• 20 مئی, 2024

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط82)

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں
قسط82

الانتشار العربی نے اپنے انگریزی سیکشن میں 9؍ فروری 2012ء میں صفحہ 20 پر ہمارے جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر 3تصاویر کے ساتھ شائع کی۔خبر کی تفصیل قدرے وہی ہے جو اوپر گذر چکی ہے۔ تین تصاویر کی تفصیل یہ ہے۔ ایک تصویر میں خاکسار (سید شمشاد ناصر مربی سلسلہ) تقریر کر رہا ہے۔ دوسری تصویرمیں خاکسار سینیٹر کو اسلامی کتب کا تحفہ پیش کر رہا ہے۔ تیسری تصویر شاملین جلسہ کی ہے۔

اس خبر میں زائد بات یہ ہے کہ سیرالیون کے نمائندہ پاٹمبو نے بھی اس موقعہ پر تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسلمانوں کے لئے نبی بن کر نہ آئے تھے بلکہ آپ تمام جہانوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ اس کا ایک مطلب انہوں نے یہ بتایا کہ مسلمان جو آپ کو مانتے ہیں انہیں بھی ساری انسانیت کے ساتھ یکساں اور مساویانہ سلوک کرنا چاہیئے۔ نہ یہ کہ وہ صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی اچھا سلوک کریں۔ اور باقی دنیا کے لئے اچھا سلوک نہ کریں۔ یہ غلط ہوگا۔ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ بھی دوسروں کی عزت و احترام کریں۔ ان کے ساتھ مہربانی اور احسان کا سلوک کریں انہیں چاہیئے کہ وہ اپنے نبی کے کردار کو اپنا ئیں اور نبی کریمؐ کے اسوہ کو اس طرح اپنائیں کہ اس طریق سے وہ دنیا کے لوگوں کے دل جیت لیں۔ اور یہ صرف اسی وقت ایسا ہوسکتا ہے جب وہ اپنے نبی رحمت کے طریق پر چلیں گے۔

اس کے بعد سٹیٹ کے نمائندہ مِس گلوریا نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ اور انہیں اس جلسہ میں دعوت دینے کا شکریہ کہا۔

امام شمشاد ناصر آف مسجد بیت الحمید نے اس موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اٹھائے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا۔ امام نے مزید کہا کہ دنیا کے سارے مذاہب دفاع کی اجازت دیتے ہیں۔ یعنی جب دشمن ان پر حملہ کرے تو وہ اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ لیکن جب یہ بات اسلام کے بارے میں آتی ہے تو اسے غلط رنگ دے کر پیش کرتے ہیں۔ امام شمشاد نے کہا کہ ہمیں چاہیئے کہ اسلام کی صحیح تصویر اور اسلام کی صحیح تاریخ کا مطالعہ کریں۔ اور تعصب سے پاک ہو کر مطالعہ کریں۔

پاکستان ایکسپریس نے اپنی اشاعت 10؍ فروری 2012ء میں صفحہ 13 پر خاکسار کا ایک مضمون بعنوان ’’محمد ہی نام اور محمد ہی کام علیک الصلوٰۃ علیک السلام ‘‘خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ اس مضمون میں خاکسار نے ربیع الاول کے حوالہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ السلام کی پیدائش پر جلسہ سیرت النبیؐ منعقد کرنے کے حوالہ سے باتیں لکھی ہیں۔ اس ضمن ہی خاکسار نے چند مثالیں بیان کیں۔

(1)ایک مسلمان ایک یہودی کو تبلیغ کرتا تھا۔ لیکن اس کا اپنا عمل نیک نہ تھا۔ ایک دن اس یہودی نےمسلمان کو کہہ دیا کہ تم مجھے کیا تبلیغ کرتے ہو تمہارا اپنا نمونہ ہی ٹھیک نہیں ہے۔ یعنی جب اسلام نے تم پر اثر نہیں کیا تو تم مجھے کیا تبلیغ کرتے ہو؟ صرف نام کے مسلمان ہونے سے کچھ فائدہ نہیں ہے۔ اور ساتھ ہی بتایا کہ میرے بیٹے کا نام خالد تھا۔ وہ چند دن زندہ رہ کر فوت ہوگیا۔ تو اس کے نام نے اسے کچھ فائدہ نہ دیا۔ اسی طرح تم مسلمان کہلاتے ہو صرف مسلمان کہلانے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا جب تک تمہارے اعمال اس کے مطابق نہ ہوں۔

