• 18 جولائی, 2024

مولوی ثناءاللہ امرتسری صاحب کی لمبی زندگی ان کے لئے باعث رحمت بنی یا باعث ندامت؟

ٹھیک آج سے75 سال قبل مارچ کے مہینہ میں ربوہ سے چند کلومیٹر دوری کے فاصلہ پر واقع شہر سرگودھا کے ایک گمنام محلہ کے ایک چھوٹے سے مکان میں ایک فالج زدہ بیمار شخص کسمپرسی کی زندگی گزارتا ہوازندگی کی بازی ہا ر گیا۔ نہ کوئی شور ہوا،نہ اعلانات کی دھائی مچی۔ نہ قصیدے لکھے گئے اور نہ کسی نےوارثان کو پُرسہ دیا۔

جی ہا ں تاریخ کے کیلنڈر پر وہ 15؍ مارچ 1948ء کا ہی دن تھا جب مشہور اہل حدیث عالم دین جناب مولوی ثناءاللہ امرتسری صاحب سرگودھا میں فالج کی علالت اور بہت سی دیگر موذی امراض سے گھائل اس جہان فانی کو خیر آباد کہہ گئے۔

یقیناً یہ دار البقا نہیں ہے اورسب کے لئے ایک دن رخصت ہونا مقدر ہے اس لئے تین وجوہات سے آج مارچ کے مہینے میں خاکسار نے ان کا ذکر چھیڑنا ضروری سمجھا۔ پہلا یہ کہ آج ا ن کی نرینہ اولاد یا خاندان میں سے کوئی بھی ان کا ذکر کرنے والا نہیں ہے تو سوچا کیوں نہ خاکسار ہی یہ بھاری پتھر اُٹھائے دیتا ہے دوسرا یہ کہ بعض حضرات جو کاروباری اغراض سے اُن کی بعض تصانیف کو بیچنے کے لئے ان کا ذکر کرتے بھی ہیں تو وہ بھی اُن کمزور لمحات سے دامن بچا کر بھاگ نکلتے ہیں جس میں مولوی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔تیسرا یہ کہ ابھی چند دن بعد 15؍ مارچ کے ساتھ ساتھ26؍ اپریل بھی آنے والی ہے اس وجہ سے بھی مجھے مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب یاد آگئے۔ جی ہاں وہی 26؍ اپریل جس دن آپ نےحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابل پرآخری دعائے مباہلہ سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے یہ لمبی زندگی مانگی تھی۔لمبی زندگی تو مل گئی مگر پھر بریلوی، دیوبندی حتیٰ کہ اہل حدیث علماء کی طرف سے بھی آپ پر سب دروازے بند کردئیے گئے . امام وقت سے مباہلہ سے فرار کے وقت وہ لمبی زندگی جو آپ نے مانگی تھی اُ س پر آپ کے سوانح نگا رکے مطابق ’’ اہل بدعت نے 4 نومبر 1937ء کو قاتلانہ حملہ کروادیا۔‘‘

( فتاویٰ ثنائیہ مرتبہ محمد داود راز شائع کردہ ادارہ ترجمان ا لسنہ لاہور
7 ایبک روڈ لاہور جلد نمبر اول صفحہ 37)

پاکستان بنا تو مصائب ایک نئی کروٹ بدل کر وارد ہوگئے آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کا گھر لوٹ لیا گیاآپ کا قیمتی کتب خانہ جو آپ کا سرمایہ حیات تھا جلا دیا گیا، اورآپ کے اکلوتے جوان بیٹے کو آپ کی آنکھوں کے سامنے کرپانوں سے کاٹ دیا گیا آپ کے ان مصائب کا ذکر کرتے ہوئے داود راز صاحب لکھتے ہیں ‘‘ آخری ایام حضرت مرحوم کے جن حالات میں گزرے وہ ایک مستقل داستان ہے۔ اگست 1947ء میں جملہ باشندگان پنجاب کو جن حوادث و مصائب سے دوچار ہونا پڑا اُن سے بھلا مرحوم کیسے بچ سکتے تھے۔ مرحوم کا علمی خزانہ اور اکلوتا بیٹا فسادات کی نذر ہوا۔ تباہ حال و مصیبت زدہ ہو کر گوجرانوالہ پہنچے۔مولوی ابوالقاسم صاحب بنارسی صاحب کے نام اپنےآخری خط میں لکھتے ہیں باقی کیا سننا چاہتے ہو کبھی فرصت میں سن لینا بڑی ہے داستان میری۔ غم نہیں رہتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس۔ برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم۔ نہ دے نامہ کو اتنا طول غالب مختصر لکھ دے۔ کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جُدائی کا۔’’ ثناءاللہ امرتسری23/10/47‘‘

