• 6 مئی, 2021

تعارف سورۃ الممتحنۃ (60 ویں سورۃ)

(تعارف سورۃ الممتحنۃ (60 ویں سورۃ))
(مدنی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 14 آیات ہیں)
(ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003)

وقت نزول اور سیاق و سباق

سابقہ تین سورتوں کی طرح، موجودہ سورۃ بھی مدینہ میں ہجرت کے ساتویں یا آٹھویں سال میں (صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان) نازل ہوئی جیساکہ اس کے مضامین سے ظاہر ہے۔ سابقہ سورۃ میں منافقوں اور مدینہ کے یہودیوں کے مکروں اور بد حرکات کا ذکر ہے اور اس سزا (جلاوطنی) کا بھی جو ان کو دی گئی تھی۔ موجودہ سورۃ میں مؤمنوں کے کفار کے ساتھ عمومی تعلقات کا ذکر ہے اور خاص طور پر ان کے ساتھ تعلقات کا جن سے جنگ ہو رہی ہو۔ اس سورۃ کا آغاز اس پر تحدی حکم سے ہوا ہے کہ مسلمانوں کو ایسے کفار سے ہرگز گہری دوستی نہیں کرنی چاہیئے جو ان کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں اور اسلام کی بیخ کنی کرنے کے درپے ہیں۔ یہ حکم اس قدر سخت ہے کہ قریبی خون کے رشتہ داروں کو بھی استثناء نہیں ہے۔ اس (دوستی سے) روکنے والے حکم کے معاً بعد یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ جلد ہی اسلام کے سخت دشمن اس کے مخلص پیروکار بن جائیں گے۔ اگرچہ اس حکم میں استثنیٰ پایا جاتا ہے اور یہ حکم ان کفار پر لاگو نہیں ہوتا جو مسلمانوں کی ہمسائیگی میں ہیں اور اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ ایسے کفار کے ساتھ برابری کا اور اچھا برتاؤ کرنے کا حکم ہے۔

پھر اس سورۃ میں کچھ اہم احکامات ان مومن عورتوں کے بارے میں ہیں جو مدینہ ہجرت کرکے آئی ہیں اور ان کے متعلق بھی جو مدینہ سے ہجرت کرکے کفار کی طرف واپس چلی گئی ہیں۔ اس معاملہ کی سنجیدگی کو مسلمانوں کے دلوں میں مضبوطی سے پیدا کرنے کے لئے اس سورۃ کے اختتام پر دوبارہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے دوستی نہیں رکھنی چاہیئے، جو اسلام کے خلاف کھلم کھلا جارحانہ رویہ رکھتے ہیں اور خدا کے غضب کا نشانہ ہیں۔

(ابو سلطان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اپریل 2021