ربیع الاول کے بابرکت مہینہ کی مناسبت سے خاکسار نے حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے چند واقعات لکھے۔

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوقات کے تین حصے مقرر کئے ہوئے تھے۔ اول عبادت الٰہی، یاد الٰہی اور ذکر الٰہی۔ دوم عام خلق اللہ کی بھلائی، بہتری اور تعلیم وتربیت و تبلیغ۔ سوم اپنی ذات، بیوی بچے، رشتہ دار وغیرہ۔

عبادت الٰہی۔ ہمیشہ آپؐ نماز باجماعت کو ترجیح دیتے۔ اور اس کی ہی تلقین فرماتے۔ اس کا 27 گنا زیادہ ثواب ملتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت آخری جمعہ یا آخری وصیت میں بھی یہی فرمایا اور تاکید فرمائی کہ نماز اور اپنے ماتحتوں سے حسن سلوک کے بارے میں میری تعلیم نہ بھولنا۔

پھر ذکر الٰہی کی طرف بھی بار بار آپ نے توجہ دلائی۔ نماز بھی ذکر الٰہی ہی ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت بھی ذکر الٰہی ہے۔ اور کم از کم ذکر الٰہی ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ۔ 33 مرتبہ الحمد للّٰہ اور 34 مرتبہ اللّٰہ اکبر۔ پھر ہر موقع کی دعا بھی سکھائی۔ کھانے کی، کھانے سے فراغت کی، سونے کی، جاگنے کی۔ ہر موقعہ کی دعا بھی ذکر الٰہی ہی ہے۔

پھر آپؐ کی وصیت ماتحتوں سے حسن سلوک کی تھی اسمیں سب سے اہم بات آپ نے اپنے غلاموں سے حسن سلوک کی تعلیم دی ہے۔ جو خود کھاؤ انہیں کھلاؤ۔ جو خود پہنو انہیں بھی پہناؤ۔ یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے دن مجھے کمزوروں میں تلاش کرنا۔

خاکسار نے بہت سی مزید حدیثیں لکھ کر توجہ دلائی کہ اپنے معاشرہ میں ان باتوں کو رواج دیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اس شخص کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا۔ آخر میں خاکسار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے 6 احادیث بھی بیان کی ہیں۔

بیاں کر دیئے سب حلال و حرام
علیک الصلوٰۃ علیک السلام

انڈیا ویسٹ نے اپنی اشاعت 17؍ فروری 2012ء میں صفحہ 25Bپر ہماری ایک خبر تصویر کے ساتھ شائع کی ہے۔ خبر کا عنوان ہے کہ ’’سیرت النبی کا جلسہ مسجد احمدیہ میں‘‘۔ تصویر میں خاکسار سٹیٹ سینیٹر کو اسلامی لٹریچر پیش کر رہا ہے۔ خبر کا متن قریباً وہی ہے جو اس سے پہلے چینو چیمپئن اور دیگر اخبارات کے حوالہ سے پہلے گزر چکا ہے۔

نیویارک عوام نے اپنی اشاعت 10 تا 16؍ فروری 2012ء میں صفحہ 12 پر خاکسار کا ایک مضمون بعنوان ’’محمدہی نام اور محمد ہی کام۔ علیک الصلوٰۃ علیک السلام ‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ یہ مضمون سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے پہلے گذر چکا ہے۔ مضمون کے آخر میں جو چند احادیث ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں وہ درج کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بہترین زاد راہ تقویٰ ہے‘‘۔ آجکل تو تقویٰ اور خوف خدا کی بہت کمی ہے۔ اگر تقویٰ پیدا ہوجائے تو سارے مسائل حل ہوجائیں۔ سارے مسائل کا حل خدا خوفی اور تقویٰ ہی ہے۔

’’جو ہمیں دھوکا دے اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں‘‘۔ دھوکہ دہی بھی معاشرہ کا حصہ بن چکی ہے۔ اور بہت عام ہوگئی ہے۔ ہر ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کی کوشش میں ہے۔