( فتاویٰ ثنائیہ مرتبہ محمد داود راز شائع کردہ ادارہ ترجمان ا لسنہ لاہور 7 ایبک روڈ لاہور جلد نمبر اول صفحہ 50و 51)

اہل حدیث اخبار الاعتصام اس کی رپورٹننگ کرتا ہوا لکھتا ہے:
’’قیامت صغریٰ کا نمونہ پیش کررہا تھا۔ فسادات کے ہلاکت خیز طوفان نے مولوی کی اقامت گاہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کا جوان اکلوٹا بیٹا عطاء اللہ جس بری طرح ذبخ کیاگیا اس نے ان کے قلب و جگر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔‘‘

(الاعتصام 15؍ جون 1962ء صفحہ 10)

’’ 5؍ جنوی 1948ء کو مرحوم اہل و عیال سمیت سرگودھا تحصیل خوشاب ضلع شاہ پور بادل نا خواستہ تشریف لے گئے۔ وہاں 12؍ فروری 1948ء کو مسلسل صدمات کے نتیجہ میں فالج کے شکار ہوگئے۔ علاج معالجہ سب بیکار ثابت ہوئے اور 15؍ مارچ 1948ء کو یہ آفتاب سرگودھا کی سرزمین میں غروب ہو گیا۔‘‘

( فتاویٰ ثنائیہ مرتبہ محمد داود راز شائع کردہ ادارہ ترجمان ا لسنہ لاہور
7 ایبک روڈ لاہور جلد نمبر اول صفحہ 50و 51)

مباحثات میں شرائط کی آڑ میں چالاکی اور گریز سے متعلق بٹالوی صاحب کی قولی
اور امرتسری صاحب کی فعلی شہادت

امرتسری صاحب نے ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابل پر طنز و تمسخر اور استہزا ء سے کبھی زبان کو نہیں روکا، تو مقابل پر فرار اختیار کرنے والی شرائط اور قدموں کو بھی سدا پابرکاب رکھا بلکہ بقول آپ کے روحانی والد جناب مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب ’’ وہ ایسا چالاک اور ہوشیار ہے کہ وہ شرائط کی آڑ میں پناہ لے کر مباحثہ سے گریز کرجاتا ہے ‘‘ ( اشاعۃ السنۃ شمارہ نمبر7 جلد 23 صفحہ 193 زیر عنوان باپ اور بیٹے کا مباحثہ) بلکہ آپ تو مزید وضاحت کرتے ہوئے ان کے طریقہ مباحثہ جات کے بارہ میں فرماتے ہیں:
’’عموماً مباحثات کے وقت ایک بڑا بھاری حربہ اور سنگین آلہ اس کے ہاتھ میں کذب بیانی اور دھوکہ دہی ہوتی ہے اور اُس کو تیز کرنے کے لئے مذاق، تمسخر، شعر بازی بھی وہ کام میں لاتا ہے۔ حق گوئی اور انصاف پروری اور تحقیق علمی تو اس کا مقصد اور مطمح نظر ہی نہیں ہوتا۔‘‘

( اشاعۃ السنۃ شمارہ نمبر7 جلد 23 صفحہ 194 زیر عنوان باپ اور بیٹے کا مباحثہ)

چنانچہ بقول حضرت فتح محمد سیال صاحب ’’ جب مولوی ثناء اللہ صاحب کو ’’ اعجاز احمدی ‘‘ میں مباہلہ کے لئے چیلنج دیا گیا تو اس وقت جو مولوی ثناء اللہ صاحب نے مختلف وقت میں تحریریں شائع کیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
1)’’ چونکہ یہ خاکسار نہ واقعہ میں اور نہ آ پ کی طرح نبی یا رسول یا ابن اللہ یا الہامی ہے اس لئے ایسے مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا۔ افسوس کرتا ہوں کہ مجھے ان باتوں پر جرات نہیں‘‘( الہامات مرزا صفحہ 85 طبع دوم)

