• 6 مئی, 2021

رمضان کے مہینے میں عبادت کی طرف ایک خاص رجحان ہوتا ہے

‘‘رمضان کے اس مہینے میں جب عبادت کی طرف ایک خاص رجحان ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں کی طرف خاص طور پر متوجہ ہوتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ روزے دار کی جزا مَیں خود ہو جاتا ہوں۔ وہ لوگ جو خالص ہو کر اللہ کی خاطر یہ عبادت بجا لا رہے ہوتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ اتنی جزا دیتا ہے کہ جو شمار میں نہیں آ سکتی۔ ان کے یہ روزے دنیا کودکھانے کے لئے نہیں رکھے جا رہے ہوتے بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی خاطررکھے جاتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو دنیا کے دکھاوے کی خاطر نمازیں پڑھ رہے ہوتے ہیں اسی طرح روزے بھی رکھ رہے ہوتے ہیں۔ وہ جو خالصتاً اللہ کی خاطر روزے رکھ رہے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بہت نوازتا ہے بلکہ فرمایا کہ ان کی جزا مَیں خود ہو جاتا ہوں۔ تو یقینا ان حالات میں کی گئی جو عبادتیں ہیں اور جو دعائیں ہیں وہ مقبولیت کا درجہ پاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں روزوں کی فرضیت اور اس سے متعلقہ مسائل کا ذکر فرمایا ہے تو ساتھ ہی یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے اس میں فرمایا ہے وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَاِن فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ (سورۃ البقرہ :187)

یعنی اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو جواب دے کہ مَیں ان کے پاس ہی ہوں۔ جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو مَیں اس کی دعا قبول کرتاہوں۔ سو چاہئے کہ وہ دعا کرنے والے بھی میرے حکموں کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔’’

(خطبہ جمعہ 6؍ اکتوبر 2006ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اپریل 2021