’’سچ نجات دیتا ہے اور جھوٹ ہلاک کرتا ہے‘‘ ذرا دیکھیں معاشرہ میں کتنے لوگ سچ بولتے ہیں اور کتنے جھوٹ ؟ خود اندازہ لگائیں۔

’’اپنی اولاد کی عزت کرو اور انہیں ادب و اخلاق سکھاؤ‘‘۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔

’’غیبت قتل سے زیادہ بُری ہے‘‘۔ معاشرہ کس قدر اس بُرائی میں پھنسا ہوا ہے؟

’’راستہ سے کانٹا ہٹا دینا بھی نیکی ہے‘‘ گویا چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی تم حقیر نہ سمجھو۔

ہفت روزہ نیویارک نے اپنی اشاعت 17 تا 23؍ فروری 2012ء میں صفحہ12 پر خاکسار کا مضمون بعنوان ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم وصیت اور نصیحت‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔

خاکسار نے اس مضمون میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لمبی حدیث نقل کی ہے۔ اور مضمون سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن حضرت معاذؓ سے فرمایا۔

’’اے معاذ ! میں تجھے ایک بات بتاتا ہوں اگر تو نے اسے یاد رکھا تو یہ تمہیں نفع پہنچائے گی اور اگر بھول گئے تو تم اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل نہ کر سکو گے……اے معاذ! اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پہلے سات دربان فرشتوں کو پیدا کیا اور ان میں سے ہر ایک فرشتہ کو ہر آسمان پر بطور دربان مقرر کردیا۔ جن کی ڈیوٹی یہ تھی کہ یہاں سے صرف ان لوگوں کے اعمال گذرنے دو جن کی اجازت ہم دیں(یعنی اللہ تعالیٰ) چنانچہ وہ فرشتے جو انسان کے اعمال نامہ لکھتے ہیں وہ خدا کے ایک بندے کے اعمال لے کر جو اس نے صبح سے شام تک کئے تھے آسمان کی طرف بلند ہوئے۔ وہ جب اس کے اعمال لے کر پہلے آسمان پر پہنچے تو فرشتہ جو وہاں مقرر تھا اس نے کہا ٹھہر جاؤ۔ تمہیں آگے جانے کی اجازت نہیں تم واپس لوٹو اور جس شخص کے یہ اعمال ہیں۔ انہیں اس کے منہ پر دے مارو۔ خدا تعالیٰ نے مجھے ہدایت فرمائی ہے کہ میں غیبت کرنےوالے بندہ کے اعمال یہاں اس دروازہ سے نہ گذرنے دوں۔ یہ شخص تو ہر وقت غیبت کرتا رہتا تھا۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ اور فرشتے ایک اور بندہ کے اعمال لے کر آسمان کی طرف چڑھے۔ وہ فرشتے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ یہ اعمال اچھے ہیں اور پاکیزہ ہیں۔ ان میں غیبت کا کوئی شائبہ نہ تھا۔ اس لئے پہلے فرشتہ نے انہیں گزرنے دیا۔ جب دوسرے آسمان پر پہنچے تو دربان فرشتے نے پکارا ٹھہر جاؤ اور واپس لوٹو ان اعمال کو بجا لانے والے کے منہ پردے مارو۔ میں فخر و مباہات کا فرشتہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں اس لئے مقرر کیا ہے کہ میں کسی ایسےشخص کے اعمال یہاں سے نہ گزرنے دوں جس میں فخرو مباہات ہو جواپنی مجلس میں بیٹھ کر فخر سے اپنی نیکیاں پیش کرتا ہو۔ چونکہ یہ شخص ایسا ہی تھا مجلس میں اپنی نیکیوں کا ذکر تا تھا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتوں کا ایک اور گروہ ایک اور بندے کے اعمال لے کر آسمان کی طرف بلند ہوا۔ فرشتوں کی نگاہ میں وہ بہت اچھے اعمال تھے۔ اس کے اعمال میں صدقہ و خیرات تھا روزے اور نمازیں بھی تھیں۔ فرشتے بھی تعجب کرتے تھے کس طرح یہ شخص خدا کی عبادت میں محنت کرتا ہے اس کے اعمال میں نہ غیبت تھی نہ فخر و مباہات تو پہلے دونوں دروازوں سے وہ گذر گیا۔ لیکن تیسرے نے کہا کہ میں تکبر کا فرشتہ ہوں، اس شخص کے اعمال اس کے منہ پر دے مارو کیونکہ اس میں تکبر بہت زیادہ تھا۔ وہ دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا اپنی مجلس میں اونچی گردن کر کے بیٹھنے والا تھا اس لئے خدا کی نظر میں یہ مقبول نہیں۔ فرشتوں کا ایک چوتھا گروپ ایک اور بندے کے اعمال لے کر آسمان پر گیا۔ اس کے اعمال لے جانے والے فرشتوں کو وہ چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح نظر آرہے تھے۔ اتنے اچھے اعمال تھے جب وہ فرشتے چوتھے آسمان پر پہنچے تو اس نے کہا لے جاؤ یہ اعمال اور اس کے بجا لانے والے کے منہ پر دے مارو۔ میں خود پسندی کا فرشتہ ہوں۔ اور خدا تعالیٰ نے مجھے اس حکم کے ساتھ یہاں کھڑا کیا ہے کہ جس شخص کے اعمال میں خود پسندی ہو اس کے اعمال یہاں سے نہ گزرنے دوں۔