2) مولوی صاحب اخبار اہل حدیث 25؍ مئی 1906ء میں لکھتے ہیں ’’سنو جو طریقہ ہمکو پیغمبر ﷺنے نہ سکھایا ہو ہم اس کو ایجاد نہیں کر سکتے ہمکو تحقیق مذہب کے لئے اس قسم کے مباہلوں کی اجازت نہیں دی کہ ہم اس قسم کی دعا کریں کہ جھو ٹا سچے سے پہلے مرے۔ مختصر یہ کہ ایسا مباہلہ کرنے کی اجازت ہم کو شرع شریف سے نہیں ملتی اور نہ مباہلہ کرنے کی اجازت ہے‘‘ (اہل حدیث 25 مئی 1906ء ) پھر 22؍ جون 1906ء کی اہل حدیث اخبار میں لکھا ’’ موت کی تمنا ہمارے مذہب میں منع ہے۔ ہاں یہو دیوں میں یہ ممانعت نہ تھی۔ ہم اس آیت کے مخاطب نہیں ہو سکتے۔البتہ آیت ثانیہ قل تعالوا ندع ابناء پر عمل کرنے کے لئے ہم تیار ہیں۔ میں اب بھی ایسے مباہلہ کے لئے تیار ہوں جو آیت مرقومہ سے ثابت ہوتا ہے جسے مرزا صاحب نے خود تسلیم کیا ہے۔‘‘

اب جب 22؍ جون 1906ء کو آپ نے شرعی مباہلہ والا مندرجہ بالا بیان چھاپ دیا تو البدر نے 4؍ اپریل 1907ء کی اشاعت میں لکھا کہ ’’ مولوی ثناء اللہ صاحب کو بشارت دیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نے ان کا چیلنج مباہلہ کو منظور کر لیا ہے۔‘‘

مولوی صاحب نے فوری رنگ بدلا اور 19؍ اپریل 1907ء کی اشاعت میں لکھا ’’ میں نے آپ کو مباہلہ کے لئے نہیں بلایا میں نے تو قسم کھانے پر آمادگی کی ہے مگر آپ اس کو مباہلہ کہتے ہیں حالانکہ مباہلہ اس کو کہتے ہیں جو فریقین مقابلہ پر قسم کھائیں میں نے حلف اٹھانا کہا ہے مباہلہ نہیں کہا۔ قسم اور ہے اور مباہلہ اور ہے۔ ہم قسم کھانے کو تیار ہیں مگر پہلے بتادو کہ اس قسم کا نتیجہ کیا ہو گا۔ ‘‘

حضرت فتح محمد سیال صاحب اس ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اب اس ایک بات میں اس مولوی نے کتنے رنگ بدلے ہیں۔ کبھی کہتے تھے کہ مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ کبھی کہہ دیا قسم کھانے کو۔ اور جب مباہلہ کے لئے بلایا گیا تو مباہلہ سے انکار کردیا۔ جب قسم کے لئے بلایا گیا تو قسم سے انکار کردیا اس سے ظاہر ہے کہ مولوی صاحب کسی صورت میں فیصلہ کے لئے تیار نہ تھے آخر اللہ نے اُن کے مونہہ سے ایسے الفاظ نکلوا دئیے جن سے صادق و کاذب کے درمیان فیصلہ ہو گیا۔۔ اور آخر مولوی صاحب کو وہ عبارت لکھنا پڑی جو 26؍ اپریل 1907ء کے اخبار اہل حدیث اور وطن میں لکھی گئی۔

( روزنامہ الفضل قادیان 8؍ مارچ 1941ء صفحہ نمبر4 شمارہ نمبر 54 جلد نمبر 29)

جھوٹے دغا باز مفسد وغیرہ لمبی عمریں جیتے ہیں
یہ آپ نے کہاں سے نکال لیا کہ جھوٹا جلد مر جاتا ہے

