• 5 اگست, 2021

مسئلہ بروز کی حقیقت

محی الدین ابن العربی صاحب اپنی ایک کتاب میں جو ان کی آخری کتاب ہے لکھتے ہیں کہ عیسیٰ تو آئیگا مگر بروزی طور پر یعنی کوئی اور شخص اس امت کا عیسیٰ کی صفت پر آ جائیگا۔ صوفیوں کا یہ مقرر شدہ مسئلہ ہے کہ بعض کا ملین اسی طرح پر دوبارہ دنیا میں آ جاتے ہیں کہ ان کی روحانیت کسی اور پر تجلی کرتی ہے اور اس وجہ سے وہ دوسرا شخص گویا پہلا شخص ہی ہو جاتا ہے۔ ہندوؤں میں بھی ایسا ہی اصول ہے اور ایسے آدمی کا نام وہ اوتار رکھتے ہیں۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21 صفحہ291)

بعض وقت بعض گزشتہ صلحاء کی کوئی ہم شکل روح جو نہایت اتحاد ان سے رکھتی ہے دنیا میں آ جاتی ہے اور اس روح کو اس روح سے صرف مناسبت ہی نہیں ہوتی بلکہ اس سے مستفیض بھی ہوتی ہے اور اس کا دنیا میں آنا بعینہ اس روح کا دنیا میں آنا شمار کیا جاتا ہے۔ اسکو متصوفین کی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔

(ست بچن، روحانی خزائن جلد10صفحہ182)

عیسائیوں میں بعض فرقے اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی الیاس نبی کی طرح بروزی طور پر ہے۔ یعنی یہ عقیدہ بالکل غلط ہے کہ مسیح زندہ آسمان پر بیٹھا ہے بلکہ در حقیقت وہ فوت ہو چکا ہے۔ اور یہ جو وعدہ ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح دوبارہ آئیگا اس آمد ثانی سے مراد ایک ایسے آدمی کا آنا ہے کہ جو عیسیٰ مسیح کی خو اور خلق پر ہو گا نہ یہ کہ عیسیٰ خود آ جائیگا۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21 صفحہ342)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جولائی 2021