• 5 اگست, 2020

آنحضرت ﷺ کاایک احسان میلوں کی اصلاح

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں:

’’ہمارے نبی کریم ﷺ کے جہاں بڑے بڑے احسانات ہیں، ان میں میلوں کی اصلاح بھی ہے۔ چونکہ یہ ایک فطرتی بات تھی اس لئے ان کو ضائع نہیں کیا، صرف اصلاح کردی۔ اور وہ یوں کہ جہاں ہررسم ورواج کو اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور شفقت علی خلق اللہ کے نیچے رکھ لیا وہاں ان میلوں میں بھی یہی بات پیدا کردی مثلاً عید کامیلہ ہے۔ آپؐ نے اوّل تو تکبیر کو لازم ٹھہرایا اور خدا کی تعظیم کے اظہار کے لئے وہ لفظ مقرر کیا جس سے بڑھ کر کو ئی لفظ نہیں۔ صفات میں اَکْبَر سے بڑھ کر کوئی لفظ نہیں اور جامع جمیع صفات کاملہ ہونے کے لحاظ سے اللہ سے بڑھ کر اس مفہوم کو کوئی ظاہر نہیں کر سکتا۔

مخلوق پر شفقت کرنے کے لئے رمضان کی عید میں صدقۃ الفطر کو لازم ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ نماز میں جب جاوے تو اس کو ادا کرلے اور پھر یہ صدقہ خاص جگہ جمع کرے تا کہ مساکین کویقین ہوجائے کہ ہمارے حقوق کی حفاظت کی جائے گی…… پس کیا ہی مستحق ہے صلوٰۃ وسلام کا وہ رسول جس نے ہمیں ایسی عمدہ راہ دکھائی۔ یہ چیزیں صرف اسی بات کے لئے تھیں کہ اللہ کی نسبت فرائض جو انسان کے ہیں اور جو فرائض مخلوق کی نسبت ہیں ان کو پورا کریں۔ مگر دنیا کے کسی میلے کودیکھ لو، ان میں یہ حق وحکمت کی باتیں نہیں ہیں جوعیدین میں ہیں‘‘۔

(خطبات نور صفحہ: 430)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