آخری دفعہ جب مولوی صاحب مباہلہ کے لئے تیا ر ہو گئے تو وہ آخری دعائے مباہلہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق شا ئع کردی اور اسے کہا کہ لو میں نے دعا لکھ دی ہے آپ اس کے نیچے دستخط کر دو کہ یہ آپ کو قبول ہے اور کسی ایک جگہ جمع ہونے کا بھی مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ بس اس دعا کے نیچے دستخط کر دو تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ آپ نے مباہلہ قبول کر لیا ہے۔ اب حضرت مسیح موعود کی یہ دعا اکثرمولوی صاحبان شائع کرتے ہیں اور دھوکہ دیتے ہیں کہ دیکھو مرزا صاحب اس دعا کے مطابق پہلے فوت ہو گئے۔ لیکن ہوا کیا ؟

26؍ اپریل 1907ء کو مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب نے حضرت مسیح موعود کی یہ دعا مباہلہ اپنی اخبار میں من و عن شائع کردی بغیر کوئی لفظ کاٹے، جو صفحہ نمبر 5 کے شروع میں ختم ہوئی اور اس کے بعد پورے 2صفحے کا نوٹ لکھا ( 5 اور 6 پر دیکھ سکتے ہیں )کہ میں اسے کیسے قبول کر سکتا ہوں؟۔ اس کی تو مجھ سے منظوری نہیں لی گی پھر لکھا کہ’’ تمہاری یہ دعا کسی صورت میں فیصلہ کن نہیں ہو سکتی‘‘ ’’ مرزائیو ! کسی نبی نے بھی اپنے مخالفوں کو اس طریق سے فیصلہ کرنے کے لئے بلایا ہے؟‘‘ پھر لکھا ’’ میرا مقابلہ تو آپ سے ہے اگر میں مر گیا تو میرے مرنے سےاور لوگوں پر کیا حجت ہو سکتی ہے؟ میرے مرنے سے آپ کو کیا فائدہ ہو گا۔؟‘‘ پھر لکھا ’’خدا کے رسول چونکہ رحیم و کریم ہوتے ہیں اور ان کی ہر وقت یہی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شخص ہلاکت اور مصیبت میں نہ پڑے مگر آپ میری کیوں میری ہلاکت کی دعا کرتے ہیں‘‘؟۔پھر اسی صفحہ پر آپ کے نائب ایڈیٹرنے نوٹ لکھا جس کو اگلی اخبار 3؍ جو لائی 1907ء میں آپ نے کہا میں اس کو صحیح جانتا ہوں اور وہ یہ تھا کہ ’’ قرآن تو کہتا ہے کہ مَنْ كَانَ فِي الضَّلَالَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمَنُ مَدًّا اور إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا اوروَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ وغیرہ آیات تمہاری اس دجل کی تکذیب کرتی ہے اور سنو ! بَلْ مَتَّعْنَا هَؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّى طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُر جن کے صاف یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ جھوٹے دغا باز، مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے تاکہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کریں صفحہ 4پھرصفحہ نمبر6 کے جہازی نوٹ کے آخر پر لکھا کہ ‘‘ اور یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے۔‘‘

میں نے اس ساری کہانی کو آسان بنانے کے لئے تحقیق کی اور وہ 26؍ اپریل 1907ء والا اہل حدیث اخبار نکال لیا ہے۔ اس میں آپ حضرت مسیح موعود کی دعا بھی دیکھ سکتے ہیں اور مولوی صاحب کا جواب بھی کہ آپ میری موت کے پیچھے کیوں پڑھ گئے ہیں۔ اور تحریر مجھے منظور نہیں۔ جھوٹے دغا باز، مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمریں جیا کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی صاحب کی اس بات کو رد نہیں فرمایا بلکہ اپنی خاموشی سے اسی معیار کو ہی معیار فیصلہ رہنے دیا۔ تاکہ کسی طرح مولوی ثناء اللہ پر حجت پوری ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنی تحریر اور اپنے اقرار کے مطابق لمبی عمر پا کر جھوٹے دغا باز نافرمان ثابت ہوئے۔

