• 6 اگست, 2021

بخل اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے

’’مَیں یقینا سمجھتا ہوں کہ بخل اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ جو شخص سچے دل سے خداتعالیٰ پر ایمان لاتا ہے وہ اپنا مال صرف اس مال کو نہیں سمجھتا جو اس کے صندوق میں بند ہے بلکہ وہ خداتعالیٰ کے تمام خزائن کو اپنے خزائن سمجھتاہے اور امساک اس سے دُور ہو جاتا ہے جیسا کہ روشنی سے تاریکی دُور ہوجاتی ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد3 صفحہ498۔ایڈیشن1989ء)

پھرفرماتے ہیں :۔
’’میں یقیناً جانتا ہوں کہ خسارہ کی حالت میں وہ لوگ ہیں جو ریاکاری کے موقعوں میں تو صدہا روپیہ خرچ کریں۔ اور خدا کی راہ میں پیش و پس سوچیں۔ شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر پھر اپنی خِست اور بخل کو نہ چھوڑے۔ یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمارے نبیﷺ نے بھی کئی مرتبہ صحابہؓ پر چندے لگائے۔ جن میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رہے … جو ہمیں مدد دیتے ہیں۔ آخر وہ خدا کی مدد دیکھیں گے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد3 صفحہ156۔ایڈیشن1989ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جون 2021