• 6 مئی, 2021

اللہ تعالیٰ فاعل بالارادہ ہے

تبرکات حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ

قرآن مجید میں آتا ہے۔ وَ مِنْ آیَاتِہٖ خَلْقُ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ (الروم:23) یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق بھی اللہ تعالیٰ کے بہت سے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔ اسی طرح تمہارا زبانوں اور رنگ و روپ کے لحاظ سے مختلف ہونا بھی اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ہے۔

فرمایا۔ زمین و آسمان کی پیدائش تو بے شک اللہ تعالیٰ کی ہستی پر گواہی دیتی ہے اور ادنیٰ تدبر سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اتنا بڑا منظم اور باقاعدہ کارخانہ عالم بغیر صانع کے نہیں چل سکتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ انسان کی زبانوں کے اختلاف اور شکل و شباہت اور رنگ ڈھنگ کے اختلاف میں کیا نشان ہو سکتا ہے اور اس اختلاف کو اللہ تعالیٰ نے کس بات کا نشان ٹھہرایا ہے۔

فرمایا۔ انسان کا ایک دوسرے سے زبان کے لحاظ سے اور رنگ روپ کے لحاظ سے مختلف ہونا خداتعالیٰ کے فاعل بالارادہ ہونے کی دلیل ہے۔ دو طرح کے فاعل ہوتے ہیں۔ ایک فاعل بالخاصہ جیسے مشینیں ہیں کہ وہ ایک ہی سائز اور شکل و صورت کی چیزیں بناتی ہیں۔ جس قسم کا سچا ہو گا اسی قسم کی چیزیں بن کر نکلیں گی اور وہ سب ہم شکل اور ہم سائز ہوں گی۔ ان کی شکل و شباہت میں سرمو فرق نہ ہو گا۔ اس وجہ سے وہ ایک دوسرے سے ممتاز نہیں قرار دی جا سکیں گی۔ ایک فاعل بالارادہ ہوتا ہے وہ سچے کی طرح چیزیں نہیں بناتا۔ بلکہ اس کے ارادہ سے چیزیں بنتی ہیں اور وہ صرف خداتعالیٰ ہے۔ خداتعالی انسان کو پیدا کرتا ہے۔ سب کو دو ہاتھ، دو پاؤں اور دو کان، دو آنکھیں، ناک، منہ، غرضیکہ سب اعضاء جو وہ ایک انسان کو دیتا ہے وہی دوسروں کو دیتا ہے۔ مگر باوجود اس کے خداتعالیٰ کی صفت میں یہ فرق ہے کہ کوئی دو شخص دنیا میں ایک دوسرے سے بالکل مشابہ نہیں ہوتے۔ ان میں ضرور کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے۔ …… تو انسان کی زبانوں میں اختلاف شکل و شباہت میں اختلاف اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ فاعل بالخاصہ نہیں بلکہ فاعل بالارادہ ہے۔ اگر وہ فاعل بالخاصہ ہوتا تو ایک سچے کی طرح ایک ہی شکل کے وجود بناتا اور ان میں باہم فرق اور تمیز نہ ہو۔

(ادارہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اپریل 2021