ثناء اللہ گمراہ، ملحد، بےادب، محرف کلام رسول، اہل بدعت سے بدتر ہے
1910ء میں 132 علماء کا متفقہ فتویٰ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات 1908ء دوسال بعد ہی ہندوستان کے طول و عرض سے مولوی ابو البرکات محمد برکت اللہ عظیم آباد۔ مولوی عبد الحکیم پٹنہ۔ مولوی عبد الرحیم عظیم آبادی۔ مولوی عبد الباسط مدرسہ اصلاح المسلمین پٹنہ۔مولوی وحید الزمان حیدر آبادی۔مولوی احمد اللہ امرتسری استاد مولوی ثناء اللہ۔مولوی عبد السلام ( بیٹا مولوی سید نذیر حسین دہلوی) حافظ عبد المنان وزیر آبادی استاد مولوی ثناءاللہ۔مولوی عبد اللہ ٹونکی شمس العلماء اورئینٹل کالج لاہور۔مولوی فقیر اللہ مدراسی۔ مولوی عبد الجبار غزنوی جیسے چوٹی کے132 اہل حدیث علماء جناب ثناء اللہ امرتسری صاحب کے خلاف اکھٹے ہوگئے ان کے تحریری بیانات اشاعۃ السنۃ شمارہ نمبر اجلد نمبر 11 میں صفحہ نمبر19 سے لے کر 163 تک دیکھے جا سکتے ہیں۔ مختصراً صرف دو علما ء کی مولوی ثنا ء اللہ صاحب کی مانگی ہوئی لمبی زندگی کے بارہ میں جانتے ہیں کہ وہ رحمت بنی یا ندامت۔

ممتاز اہل حدیث عالم دین جناب عبدلاحد خانپوری صاحب لکھتے ہیں ’’ اس کا ہدائت کی طرف آنا مشکل ہے کیونکہ یہ حکم آیت فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوبَهُمْ(الصف 6) اور وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّ (النساء 116)

اس کے دل کو عزوجل نے حق سے پھیر دیا۔۔ نہیں سمجھتا بلکہ علماء و عظماء اہل سنت کی ہتک کرتا ہے بلکہ وہ مقلدین جامدین اہل بدعت سے بدتر ہے۔ ثناء اللہ کی گمراہی بے سبب اعتقادی و الحاد و افراط و بے باکی کے ہے۔وہ اپنے بزرگوں اور شیوخ و اساتذہ کی بے ادبی کرتا ہے اور اللہ عزوجل و رسول ﷺ کے کلام کی تحریف کرنے میں ایک ذرہ اس کے دل میں خوف نہیں آتا۔‘‘

( اشاعۃ السنۃ شمارہ نمبر1 جلد 23 صفحہ 36 و 37 بیان عبد الاحد خانپوری زیر عنوان رسالہ اتباع سلف کی تکذیب)

اسی طرح جناب فقیر اللہ مدراسی صاحب لکھتے ہیں ’’ ثناء اللہ باوجود کم علمی و بد فہمی کے اُن کے مقابلہ میں صرف مغالطہ و عام فریبی و ضد و عناد و کجروی سے کام لیتا ہے اور فرق ضالہ، معتزلہ کی چال چلتا ہے۔‘‘

( اشاعۃ السنۃ شمارہ نمبر1 جلد 23 صفحہ 39 بیان مولوی فقیر اللہ مدراسی زیر عنوان رسالہ اتباع سلف کی تکذیب)

تم عالم نہیں غلو کرنے والے شرم حیاء کا خون کرنے والے مسخرے ہو۔
جناب مولوی محمد حسین بٹالوی

اہل حدیث کے وکیل جناب مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب ثناء اللہ کے علم و دیانت اور لمبی زندگی کو کیسے دیکھتے ہیں ‘‘تم آریوں اور عیسائیوں کے ساتھ جو تمسخرانہ مباحثے کرتے ہو جسے سن کر بعض بے علم تمہارے معتقد ہو رہے ہیں ان کو یہ غلو چھورنا پڑے گا۔

( اشاعۃ السنۃ شمارہ نمبر11 جلد 22 صفحہ 325 نصیحت نامہ نمبر 5 متعلق اتباع سلف سال 1907ء)