فرشتوں کا پانچواں گروہ ایک اور بندے کے اعمال لے کر روانہ ہوا۔ فرشتے اس کے اعمال کو دیکھ کر کہہ رہے تھے یہ اعمال تو سجی ہوئی دلہن کی طرح ہیں۔ چنانچہ وہ چاروں آسمانوں سے گزر گئے مگر پانچویں آسمان کے فرشتہ دربان نے روک لیا کہ اس کے اعمال لے جاؤ اور اس شخص کے منہ پر دے مارو۔ کیونکہ یہ شخص دوسروں سے بہت زیادہ حسد کرتا تھا۔ مجھے حکم ہے کہ حسد کرنے والے کے اعمال میں یہاں سے نہ گزرنے دوں۔

پھر فرشتوں کا ایک چھٹا گروہ ایک بندہ کے اعمال لے کر روانہ ہوا۔ پہلے پانچ دروازوں سے وہ بخیریت گزر گیا اس کے اعمال میں تو ہر قسم کی نیکی پائی جاتی تھی۔ مگر چھٹے دربان فرشتے نے کہا اس کے اعمال واپس لے جاؤ۔ یہ ایسا شخص ہے کہ جو انسانوں پر رحم نہ کرتا تھا۔ چنانچہ یہ لے جاؤ اور اس شخص کے منہ پر دے مارو کہ تم خدا تعالیٰ کے بندوں پر رحم کی بجائے ظلم کرتے تھے۔ پس اب خدا تعالیٰ تم پر کیسے رحم کرے۔

(الفضل موٴرخہ 9؍ فروری 1966ء۔ خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ)

ایشیاء ٹوڈےنے اپنی اشاعت جون 2012ء میں صفحہ 13 پر خاکسار کا ایک مضمون بعنوان ’’Make Life a Journey of Good‘‘۔ ’’اپنے زندگی کے سفرکو اچھا بنائیں‘‘

خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ خاکسار نے مضمون کی ابتداء Mr. J. A. Carneyجو ایک ادیب اور شاعر تھا، اس نے 1845ء میں ایک بڑا مشہور جملہ کہا تھا کہ’’ چھوٹی چھوٹی کنکریاں اور چھوٹے چھوٹے پانی کے قطرات مل کر سمندر اور پہاڑ بن سکتے ہیں‘‘سے کیا۔

قرآن کریم نے اس حقیقت کی طرف ان آیات 16:129میں یوں توجہ دلائی ہے کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو متقی ہوں اور جو لوگوں کے ساتھ احسان، نیکی کا سلوک کرتے ہوں۔ اور اس آیت کریمہ میں 2:195کہ اللہ یقیناً ان کو پسند کرتا ہے جو اچھے کام کرتے ہوں۔ گویا اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے جو نیکی کے کام بجا لائیں اور دوسروں سے بھی حسن سلوک، نیکی اور احسان کا سلوک کرنے والے ہوں۔ انسان کو اپنی زندگی کا اہم مقصد یہی بنانا چاہیئے جو دو باتیں ان آیات میں بیان کی گئی ہیں۔

مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگیوں میں اختیار کرتے ہیں جن کا مقصد بھی ہی دو باتیں تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو خاص طور پر ہر معاشرہ میں غریب، بے کس، یتامیٰ، مساکین، نادار، بیوگان کا خیال رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سلسلہ میں احادیث میں بہت سی تعلیمات اور اسوہ حسنہ بیان ہوا ہے۔ آپ نے مذکورہ بالا لوگوں کے علاوہ ہمسایوں کے ساتھ بھی نیک سلوک کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔

اس معاشرہ میں لوگ ایک دوسرے کے ہمسایہ میں سالہا سال رہتے ہیں لیکن ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں۔ یہ درست بات نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں ہزاروں ایسے واقعات بیان ہوئے ہیں کہ معمولی سی نیکی سے خدا تعالیٰ نے بہت بڑا اجر دیا۔ اور ان کے گناہ بخشے گئے۔ اس مضمون میں خاکسار نے یہ واقعہ لکھا ہے کہ ایک شخص پیاسا تھا۔ وہ ایک کنویں میں گیا اور پانی پی کر باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا بھی پیاس کی وجہ سے گیلی زمین چاٹ رہا ہے۔ اس نے دل میں خیال کیا کہ جس طرح مجھے پیاس لگی تھی۔ اسی طرح اس کتے کو بھی پیاس لگی ہوگی۔ وہ دوبارہ کنویں میں گیا اور اپنے جوتے میں پانی بھر کر لایا اور کتے کو دیا۔ اس نیکی سے خدا نے اس کے سارے گناہ بخش دیئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ ایک بدکار عورت تھی۔ خدا نے اس فعل کی وجہ سے اسے بخش دیا۔

پھر خاکسار نے لکھا کہ اسلام امن پسند مذہب ہے۔ اسلام پسند نہیں کرتا کہ کوئی شخص اپنی روزمرہ کی زندگی میں یا لین دین میں جھوٹ بولے، خیانت کرے، دھوکہ بازی کرے۔ اسی طرح غیبت اور چغلخوری سے منع کیا ہے۔ یہ ساری باتیں بڑےگناہ بن جاتے ہیں اور انسان کو خدا کی رحمت سے دور کر دیتے ہیں۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ ہمیں بنی نوع انسان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں۔ ان کی خدمت اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیئے۔

ہمیں اپنے خیالات اور اعمال میں ایسی یکسانیت پیدا کرنی چاہیئے جس میں دوسروں کے لئے بہتری ہو، بھلائی ہو۔ تا دونوں باتیں پوری ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور مخلوق کی بھلائی۔

Peace Mag Canadaنے اپنی اشاعت جولائی 2012ء میں دو تصاویر کے ساتھ جماعت کی خبراس عنوان کے ساتھ شائع کی۔

Hazrat Mirza Masroor Ahmad makes historical address at Capital Hill.

دو تصاویر بھی ہیں ایک میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز درمیان میں تشریف ہیں۔ اور ایک طرف امیر صاحب امریکہ ڈاکٹر احسان اللہ ظفر صاحب اور حضور کی دوسری طرف کیتھ الیسن مسلم کانگریس مین بیٹھے ہیں۔ ڈیموکریٹک نینسی پلوسی تقریر کر رہی ہیں۔ دوسری تصویر میں سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے قافلہ کے ارکان اور جماعت احمدیہ امریکہ کے ممبران کے ساتھ کیپٹل ہل سے باہر تشریف لارہے ہیں۔ اس مضمون میں کیپٹل ہل میں جو حضور نے تقریر فرمائی تھی اور جو کارروائی ہوئی تھی اسے بیان کیا گیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ 27؍ جون 2012ء کو حضرت مرزا مسرور احمد واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹل ہل میں خوش آمدید کہا گیا جہاں پر انہوں نے ’’امن ‘‘ کے بارے میں اپنا خطاب کیا۔ اس موقعہ پر 30 کے قریب یونائیٹڈ سٹیٹس کے کانگریس ممبران نے شرکت کی جن میں عزت مآب نینسی پولوسی (Nancy Polosi)جو ڈیموکریٹ پارٹی کی نمائندہ لیڈر ہیں اس موقعہ پر دیگر سیاسی شخصیات، پروفیسرز، مذہبی لیڈران، میڈیا کے لوگ اور حکومتی سطح پر لوکل شخصیات مدعو تھیں۔ مزید برآن حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کو کیپٹل ہل کا ٹور بھی کرایا گیا۔ اس موقعہ پر ایک ریزولیوشن بھی متعارف کرایا گیا تھا۔آپ کی آمد کے موقع پر اور آپ کے آنر میں۔ جس میں کہا گیا تھا کہ ہم آپ کی واشنگٹن ڈی سی میں آمد پر شکر گزار ہیں اور اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو کہ امن کی خاطر اسلامی تعلیمات کو بیان کر رہے ہیں اور جو امن کے ساتھ انصاف اور عدم تشدد کے لئے بھی آواز بلند کر رہے ہیں اور مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے لئے بھی کوشاں ہیں۔

