• 6 مئی, 2021

اتنی مجبوریوں کے موسم میں

اتنی مجبوریوں کے موسم میں
جشن برپا ہے دیدۂ نم میں

منسلک بھی ہیں رشتۂ غم میں
فاصلے بھی ہیں کس قدر ہم میں

آسمان اور زمین کا ہے فرق
درد میں اور دردِ پیہم میں

ہجر کی شب ہی وصل کی شب ہے
یعنی رمضان ہے محرَّم میں

ایک ترتیب ہے پسِ پردہ
پیچ در پیچ زلفِ برہم میں

رنگ و بو اور دل کشی کے سوا
پھول کا خون بھی ہے شبنم میں

دمِ عیسیٰ ہے معجزہ کس کا
کس کی پاکیزگی ہے مریم میں

بھول جاؤں مَیں راستہ اے کاش!
زلف ِجاناں کے پیچ اور خم میں

زخم بھرنے لگے ہیں، یاروں نے
کچھ ملا نہ دیا ہو مرہم میں

ہو گیا کون زندۂ جاوید
خون کس کا ہے ساغرِ جم میں

جس سے پوچھو وہی فرشتہ ہے
کیا کوئی آدمی نہیں ہم میں!

میرے مالک! کوئی بشارت دے
دل کی تبدیلیوں کے موسم میں

یہ رہِ مستقیم ہے مضطرؔ!
دائرہ ہے جو زلف کے خم میں

(چوہدری محمد علی مضطرؔ عارفی
اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ28)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اپریل 2021