تم نے عجیب چال بازی دھوکہ دہی کی ہے اور اس اپنے جملہ مصدیقین کی آنکھوں میں دھول ڈال کر ان کو روز روشن میں اندھا بنا دیا ہے۔ ان مین سے کسی ایک کو تمہاری دھوکہ بازی نظر نہیں آئی۔

( اشاعۃ السنۃ شمارہ نمبر11 جلد 22 صفحہ 326 نصیحت نامہ نمبر 5 متعلق اتباع سلف سال 1907ء)

’’ثناء اللہ کا یہ قول محض اراجیف باطلہ و اکاذیب عاطلہ ہے۔ یہ کذاب ہے کذاب ہے۔ اس نے دیدہ دانستہ شرم و حیا کا خون کیا ہے۔ ‘‘

( اشاعۃ السنۃ شمارہ نمبر 1 جلد 23 صفحہ نمبر 18 زیر عنوان رسالہ اتباع سلف کی تکذیب)

1925ء میں ایک بار پھر 70 علماء کا فتویٰ مولوی ثناء اللہ اہل حدیث سے خارج، عالم سوء ہے۔

عبدالعزیز سیکرٹری جمیعۃ مرکزیہ اہل حدیث ہند لکھتے ہیں ’’پنجاب،دہلی، بنگال، مدراس، اور تمام ہندوستان کے سر برآوردہ 70/ 80 کے قریب علماء نے یہ فتویٰ دیا کہ ان مقامات میں بے شک۔ معتزلہ جہمیہ وغیرہ فرقہ ضالہ کا اتباع کیا گیا ہے اور مولوی ثناءاللہ صاحب اہل حدیث سے خارج ہیں۔ عالم سوء ہے۔پنجاب کے اکثر علماء جو مولوی صاحب کے قال وحال سے واقف تھے ان کے دام تزویر میں نہ آئے۔‘‘

( فیصلہ مکہ صفحہ نمبر2 و 3 و 5شائع کردہ آفتاب برقی پریس امرتسر باہتمام محمد عبد اللہ منہاس اور مولوی عبد العزیز سیکرٹری جمیعۃ اہل حدیث ہند لاہور)

مولوی ثناء اللہ صاحب کے خلاف راولپنڈی میں 3 رکنی علماء کا بینچ کا قیام

مولوی ثناء اللہ صاحب کی دھڑے بندی سے سارے اہل حدیث ناراض تھے جس پر راولپنڈی آرہ بازار میں سب اہل حدیث علما ء جمع ہوئے اور فیصلہ ہو اکہ ’’علمائے موحدین میں سے تین حکم مقرر کئے جائیں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اقرار کیا کہ میں ان حضرات کے فیصلہ کو قبول کروں گا۔ فرض منصفین کا یہ تھا بناء براں اغلاط کے مولوی ثناء اللہ صاحب اہل حدیث ہیں یا نہیں۔‘‘

( فیصلہ مکہ صفحہ نمبر5شائع کردہ آفتاب برقی پریس امرتسر باہتمام محمد عبد اللہ منہاس اور مولوی عبد العزیز سیکرٹری جمیعۃ اہل حدیث ہند لاہور)

گندے کپڑوں والے تمہارا جھگڑا اللہ سے ہے مکہ میں علمائے حرمین کے بینچ کا امرتسری صاحب کے خلاف فیصلہ

1926ء میں امرتسری صاحب کا جھگڑا جب بڑھ گیا تو ہندوستان کے علماء اس جھگڑے کو سعودی فرماں روا اور حرمین کے علماء کے پاس لے گئے۔ چنانچہ حج کے بعد حرمین کے جید علماء نےسعودی فرماں روا کے حکم پر اہل حدیث ہند کے نمائندوں اور مولوی ثناء اللہ امرتسری کے جھگڑےکو سنا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران امام کعبہ نے مولوی امرتسری صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ جس شخص کے کپڑے گندے ہوں وہ کہے مجھے زمین سے بو آتی ہے اس کو چاہیئے زمین سے پہلے اپنے کپڑے صاف کرے۔ یہ جھگڑا تمہارا اور غزنویوں کا نہیں بلکہ تمہارا اور اللہ کا ہے۔۔آپ کی خیر خواہی اور بھلائی کے لئے کہتا ہوں کہ آپ توبہ کریں۔‘‘

