• 7 اگست, 2020

اللہ کی خاطر نظام جماعت کی پابندی کریں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
پھر نظام جماعت کی پابندی کرنا۔ تو فرمایاکہ اگر یہ سب کام خدا کی خاطر کرو گی تو مومن کہلاؤ گی اور دن بدن ایمان مضبوط تر ہو تا جائے گا۔ اب یہ مومنانہ حالت پیدا کر لی ہے تو اس میں ایک اہم بات فرمانبرداری کی بھی ہے۔ اسی میں فرمایا گیا ہے کامل اطاعت اور فرمانبرداری دکھاؤ۔ اب یہ نہیں کہ کیونکہ فلاں عہدہ دار سے فلاں صدر سے یا فلاں عورت سے جو اس وقت سیکر ٹری تربیت ہے، میری بنتی نہیں کیونکہ ایک موقع پر آج سے اتنے سال پہلے اس نے مجھے لوگوں کے سامنے ٹوکا تھا۔ یامیری بات نہیں مانی تھی یا میرے بچوں کو نماز کے وقت شرارتیں کرنے پر خاموش کیا تھا۔ تو اسلئے اب میں اسکی بات نہیں مانوں گی۔ یہ فرمانبرداری نہیں ہے اور جبکہ پھراتنی ضد آ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بات اسلئے نہیں مانوں گی اب چاہے جو مرضی وہ کہے۔چاہے مجھے یہ بھی تلقین کرے کہ نماز میں ٹیڑھی صفوں میں کھڑی عورتوں کو کہہ رہی ہو کہ صفیں سیدھی کر لو۔ آپس کے فاصلے کم کر لو، خلا کم کرو۔ تو اس کی بات نہیں مانتیں اور پھر ہنسی ٹھٹھے میں اس بات کو اڑا دیتی ہیں۔

تواس کی بات نہ مان کر تم اسکی فرمانبرداری سے باہر نہیں جارہی بلکہ نظام جماعت کے ایک کارکن کی بات نہیں مان رہی اور صرف نظام جماعت کولاپرواہی کی نظر سے نہیں دیکھ رہی بلکہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک واضح حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہو۔ اسکو کم نظر سے دیکھ رہی ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ

نماز پڑھتے وقت اپنی صفوں کو سیدھا رکھو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہارے درمیان شیطان آکر کھڑا ہو جائے گا تو اس طرح اس عہدہ دار کی بات نہ مان کر اس کا تو کچھ ضائع نہیں ہو رہا آپ اپنے درمیان شیطان کو جگہ دے رہی ہیں۔تو اس طرح سے ایک تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کر رہی ہیں۔ جبکہ دعویٰ یہ ہے کہ انسانوں میں سب سے زیادہ محبت ہمیں اپنے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ تو محبت کے تقاضے تو اس طرح پورے نہیں ہوتے۔محبت کرنے والے تو اپنے محبوب کی آنکھ کے اشارے کو بھی سمجھتے ہیں وہ تو اسکے ایک ارشاد پر اپنی جانیں قربان کرنے والے ہوتے ہیں کجا یہ کہ اللہ کے گھر میں ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح حکم کی پابندی نہ کر رہے ہوں۔ اور یہ سمجھو کہ یہ بات یہیں ختم ہو گئی! نہیں، جب تمہارے بچے تمہارا یہ عمل دیکھیں گے وہ بھی یہی سمجھیں گے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور آہستہ آہستہ انکے دلوں میں سے نہ صرف کسی بھی اچھی بات کہنے والے کا احترام اٹھ جائے گا بلکہ نظام کے کارکنوں کی اورعہدہ داروں کی عزت بھی ختم ہو جائے گی۔ اور نہ صرف یہ کہ یہیں یہ سلسلہ رک جائے گا بلکہ اور آگے بڑھے گا اور اسلام کی خوبصورت تعلیم سے بھی پرے ہٹنے والی ہو جائیں گی اولادیں،نام کے تو احمدی رہیں گے ایک احمدی گھرانہ میں پیدا ہوئے اس لئے احمدی ہیں۔

لیکن خلافت اورنظام جماعت کا احترام کچھ نہیں رہے گا۔اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بھی سرسری نظر سے دیکھنے والے ہوں گے۔ اور جب بھی کوئی ایسی بات ہوگی کوئی حکم دیا جائے گا انکو شریعت کے بارے میں یا مذہب کے بارے میں یا جماعت کے بارے میں بتایا جائے گا،تو ایسے بچے پھر منہ پرے کرکے گزر جانے والے ہوتے ہیں کوئی توجہ نہیں دے رہے ہوتے۔

(سالانہ اجتماع لجنہ و ناصرات UK سے خطاب فرمودہ 19/اکتو بر 2003)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جولائی 2020