یہ کارروائی 9:55صبح کو شروع ہوئی جس میں اظہر حنیف صاحب نے تلاوت قرآن کریم کی اور امجد محمود خاں نے تعارفی اور خوش آمدید خطاب پیش کیا۔ سینیٹر رابرٹ کیسی (Robert Casey USPS)نے کہا کہ ’’میں آپ کی لیڈر شپ پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اور امن و انصاف کے لئے آپ کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں‘‘۔

امریکہ میں پہلے مسلمان کانگرس مین کیتھ الیسن(Keith Ellision)نے کہا کہ یہ موقعہ ہمارے لئے، امریکہ کے لئے بہت عزت افزائی کا ہے کہ جناب حضرت مرزا مسرور احمد صاحب جماعت احمدیہ عالمگیر کے روحانی پیشوا یہاں ہمارے ہاں ایڈریس کرنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔ اور یہ امریکہ کے لئے بھی ایک بابرکت موقعہ ہے۔ اسی موقعہ پر اور بھی بہت سارے لیڈروں نے مختصراً تقاریر کیں جن میں انہوں نے حضرت مرزا مسرور احمد صاحب (ایدہ اللہ تعالیٰ) کی آمد کو باعث برکت قرار دیا۔

اس موقعہ پر کانگریس نے آپ کی آمد پر جو ریزولیوشن پاس کیا تھا اس کی کاپی حضور کی خدمت میں پیش کی گئی۔ ڈیموکریٹ لیڈر نینسی پلوسی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت حسین اور خوبصورت موقعہ ہے جبکہ ڈیموکریٹ اور ری پبلیکن کی طرف سے حضور کو خوش آمدید کیا گیا ہے۔ اس موقعہ کی وجہ سے وہ فخر محسوس کرتی ہیں۔ نیز حضور کی لیڈرشپ اور آپ کے کارہائے نمایاں کو جن میں امن کی کوشش، مذہبی آزادی، رواداری سب کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔

اس موقعہ پر جماعت احمدیہ کے نیشنل امیر ڈاکٹر احسان اللہ ظفر نے بھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا تعارف کرایا کہ آپ کی لیڈرشپ میں دعاؤں کا بہت بڑا حصہ اور دعاؤں کے ذریعہ ہی ہم تمام مشکلات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

حضور نے اپنے خطاب میں قرآنی تعلیمات کو بیان کیا اور فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ امن اور انصاف کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ امن کے حصول کے لئے انصاف قائم کرنا پڑتا ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں دن رات بدامنی اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں ایسا ضرور ہے کہ انصاف سے کام نہیں لیا جارہا۔

آپ نے فرمایا کہ اسلام کہتا ہے کہ تمام انسان برابری کا درجہ رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تمام انسان خواہ کسی نسل یا قوم یا ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔ سب خدا کی نگاہ میں برابر ہیں۔ اگر ہم اس بات کو تسلیم کر لیں تو دنیا میں امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا امیر ممالک اور قوموں کو چاہئے کہ وہ ترقی پذیر قوموں کے ساتھ ہمدردی اور مہربانی کا سلوک کریں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس سلوک کے بدلے اپنے مفاد کو مدنظر رکھ کر کریں۔

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

ایک سبق آموز بات (کتاب)

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