( فیصلہ مکہ صفحہ نمبر12و 13شائع کردہ آفتاب برقی پریس امرتسر باہتمام محمد عبد اللہ منہاس اور مولوی عبد العزیز سیکرٹری جمیعۃ اہل حدیث ہند لاہور)

عبد اللہ بن سلیمان آل بلیہد رئیس القضاۃ الافطار ’’ انہوں نے اپنی غلطیوں پر اصرار کیا اور معاندانہ روش اختیار کی۔مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو حق کی طرف چلے آنے کی تو فیق مرحمت فرمائیگا‘‘ صفحہ 15

محمد بن عبد الطیف آل شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب قاضی ریاض’’یہ ایک بدعتی اور گمراہ کی کلام ہے۔نہ تو مولوی ثناء اللہ سے علم حاصل کرنا جائز ہے اور نہ اس کی اقتداء جائز ہے اور نہ ا س کی شہادت قبول کی جائے اور نہ اس کی کوئی بات روایت کی جائے۔ اور نہ اس کی امامت صحیح ہے۔ پس اس کے کفر اور مرتد ہونے میںکوئی شک نہیں اس سے بچنا اور کنارہ کشی واجب ہے۔‘‘صفحہ نمبر 17

سلیمان بن محمد جمہور النجدی’’ خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں وہ جہنمی ہے۔نہ اس کے پیچھے نماز پڑھی جائے اور نہ اس کی قبر پر دعا کے لئے کھڑا ہو‘‘ صفحہ نمبر20

شیخ عبد العزیز بن عبد الرحمان آل بشر‘‘اس کا مقاطعہ کیا جائے ’’ صفحہ نمبر 21

امرتسری صاحب آپ آریہ، چکڑالوی
یا مرزائی کیوں نہیں

مولوی عبدالعزیز صاحب امرتسری صاحب کے متعلق، زیر عنوان ’’آپ کی حالت ‘‘ لکھتے ہیں:
’’آپ نے چکڑالویوں کی صدارت میں تقریرکی مناظرہ کیا اس سے آپ چکڑالوی کیوں نہیں؟ آپ نے لاہوری مرزائیوں کے پیچھے نماز پڑھی آپ مرزائی کیوں نہیں؟ آپ نے فتویٰ دیا دیا کہ مرزائیوں کے پیچھے نماز جائز ہے اس سے آپ خود مرزائی کیوں نہیں؟ آپ نے مر زائیوں کو عدالت میں مرزائی وکیل کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مسلمان مانا۔ اس سے آپ مرزائی کیوں نہیں؟ آپ نے دہرم بھکشو آریہ مناظرہ کو جب مرزائیوں سے مناظرہ تھا آپ نے اپنی کتابوں سے آریہ کی امداد کی اس سے آپ آریہ کیوں نہیں؟ صفحہ نمبر 36

مفتری، کذاب،خائن،مکار، کتا خنزیر کہلانے کا مستحق فرمان مولوی محمد حسین بٹالوی

مولوی محمد حسین بٹالوی وکیل اہل حدیث نے اپنے رسالہ میں امرتسری صاحب کے خلاف زیر عنوان ’’ باپ بیٹے کا مباحثہ‘‘ شمارہ 1 جلد 23 کے صفحہ نمبر 193 سے352 تک ایک طویل مضمون لکھا اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے سینکڑوں اکاذیب و، ِحیل کی تفصیل درج کی۔ صرف چند ایک درج ہیں:
’’مفتری کذاب شرم و حیاء سے عاری ص18 * کاذب اور خائن ص 158 ا *اس کی خدمات اسلامیہ رجل فاجر کی ہیں۔ دروغ گو،دھوکہ باز، خائن اور جھوٹا ص 163 *مرزائی ہو چکا ہے ص 193 *بھاری حربہ کذب بیانی، دھوکہ دہی، مذاق، تمسخر، شعر بازی،فلوس بٹورنے کا ذریعہ، مغرور ص 194 *دروغ گو، شیر نہیں گیدڑ ص195 *کاذب گیدڑ ص 196 *گیدڑ کاذب ص 197 *مکار آ بلہ فریبی ص 362 *کتا خنزیر مسلمان تو کیا خنزیر یا کتا کہلانے کا مستحق ہے ص 376 *فرقہ اہل حدیث سے خارج اور فرقہ معتزلہ میں شامل ہے ص 374 وغیرہ وغیرہ سخت الفاظ سے نواز دیا۔

( اشاعۃ السنۃ ص 18جلد 23 شمارہ 1 /ص 158 شمارہ 5 /ص 163 شمارہ 5 / ص 193 شمارہ 7 ص 194 شمارہ 7 / ص 195 شمارہ 7 /ص 362 شمارہ 12 /ص 376 شمارہ / 12 ص 374 شمارہ 12)

وہابی مذہب کے ڈھول کا پول

مندرجہ بالا عنوان سے ایک مطبوعہ بڑا پوسٹر قادری محمد ضیاء اللہ صاحب مالک قادری کتب خانہ سیالکوٹ شہر کی طرف سے حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کو الفرقان میں اشاعت کے لئےموصول ہوا تھا۔ بریلوی عالم محمد ضیاء اللہ صاحب نے اس اشتہار کے جملہ حوالہ جات کے متعلق اعلان کیا تھا ‘‘ کہ اِس اشتہار میں درج کردہ حوالہ جات کو غلط ثابت کرنے والے کو فی حوالہ پانچ صد روپیہ انعام دیا جائے گا۔ ’’ یہ اشتہار روبینہ پرنٹنگ پریس سیالکوٹ میں طبع ہوا ہے۔ہم قادری صاحب کے اشتہار کا ایک حصہ اُن ہی کے الفاظ میں درج کرتے ہیں۔

مضمون کی طوالت کے ڈر سے ہم صرف اہل حدیث یعنی امرتسری صاحب کے ہم مسلک علماء کے چند اقوال پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ امرتسری صاحب آپ نے لمبی زند گی مانگ لی اور پھر خود ہی طے کر دیا کہ ‘‘خدا تعالیٰ جھوٹے دغا باز، مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے تاکہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کریں ’’ سو خدا نے آپ کو لمبی زندگی بھی عطا کردی اور وہ عطا کر دیا جو آپ نے کہا کہ جھوٹے دغاباز اور مفسد لمبی زندگی جیتے ہیں تو ایک طرف آپ لمبی زندگی جئے تو دوسری طرف جماعت کی اقوام عالم میں ترقیات کو دیکھا اور تیسری طرف بقول آپ کے اساتذہ او ر روحانی باپ آپ مفتری، کذاب،خائن،مکار کے عنوانات سے مزئین ہوئے تو پھر یہ لمبی زندگی آپ کے لئے باعت رحمت بنی یاباعث ندامت ؟ فاعتبروا یا اولالابصار

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسے ہی مخالفین کے متعلق انذاری پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایاتھا:
’’ان بداندیشوں نے بہتیرے ہاتھ پاوٴں مارے۔ ایڑیاں رگڑیں۔ مکاریاں اور عیاریاں دکھلائیں۔ پر آخر مرغ گرفتار کی طرح پھڑپھڑا کے رہ گئے۔ پس جبکہ ہاتھوں سے ان مقدس لوگوں کا نقصان نہ ہوسکا تو صرف زبان کے ہتک آمیز الفاظ سے کب ہوسکتا ہے۔۔۔ نہ تلواروں کی دھار اس شان و شوکت کو کاٹ سکی۔ نہ تیروں کی تیزی اس میں کچھ رخنہ ڈال سکی۔ وہ جلال ایسا چمکا جو اس کا حسد کتنوں کا لہو پی گیا۔ وہ تیر ایسا برسا جو اس کا چھوٹنا کئی کلیجوں کو کھا گیا۔ وہ آسمانی پتھر جس پر پڑا اسے پیس ڈالتا رہا اور جو شخص اس پر پڑا وہ آپ ہی پسا گیا۔ خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے جب آتی ہے تو پھر عالم کو اک عالم دکھاتی ہے۔‘‘

( براہین احمدیہ حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 106)

(ذوالکفل اصغر بھٹی)

پچھلا پڑھیں

ایک سبق آموز بات (کتاب)

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