالہ سے گزر چکی ہے۔

الاخبار نے اپنے انگریزی سیکشن میں 16؍نومبر 2011ء میں صفحہ 21 پر دو تصاویر کے ساتھ ہماری عید الاضحیہ کی خبر شائع کی ہے۔ ایک تصویر میں خاکسار خطبہ عید الاضحیہ دے رہا ہے اور کچھ سامعین بھی نظر آرہے ہیں جب کہ دوسری تصویر مسجد بیت الحمید کی ہے اور باہر لوگ کھانا کھا رہے ہیں۔ اخبار نے خبر دیتے ہوئے لکھا کہ 6 نومبر کو مسجد بیت الحمید میں قریباً 700 مرد و خواتین اور بچے حج کے اختتام پر اپنی عید الاضحیہ منانے کے لئے اکٹھے ہوئے جس میں انہوں نے نماز پڑھی اور امام کا خطبہ سنا۔ اس سال 3 ملین لوگوں نے مکہ جا کر حج کیا اور اس عید کا تعلق بھی حج کی عبادات سے ہے۔ جن میں سب سے بڑی عبادت اللہ تعالیٰ کی توحید ہے اور حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ اور حضرت ہاجرہؓ کی قربانی ہے۔ ہر تین نے خدا کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کی توحید کی خاطر قربانیاں پیش کیں۔ امام شمشاد نے خطبہ عید مسجد بیت الحمید میں دیا اور کہا کہ ہمیں اس اطاعت کا صحیح نمونہ پیش کرنا چاہیئے جو حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ اور حضرت ہاجرہؓ نے سکھائی۔ امام شمشاد نے مزید بیان کیا کہ سورہ حج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ یہودیوں اور عیسائیوں کا بھی ذکر کیا ہے کہ ان سب کے لئے حضرت ابراہیمؑ ایک رول ماڈل اور اسوہ تھے۔

امام شمشاد نے عید کے حوالہ سے مزید بتایا کہ مسلمانوں کو خدمت انسانیت بھی کرنی چاہیئے۔ اس موقعہ پر خصوصیت کے ساتھ غریب اور کمزور اور نادار لوگوں کا خیال رکھنا چاہیئے ان کی مدد کرنی چاہیئے اور صرف اس موقعہ پر ہی نہیں بلکہ خدمت انسانیت کے لئے ہر وقت چوکس اور بیدار رہنا چاہیئے۔ قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے امام نے مزید بتایا کہ خدا تعالیٰ کو تو گوشت اور قربانیوں کا خون نہیں پہنچتا۔ صرف تقویٰ ہے جو کام آتا ہے۔

ایک اور پیغام جو اس عید میں پنہاں ہے اور جس کا نمونہ حضرت اسماعیلؑ ہیں وہ یہ ہے کہ بچوں کو والدین کی اطاعت سکھائی جائے اور اس رنگ میں تربیت کی بجائے کہ وہ اسلامی تعلیمات کا صحیح نمونہ بنیں اور تقویٰ اپنانے والے ہوں۔

پاکستان ایکسپریس نے اپنی اشاعت 18؍نومبر 2011ء میں صفحہ12 پر خاکسار کاایک مضمون بعنوان ’’مصطفیٰ پر تیرا بے حد ہو سلام و رحمت‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ اس مضمون میں خاکسار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام جو قرآن مجید میں بیان ہوا۔ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ (آل عمران: 32) سے آپ سے محبت کرنے اور پھر خدا تعالیٰ کا محبوب بننے کی طرف توجہ دلائی۔ نیز حضرت عائشہؓ کے قول کان خلقہ القرآن اور وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ﴿۵﴾ کا مضمون بیان کیا۔ یہ حدیث بھی اس مضمون میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایمان والوں میں کامل ایمان والا وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تم میں سے وہ لوگ سب سے بہتر ہیں جو کہ اپنی بیویوں کے ساتھ سب سے اچھے ہوں۔

اسی طرح یہ حدیث بھی بیان کی گئی ہے کہ ’’جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو خوش کرنے کے لئے اس طرح ملتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کو پسند ہے (یعنی خندہ پیشانی سے) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے خوش کر دیں گے‘‘۔

اس مضمون میں زیادہ تر عمدہ اخلاق اپنانے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہمارے لئے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی نرم خو تھے، بات آہستہ آہستہ فرماتے تا لوگ آسانی سے سمجھ سکیں۔ کسی پر سختی نہ فرماتے نہ خادموں پر نہ غلاموں پر، نہ بچوں پر، نہ عورتوں پر، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ نے کبھی کسی سے اپنی ذات کی خاطر انتقام نہیں لیا۔ آپ ہمیشہ عفو اور درگذر سے کام لیتے۔ اگر صحابہ کرامؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی گستاخی کی وجہ سے غصہ کا اظہار فرماتے تو آپ ان کو روک دیتے ایک دفعہ ایک شخص نے آپ سے اپنے قرضہ کی ادائیگی کے بارے میں گستاخی کے ساتھ مطالبہ کیا۔ صحابہ کو طیش آیا، قریب تھا اسے مار دیتے مگر آپ نے منع فرمایا دیا جب کہ آج کل خدا کی پناہ انصاف اور عدل تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اٹھ گیا ہے۔ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں مگر ان کے اعمال کو دیکھا جائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے بالکل الٹ اور برعکس ہیں پھر اس پر مزید تعجب اور حیرت یہ ہے کہ ہر قسم کے ظلم اور تمام ناانصافیاں آپ ہی کے نام سے منسوب کر کے کی جاتی ہیں۔ آیئے اس محسن انسانیت پر درود بھیجیں۔ اللّٰھُمَّ صَلّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْد۔

خاکسار نے اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نبویہ سے درود شریف کی اہمیت والی احادیث کو نقل کیا ہے اور دعا کرنے کا صحیح طریق بھی سمجھایا ہے اور آخر میں حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب سراج منیر سے ایک اقتباس بھی نقل کیا ہے کہ:
’’ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلی درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار، رسولوں کا فخر، تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ و احمد مجتبیٰ ہے جس کے سایہ میں دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی‘‘۔؎

مصطفیٰ پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت
اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے
ہم ہوئے خیر امم تجھ ہی سے اے خیر رسل
تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 فروری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی